Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ کا حسن اخلاق

امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ کا حسن اخلاق
عنوان: امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ کا حسن اخلاق
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نجم القادری
پیش کش: ارشد رضا مدنی

فیاضِ ازل کی اپنے دین سے محبت بھی کیسی مثالی، البیلی اور نرالی ہے کہ جب جب دین کو جیسی جیسی ضرورتیں پڑتی رہی، اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی شاہکارِ قدرت کے مطابق ویسا ہی انتظام فرماتا رہا، جب کبھی اسلام کی رگوں میں تازہ خون دوڑانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو جانباز شہدائے محبت کے ذریعے، اگر شریعت کی زلفِ پیچاں سنوارنے کی ضرورت پڑی تو نکتہ شناس نکتہ رس نکتہ آفریں فقہائے اسلام کے ذریعے اور اگر زنگ آلود کردار وعمل، اخلاق وسیرت کو صیقل کرنے کی حاجت ہوئی تو برگزیدہ نفس صوفیاء کو بھیج کر، یہ وہ نظامِ فطرت ہے جو چل رہا ہے اور چلتا ہی رہے گا۔

امام احمد رضا قادری چوں کہ اپنے فقہاء وصوفیاء کی مستحکم جماعت کے اپنے دور میں تکملہ وتممہ تھے اس لئے سردست مجھے ان کی حیات وخدمات کے مہکتے گلشن کے گلِ اخلاق کی خوشبو سے اپنے قارئین کے مشامِ جان کو معطر کرنا مقصود ہے۔ اس لئے آئیے دیکھیں کہ ان کے علم کا چار دانگِ عالم میں جتنا شہرہ ہے، ان کے عشق ووفا کا بزمِ محبت میں جتنا تذکرہ ہے، ان کے اخلاقِ حسنہ کا پایہ کتنا بلند ہے۔

تعجب ہے کہ ان کی ہزار کے قریب کتابوں میں سے تقریباً ۵۰ کتابوں کا تعلق جدید علومِ سائنس سے ہے جب کہ ان علوم کی تحصیل کے لئے کبھی کسی کالج یا یونیورسٹی کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا، چند اسباق کے چند بیرونی اساتذہ کو چھوڑ کر جو کچھ پڑھا، باضابطہ طور پر اپنے گھر ہی پر پڑھا، ایک طرف کثرتِ علوم وفنون اور دوسری طرف ان کے کل اساتذہ جن کی تعداد صرف آٹھ ہے کو دیکھئے تو برجستہ ڈاکٹر مسعود احمد نقشبندی مظہری کا یہ جملہ دہلیزِ ذہن پر دستک دینے لگتا ہے کہ

ان کی کارگہ فکر میں
انجم ڈھلتے تھے۔

جو شخصیت علوم ومعارف کی ایسی جامع ہے کہ ان کے کثرتِ علوم وفنون کا دور دور تک کوئی جواب نہ ہو، دینی درسگاہ سے لے کر عصری دانش گاہ تک جن کی دھومیں مچی ہوں، آئیے دیکھیں کہ ان کی اخلاقی خوبیاں کیا تھیں، ان کی سیرت کا گلدان کتنا معطر اور ان کے کردار کا آسمان کیسا منور تھا۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ وہ علم میں جتنے بلند تھے عمل میں اس سے کہیں زیادہ بلند تھے، ان کے علم کے قالب پر عمل کی سیمیں قباء ایسی راس آئی تھی کہ علم اور عمل کو اگر باہم گلوگیر دیکھنا ہو تو ان کی کتابِ زندگی کا کوئی ورق الٹئے، اخلاق وایثار کی تابانی سے ہر ورق فروزاں اور درخشاں نظر آئے گا، مثلاً:

