Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

دف پر نعت شریف پڑھنے کا حکم اور میوزک کے ساتھ نعت شریف پڑھنے یا سننے کا حکم

دف پر نعت شریف پڑھنے کا حکم اور میوزک کے ساتھ نعت شریف پڑھنے یا سننے کا حکم
عنوان: دف پر نعت شریف پڑھنے کا حکم اور میوزک کے ساتھ نعت شریف پڑھنے یا سننے کا حکم
تحریر: مفتی عبد الرحیم نشتر فاروقی
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل مختلف نعت خواں اپنی نعتوں کے ساتھ خصوصاً عربی کلام کے ساتھ ذکرِ اللہ کرتے ہیں وہ اس طریقے سے کرتے ہیں کہ سننے والے کو یہ محسوس ہو کہ ڈھول بجا رہے ہیں یعنی گمان ایسا کیا جاتا ہے کہ نعت کے ساتھ (معاذ اللہ عز وجل) میوزک بج رہا ہے، تو کیا یہ پڑھنا اور اس کو سننا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو برائے مہربانی اس کی دلیل کے ساتھ وضاحت فرما دیجیے اور اگر ناجائز ہے جب بھی اس کی دلیل کے ساتھ وضاحت فرما دیجیے۔

سائل: محمد انیس

پتہ: معلم مدرسہ رضویہ کراچی پاکستان

بِاسْمِهِ تَعَالَى

الجواب بعون الملک الوہاب! قرآن شریف میں ہے:

وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ إِلَى آخِرِهِ

یعنی اور ڈگا (ڈرا) دے ان میں سے جس پر قدرت پائے اپنی آواز سے۔ (کنز الایمان، پ ۱۵) یعنی وسوسے ڈال کر اور معصیت کی طرف بلا کر۔ بعض علماء نے فرمایا کہ مراد اس سے گانے باجے لہو و لعب کی آوازیں ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے منقول ہے کہ جو آواز اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف منہ سے نکلے وہ شیطانی آواز ہے۔ (خزائن العرفان) اور حدیث شریف میں ہے:

عَنْ أَبِي رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَنِ الْغِنَاءِ: يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ

یعنی موسیقی دل میں نفاق پیدا کرتی ہے۔

امام اہلسنت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں فاضل بریلوی اپنی تصنیف الکشف الشافیا میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

وَكُلُّ عَاقِلٍ يَعْرِفُ أَنْ لَا تَحُلَّ عَلَى هَذَا الْخُصُوصِ صُورَةُ الدَّيْرِ مِنْ أَيِّ الدَّنَشَاتِ صُبِغَتْ بِصِبْغِهَا لِعَيْنِهِ الْحُرْمَةِ حَاصِدَةً قَطْعًا

یعنی ہر عقل مند جانتا ہے کہ اس میں کسی خاص قسم کے آلہ سے آواز پیدا ہو گی۔ وہ اس کے رنگ میں رنگ جائے گی (مشابہ ہو جائے گی) معلوم ہونا چاہیے کہ موسیقی شریعت میں ناجائز ہے۔ یوں ہی ہر وہ طریقہ جس سے موسیقی پیدا ہوتی ہے وہ بھی شرعاً ناجائز ہے۔ صورتِ مسئولہ میں نعت شریف کے بیک گراؤنڈ (Back Ground) میں اس طریقے پر ذکرِ اللہ کی تکرار کرنا، جس سے سننے والے کو موسیقی معلوم ہو یا موسیقی کے ساتھ مشابہت ہو، جائز نہیں۔ نعت خواں حضرات اور سامعین کو اس سے گریز کرنا چاہیے؛ تاکہ نعت شریف اور ذکرِ اللہ کا تقدس برقرار رہے۔

مفتی عبد العزیز حنفی
دارالافتاء دار العلوم امجدیہ عالمگیری روڈ کراچی
۱۰ جمادی الآخر ۱۴۲۳ھ / ۲۰ اگست ۲۰۰۲ء

