Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

گستاخ رسول کی سزا عہد نبوی اور عہد صحابہ میں (قسط اول)

گستاخ رسول کی سزا عہد نبوی اور عہد صحابہ میں (قسط اول)
عنوان: گستاخ رسول کی سزا عہد نبوی اور عہد صحابہ میں (قسط اول)
تحریر: مولانا محمد اسلم رضا قادری باسنی، ناگور شریف
پیش کش: ذکیہ صدیقی

جس شخص نے خدا اور رسول ﷺ کی شان میں ادنیٰ گستاخی کی یا اپنے کسی قول و فعل سے اذیت پہنچائی اس کے لیے قرآن و حدیث میں دردناک عذاب کی وعیدیں آئی ہیں۔ ایسا گستاخ اللّٰہ کی زمین پر بوجھ ہے اور اس کے لیے دائمی رسوائی ہے۔

سورۂ قلم کی ابتدائی آیات تلاوت کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کے گستاخ کا کس قدر سخت جواب دیتے ہوئے اس کے لیے دردناک عذاب بیان فرمایا ہے۔ وہ شخص جس کی گستاخی و بے ادبی پر اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے مقدس کلام میں اس کے دس عیوب کو ظاہر فرما کر اس کی مذمت بیان فرمائی وہ بدبخت ولید بن مغیرہ تھا جو حرام زادہ تھا۔ دوسرا ابو لہب جو خود ہمارے پیارے آقا ﷺ کا سگا چچا تھا۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ نے اس کے متعلق اور اس کی گستاخ و بے ادب بیوی کے بارے میں پوری ایک سورت نازل فرماتے ہوئے فرمایا:

سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ

عنقریب وہ بھڑکتی آگ میں ڈالا جائے گا۔

اسی طرح اپنے حبیب و محبوب ﷺ کی بارگاہ کے آداب بیان کرتے ہوئے سورۂ حجرات میں فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ [الحجرات: 2]

اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ [کنز الإیمان]

ہمارے حضور ﷺ کی شان کتنی نرالی ہے کہ اللّٰہ رب العزت نے ان کے حضور آواز بھی پست کرنے کا حکم دیا اور بلند کرنے والوں کے اعمال برباد کر دینے کی وعید ارشاد فرمائی۔ ایسے رسول مقبول ﷺ کی شان میں تنقیص و توہین اور گستاخی و بے ادبی کے کلمات کہنا اور لکھنا کس قدر سنگین جرم ہوگا، ذیل کی آیات سے اس پر روشنی پڑتی ہے، ملاحظہ ہو:

  1. اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا [الأحزاب: 57] بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ [کنز الإیمان]
  2. وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ [التوبة: 61] اور وہ جو رسولُ اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ [کنز الإیمان]
  3. مَّلْعُوْنِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا [الأحزاب: 61] پھٹکارے ہوئے جہاں کہیں ملیں پکڑے جائیں اور گن گن کر قتل کیے جائیں۔ [کنز الإیمان]

خاتم الفقہاء حضرت سید علامہ ابن عابدین شامی حنفی (م ١٢٥١ھ، ١٨٣٦ء) قدس سرہ لکھتے ہیں: ”یہ ساری آیتیں ایسے بدبخت کے کفر و قتل پر شاہد ہیں۔ ہلکی سی تکلیف کو ”اذی“ کہتے ہیں۔ اگر تکلیف زیادہ ہو تو اسے ضرر کہتے ہیں۔ حضرت خطابی (م ٣٨٨ھ، ٩٩٨ء) وغیرہ نے ان آیتوں کی یہی تشریح کی ہے۔“ [گستاخان انبیاء و صحابہ کا حکم، ص: ١٩، مطبوعہ فلاح ریسرچ فاؤنڈیشن دہلی، ٢٠١٤ء]

شاتمِ رسول کے کفر و قتل کے متعلق فقہاء و محدثین کے ارشادات

حضرت علامہ امام قاضی عیاض مالکی (٥٤٤ھ، ١١٤٩ء) قدس سرہ لکھتے ہیں: ”أجمع العلماء أن شاتم النبي ﷺ المنقص له كافر والوعيد جار عليه يعذب اللّٰه تعالىٰ ومن شك في كفره وعذابه فقد كفر۔“ یعنی اجماع ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے، اور اس پر عذابِ الٰہی کی وعید جاری ہے اور جو اس کے کافر و مستحق عذاب ہونے میں شک کرے بے شک وہ بھی کافر ہو گیا۔