  1. آج کل پیری مریدی کا بڑا زور شور ہے، جدھر دیکھئے جنگل میں منگل کا سماں نظر آتا ہے ”ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی“ کا تصور، افقِ خیال پر محوِ احترام ناز ہو جاتا ہے۔ شریعت نے شرائط کی زنجیر میں اس شغل کو جتنا جکڑا تھا، یار انِ میکدہ نے تیلیاں بکھیر کر آزادی اختیار کر لی، دکانیں سجی ہیں، ایجنسیاں کام کر رہی ہیں، رجھانے، لبھانے کی وہ توبہ شکن ادائیں اپنائی جا رہی ہیں کہ سنگ دل بھی موم بن کر پگھل جائے، کہاں کی نماز اور کہاں کا روزہ، حلال وحرام کی کوئی فکر وتمیز نہیں، بے چارہ اباحت اور اساءت کس گنتی میں ہے، پیر صاحباں کے نزدیک مرید سے خدمت لینا ہی اصل تصوف اور روحِ معرفت بن کر رہ گیا ہے۔ مگر اعلیٰ حضرت ایسے پیر نہ تھے، وہ پہلے عالم باعمل تھے بعد میں صوفی باصفا، ان کی ہر حرکت وسکون پر شریعت وطریقت کے پہرے بیٹھے ہوئے تھے، اس لئے ان کا ہر کام شریعت کی روشنی اور طریقت کی چاندنی میں ظہور پذیر ہوتا تھا، اسی لئے خدمت لینا کم اور خدمت کرنا زیادہ اپنا شیوہ رکھتے تھے اور اس پر وہ سفر وحضر ہر جگہ عامل رہے۔ ۱۳۲۳ھ میں فریضۂ حج سے فارغ ہو کر مدینہ طیبہ کی حاضری کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حجاج اونٹ، خچر وغیرہ پر سفر کرتے تھے، کاریں وغیرہ اس وقت وہاں نہیں چلتی تھیں، بارہ چودہ روز کا راستہ تھا، جب قافلہ ایک منزل پر بجاۓ ٹھہرا، ظہر کی نماز کا وقت ہوا، پانی کی تلاش ہوئی، اعلیٰ حضرت بھی پانی کی تلاش میں ایک سمت چل دیئے، آگے چل کر ایک کنواں ملا جو بہت گہرا تھا، ڈول نہیں رسی باندھ کر بدقت تمام پانی نکالا، لوگ استنجے کے لئے ادھر ادھر منتشر ہو گئے، جب حاضر ہوئے تو دیکھا کہ اعلیٰ حضرت کنویں سے پانی بھر بھر کر، تمام برتنوں کو بھر چکے ہیں، اعلیٰ حضرت کی رواداری اور مرید نوازی دورِ حاضر کے پیرانِ عظام کے لئے نمونۂ عمل ہے، درسِ عبرت ہے۔ اعلیٰ حضرت کی نظر میں آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری مبارک زندگی تھی خصوصاً یہ اخلاقی پہلو کہ صحابہ کرام کے مکرر اصرار کے باوجود حضور اپنا کام خود کرنے کو ترجیح دیتے تھے، اعلیٰ حضرت حضور کی اس سنت پر پوری زندگی گامزن رہے۔
  2. آج دسترخوان پر چاہے جتنا عمدہ کھانا چن دیا جائے، کھانے میں نقص نکالنا، عیب جوئی کرنا لوگوں کی عام عادت بن چکی ہے، ذرہ برابر احساس نہیں ہوتا کہ ہماری اس حرکتِ مکروہ ہی کا صاحبِ خانہ کے دل پر کیا اثر پڑے گا، یہ تو عجیب بات ہوگئی کھانا بھی کھلایا اور تنقید کے نشتر سے گھائل ہونے کے لئے تیار بھی رہو، مگر اللہ کے کچھ ایسے حساس دل بندے بھی ہوئے ہیں جو خود آزار دہ ہو لیتے مگر اپنے احباب واقربا کو آزار دہ کرنے سے امکانی حد تک پرہیز کرتے تھے، خود مشقت اٹھا لیتے مگر اعزّہ کا مشقت میں پڑنا انہیں گوارہ نہیں تھا۔ اعلیٰ حضرت ایک دسترخوان پر حاضر ہیں، انواع واقسام کے کھانے چن دیئے گئے ہیں، اعلیٰ حضرت کے ساتھ مدعو مہمانوں کا جمِ غفیر ہے، دسترخوان پر موجود ککڑی کے بارے میں آپ نے صاحبِ خانہ سے اجازت مانگی، اجازت ملنے پر ککڑی کی ایک قاش اٹھا کر کھایا پھر یکے بعد دیگرے قاش اٹھاتے رہے اور کھاتے رہے یہاں تک کہ پوری ککڑی ختم ہوگئی، یہ ایک اچنبھے میں ڈال دینے والی بات تھی جو آج دسترخوان پر آپ سے ظاہر ہوئی، کھانے کے بعد کسی نے آخر پوچھ ہی لیا۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا میں نے جو ککڑی کی پہلی قاش منہ میں رکھا تو وہ نہایت کڑوی تھی، پھر جو بھی اٹھایا گیا سب کو کڑوی ہی کڑوی پایا، میں نے یہ سوچ کر سب ککڑی کھالی کہ حاضرین میں سے اگر کسی نے ایک پیس بھی کھائی تو وہ کڑوی اتنی ہے کہ کھانے والا ضرو تھو، تھو کرے گا اور اس سے میرے میزبان کو شرمندگی ہوگی، میں نے اپنے میزبان کی عزت کو اپنی عزت سمجھا اور سب ککڑی خود ہی کھا کر اپنے میزبان کو ذلت سے بچا لیا Bess۔
