| عنوان: | سوشل میڈیا اور خواتین |
|---|---|
| پیش کش: | بنت سلیم عطاریہ |
سوشل میڈیا انسان کی زندگی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، اس کے ذریعے انسان اپنے خیالات، افکار و نظریات لوگوں تک بآسانی پہنچا سکتا ہے۔ کئی نوجوان اور تنظیمیں مسلمانوں کی اصلاح اور عوام کی فلاح و بہبود میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، عوام سوشل میڈیا کے ذریعے مستفید ہوتے ہیں۔
لیکن جہاں اس کے بے شمار فوائد ہیں وہیں ایک تعداد ایسی بھی ہے جو سوشل میڈیا کے منفی استعمال کے ذریعے معاشرے میں برائیاں پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔ کثیر نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے پیسے اور شہرت کے حصول کے نشے میں ڈوب کر اپنا قیمتی وقت اور صلاحیتیں ضائع کر رہے ہیں۔
بے پردہ خواتین کی تصاویر و ویڈیوز، بے حیائی، گانے باجے اور دیگر گناہوں بھری سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے میں برائیوں کو عام کیا جا رہا ہے لہذا اپنی نگاہوں اور دل کی حفاظت کیجیے۔
یاد رکھیے کہ وہ لوگ جو گناہوں بھرے امور میں مبتلا ہیں، ان کو فالو کرنا یا گناہوں بھری ویڈیوز و تصاویر کو لائیک کرنا، شیئر کرنا یہ گناہوں میں معاون بننا ہے! کوئی بھی ایسی پوسٹ یا اکاؤنٹس و پیجز جس میں غیر شرعی چیزیں ہیں ان کو ہر گز لائیک، شیئر یا فالو مت کیجیے۔
اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪ ترجمہ کنزالایمان: نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کر۔ [المائدۃ: 2]
ایک طرف جہاں لبرل طبقے نے معاشرے میں سوشل میڈیا کے ذریعے فتنہ پھیلایا ہے، شریعت کے احکامات کو پس پشت ڈال کر گناہوں کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
افسوس صد افسوس کہ دیندار طبقہ بھی غیر شرعی امور میں مبتلا نظر آتا ہے جیسے کہ نعتوں یا اسلامک ویڈیوز میں میوزیکل ساؤنڈ کا استعمال کیا جاتا ہے، جو کہ ناجائز و گناہ ہے، اس سے بچنا لازم ہے۔
علامہ محمد امین ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ درمختار کی اس عبارت ”وكره كل لهو“ کے تحت فرماتے ہیں: ”والإطلاق شامل لنفس الفعل واستماعه كالرقص والسخرية والتصفيق وضرب الأوتار من الطنبور والبربط والرباب والقانون والمزمار والصنج والبوق فإنها كلها مكروهة لأنها زي الكفار واستماع ضرب الدف والمزمار وغير ذلك حرام“ یعنی لہو و لعب کا کرنا اور اس کا سننا سب اس ناجائز ہونے میں داخل ہے۔ جیسے رقص، مذاق مستی، تالی اور سارنگی اور بغیر تاروں اور تاروں والا باجہ بجانا اور بانسری، جھانجھ اور بگل بجانا۔ پس یہ تمام میوزیکل آلات بجانا مکروہ و ناجائز ہے کہ یہ کفار کی ہیئت ہے اور دف اور بانسری اور اس کے علاوہ اسی قبیل کی چیزوں کا سننا بھی حرام ہے۔ [رد المحتار، ج: 9، ص: 566، مطبوعہ کوئٹہ]
دیندار خواتین بھی سوشل میڈیا پر غیر محرموں سے متاثر ہوتیں، حوصلہ افزائی کے نام پر کمنٹس میں غیر محرموں کی تعریفیں یا دین سیکھنے سکھانے کے نام پر ان سے بے تکلفانہ گفتگو کرتی نظر آتی ہیں العیاذ باللہ تعالیٰ۔
اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ اپنے ذاتی معاملات یا دلچسپیاں فقط خواتین تک محدود رکھیں۔
بعض خواتین کہتی ہیں ہم سوشل میڈیا پر دین کا کام کرتی ہیں یاد رکھیے دین کا کام کرنے کے لیے اسلامی بہنوں کو سوشل میڈیا پر آنے کی حاجت نہیں۔ علمائے دین، مفتیان کرام اور مبلغین بد مذہبوں کے رد اور امت کی اصلاح میں مشغول ہیں۔
اسلام نے عورت کی عزت کے تحفظ اور اس کی عظمت کے لیے اسے پردہ و حیا، چادر و چار دیواری کی تعلیم ارشاد فرمائی ہے۔ عورت کا دل کچی شیشی کی مانند ہے عورت جلد متاثر ہو جاتی ہے اس لیے بہت احتیاط چاہیے۔
ایک لڑائی میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے ہیں آگے آگے حضرت انجشہ رضی اللہ عنہ کچھ گیت گاتے ہوئے جا رہے ہیں لشکر کے ساتھ کچھ باپردہ عورتیں بھی ہیں، حضرت انجشہ رضی اللہ عنہ بہت خوش آواز تھے، ارشاد فرمایا: ”اے انجشہ رضی اللہ عنہ اپنا گیت بند کرو کیونکہ میرے ساتھ کچی شیشیاں ہیں۔“ [مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب البیان والشعر، الحدیث: 4806، ج: 2، ص: 188 / صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب رحمۃ النبی الخ، الحدیث: 2332، ص: 1269]
نامحرم کی نگاہ یا توجہ عورت کے لیے پتھر کی مانند ہے۔
عورت کی بہت بڑی تعریف ہے کہ اس کی نگاہ اپنے شوہر کے سوا کسی پر نہ ہو، اگر اس کی نگاہ میں چند مرد آ گئے تو یوں سمجھو کہ عورت اپنے جوہر کھو چکی، پھر اس کا دل اپنے گھر بار میں نہ لگے گا جس سے یہ گھر آخر تباہ ہو جائے گا۔
ہمیں چاہیے کہ سوشل میڈیا کو علم دین عام کرنے اور مسلمانوں کی اصلاح کے لیے استعمال کریں، اور ہر اس چیز سے بچیں جو اللہ رب العزت کی ناراضی کا سبب بنے۔ عقلمند وہی ہے جو اپنی دنیا کے ساتھ اپنی آخرت کی بھی فکر کرے۔
اگر ہم سوشل میڈیا کو نیکی، علمِ دین اور اصلاحِ امت کے لیے استعمال کریں تو یہ ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بن سکتا ہے، اور منفی استعمال یا گناہوں کے ذریعے گناہ جاریہ کا سبب بن سکتا ہے۔
