Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مکہ سے مدینہ ہجرت کا تذکرہ (قسط: سوم و آخری)

مکہ سے مدینہ ہجرت کا تذکرہ (قسط: سوم و آخری)
عنوان: مکہ سے مدینہ ہجرت کا تذکرہ (قسط: سوم و آخری)
تحریر: غلام احمد قریشی
پیش کش: عائشہ رضا عطاریہ

جب حضور ﷺ مدینہ کے قریب پہنچ گئے تو بریدہ اسلمی قبیلہ بنی سہم کے ستر سواروں کو ساتھ لے کر اس لالچ میں آئے کہ آپ ﷺ کی گرفتاری پر قریش سے سو اونٹ انعام مل جائے گا۔ جب حضور ﷺ کے سامنے آئے اور پوچھا آپ کون ہیں؟ تو فرمایا: ”میں محمد بن عبداللہ ہوں اور اللہ کا سچا رسول ہوں۔“ جمال و جلالِ نبوت اور آپ کی شیریں گفتاری کا ان کے قلب پر ایسا اثر ہوا کہ فوراً ہی کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوئے۔ وہ ستر سوار بھی مشرف بہ اسلام ہو گئے اور کمالِ عقیدت سے عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ! میری تمنا ہے کہ مدینہ میں حضور ﷺ کا داخلہ ایک جھنڈے کے ساتھ ہونا چاہیے، پھر اس نے اپنا عمامہ سر سے اتار کر نیزے پر باندھ لیا اور آنحضرت ﷺ کے علم بردار بن کر مدینہ تک آگے آگے چلتے رہے۔

مسجدِ نبوی کی جگہ کا تعین

آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اونٹنی خدا کی طرف سے مامور ہے، یہ جہاں بیٹھ جائے گی وہی میری قیام گاہ ہے۔ جس جگہ آج مسجدِ نبوی شریف ہے، اس کے پاس حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا مکان تھا۔ اونٹنی اسی جگہ بیٹھ گئی اور حضور ﷺ نے حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان پر قیام فرمایا۔

حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کی نذر

اربابِ سیر نے لکھا ہے کہ ان دنوں زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ شام کے ایک قافلے کے ہمراہ مکہ جا رہے تھے، راستے میں آنحضرت ﷺ سے ملاقات ہوئی۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سابقینِ اہل اسلام سے تھے، انہوں نے حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں چند نفیس کپڑے جوڑے بطورِ نذرانہ پیش کیے جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمایا۔

قبا میں نزولِ اجلال

راہبر کے ساتھ سفر جاری رہا یہاں تک کہ یہ قبا پہنچ گئے۔ مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلہ پر ۱۲ ربیع الاول کو حضور ﷺ قبا میں رونق افروز ہوئے۔ آپ ﷺ مدینہ منورہ میں دوشنبہ کے دن جلوہ افروز ہوئے۔ روزِ دوشنبہ کے فضائل میں سے ہے کہ حضور اکرم ﷺ، ابتدائے بعثت، مکہ سے ہجرت، مدینہ منورہ میں رونق افروزی اور دنیا سے رحلت، یہ تمام واقعات روزِ دوشنبہ میں ہی واقع ہوئے۔ حضرت رسولِ اکرم ﷺ قبیلہ عمرو بن عوف کے خاندان میں حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ کے مکان میں تشریف فرما ہوئے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی آمد

حضرت علی کرم اللہ وجہہ حکمِ نبوی کے مطابق قریش کی امانتیں واپس لوٹا کر تیسرے دن مکہ سے پیدل سفر کر کے مدینہ آئے اور اسی مکان میں قیام فرمایا۔ پیدل چلنے کی وجہ سے آپ کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس سے مسح فرمایا تو وہ اسی وقت ٹھیک ہو گئے۔

مدینہ میں استقبالِ نبوی

اہلِ مدینہ آپ کے دیدار کے لیے روزانہ صبح سے صحرا کی طرف نکلتے اور انتظار کرتے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے قریب پہنچے تو ایک یہودی نے چھت سے دیکھ کر پکارا: ”اے مدینہ والو! لو تم جس کا انتظار کرتے تھے، وہ آ گیا۔“ یہ سن کر انصار جوشِ مسرت میں اپنے گھروں سے نکل پڑے اور نعرۂ تکبیر سے شہر گونج اٹھا۔ بچوں نے دف بجا کر یہ اشعار پڑھے:

طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا . مِـنْ ثَـنِـيَّاتِ الْوَدَاعِ
وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا . مَـا دَعَـا لِـلَّهِ دَاعِ

”ہم پر چاند طلوع ہو گیا وداع کی گھاٹیوں سے، ہم پر خدا کا شکر واجب ہے جب اللہ سے دعا مانگنے والے دعا مانگتے ہیں۔“ انصاری بچیاں دف بجا بجا کر گیت گاتی تھیں: نَحْنُ جَوَارٍ مِّنْ بَنِي النَّجَّارِ . يَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِّنْ جَارِ (ہم بنو نجار کی بچیاں ہیں، واہ کیا ہی خوب ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پڑوسی ہو گئے۔)

مسجدِ قبا اور پہلا جمعہ

رسول اللہ ﷺ نے قبا میں چار روز قیام فرمایا اور ایک مسجد کی بنیاد رکھی جس کے بارے میں قرآن میں آیا: لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ۔ جمعہ کے روز آپ وہاں سے آگے روانہ ہوئے اور بنی سالم بن عوف کے ہاں پہلی جمعہ کی نماز ادا کی۔ یہ اسلام میں پہلا جمعہ تھا اور اس میں مسلمانوں کی جماعت کی تعداد ایک سو تھی۔

[ماخوذ از: ماہنامہ کنز الایمان، دہلی (مارچ ۲۰۲۰ء، ص: ۳۶، ۳۷، ۳۸)]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!