  3. غلطی کس سے نہیں ہوتی، معصوم صرف نبی ورسول اور فرشتے ہیں، تاہم غلطی ہو جانے پر غلطی کے احساس کا بیدار ہو جانا یہ کمالِ عبدیت اور انسانیت ہے، خدانخواستہ یہ احساس اگر بجھ گیا تو پھر آدمی کہیں کا نہیں رہتا، وہ چلتی پھرتی لاش کا روپ دھار لیتا ہے، یہ احساسِ ندامت ہی ہے جو انسان کو معافی تلافی کرنے، آنسو بہانے، توبہ اور دعا کرنے، رب کی روٹھی رحمت کو منانے پر ابھارتا اور اکساتا ہے، اب دیکھنا یہ جا رہا ہے کہ غیر اختیاری، یا اضطراری طور پر کسی سے کوئی غلطی ہوگئی، مثلاً مغلوب الغضب ہو کر کسی کو طمانچہ رسید کر دیا اور طمانچہ رسید کرنے والا علم وعمر ومرتبہ میں بہت بڑا ہے تو پھر بے چارے چھوٹے کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہوتی، چھوٹا اپنے چھوٹے پن کی وجہ سے مرعوب ہو کر کچھ نہ بولے، کچھ نہ کہے تو بھی بڑے کو خیال نہیں ہوتا کہ انجانے میں سہی، ہم لغزش کا شکار ہوئے ہیں لہٰذا چھوٹے سے کم سے کم معذرت ہی کر لیں، یہ اب کے بڑے ہیں۔ پہلے کے بڑے ایسے ہوتے تھے کہ ہر دم انہیں احتسابِ عمل کا خیال رہتا تھا، وہ کسرِ نفسی کے اسیر، بلندیٔ کردار میں بے نظیر ہوتے تھے، اسی لئے اپنے سے بہت چھوٹے سے بھی معافی مانگنے میں، انہیں کوئی عار نہیں ہوتا تھا، وہ معمولی بھول چوک پر بھی تڑپ اٹھتے تھے، جب تک اس کا تدارک نہ ہوجائے انہیں چین نہیں آتا تھا۔ رمضان شریف کا مہینہ ہے، اعلیٰ حضرت معتکف ہیں چوں کہ پان کھانے کے عادی تھے اس لئے بعد افطار پان ضرور کھاتے تھے، ایک دن اتفاق سے شام کو پان نہیں آیا، سخت ناگواری ہوئی، مغرب سے تقریباً دو گھنٹہ بعد گھر کا ملازم ایک بچہ پان لایا، اعلیٰ حضرت نے اسے ایک چپت مار کر فرمایا کہ اتنی دیر میں پان لایا، بعدہٗ سحر کے وقت سحری کھا کر مسجد کے دروازے پر تشریف لائے، اس وقت دو شخص مسجد میں موجود تھے، ان سے فرمایا آپ صاحبان میرے کام میں مخل نہ ہوں، بعدہٗ اس بچے کو بلوایا جو پان دیر سے لایا تھا، اور جسے تھپڑ مار دیا تھا، بچہ آگیا تو فرمایا کہ شام کو میں نے غلطی کی جو تم کو چپت مار دی، قصور میرے بھیجنے والے کا تھا، لہٰذا تم میرے سر پر چپت مارو۔ ٹوپی اتار کر اصرار فرمانے لگے، وہ بچہ حیران ہو کر کانپنے لگا، اس نے ہاتھ جوڑ کر عرض کی حضور! میں نے معاف کیا، فرمایا تم نابالغ ہو تمہیں معاف کرنے کا حق نہیں، تم چپت مارو، مگر وہ نہ مار سکا، تب اپنا بکس منگوا کر مٹھی بھر پیسے نکالے، وہ پیسے دکھا کر فرمایا، میں تم کو یہ دوں گا، تم چپت مارو، مگر وہ بے چارہ یہی کہتا رہا کہ میں نے معاف کیا، آخر کار اعلیٰ حضرت نے اس کا ہاتھ پکڑ کر بہت سی چپتیں اپنے سرِ مبارک پر لگائیں اور پھر اس کو پیسے دے کر رخصت کیا۔
  4. اسلام میں اصلاحِ مفاسد کے اسلوب میں بڑی شائستگی اور رونق ادب وتہذیب ہے، اسلام یہ چاہتا ہے کہ سامنے والے کی دل آزاری بھی نہ ہو اور وہ شریعت وسنت کا پیکر بھی بن جائے, ورنہ اگر تقاضائے اخلاق، انسانیت سے دور رہ کر اصلاح کی کوشش کی گئی تو ہو سکتا ہے کہ وہ اکھڑ جائے اور اس طرح مزید گناہوں کے دلدل میں پھنس جائے اور اگر خامی کسی ایسے آدمی کے اندر ہے جو حسب ونسب یا علم وفضل میں بڑا ہے تب تو ولولۂ اصلاح میں اور فکر ونور کی ضرورت ہے ورنہ نتیجہ معکوس بھی ہوسکتا ہے، یعنی یہ ہوسکتا ہے کہ مصلح صاحب خود بے ادبی کا شکار ہوکر رب کے فضل سے محروم ہوجائیں، یہ جانتے کے باوجود کہ آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کے لئے سونا حرام کردیا ہے، سونے کی انگوٹھی پہننا عام فیشن بن چکا ہے، لوگ دھڑلے سے پہنتے ہیں، اب تو بغیر سونے کی انگوٹھی اور چین کے نکاح کا منعقد ہونا مشکل ہوگیا ہے، جیسے یہ نکاح کے رکنِ رکین میں شامل ہو، اگر سونے کی انگوٹھی کوئی سید صاحب پہنے ہوں تو کیا کیا جائے، ایک طرف شریعتِ مصطفیٰ کا قانون ہے، دوسری طرف نسبتِ مصطفیٰ کا احترام، اس تناظر میں اعلیٰ حضرت کے حسنِ اصلاح کا حسین منظر دیکھئے۔۔ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں ایک سید صاحب حاضر ہوئے، انہوں نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، یہاں معاملہ سید صاحب کا تھا اور اعلیٰ حضرت ساداتِ کرام کا بے حد احترام کرتے تھے، دیکھئے کس طرح حکم ادب کے سانچے میں ڈھلتا ہے، آپ نے فرمایا سرکار عالی وقار! اگر یہ انگوٹھی آپ مجھے عنایت فرمادیں تو عین نوازش ہوگی، اعلیٰ حضرت کے سوال پر جھٹ خوش خوش سید صاحب نے وہ انگوٹھی اعلیٰ حضرت کی خدمت میں نذر کردی، بعد میں اعلیٰ حضرت نے اس انگوٹھی کے وزن سے کچھ زیادہ وزن کے سونے کا زیور بنوا کر اُن سید صاحب کی زوجۂ محترمہ کے لئے بھیجوا دیا۔ ساتھ ہی تحریری طور پر شریعت کا یہ حکم بھی پہنچا دیا کہ سونے کی انگوٹھی مرد کے لئے حرام ہے، سونے کے زیورات کی صرف عورت حقدار ہے۔
  5. آئیے لگے ہاتھ ایک اور سید صاحب کی اصلاحِ عمل کا واقعہ اور اعلیٰ حضرت کے اخلاقِ فاضلہ، معیارِ ادب کا ایک اور مشاہدہ کر لیجئے، اگر یہ واقعہ دیکھ کر، پڑھ کر، یا سن کر آپ کے جذبۂ رواداری، قدر شناسی اور ادب آموزی کے گلشن میں بہاروں کی بارات اتر پڑے، تکریم وتہذیب کے خمار سے آپ کا دل سرشار ہوجائے اور آنکھیں فرطِ مسرت میں شبنمی قطرے نثار کرنے لگیں تو خاموش مت رہنے اعلیٰ حضرت کی روح کو عقیدت کا خراج ضرور پیش کیجئے۔ ایک بار ایک بہت بڑا افسر جو داڑھی منڈا، انگریزی لباس میں ملبوس تھا اعلیٰ حضرت کی زیارت کے لئے حاضر ہوا، آپ کے برادر زادے حضرت حسنین رضا خاں بریلوی نے اس کا تعارف کرانا شروع کیا کہ یہ کوتوال صاحب ہیں، ان کا نام یہ ہے، مگر اعلیٰ حضرت اپنے تحریری کام میں مشغول رہے اس توجہ نہ فرمائی تو حسنین میاں نے کہا حضور! یہ سید صاحب بھی ہیں، اب اعلیٰ حضرت نے جب 'لفظ سید صاحب' سنا تو چونک پڑے اور فوراً متوجہ ہوگئے اور نہایت ہی ادب کے ساتھ کچھ اس طرح گفتگو شروع فرمائی۔ سرکار! آپ کے محکمۂ پولیس میں آپ کے اوپر بھی ضرور کچھ افسران ہوں گے، تو یہ ارشاد فرمائیے کہ ان افسران کی طرف سے جب کوئی ڈاکیہ آپ کو ان کا کوئی پیغام پہنچاتا ہے تو آپ اسے قبول فرماتے ہیں یا نہیں؟ اس نے عرض کیا عالی جاہ! کیوں نہیں، بڑے افسر جو ہوئے، ان کی حکم عدولی ہم کر ہی نہیں سکتے، اعلیٰ حضرت نے پھر نہایت ہی عاجزی اور نرمی کے ساتھ اور نہایت ہی دل نشین پیرائے میں ارشاد فرمایا سرکار! آپ کے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ تمام نبیوں کے بھی افسر ہیں، ان کے دربارِ گہربار کے ایک انتہائی ادنیٰ ڈاکیہ کی حیثیت سے میں تمام کائنات کے افسر اور اللہ عزوجل کی تمام مخلوق کے سرور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام آپ کی خدمت میں پہنچانے کی جسارت کر رہا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا، آپ کے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام یہ ہے کہ ”مونچھیں پست کرو، داڑھی بڑھاؤ، اور آتش پرستوں کی مخالفت کرو“ اعلیٰ حضرت پیغامِ رسالت کی گہر باری کرتے رہے اور اس کی آنکھیں ٹپ ٹپ آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرتی رہیں۔ اس واقعہ کے چند ماہ بعد وہی پولیس افسر پھر جب اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تو لوگوں کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ ان کا پورا نقشہ بدلا ہوا تھا، قلب میں عشقِ مصطفیٰ کا گرہ گھر چکا تھا، قالب گدازِ پر شریعت کا نقش چڑھ چکا تھا، چہرہ پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے انوار سے جگمگ کر رہا تھا۔
