Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

رحمت للعالمین ﷺ کی سیرت اور ہماری زندگی

رحمت للعالمین ﷺ کی سیرت اور ہماری زندگی
عنوان: رحمت للعالمین ﷺ کی سیرت اور ہماری زندگی
تحریر: محمد نوشاد ہدوی
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام جہانوں کے لئے رحمت اور اپنی توحید کی پہلی دلیل بنا کر اس دنیا میں مبعوث فرمایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اور بعثت ایک نئے دور کا آغاز اور تاریخ کی ایک نئی جہت کا تعین ہے۔ اگر ہم تاریخ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اور بعد کے دور کا موازنہ کریں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد انسانیت نے مکمل طور پر ایک نئی دنیا میں قدم رکھا، ایک ایسی دنیا جس میں شعور، آگاہی، تہذیب، ثقافت اور اعلیٰ انسانی اقدار کے فروغ، قیام اور استحکام کے وہ نظائر ملتے ہیں جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل تصور بھی نہیں کر سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ سے رہنمائی اور اخذِ فیض کے جو مناہج بطورِ امت اپنانا چاہئے تھے وہ اپنایا نہ جا سکا۔ ملتِ اسلامیہ جب ایک ہزار سال تک پوری دنیا میں مقتدر رہنے کے بعد زوال کا شکار ہونا شروع ہوئی تو وہاں دین کے مختلف شعبوں خصوصاً سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق اور فہم کی زوال کے بھی آثار نمایاں ہونے لگے۔ ان میں نمایاں ترین پہلو امتِ مسلمہ کا قلبی اور عملی طور پر سیرت سے ہٹ جانا اور فکری سطح پر سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی فہم سے عاری ہونا ہے۔ جس کا ثمرہ یہ نکلا کہ صرف امتِ مسلمہ کی اپنی انفرادی, اجتماعی، قومی اور بین الاقوامی زندگی میں سیرت کا فیضان کما حقہ جاری نہ رہا بلکہ عالمی سطح پر امتِ اجابت تک بھی سیرتِ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کا پیغام کما حقہ نہ پہنچایا جا سکا۔

اخلاق و عاداتِ مصطفیٰ: صداقت، نبوت و رسالت کا صفتِ لازمی ہے کیونکہ رسالت و نبوت کی سچائی کی دلیل نبی کا ذاتی گفتار میں سچا ہونا ہے، قرآنِ پاک میں رب العزت نے کچھ نبیوں کا بھی ذکر فرمایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے:

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا [مريم: 41]

اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا:

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا [مريم: 54]

جبکہ ہمارے نبی اصدق الصادقین تھے نبوت سے قبل تمام اہلِ مکہ نے صادق، امین کا لقب دے دیا تھا۔ آپ کے پاس بڑے بڑے کفارِ مکہ بھی فیصلہ طلب کرتے ہوئے آتے تھے۔ یہاں تک کہ ابو جہل جو آپ کا دشمن تھا وہ کہتا تھا کہ ”اے محمد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کاذب نہیں سمجھتا لیکن آپ کی تعلیم پر میرا دل نہیں ٹھہرتا۔“

حلم اور قوتِ برداشت ایک اخلاقی صفت ہے جو اچھے اخلاق و کردار کا آئینہ ہے، حلم ایسی خوبی ہے کہ جس شخص میں جس قدر زیادہ ہو وہ اتنا ہی زیادہ صاحبِ اخلاق اور باوقار ہوتا ہے۔ اسلامی اخلاقیات میں حلم و عفو کو خلقِ عظیم سمجھا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلم و عفو بے مثل و بے مثال ہے۔ آپ کی زندگانی کا ہر پہلو حلم و عفو سے مزین ہے۔ دشمنانِ اسلام نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زندگی بھر تکالیف دیں، رات دن ظلم و ستم کیے۔ مگر اس کے باوجود بھی آپ نے انتقام نہ لیا بلکہ اس کے عوض دعا دی۔ اس کی طرف شاعر نے اشارہ کیا ہے:

دشمن سے بھی بدلہ نہ لیا حضرت نے کبھی بھی
مارا بھی تو اخلاق کی تلوار سے مارا

جنگِ احد کے موقع پر عتبہ بن ابی وقاص نے آپ کے دندانِ مبارک کو شہید کر دیا اور عبداللہ بن قمیئہ نے چہرہ انور کو زخمی اور خون آلود کر دیا مگر آپ نے کچھ نہ کیا سوائے اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ۔ لبید بن اعصم نے آپ پر سحر کیا اور بذریعہ وحی اس کا حال معلوم ہو گیا مگر آپ نے اس سے کوئی مؤاخذہ نہیں فرمایا۔ ہمیں بھی چاہئے کہ اپنے پیارے رسول کی نرالی اداؤں کو اپنائیں۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ تواضع بھی نرالی ہے۔ اللہ رب العزت نے جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دیا کہ آپ چاہیں تو شاہانہ اور ملکانہ زندگی بسر کریں یا، ایک بندہ ہو کر بندگی کی زندگی گزاریں تو رسولِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے بندگی کی زندگی کو ترجیح دی۔ اس حدیث سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تواضع کا اندازہ ہو جائے گا۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَثَبَ (قَامَ الْوَزَّانُ بِسُرْعَةٍ) إِلَى يَدِ النَّبِيِّ يُقَبِّلُهَا فَجَذَبَ يَدَهُ وَقَالَ هَذَا تَفْعَلُهُ الْأَعَاجِمُ بِمُلُوكِهَا وَلَسْتُ بِمَلِكٍ إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْكُمْ ثُمَّ أَخَذَ السَّرَاوِيلَ فَذَهَبْتُ لِأَحْمِلَهُ فَقَالَ صَاحِبُ الشَّيْءِ أَحَقُّ أَنْ يَمْلِكَهُ

ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں داخل ہوئے اور سامان خریدنے کی غرض سے ایک دوکان میں گئے اور تولنے کو کہا تو فوراً دوکان دار نے رسول کو دیکھتے ہی ان کی طرف کودا، دستِ مبارک کو بوسہ دینے لگا تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ عجم والوں کی عادت ہے کہ وہ اپنے بادشاہوں کو بوسہ دیتے ہیں جب کہ میں بادشاہ نہیں ہو بلکہ تم ہی میں سے ایک فرد ہوں۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ازواجِ مطہرات، اپنے احباب، اصحاب، اپنے رشتہ داروں، پڑوسیوں اور ہر ایک کے ساتھ خوش اخلاقی اور ملنساری کا معاملہ کرتے کہ پورے اہلِ مکہ آپ کے اخلاقِ حسنہ کا گرویدہ اور مداح تھے۔ خدائے رب العزت نے آپ کے اخلاق کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ [القلم: 4]

آپ خلقِ عظیم کے حامل ہے۔ اسی طرح ایک مرتبہ ایک شخص نے رسول اللہ کے حوالے سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ، يَرْضَى بِرِضَاهُ، وَيَسْخَطُ بِسَخَطِهِ آپ کے خادمِ خاص حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے دس برس تک سفر و حضر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا مگر:

مَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ وَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَا صَنَعْتَهُ وَلَا لِشَيْءٍ تَرَكْتُهُ لِمَا تَرَكْتَهُ [ترمذي]

کہ حضور نے نہ مجھے ڈانٹا جھڑکا بلکہ کبھی اف تک نہ فرمایا، نہ کبھی یہ فرمایا کہ تو نے فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا۔

اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک امت پر لازمی ہے۔ جس چیز کا ہمیں حکم دے اسے بجالانا ہر امت پر فرضِ عین ہے۔ اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے خدائے باری ارشاد فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ [الأنفال: 20]

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔ آگے یوں ارشاد فرماتا ہے:

وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ [آل عمران: 132]

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

رسول کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ خدا نے یوں بیان فرمایا:

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا [الحشر: 7]

کہ جس چیز کی تمہیں رسول حکم دیں اسے مان لو اور جس سے روکیں رک جاؤ۔ اللہ رب العزت اطاعت کرنے والے کی فضیلت یوں بیان فرماتا ہے:

وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا ذَٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ عَلِيمًا [النساء: 69-70]

خدا کے اس قول سے بات سمجھ میں آتی ہے کہ خدا کی رضامندی رسول کے خوش کرنے میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ۔

حصولِ رحمت کا اصل ذریعہ اتباعِ سنتِ نبوی ہے یعنی جو شخص زندگی کے معاملات، عبادات، معاش، معاشرت اور ثقافت وغیرہ میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا خیال کرتا ہے اور ہر کام کو اسی طرح انجام دینے کی کوشش کرتا ہے، جس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اتباعِ سنت میں اللہ کی رحمت کے خزانے چھپے ہوئے ہیں اس لئے زندگی کے ہر شعبے میں اتباعِ سنت کا خیال رکھنا چاہیے۔ خدا تبارک و تعالیٰ اتباعِ سنتِ نبوی کے بارے میں فرماتا ہے:

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ [آل عمران: 31]

ترجمہ: اے محبوب آپ فرما دیجئے کہ اے لوگو! اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اس آیتِ کریمہ میں سرکارِ دو عالم کی اتباع و پیروی کو محبتِ خداوندی کی دلیل قرار دیا گیا ہے گویا اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر اگر کوئی شخص محبتِ خداوندی کا دعویٰ کرے تو وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔ اسی طرح دوسرے مقام پر فرمایا:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ [الأحزاب: 21]

اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ:

تَعْصِي الْإِلَهَ وَأَنْتَ تُظْهِرُ حُبَّهُ
هَذَا لَعَمْرِي فِي الْقِيَاسِ بَدِيعُ

لَوْ كَانَ حُبُّكَ صَادِقًا لَأَطَعْتَهُ
إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيعُ

لیکن آج ہم جس کٹھن دور سے گزر رہے ہیں اس کا جائزہ لے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ دن بہ دن فتنہ و فساد اپنے دائرے کو وسیع کرتا چلا جا رہا ہے اور مسلم معاشرہ اس کے جال میں پھنستے چلا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے اسباب و علل اور حل کی طرف رسیدہ ہونا تھوڑا سہل ہوگا ۔ ہمیں اس فرق کو سمجھنا ہوگا کہ آج کے مسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد کے مبارک لوگ نہیں۔ اُس وقت لوگوں میں خوفِ خدا، حبِ رسول کوٹ کوٹ کر بھرا تھا جس کی وجہ سے وہ 313 کی قلیل جماعت ہونے کے باوجود تمام کفر مکہ پر اپنا دبدبہ رکھتے تھے مگر دورِ حاضر کے مسلمانوں کے دلوں میں عشقِ رسول ہے نہ ہی خوفِ خدا۔ کسی شاعر نے کیا ہی خوب اشارہ کیا ہے۔

دن لہو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے
شرمِ نبی خوفِ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

دوسری جانب وہ لوگ جو ”إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ“ [فاطر: 28] کے مصداق تھے جبکہ آج نہ لوگوں میں علم کی عظمت ہے نہ ہی عالم کہے جانے کو مسلمان ہے۔ جب رسول اللہ کی سیرت اور پیاری پیاری سنتوں کی باتیں کی جاتی ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ

سنے گا اقبال کون ان کو یہ انجمن ہی بدل گئی ہے
نئے زمانے میں آپ ہم کو پرانی باتیں سنا رہے ہیں

اس لئے ہمیں وقت اور حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بہت توجہ سے دعوت وارشاد جیسے کام کو انجام دینا ہوگا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ دورِ حاضر میں سیرت الرسول کے تذکرہ سے بہتر کوئی عمل نہ ہوگا۔ درج ذیل میں چند اسباب ذکر کیے دیتے ہیں:

ہمارے سماج کے لوگ کہتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر ڈاکٹر آفیسرانجینئر بنانا چاہتے ہیں کیوں کہ وہ دینی علوم سیکھ کر نہ آفسر بن پائیں گے نہ ہی ٹھیک سے اپنا پیٹ پال سکیں گے۔ لوگ اسے پڑھا لکھا جاہل کہیں گے۔ جب کہ خدا کی نظر میں اس سے بہتر کوئی عمل نہیں اور رسولِ خدا نے فرمایا ہے:

أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ وَمَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلَّا ذِكْرَ اللَّهِ وَمَا وَالَاهُ وَعَالِمٌ وَمُتَعَلِّمٌ [رواه الترمذي]

کہ دنیا کی تمام چیزوں پر لعنت کی گئی ہے سوائے خدا کے ذکر اور عالم اور معلم کے۔

آج سائنس و ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے اقوامِ ایشیا بطورِ خاص برصغیر کے لوگوں کو یہ باور کرا دیا ہے کہ صرف انگریزی زبان میں ہی کامیابیِ حیات کو ودیعت کیا گیا ہے۔ اگر کامیابی کے گوہرِ مقصود تک پہنچنا ہے تو محض انگریزی اور اس سے متعلق مضامین کا مطالعہ کرو تھوڑے صحیح اور تھوڑے غلط نظریہ کا یہ آمیزہ بھی مسلمانوں کے اندر سے مذہبی تعلیم کی اہمیت کو ختم کرنے اور نوجوانوں کو مذہب اور رسول کی سیرت سے دور بے زار کرنے کا مجرم ہے۔ انگریزی علوم کو نہ میں برا سمجھتا ہوں اور نہ ہی میں اس کے مخالف ہوں مگر کسی چیز کو اس کے اصلی مقام سے بڑھانا یا گھٹانا اچھی چیز نہیں۔

آج کے مسلمان حضرات آرائشی زندگی میں ایسے غوطہ زن ہو چکے ہیں کہ انہیں دین کی فکر ہے نہ ہی انسانیت کی واقفیت اور مغربی تہذیب وتمدن ان کے دلوں کو بھانے لگا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انسانی زندگی کے ہر شعبے پر مغرب پرستی کی بیماری چھائی ہوئی ہے۔ اس کی سوچ، طرزِ زندگی، رہن سہن، بود و باش کا طریقہ, معاشرہ اور افکار و خیالات سب کچھ مغرب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں اور اسی میں انھیں کامیابی و کامرانی اور مقصودِ حیات سمجھتے ہیں۔