حضرت علامہ امام ابن حجر مکی شافعی قدس سرہ فرماتے ہیں: ”ما صرح به من كفر الساب والشاك في كفره هو ما عليه أئمتنا وغيرهم۔“ یعنی جو یہ ارشاد فرمایا کہ نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر اور جو اس کے کافر ہونے میں شک کرے وہ کافر، یہی مذہب ہمارے ائمہ وغیرہم کا ہے۔

محقق علی الاطلاق حضرت علامہ امام کمال الدین ابن ہمام صاحب فتح القدير قدس سرہ لکھتے ہیں: ”كل من أبغض رسول اللّٰه ﷺ بقلبه كان مرتدا فالساب بطريق أولى وإن سب سكران لا يعفى عنه۔“ یعنی جس کے دل میں رسول ﷺ سے کینہ ہو وہ مرتد ہے، تو گستاخی کرنے والا بدرجہ اولٰی کافر ہے اور اگر نشہ (بلا کراہ) پیا اور اس حالت میں کلمہ گستاخی بکا جب بھی معاف نہ کیا جائے گا۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: ٦، ص: ٣٩]

حضرت علامہ خیر الدین رملی قدس سرہ لکھتے ہیں: ”من سب رسول اللّٰه ﷺ فإنه مرتد وحكمه حكم المرتدين ويفعل به ما يفعل بالمرتدين ولا توبة له أصلا وأجمع العلماء أنه كافر ومن شك في كفره كافر۔“ جو نبی ﷺ کی شان کریم میں گستاخی کرے وہ مرتد ہے، اس کا حکم وہی ہے جو مرتدوں کا ہے اس سے وہی برتاؤ کیا جائے گا جو مرتدوں سے کرنے کا حکم ہے اور اسے دنیا میں کسی طرح معافی نہ دیں گے اور باجماع تمام علمائے امت وہ کافر ہے۔

کچھ روایات درج کرنے کے بعد علامہ شامی قدس سرہ لکھتے ہیں: ”یہ ساری روایتیں اور حوالہ جات دلائل و اجماع سے قوی ہو چکے ہیں، اس کے کفر پر کتاب، سنت رسول ﷺ، اجماع امت اور قیاس، چاروں قسم کی دلیلیں موجود ہیں۔“ [گستاخان انبیاء و صحابہ کا حکم، ص: ١٧ تا ١٩]

حضرت امام قاضی عیاض مالکی (م ٥٤٤ھ، ١١٤٩ء) لکھتے ہیں:

”اعلم وفقنا الله وإياك أن جميع من سب النبي ﷺ أو عابه أو ألحق به نقصا في نفسه أو نسبه أو دينه أو خصلة من خصاله أو عرض به أو شبهه بشيء على طريق السب له أو الإزراء عليه أو التصغير لشأنه أو الغض منه والعيب منه فهو ساب له والحكم فيه حكم الساب يقتل، وهذا كله إجماع من العلماء وأئمة الفتوى من لدن الصحابة رضوان الله تعالى عليهم إلى هلم جرا۔“ [الشفا، ج: ٢، ص: ٢١٤]

جن کلمات سے حضور ﷺ میں نقص کا پہلو نکلتا ہو مثلاً جس شخص نے حضور ﷺ کو برملا گالی دی یا ایسے کلمات کہے جو عیب جوئی کے لیے استعمال ہوتے ہوں یا ان الفاظ سے آپ ﷺ کی ذات اقدس، آپ ﷺ کے مبارک دین، اسوہ یا خصائل میں سے کسی خصلت کو زک پہنچتی ہو، یا ذات نبوی ﷺ پر کسی قسم کی تعریض کرے یا اسی قسم کے اور دوسرے الفاظ استعمال کرے تو ایسے تمام الفاظ سب و شتم میں شمار ہوں گے اور ایسے الفاظ کہنے والے کے لیے وہی حکم ہے جو اہانت نبی کریم ﷺ کرنے والے کے لیے ہے یعنی واجب القتل ہے، اور اس کلام پر تمام علماء و اہل فتویٰ کا اجماع ہے جو صحابہ کرام رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے دور مبارک سے آج تک قائم و جاری ہے۔

مذکورہ بالا اقوال علماء و فقہاء سے واضح ہوتا ہے کہ گستاخ رسول کے کفر و قتل کا حکم عہد نبوی ﷺ اور عہد صحابہ سے آج تک مسلم اور ثابت ہے۔
(جاری ہے...)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!