  6. سینۂ زمین پر یہ مدارسِ اسلامیہ ہی ہیں جو دینِ حق کے ستون اور تعلیماتِ نبوی کے روشن مینار ہیں۔ مدرسہ کو چوں کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا کاشانہ ہونے کا شرف حاصل ہے بایں وجہ ان میں زیرِ تعلیم طلبہ مہمانانِ رسول گرامی وقار کہے جاتے ہیں۔ اس نسبتِ مصطفیٰ کی بنیاد پر ان کا کیسا اکرام ہونا چاہیے اور ہو کیا رہا ہے کون نہیں جانتا، ان طلبہ کے ساتھ لوگ کیسا سلوک کرتے اور انہیں جیسی نظر سے دیکھتے ہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ اکثر مدارس میں ان کا مصرف قرآن خوانی میں جانا اور پیسے بٹور کر لانا رہ گیا ہے۔ جب دیکھئے کچھ طلبہ آپ کو ہاتھ میں قرآن مجید کا بکس سنبھالے، قرآن خوانی کے لئے جاتے ضرور نظر آئیں گے۔ یہ مہمانانِ رسول کی ناقدری، ان کے ساتھ ظلم اور ان کا جوہرِ حیات گم کر دینے والی بات ہے، کچھ مدرسے تو قرآن خوانی ہی کے فیض سے چلتے ہیں، سوچئے ایسے مدارس سے علم کا فروغ کیسے ہوگا، وہاں کی درسگاہ سے مدرسینِ عالی جاہ کیسے جلوہ آرا ہوں گے، ناظمین و اراکینِ مدرسہ کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے، اعلیٰ حضرت بھی ایک بہت بڑے مدرسہ دارالعلوم منظرِ اسلام کے منتظم تھے مگر طلبہ کے ساتھ ان کا رویہ، حسنِ سلوک اور اخلاقی معاملہ دیکھئے۔ اعلیٰ حضرت کے سب سے چہیتے شاگرد اور خلیفہ ملک العلماء حضرت مولانا سید محمد ظفر الدین بہاری خود اپنا تجربہ اور مشاہدہ بیان فرماتے ہیں کہ جو طلبہ رمضان شریف میں بھی بریلی شریف ہی میں قیام کرتے تھے، اعلیٰ حضرت عید کے دن انہیں اپنے بچوں اور عزیزوں کی طرح عیدی دیتے اور پسندیدہ جوڑے سے نوازتے اور ہمیشہ ان کی دلجوئی فرماتے رہتے تھے، ان کی ضرورت کا خاص خیال رکھتے بلکہ ان کی پسند کو ترجیح دیتے تھے۔ جب اعلیٰ حضرت کے پوتے مولانا ابراہیم رضا خاں کی ولادت ہوئی تو نہ صرف والدین اور اعلیٰ حضرت بلکہ تمام خاندان بلکہ جمیع متوسلین کو از حد خوشی ہوئی، اس خوشی میں من جملہ اور باتوں کے اعلیٰ حضرت نے جملہ طلبائے دارالعلوم منظرِ اسلام (۱۳۲۲ھ) کی، ان کی خواہش کے مطابق دعوت فرمائی، بنگالی طلبہ سے دریافت فرمایا، آپ لوگ کیا کھانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مچھلی بھات، چنانچہ رہو مچھلی بہت وافر مقدار میں منگائی گئی اور ان لوگوں کی حسبِ خواہش دعوت ہوئی، بہاری طلبہ سے دریافت فرمایا آپ لوگوں کی کیا خواہش ہے؟ تو ان لوگوں نے کہا بریانی، زردہ، کباب اور میٹھا ٹکڑا، بہاری طلبہ کے لئے ویسا ہی پر تکلف کھانا تیار کیا گیا۔ پنجابی اور ولایتی طلبہ کی خواہش ہوئی دنبہ کا خوب چرب گوشت اور تنور کی پکی گرم گرم روٹیاں، غرض ان لوگوں کے لئے اسی طور پر اسی کا انتظام ہوا، مزید اس وقت خاص عزیزوں، مریدوں کے لئے جوڑا بھی تیار کیا گیا۔
  7. دعوت کرنا اور دعوت میں جانا دونوں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنت ہے، مگر دعوت کے بھی کچھ اصول واسلوب اور سلیقہ ہیں، اب کہاں وہ اصول واسلوب اب تو صرف دعوت ہے۔ نہ ادھر اخلاص کی رنگینی ہے، نہ اُدھر محبت کی چاشنی، سوائے اتفاق سے اب تو امیر وغریب کی تفریق درمیان میں حائل ہوگئی ہے، دعوت اگر امراء کی طرف سے ہے تو فراخ دلی سے قبول کی جاتی ہے اور اگر کسی غریب کی ہے تو یا تو خواہ مخواہورت بہانے سے رد کر دی جاتی ہے یا بادلِ نخواستہ قبول بھی کر لی گئی تو نہ جانے کے، نہ جانے کتنے حیلے تلاش کئے جاتے ہیں، تاہم یہ تفریق ہمارے اسلاف میں نہ تھی، وہ بڑے دریا دل اور کشادہ ظرف حضرات تھے، ان کے پیار کا ابرِ باراں جس طرح امیر کے محل پر برستا تھا، اسی طرح غریب کی جھونپڑیوں اور فقیر کی کٹیا پر بھی بلکہ وہ ایسے فیض رساں، کرم گستر، خلوص بخش حضرات تھے کہ غریب و محتاج اشخاص اس یقین کے ساتھ اپنے مرکزِ عقیدت کی دعوت کرتے کہ ان حضرات کے مبارک قدم کی برکت سے ہماری محتاجی و پریشانی دور ہو جائے گی، خوش حالی اور خوش حالی کے دن آئیں گے، ہمارے گھر میں بھی خوشیوں کی خوشبو پھیلے گی۔ اللہ تعالیٰ بھی ان کی نیک نیتی اور پاکیزہ خیالی کی لاج رکھتا تھا اور واقعی ہوتا بھی ویسا ہی تھا، غریب کو جو میسر ہوتا خوشی خوشی دسترخوان پر حاضر کر دیتا اور مہمانانِ گرامی قدر بھی خوب جی بھر کر، سیر ہو کر کھانا تناول فرماتے اور بعدِ اکل و شرب دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنے میزبان کے لئے دعا کرتے، صمیمِ قلب سے نکلی ہوئی دعا بابِ اجابت کو کھٹکھٹاتی اور ادھر غریب کے وارے نیارے ہو جاتے، بدحالی جاتی خوشحالی آتی، غریبی جاتی امیری آتی، گھر کا پورا ماحول چند ساعتوں میں بدل جاتا۔ ایک کم سن صاحبزادے نہایت ہی بے تکلفانہ انداز میں، سادگی کے ساتھ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی میری والدہ نے تمہاری دعوت کی ہے، کل صبح کو بلایا ہے۔ اعلیٰ حضرت نے ان سے دریافت فرمایا، مجھے دعوت میں کیا کھلائے گا، صاحبزادے نے اپنے کرتے کا دامن جو دونوں ہاتھوں سے پکڑے ہوئے تھے پھیلا دیا، جس میں ماش کی دال اور دو چار مرچیں پڑی ہوئی تھیں، کہنے لگے دیکھئے نا یہ دال لایا ہوں، اعلیٰ حضرت نے ان کے سر پر دستِ شفقت پھیرتے ہوئے فرمایا، اچھا میں اور یہ حاجی کفایت اللہ صاحب کل دس بجے دن حاضر ہوں گے اور حاجی صاحب سے فرمایا مکان کا پتہ دریافت کر لیجئے۔ صاحبزادے مکان کا پتہ بتا کر خوش خوش چلے گئے، دوسرے دن وقتِ متعین پر اعلیٰ حضرت عصائے مبارک ہاتھ میں لئے ہوئے باہر تشریف لائے اور حاجی صاحب سے فرمایا چلئے، جس وقت مکان پر پہنچے تو وہ صاحبزادے دروازہ پر کھڑے انتظار میں تھے، اعلیٰ حضرت کو دیکھتے ہی بھاگتے ہوئے یہ کہتے اور ”ارے امی مولوی صاحب آ گئے“ مکان کے اندر چلے گئے، دروازہ میں ایک چھپر پڑا تھا، وہاں کھڑے ہو کر اعلیٰ حضرت انتظار فرمانے لگے، کچھ دیر کے بعد ایک بوسیدہ چٹائی آئی اور ڈلیا میں موٹی موٹی باجرہ کی روٹیاں اور مٹی کی رکابی میں وہی ماش کی دال جس میں مرچوں کے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے، لا کر رکھ دی اور کہنے لگے ”لو کھالو“۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا بہت اچھا، کھاتا ہوں، ہاتھ دھونے کے لئے پانی لے آیئے، ادھر وہ صاحبزادے پانی لانے کو گئے اور ادھر حاجی صاحب نے کہا حضور! یہ مکان نقارچی کا ہے، اعلیٰ حضرت یہ سن کر کبیدہ خاطر ہوئے اور طنزاً فرمایا، ابھی کیوں کہا کھانا کھانے کے بعد کہا ہوتا، اتنے میں وہ صاحبزادے پانی لے کر آگئے، اعلیٰ حضرت نے دریافت فرمایا آپ کے والد صاحب کہاں ہیں اور کیا کام کرتے ہیں؟ دروازے کے پردے میں سے اس کی والدہ نے عرض کیا حضور! میرے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے وہ کسی زمانے میں نوبت بجاتے تھے اس کے بعد توبہ کر لی تھی، اب صرف یہ لڑکا ہے جو راج مزدوروں کے ساتھ مزدوری کرتا ہے، حضور نے الحمد للہ کہا اور دعائے خیر وبرکت فرمائی۔ دل ہی دل میں حاجی صاحب کے یہ خیال گشت کرتا رہا کہ حضور کو کھانے میں بہت احتیاط ہے، غذا میں سوجی کا بسکٹ استعمال میں ہے، یہ روٹی اور وہ بھی باجرے کی اور اس پر ماش کی دال کس طرح تناول فرمائیں گے، مگر قربان اس اخلاق اور دلداری کے کہ میزبان کی خوشی کے لئے خوب سیر ہو کر کھایا ، حاجی صاحب فرماتے تھے کہ میں جب تک کھاتا رہا، اعلیٰ حضرت بھی برابر تناول فرماتے رہے۔ وہاں سے واپسی میں حاجی صاحب سے اعلیٰ حضرت نے ارشاد فرمایا ، اگر ایسی خلوص کی دعوت روز ہو تو میں روز قبول کر لوں، یہ ہے خورداں نوازی، یہ ہے غریب کی دل جوئی اور خوش خلقی کا وہ اعلیٰ نمونہ جسے آئیڈیل بنا کر، کردارِ معاشرہ کی زلفِ برہم کو سنوارا جا سکتا ہے۔

