| عنوان: | پہلے کوشش پھر کامیابی |
|---|---|
| تحریر: | انس احمد خان العطاری |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
کوشش: ایک ایسا لفظ ہے جس کو ادا کرنے کے لئے بھی کوشش کرنی پڑتی ہے (اس لفظ کی ادائیگی ہی میں دشواری ہے) اسی طرح اس لفظ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھی بندے کو کئی ساری پریشانیوں، آزمائشوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور کامیابی: ایک ایسا وصف ہے جس سے ہر کوئی متصف ہونا چاہتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ کوشش کامیابی پر مقدم اور کامیابی کے لیے شرط ہے یعنی پہلے کوشش پھر کامیابی۔
جو بندہ کوشش کرتا ہے اور تمام تر دشواریوں سے ہم کنار ہو کر، در پیش آنے والی مشکلات کا مقابلہ کر کے اصل مقصود پر نظریں جمائے ہوئے کامیابی کے حصول کی جانب قدم بڑھاتا رہتا ہے، حتی کہ اس کی کوشش پایۂ تکمیل تک پہنچ جاتی ہے، تو پھر اللہ پاک اسے وہ دن بھی دکھاتا ہے کہ کامیابی اس کے قدم چومتی ہوئی نظر آتی ہے اور وہ بندہ کامیابی کی بلندیوں کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔
گویا کوشش اور کامیابی دونوں ایک دوسرے کو مستلزم ہیں اس طور پر کہ اگر کوشش کما حقہ ہوگی تو کامیابی إن شاء الله الكريم ضرور حاصل ہوگی، اور جو کامیاب ہوا ہے تو اس نے پہلے کما حقہ کوشش ضرور کی ہوگی۔
مگر اس راہِ کوشش میں در پیش آزمائشوں، دشواریوں، اور مصیبتوں کا سامنا کوئی نہیں کرنا چاہتا، لیکن کامیاب ہر کوئی ہونا چاہتا ہے۔ خاص طور سے طلبہ کرام کے گروہ میں ایک جماعت ایسی بھی ہوتی ہے جو محنت و کوشش کرنا تو بڑی دور کی بات ہے وہ کوشش کرنے کی بھی کوشش نہیں کرتے، اور متمنی ہوتے ہیں کامیابی کے اعلیٰ درجے پر فائز ہونے کے۔
جبکہ قرآن کریم میں اللہ پاک کا واضح ارشاد موجود ہے کہ:
وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى
ترجمہ کنز العرفان: اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی۔ [النجم: 39]
اس آیت مبارکہ سے پتا چلا کہ کوشش، کامیابی پر مقدم ہے (پہلے کوشش پھر کامیابی) انسان اصل مقصود کے حصول میں کامیاب اسی وقت ہوتا ہے جب پہلے موافقِ اصلِ مقصود اس نے کوشش کی ہو۔
بڑا مشہور مقولہ ہے: مَنْ جَدَّ وَجَدَ یعنی جس نے کوشش کی اس نے پا لیا۔ اور حضور حافظ ملت عليه الرحمة والرضوان کا بڑا پیارا قول ہے کہ: انسان کو مصیبت سے گھبرانا نہیں چاہیے، کامیاب وہ ہے جو مصیبتیں جھیل کر کامیابی حاصل کرے، مصیبتوں سے گھبرا کر مقصد کو چھوڑنا بزدلی ہے۔
اور اگر تاریخ انسانی کا جائزہ لیا جائے تو روز روشن کے مثل یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ کامیابی کے شرف سے مشرف ہونے والوں کی فہرست میں انہی لوگوں کا نام ہے جنہوں نے پہلے کما حقہ کوشش کی پھر کامیابی کا سہرہ ان کے سر سجا۔
لہذا یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ اگر کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو نیک نیت رکھتے ہوئے دلی خلوص کے ساتھ مقصود کے مطابق کما حقہ کوشش کرنا لازم و ضروری ہے۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
الغرض اگر دنیا میں کامیابی سے ہمکنار ہونا چاہتے ہیں تو صرف کامیابی کی چاہت و خواہش رکھنا کامیاب ہونے کے لئے کافی نہیں، بلکہ کامیابی کے حصول کے لئے چاہت کے ساتھ ساتھ مع اشیائے اربعہ موافق اصل مقصود کما حقہ کوشش کرنا لازم و ضروری ہے:
- نیک نیت۔
- دلی خلوص۔
- استقامت۔
- راہ کوشش میں در پیش آزمائشوں اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت۔
مِٹا دو اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہو
کہ دانہ خاک میں مِل کر گلِ گلزار بنتا ہے
یہ تو رہی دنیا میں کامیاب و کامران ہونے کے متعلق چند امور۔ اسی طرح آخرت میں کامیابی کے متعلق اگر مسلمانوں کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات ظاہر و باہر اور واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ ہر مسلمان آخرت میں سرخروئی اور کامیابی و کامرانی کے ساتھ داخل جنت ہونے کا متمنی و امیدوار ہے جو کہ ہونا بھی چاہیے کیونکہ حقیقی کامیاب وہ ہی ہے جو آخرت میں کامیاب ہو جائے، لیکن آخرت میں نجات دلا کر سرخروئی اور کامیابی و کامرانی کا سہرا سر پر سجانے والے امور و اعمال سے مسلمانوں کی اکثریت یکسر غافل ہے۔
جبکہ قرآن کریم کے اندر آخرت میں نجات اور فلاح و کامرانی کے اعزاز سے مشرف ہونے والوں کے متعلق متعدد مقامات پر ارشاد باری تعالٰی موجود ہے ان میں سے ایک کو ذکر کرتا ہوں چنانچہ اللہ تبارک و تعالٰی نے ارشاد فرمایا:
وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا
ترجمہ کنز العرفان: اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔ [بنی اسرائیل: 19]
اس آیت کریمہ کے تحت صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی کہ اس آیت مبارکہ سے یہ معلوم ہوا کہ عمل کی مقبولیت کے لیے تین چیزیں درکار ہیں: ایک تو طالب آخرت ہونا یعنی نیک نیت۔ دوسرا یعنی عمل کو باہتمام اس کے حقوق کے ساتھ ادا کرنا۔ تیسرا ایمان جو سب سے زیادہ ضروری ہے۔ [صراط الجنان]
لہذا اس آیت کریمہ اور اس کی تفسیر سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ آخرت میں بھی کامیابی، سرخروئی، اور فلاح و کامرانی کا حامل ہونے، اور ان تمام اعزازات سے مشرف ہونے کے لیے بھی بندے کا تین (3) چیزوں کا حامل ہونا ضروری ہے:
- ایمان والا ہونا
- آخرت کا طلبگار ہونا
- اس (آخرت) میں کامیابی کے لیے کما حقہ سعی (کوشش) کرنا یعنی عمل کو باہتمام اس کے حقوق کے ساتھ ادا کرنا۔
اور حقیقی معنوں میں سعی (کوشش) کرنے کے لیے بھی دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے:
- استقامت
- دوران کوشش درپیش مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ، اور مقابلہ کرنے کی ہمت۔
حضور حافظ ملت عليه الرحمة والرضوان کا قول ہے کہ: جس کی نظر مقصد پر ہوگی اس کے عمل میں اخلاص ہوگا، اور کامیابی اس کے قدم چومے گی۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
حاصل کلام یہ کہ کوشش کامیابی پر مقدم اور کامیابی کے لیے شرط ہے پھر چاہے دنیاوی کامیابی ہو خواہ اخروی، اگر پہلے کما حقہ کوشش ہوگی تو پھر بعد میں إن شاء الله الكريم کامیابی بھی ملے گی لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ کوشش اس کے مقتضیات کے ساتھ کرتا رہے اور ساتھ میں اللہ پاک کی بارگاہ میں کامیابی کی دعا بھی کرتا رہے إن شاء الله الكريم دونوں جہان میں کامیاب، و سرخرو ہو کر جگمگاتا نظر آئے گا۔
اللہ پاک ہمیں دونوں جہان میں کامیابی، و کامرانی، اور سرخروئی سے مشرف فرمائے۔ آمين ثُمَّ آمين يَا رَبَّ العَالَمِين بِجَاهِ خَاتَمِ النَّبِيِّين صلی اللہ علیہ وسلم۔
