Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

شاہ تراب الحق نوری قادری ضیائی علیہ الرحمہ: حیات و خدمات

شاہ تراب الحق نوری قادری ضیائی علیہ الرحمہ: حیات و خدمات
عنوان: شاہ تراب الحق نوری قادری ضیائی علیہ الرحمہ: حیات و خدمات
تحریر: مقصود عالم مصباحی
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اس دنیا میں جو بھی آیا ہے ایک روز یہاں سے جانا ہے یہ ایک ایسی مشاہدہ کی بات ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ہزاروں آئے چلے گئے لیکن کچھ جانے والے ایسے بھی رہے جس کا غم اہل دنیا کو صدیوں رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف صاف ایسے افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ”عالم کی موت عالم اسلام کی موت ہے“ انہی چنندہ اشخاص میں پیر طریقت رہبر شریعت، ترجمان مسلک اعلیٰ حضرت، مبلغ اسلام حضرت مولانا الحاج شاہ مفتی سید تراب الحق قادری علیہ الرحمہ والرضوان کی ہے جن کا 6، اکتوبر 2016 صبح 11 بجے کراچی، پاکستان میں انتقال ہو گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ نماز جنازہ بعد نماز جمعہ دوپہر ساڑھے تین بجے میمن مسجد کراچی میں ادا کی گئی۔

موصوف پوری زندگی آخری سانس تک دین متین کی خدمت انجام دیتے رہے۔ تدریس، تصنیف، تقریر، تحریک کے ذریعے ملت کی آبیاری کرتے رہے۔

ولادت: 27 ماہ رمضان المبارک 1946ء قیام پاکستان سے ایک سال قبل 1946ء ماہ رمضان المبارک 27 تاریخ کو ہندوستان کی اس وقت کی ایک ریاست حیدرآباد دکن کے ایک شہر ناندیڑ کے مضافات میں موضع کلبر میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد کا نام حضرت سید شاہ حسین قادری بن سید شاہ محی الدین قادری بن سید شاہ مہراں قادری اور آپ کی والدہ ماجدہ کا نام اکبر النساء بیگم تھا۔ آپ والد ماجد کی طرف سے سید ہیں اور والدہ ماجدہ کی طرف سے فاروقی ہیں یعنی سلسلہ نسب امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔

اپنے وقت کے جید عالم، مدبر المہام امور مذہبی حیدر آباد دکن حضرت علامہ انوار اللہ خان فاروقی علیہ الرحمہ کے یہاں آپ کا ننھیال ہے۔

ہجرت اور تعلیم و تربیت: تقسیم ہند، سقوط حیدرآباد دکن کے بعد 1951ء میں ہندوستان سے ہجرت فرما کر پاکستان تشریف لائے۔ سقوط حیدرآباد دکن میں آپ کے تایا محترم سید شاہ امیر اللہ قادری کو شہید کر دیا گیا تھا پھر پاکستان تشریف لا کر آپ نے کراچی میں قیام فرمایا۔

ابتدائی تعلیم مدرسہ تحتانیہ دودھ بولی بیروں دروازہ نزد جامعہ نظامیہ حیدرآباد میں حاصل کی۔ پاکستان آنے کے بعد پی آئی بی کالونی (کراچی) میں قیام کے دوران ”فیض عام ہائی اسکول“ میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے رشتے کے خالو، سسر، پیر طریقت قاری مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ سے گھر پر کتابیں پڑھیں پھر ”دارالعلوم امجدیہ“ میں داخلہ لے لیا جہاں زیادہ تر اسباق قاری صاحب علیہ الرحمہ کے پاس پڑھے اور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت مفتی امجد علی اعظمی (متوفی 1367ھ) علیہ الرحمہ کے صاحبزادے شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ ازہری علیہ الرحمہ سے سند حاصل کی جو اُس وقت ”دارالعلوم امجدیہ“ کے شیخ الحدیث تھے۔ اعزازی سند سرمایہ اہل سنت مفتی محمد وقار الدین قادری رضوی حنفی علیہ الرحمہ سے حاصل کی جو اس وقت ”دارالعلوم امجدیہ“ کراچی کی مسندِ افتاء پر فائز تھے۔