ان کے ایثار و مروت کے جواہر پاروں اور خلوص و وفا کے رنگ برنگ پھولوں سے ان کی کتابِ سیرت کا ہر ورق گلنار بنا ہوا ہے، ان کی داد و دہش اور فیاضی و نوازش کا عالم یہ تھا کہ کاشانۂ اقدس سے کبھی کوئی سائل خالی نہ لوٹا، اس کے علاوہ بیوگان کی، امداد ضرورت مندوں کی حاجت روائی اور ناداروں کے لئے باضابطہ مہینے مقرر تھے اور یہ اعانت فقط مقامی نہیں تھی بلکہ بیرونِ ملک بذریعہ منی آرڈر روپے روانہ فرمایا کرتے تھے۔ کچھ طلبہ جو باہر علمِ دین حاصل کر رہے تھے ان کی بھی کفالت آپ فرمایا کرتے یہاں تک کہ مدینہ طیبہ کے بعض حضرات کے نام ۵۰ روپے مہینہ پابندی سے بھیجا کرتے تھے۔

ایک بار مدینہ طیبہ روپے روانہ کرنا تھا مگر اتفاق سے اس وقت ہاتھ خالی تھا، روپے بھیجنے میں تاخیر پر جو آپ کو قلق ہوا تھا اس کی تفصیل کے لئے حیا تِ اعلیٰ حضرت, اول ص: ۵۲ کا مطالعہ کیجئے۔ آنکھیں کھل جائیں گی، دل ٹھنڈا ہو جائے گا۔