ہمارے مسلم نوجوان ایسے ایسے عمل انجام دیتے ہیں جن کا دین و شریعت سے تعلق نہیں ہوتا ہے بلکہ خدا اور رسول کی ناراضگی کو بڑھاتے ہیں جو اُن کی شکستگی کا سبب بنتا ہے۔ صبح جب بیدار ہوتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی داڑھی مونڈتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا کا پیارا عمل ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ”داڑھی میں ہمیشہ فرشتے جھومتے رہتے ہیں،“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ کے کچھ فرشتے ہیں جن کی تسبیح یہ ہے: سُبْحَانَ مَنْ زَيَّنَ الرِّجَالَ بِاللِّحَى وَزَيَّنَ النِّسَاءَ بِالذَّوَائِبِ۔ ہدایہ شریف میں ہے کہ حلق اللحية مثلة کہ داڑھی کا مونڈنا مثلہ ہے اور اس کی شرح میں عینی شارح ہدایہ شریف نے لکھا کہ والمثلة حرام کہ مثلہ حرام ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ داڑھی مونڈانا حرام ہے۔ اب آپ ہی جائزہ لیجئے کہ صحابۂ کرام صبح صبح رسول اللہ کے دیدار کے لئے تڑپتے تھے مگر آج کے مسلم نوجوان داڑھی مونڈنے کو ترجیح دیتے ہیں اور جب اپنے پیر پر کھڑے ہو جاتے ہے تو والدین کو گھر سے نکال دیتے ہیں جس عظیم ہستی کے بارے میں خدائے تعالیٰ نے فرمایا:

فَلَا تَقُلْ لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا [الإسراء: 23]

رسول نے فرمایا: الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ [بخاري] ترجمہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ ہمارا معاشرہ کتنا بگڑ چکا ہے اور رسول کی سیرت کی کتنی ضرورت ہے۔

ایک چیز جو ہمارے سماج کے لیے اشد ضروری ہے جس کے بغیر دنیا کی معرفت ہوگی نہ ہی خوفِ خدا کا احساس ہوگا کیونکہ جب ہمیں علم ہوگا تب ہی خدا کی معرفت ہوگی جس کی شانِ خدا تبارک وتعالیٰ نے بیان کیا:

يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ [المجادلة: 11]

اور خوفِ خدا کے لیے علم لازمی ہے کیونکہ خود فرماتا ہے: ”إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ“ کہ خدا سے ڈرنے والے محض علمائے کرام ہیں تو ظاہر ہو گیا کہ خوف کے لیے علم ہونا ضروری ہے ۔جب ہمیں علم ہوگا تب ہی خدا کی معرفت کی پہچان ہوگی اور خدا کے خوف اور حبِ رسول کی سوزش بڑھے گا۔

اس لیے ہمیں چاہئے کہ ہم امتِ مسلمہ کو قرآنِ کریم سے جوڑیں۔ وہ اسے یاد کرے اس کی تلاوت کرے اور اسے سمجھے ۔ضروری ہے کہ اسلامی معاشرہ از سر نو قرآنِ کریم سے گہرا, پر جوش تعلق قائم کرے پھر معاشرے کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ سے واقفیت بہم پہنچائی جائے اور لوگوں کو اُس سے جوڑا جائے۔ محض اسی کے ذریعہ اسلامی معاشرہ اور اسلامی تشخص کی حفاظت کا عظیم ہدف پورا کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے کہ انسان کو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کا علم ہوگا تو وہ اپنی جان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق ومحبت کرے گا۔ اسے معلوم ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے لیے کیسی کیسی قربانیاں دی ہیں اور کتنی جدوجہد کی ہے۔ اسی طرح ہم امتِ مسلمہ کی ثقافت کی حفاظت کر سکیں گے۔ یہ بھی ضرورت ہے کہ تعلیمی اداروں کا نصابِ تعلیم اس طرح تیار کیا جائے کہ اس کے ذریعہ اسلامی ثقافت کا تعارف کرایا جائے اور اسلامی اقدار کو ذہنوں میں راسخ کیا جائے۔ کیونکہ آج بھی اگر امتِ مسلمہ صحابہ کرام کی سنت پر چلتے ہوئے ذاتِ مصطفیٰ کے ساتھ عشق و محبت اور ادب و تعظیم کا تعلق مضبوط کر لے تو پھر یہ دوبارہ ایک نا قابلِ تسخیر قوت بن سکتی ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ہے۔

[ماہنامہ: کنز الایمان دہلی، ستمبر 2019ء، ص: 9 تا 12]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!