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

میرے پاس ایک فتویٰ کراچی سے عزیزم محترم مولانا عبد العزیز حنفی کا لکھا ہوا تصدیق کے لیے بھیجا گیا۔ مصروفیات اور مسلسل سفر کی وجہ سے میں بروقت اس فتوے کی تصدیق کرنے سے قاصر رہا۔ فتویٰ ایک کیسٹ سے متعلق ہے، جس میں ذکر ہے کہ آواز اس طور پر سنائی دیتی ہے جیسے دف کے ساتھ ذکر ہو رہا ہو اور سوال میں بھی مرقوم ہے اور زبانی طور پر بھی معلوم ہوا کہ ذکر کرنے والوں نے دف کا استعمال نہ کیا؛ بلکہ اپنے منہ سے وہ ایسی آواز نکالتے ہیں جو دف کے مشابہ معلوم ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ چونکہ قابلِ غور تھا اس لئے لوگوں سے کیسٹ منگوا کر سنا۔ واقعۃً وہ آواز مشابہِ دف معلوم ہوتی ہے۔

دف آلاتِ لہو و لعب میں سے ہے۔ جس کا استعمال اغلب احوال میں لہو و لعب کے لیے ہوتا ہے۔ لہٰذا دف کے استعمال کی شرعاً اجازت نہیں۔ دف بغیر جلاجل کی اباحت بعض احادیث سے مثلاً أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ وغیرہ سے معلوم ہوتی ہے؛ لیکن اصولِ فقہ کا قاعدہ ہے کہ إِذَا اجْتَمَعَ الْحَلَالُ وَالْحَرَامُ غُلِّبَ الْحَرَامُ بنابریں ترجیح جانبِ حرمت کو ہے۔ جس کی مؤید سرکار ابد قرار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث شریفہ مثلاً أُمِرْتُ بِمَحْقِ الْمَعَازِفِ اور بَعَثَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِمَحْقِ الْمَعَازِفِ وغیرہم ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ حدیثِ مذکور أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ میں اجازت استعمالِ دف کی بغرضِ اعلان مفہوم ہوتی ہے، یہی لیا جائے کہ بعض احوال میں ملاہی کی اجازت ہے۔ مگر اس زمانے میں جب کہ لوگ صحیح نیت سے قاصر اور احکامِ شرع سے غافل لہو و لعب میں منہمک ہیں، سبیلِ اطلاق منع ہیں۔

كَمَا أَفَادَهُ الْإِمَامُ جَدِّي الْهُمَامُ الشَّيْخُ أَحْمَدُ رِضَا قُدِّسَ سِرُّهُ فِي رِسَالَتِهِ الْمُبَارَكَةِ هَادِي النَّاسِ فِي رُسُومِ الْأَعْرَاسِ. قَالَ فِي الدُّرِّ الْمُخْتَارِ بَعْدَ حِكَايَتِهِ عَنْ إِمَامِنَا أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: دَلَّتِ الْمَسْأَلَةُ عَلَى أَنَّ الْمَلَاهِيَ كُلَّهَا حَرَامٌ.

یہ تو دف وغیرہ آلاتِ لہو کے بارے میں تھا، جو آواز ان آلاتِ لہو کے مشابہ کسی طرح سے پیدا کی جائے، اس کا بھی وہی حکم ہے جو ان آلاتِ لہو سے نکلنے والی آوازوں کا ہے۔

اس کی نظیر گراموفون وغیرہ آلات سے نکلنے والی ان آوازوں کا حکم ہے، جو قطعاً ان آلاتِ لہو سے نکلنے والی آوازیں تو نہیں؛ لیکن بلا شبہ یہ آوازیں ان آلاتِ لہو کی آوازوں کی کاپیاں ہیں۔ لہٰذا گراموفون وغیرہ میں ان ملاہی کی آوازیں بھرنا اور انہیں سننا اسی طرح حرام ہے، جس طرح ان ملاہی کا استعمال سننے سنانے کے لیے حرام ہے۔ سیٹی ایک مخصوص آواز نکالنے کا آلہ ہے، اس جیسی آواز اگر منہ سے نکالی جائے تو یہ بالعموم طریقۂ فساق ہے، اور ناجائز ہے۔ لہٰذا ان مندرجہ بالا امور سے روشن ہے کہ دف جیسی آواز نکالنا اگرچہ بغیر استعمالِ دف ہو، ناجائز ہے اور اگر یہ قصداً ہے تو یہ تلہی ہے جو مطلقاً حرام ہے۔ اور اگر ایسی آواز منہ سے بلا قصد نکلتی ہے تو وہ صورۃً لہو کے مشابہ ہے۔ لہٰذا اس سے بھی گریز چاہیے خصوصاً ذکر و نعت میں اس بات کا لحاظ ضروری ہے کہ قصدِ لہو اور صورتِ لہو دونوں سے پرہیز کیا جائے۔ دف کے استعمال کی رخصت نظریہ بعض احادیث سے اگر ثابت بھی ہے، تو ان اشعار میں ہے جن کا تعلق ذکر و نعت سے نہیں۔ اس لیے حدیث میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اجازت سے حضور کی خدمت میں جب ایک گانے والی نے دف بجایا اور منجملہ اشعار کے یہ مصرعہ پڑھا:

وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:

دَعِي هَذِهِ وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ

”یہ رہنے دو اور جو پڑھ رہی تھیں وہی پڑھتی رہو“ کہ صورتِ لہو پر نعت شریف شایانِ شان نہ تھا۔ اب حکمِ مسئلہ صاف ہو گیا اور وہ یہ کہ ایسی آواز جو دف وغیرہ کے مشابہ ہو، منہ سے نکالنا جائز نہیں کہ طریقۂ فساق ہے اور ذکر وغیرہ میں اشد ناجائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم!

قالہ بفمہ و امر برقمہ
فقیر محمد اختر رضا ازہری قادری غفرلہ
النزیل بحرہ من اعمال فیض آباد

ایسی آوازیں منہ سے نکالنا جن سے موسیقی کا دھوکہ ہو یا لوگ اسے موسیقی سمجھ کر موسیقی کا لطف اٹھائیں لہو و لعب میں شامل ہے اور ہر لعب حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم!

تحسین رضا غفرلہ
شیخ الحدیث جامعہ نوریہ رضویہ باقرگنج، بریلی شریف

نعت و منقبت اور قصیدہ خوانی میں دف بجانا سوءِ ادب اور مکروہ و ممنوع ہے۔ اسی طرح ایسی آواز منہ سے بنانا اور نکالنا جس سے محسوس ہو کہ دف یا دیگر آلاتِ موسیقی بجائے جا رہے ہیں، ممنوع و ناروا اور بے ادبی ہے۔ لہو و لعب کی آواز منہ سے نکالنا عموماً فاسقوں کا طریقہ ہے۔ جس سے اجتناب! غنا و آوازِ مزامیر و بہ اندازِ مزامیر ناجائز ہے نعت شریف میں اور خاص اسمِ جلالت کے ساتھ اندازِ صوتِ مزامیر اختیار کرنے میں نوعِ اہانت بھی ہے۔ اس لیے اس کا عدمِ جواز شدید ہے۔ اگرچہ نیت خیر ہو۔ فالجواب صحیح و ہو تعالیٰ اعلم۔

فقیر ضیاء المصطفیٰ قادری غفرلہ

دف کی آواز منہ یا کسی اور طریقہ سے بالقصد بنانا بھی مردوں کے لیے مطلقاً مکروہ ہے، ذکر و نعت شریف میں اس کی کراہت اور اشد ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم!

قاضی شہید عالم رضوی
جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج بریلی شریف

احتراز لازمی ہے۔ خصوصاً اسمِ جلالت، اسمِ رسالت یا کلمہ شریف کا ذکر اس طرح کرنا کہ آلۂ موسیقی بجائے جانے کا شبہ ہو، سخت ممنوع و ناجائز ہے۔ و ہو تعالیٰ اعلم۔

ازیں قبل میں نے اس کے جواز کا فتویٰ دیا تھا اس وقت یہ مسئلہ مجھ پر واضح نہیں تھا۔ اب میں اس جواب سے رجوع کرتا ہوں۔ رب تبارک و تعالیٰ اپنے حبیبِ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے میں معاف فرمائے اور فتویٰ نویسی میں خطاء و لغزش سے محفوظ و مامون رکھے آمین!

محمد ایوب مظہر
دار العلوم وارثیہ، گومتی نگر لکھنؤ

الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم غفر لہ القوی
الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم خواجہ مظفر حسین
الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم محمد ناظم علی بارہ بنکوی
الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم محمد مظفر حسین قادری رضوی
الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم محمد کمال، دار العلوم نور الحق چرہ محمد پور، فیض آباد
الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم محمد یونس رضا الاویسی الرضوی غفر لہ خادم التدریس والافتاء جامعۃ الرضا و مرکزی دار الافتاء

هَذَا حُكْمُ الْعَالِمِ الْمُطَاعِ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الِاتِّبَاعُ

محمد عبد الرحیم نشتر فاروقی غفر لہ القوی مرکزی دار الافتاء بریلی شریف

ماخوذ از: مصدقات تاج الشریعہ ص ۴۲

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!