اس طرح کے درجنوں نہیں سینکڑوں واقعات سیرتِ کتب کی زینت بنے ہوئے ہیں آج کے شوریدہ اور پراگندہ ماحول میں ان سب کی رونمائی کی ضرورت ہے۔

یہ سب واقعات ایسے ہیں جن میں اعلیٰ حضرت اخلاقی قدروں کے لعل و گوہر ہیں، انسانیت و شرافت کے شمس و قمر ہیں، دل داری و دل سوزی کے عمدہ نمونے ہیں، بد اخلاقی کی بنجر زمین پر خوش اخلاقی کی بیلا و گلاب کھلا دینے والے جوہر ہیں، ان کی اس نفیس اور عزیز و لذیذ خو بو کی واحد وجہ یہ تھی کہ ان کے سب کام محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہوا کرتے، وہ مرنجاں مرنج قسم کے صوفی، در کف جامِ شریعت، در کف سندانِ عشق کا مرقعِ عارفِ کامل تھے، نہ کسی کی تعریف سے مطلب، نہ کسی کی ملامت کا خوف تھا، حدیث شریف

مَنْ أَحَبَّ لِلّٰهِ وَأَبْغَضَ لِلّٰهِ وَمَنَعَ لِلّٰهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيْمَانَ

(جس نے کسی سے محبت کی تو اللہ کے لئے، دشمنی کی تو اللہ کے لئے کسی کو دیا تو اللہ کے لئے اور کسی کو منع کر دیا تو اللہ کے لئے تو یقیناً اس نے اپنے ایمان کو مکمل کر لیا) کے کامل مصداق تھے۔

کاش اپنے اسلاف کی سیرت و حیات کے گلشن سے کچھ بھی گل چینی کر کے ہم بھی محبت و وفا کا وہی مظاہرہ کرتے، کاش! ہم جہاں احترام سے ان کا نام لیتے ہیں، اکرام سے ان کے مشن اور ان کی رضا کو اپنانے کی کوشش کرتے، وہ کیا وجہ ہے کہ اہلِ جہاں کی زبان پر ان کے نام رس گھول رہا ہے اور محفل محفل ان کا تذکرہ خلوص کا پھول برسا رہا ہے۔ عقیدت مندوں کے دل پکار پکار کہہ رہے ہیں کہ

وہ صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کی آنکھیں ترستیاں ہیں

احترام و عقیدت کے ان تمام اہتمام کے باوجود ان کے تواضع کا عالم یہ تھا کہ اپنے سلسلۂ طریقت کے بزرگوں کا ذکر کرنے کے بعد اپنے لئے ان کے واسطے سے خدا سے یہ التجا کر رہے ہیں کہ

تیرے ان دوستوں کے طفیل اے خدا
بندۂ ننگِ خلقت پہ لاکھوں سلام

اپنے آپ کو ننگِ خلقت کہنے کے لئے کتنی ریاضت و مجاہدہ کی ضرورت ہے وہ اہلِ عرفان ہی جان سکتے ہیں، اپنے کام کی نسبت ان کی التجا کا یہ مخلصانہ مقام زمانہ ہمیشہ یاد رکھے گا بلکہ یاد رکھے ہوئے ہے۔

کام وہ لے لیجئے تجھ کو جو راضی کرے
ٹھیک ہو نامِ رضا تم پہ کروڑوں درود

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!