شادی خانہ آبادی: آپ کا نکاح 1966ء میں پیر طریقت قاری مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ کی دختر نیک اختر سے ہوا جس سے اللہ تعالیٰ نے تین فرزند سید سراج الحق، سید شاہ عبدالحق، سید شاہ فرید الحق اور چھ بیٹیاں عطا ہوئیں۔

شرف بیعت: 1962ء میں بذریعہ خط اور 1968ء میں بریلی شریف حاضر ہو کر امام اہل سنت امام احمد رضا محدث بریلوی (متوفی 1340ھ) کے چھوٹے فرزند مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔ اس سفر میں آپ تیرہ روز حضرت مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے دولت خانے پر قیام پذیر رہے اور آپ سے تعویذات کی تربیت اور اجازت بھی حاصل کی۔ اسی دوران ”مسجد رضا“ میں نمازوں میں امامت فرماتے اور حضرت مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ ان کی اقتدا میں نمازیں ادا فرماتے۔ کئی جلسوں میں حضرت مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی موجودگی میں تقریر فرمائی اور داد تحسین حاصل کی۔

خلافت: سلسلہ عالیہ قادریہ، برکاتیہ، اشرفیہ، شاذلیہ، منوریہ، معمریہ اور دیگر تمام سلاسل میں آپ کو اپنے پیر حضرت مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ، اپنے استاد و خسر محترم حضرت مولانا مصلح الدین علیہ الرحمہ اور قطب مدینہ شیخ عرب و عجم حضرت مولانا ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ کے صاحبزادے زینت العلماء مولانا فضل الرحمن مدنی علیہ الرحمہ سے خلافت واجازت حاصل کی۔ ماہنامہ ”مصلح الدین“ کی اشاعت خاص ”مصلح الدین نمبر“ (اگست 2002 جمادی الاخری 1423ھ) کے صفحہ 65 پر ہے کہ قبلہ قاری صاحب علیہ الرحمہ نے مورخہ 27 جمادی الاخریٰ 1402ھ بمطابق 22 اپریل 1982ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء بمقام میمن مسجد مصلح الدین گارڈن بتقریب خرقہ خلافت سند اجازت اور محفل نعت بروانگی عمرہ حاضری دربار مدینہ میں حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری صاحب جو سند خلافت اور اجازت بیعت عطا فرمائی۔ اس سے قبل جب آپ 1977ء میں تبلیغی دورے پر نیروبی (کینیا) تشریف لے گئے۔ واپسی پر فریضہ حج ادا فرمایا۔ اسی سفر حرمین شریفین میں حضرت ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ کی صحبت میں کئی روز تک رہنے کی سعادت حاصل ہوئی۔

امامت و خطابت: 1965ء تا 1970ء چھ سال ”محمدی مسجد“ کورنگی کراچی میں اور 1970ء تا 1982ء بارہ سال ”اخوند مسجد“ کھارادر کراچی میں امامت وخطابت فرماتے رہے پھر جب 1983ء میں آپ کے استاد قاری مصلح الدین علیہ الرحمہ (جو کہ اپنی نیابت و خلافت پہلے ہی عنایت فرما چکے تھے) نے اپنے وصال سے دو سال قبل ”میمن مسجد“ مصلح الدین گارڈن سابقہ کھوڑی گارڈن کراچی کی امامت وخطابت آپ کے سپرد فرمائی۔ جس وقت ”اخوند مسجد“ میں امامت وخطابت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس وقت نوجوانوں کی خاصی تعداد آپ کے حلقہ درس میں شامل ہوئی اور کئی تنظیمیں قائم ہوئیں جیسے سنی باب الاشاعت الاسلام، جمعیت اشاعت اہلسنت، حقوق اہلسنت اور دعوت اسلامی وغیرہا۔

