| عنوان: | سیدہ نفیسہ رضی اللہ عنہا |
|---|---|
| تحریر: | ام الفضل رضویہ |
| پیش کش: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
اہلِ بیتِ اطہار میں بے شمار صاحبِ کرامت اولیاء اللہ جلوہ گر ہوئے۔ نہ صرف اہلِ بیت میں مرد حضرات، بلکہ خواتینِ اہلِ بیت بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ سیدہ، طیبہ، طاہرہ سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے نقشِ قدم پر آپ کی بیٹیاں اور پوتیاں بھی چلیں؛ خواہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہوں یا سیدہ سکینہ رضی اللہ عنہا۔
انہی باکمال و بے مثال خواتینِ اہلِ بیتِ اطہار میں زہد و تقویٰ میں ایک چمکتا ہوا نام حضرت طیبہ، طاہرہ، عابدہ، زاہدہ سیدہ نفیسہ مصریہ علیہا الرحمہ کا بھی ہے۔
آپ حسنی سیدہ ہیں۔ چوتھی پشت میں آپ کا نسب مولیٰ امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ صاحبِ کرامت، مستجاب الدعوات خاتون تھیں۔
بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آپ کے والد سید حسن انور رضی اللہ عنہ مزارِ اقدس پر حاضر ہوئے اور عرض گزار ہوئے: ”يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! میں اپنی بیٹی نفیسہ سے راضی ہوں۔“ اس پر نبیِ اکرم، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہاری بیٹی نفیسہ سے خوش ہوں، تمہارے اس سے خوش ہونے کی وجہ سے، اور اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہے، میرے اس سے خوش ہونے کی وجہ سے۔“ (سیرتِ سیدہ نفیسہ طاہرہ، ص 4)
اللہ اللہ! کیا کوئی اور سند درکار ہے آپ کی مقبولیت کے لیے؟ آپ کا نکاح حضرت اسحاق بن امام جعفر صادق رضی اللہ عنہما سے ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ بھی بہت بڑے بزرگ، صاحبِ کرامت اور ولی اللہ تھے۔ سیدہ نفیسہ رضی اللہ عنہا کی دو اولاد تھیں: ایک بیٹی حضرت کلثوم اور ایک بیٹا حضرت قاسم رضی اللہ عنہما۔
آپ سے کئی کرامات کا ظہور ہوا۔ آپ کے صدقے دعائیں قبول ہوتی ہیں اور آپ کی منت مانگنے سے مرادیں بر آتی ہیں۔ آپ کے مزارِ پُرانوار پر دعائیں قبول ہوتی ہیں جیسا کہ ذکر ہے کہ آپ کے مزارِ پاک پر بھی دعائیں قبول ہوتی ہیں (شذرات الذہب، جلد دوم، ص 21) اور فرمایا گیا ہے کہ سیدہ نفیسہ کے مزارِ پاک پر دعائیں قبول ہوتی ہیں، بلکہ حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام اور صالحینِ عظام کی قبور پر بھی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء، جلد 10، ص 107)
آپ عبادت میں مشغول رہتی تھیں۔ آپ نے اپنے جسم و جان کو رب کے لیے وقف کر دیا تھا۔ دن میں روزہ رکھتیں اور رات کو قیام فرماتیں۔ آپ کی بھتیجی بی بی زینت فرماتی ہیں: ”میں چالیس سال سیدہ نفیسہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں رہی۔ میں نے انہیں ایامِ ممنوعہ کے علاوہ کبھی بلا روزہ نہ دیکھا اور نہ کبھی رات کو سوتے دیکھا۔“
سبحان اللہ! کیسی شان والی خاتون تھیں۔ آج بھی آپ کا مزارِ پاک مصر میں جلوہ فگن اور مرجعِ خلائق ہے۔ آج بھی کوئی پریشان حال شخص آپ کی بارگاہ میں منت مانگ لیتا ہے تو اس کی مرادیں بر آتی ہیں، الحمد للہ۔
ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ان پاک ہستیوں کو یاد رکھیں، ان کے نام سے فاتحہ خوانی کا اہتمام کریں اور ان کی یاد میں مشغول رہیں؛ اس لیے کہ انبیاء و صالحین کا ذکر بھی ذکرِ الٰہی ہے۔
اللہ تعالیٰ سیدہ نفیسہ کے مزارِ پُرانوار پر رحمت و نور کی بارش برسائے، آپ کے درجات بلند و بالا فرمائے اور آپ کی خاص نظرِ عنایت ہم سب پر عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الملاحم صلی اللہ علیہ وسلم۔