تقاریر: کا سلسلہ آپ نے 1962ء میں شروع کیا جبکہ آپ طالب علم تھے ، فراغت کے بعد مادر علمی ”دارالعلوم امجدیہ“ کی جانب سے مبلغ کے طور پر خدمات انجام دیں، ہر جلسہ میں ”دارالعلوم امجدیہ“ کی جانب سے خطیب تھے وہ ایسا دور تھا کہ آپ ایک دن میں بارہ بارہ تقاریر بھی کرتے تھے۔ وہ دور جب مولوی احتشام الحق تھانوی نے سرکاری و نجی دفاتر میں ہونے والے میلاد شریف کے جلسوں میں اپنا سکہ بٹھا دیا تھا۔ اس وقت حضرت نے اپنی مصروفیات کے باوجود سرکاری ، نیم سرکاری و نجی اداروں، بینکوں اور دیگر دفاتر میں ہونے والے میلاد شریف کے جلسوں میں جا کر مسلک حق اہلسنت کے فروغ کے لئے تبلیغ فرمائی اور اس کا سلسلہ اڑتیس سال سے زائد عرصہ تک چلتا رہا پھر آپ نے طبیعت کی ناسازی اور مصروفیت کی بناء پر تقاریر کا سلسلہ تقریباً موقوف کر دیا۔ جہاں جانا نہایت ضروری ہوتا، وہیں تقریر کے لئے تشریف لے جاتے اس کے علاوہ اپنی مسجد میں باقاعدگی سے جمعہ کا خطاب فرماتے اور جلسوں پر اکثر اپنے فرزند ارجمند حضرت علامہ مولانا سید شاہ عبدالحق قادری مدظلہ کو بھیج دیتے۔

مناظرے: آپ نے کئی مناظرے بھی کیے ہیں۔ ایک مشہور مناظرہ ”دارالعلوم کورنگی کراچی“ کے ایک مولوی ”محمد فاضل“ سے ہوا جس میں آپ کے ساتھ مفتی اعظم سندھ مفتی محمد عبداللہ نعیمی شہید علیہ الرحمہ صدر مناظرہ تھے۔ ایک مناظرہ ”حزب اللہ کراچی“ کے سربراہ گستاخ اولیاء ڈاکٹر کمال عثمانی سے ہوا جس میں ڈاکٹر عثمانی ہار گیا۔ باوجود شکست کے اپنی دائمی شقاوت کے سبب یہ لوگ تائب نہ ہوئے۔ 1980ء میں روزنامہ جنگ کے جمعۃ المبارک ایڈیشن میں عنوان ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ کے تحت مولوی یوسف لدھیانوی نے ایک سوال کے جواب میں لکھ دیا کہ قبروں پر پھول ڈالنا، ناجائز ہے تو آپ نے اس کا تعاقب کیا اور اس کا جواب لکھ کر اگلے جمعہ کے اخبار میں شائع کرایا۔ اس طرح دو سے تین ماہ تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ آخر جنگ اخبار کے ایڈیٹر نے معذرت کر کے اس کی اشاعت بند کر دی لیکن مولوی یوسف لدھیانوی نے بددیانتی یہ کی کہ جنگ اخبار میں دیے گئے جوابات کو جب ”اختلاف امت اور صراط مستقیم“ کے نام سے کتابی شکل دی گئی تو قبر پر پھول ڈالنے والے مسئلہ میں صرف اپنے جوابات شائع کیے۔

تصنیف: ضیاء الحدیث، جمال مصطفیٰ، تصوف و طریقت، دعوت و تنظیم، فلاح دارین، خواتین اور دینی مسائل, کتاب الصلاۃ، تفسیر سورۃ الفاتحہ، اسلامی عقائد، مزارات اولیاء و توسل، امام اعظم، فضائل صحابہ اور اہل بیت وغیرہ تصنیف کیے۔

بیرون ملک تبلیغ: دین متین کی تبلیغ و اشاعت میں آپ نے بھر پور حصہ لیا۔ اپنی تقاریر اور مواعظ حسنہ کے ذریعے کونے کونے میں اسلام کی دعوت کو عام کیا۔ یہ سلسلہ 1977 سے شروع ہوا جب آپ نے پہلا دورہ نیروبی کینیا کا فرمایا۔ لوگوں کی دعوت پر کئی بار عرب امارات، سری لنکا، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، ہالینڈ, جرمنی، بیلجیم، امریکہ، ساؤتھ افریقہ، کینیا، تنزانیہ، زمبابوے، عراق، زنزبار، زیمبیا، فرانس، اردن اور مصر تشریف لے گئے اور سرکاری وفد کے رکن کی حیثیت سے آپ نے اس وقت کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو مرحوم کے ہمراہ عوامی جمہوریہ چین کا دورہ کیا۔ ”کنزالایمان“ اور اہلسنت و جماعت کا لٹریچر وہاں کے مسلمانوں تک پہنچایا۔ سرکاری وفد کے رکن کی حیثیت سے اردن اور مصر کا بھی دورہ فرمایا۔

جن ممالک میں آپ تشریف لے گئے ان میں سے کچھ کی صورتحال بتاتے ہوئے آپ نے فرمایا ”دنیا کے بعض ممالک ایسے ہیں جہاں علمائے کرام تشریف نہیں لے جاتے کیونکہ وہاں کے لوگوں کو سارا خرچ خود برداشت کرنا پڑتا ہے اور یہ کام منظم جماعت کا ہے، ایک شخص اسے برداشت نہیں کر سکتا۔“ ”میں کینیا کے ایک جزیرے زنزبار گیا، لسانی فسادات میں وہاں بہت نقصان ہوا، ہم ایک مسجد میں پہنچے تو چند ہی لوگ جلسہ میں شریک ہوئے، ہمیں بہت حیرانی ہوئی، ہم نے باہر نکل کر معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ وہاں کے مقامی لوگوں نے اپنے تئیں یہ گمان کر لیا کہ کوئی تبلیغی درود و فاتحہ کا منکر ہی آیا ہو گا جو کم و بیش پچاس سال سے لگا تار بدلتے چہروں کے ساتھ نام نہاد مذہب کا پرچار کرنے چلے آتے۔

آج سے پچاس سال قبل مبلغ اسلام حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی علیہ الرحمہ تشریف لائے تھے ان کے بعد آپ یہاں تشریف لائے ہیں۔ ہم نے لوگوں کو اکٹھا کر کے دن میں جلسہ رکھا۔ الحمد للہ عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی، کچھ عرصے بعد اسی علاقے میں ہندستان کے ایک عالم دین کو بھیجا، وہاں مدرسہ بھی قائم کیا۔ امریکہ کے بارے میں مسلمانوں کی اکثریت اب بھی اردو زبان سمجھ لیتی ہے۔“

سید شاہ صاحب بہت سی تحریکوں کے بانی و سرپرست رہے۔ ان کی سوانح حیات پر بہت ساری کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ امام احمد رضا مومنٹ، تمام شاخوں کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے یہ فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم علامہ سید تراب الحق شاہ قادری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا وصال دین اسلام کا بہت بڑا خلا ہے یہ پُر نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے رب کریم حضرت کے درجات کو بلند فرمائے، ان کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے۔ ان کے لواحقین اور محبین کو صبر جمیل اور عالم اسلام کو ان کے فیوض و برکات ملے۔ آمین

عرش پر دھومیں مچیں وہ مومن صالح ملا
فرش سے ماتم اٹھے وہ طیب و طاہر گیا

[ماہنامہ: کنز الایمان دہلی، ص: 38]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!