| عنوان: | دین و دنیا میں اعتدال و توازن |
|---|---|
| تحریر: | محمد قاضی مصباحی جمالی |
| پیش کش: | محمد اکرم رضا رضوی شراوستی |
تعلیمات شریعت میں افراط و تفریط نہیں بلکہ اعتدال و توازن اور میانہ روی و توسط ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [البقرۃ: 201]
”کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں دے (مگر) آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا۔“
وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِيهِ مِنْهَا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِيهِ مِنْهَا وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ [آل عمران: 145]
”جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اُسے اُس میں سے کچھ دیں گے، آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور قریب ہے کہ ہم شکر والوں کو صلہ عطا کریں۔“
مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِيهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيْبٍ [الشوریٰ: 20]
”جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔“
دعا کرنے والوں کی دو قسمیں ہیں: کافر جو صرف دنیا کے لیے دعا کرتا ہے، آخرت پر اس کا اعتقاد نہیں۔ ایماندار جو دونوں کی بہتری کی دعا کرتا ہے۔ اب جس نے صرف دنیا مانگا، اُس کا حشر و انجام کیا ہوگا؟ ارشاد ہوتا ہے:
مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ [اللھب: 2]
”اُسے کچھ کام نہ آیا اُس کا مال اور نہ جو کمایا۔“
جس نے دونوں مانگا اُس کا انعام کیا ہوگا؟ ارشاد ہوتا ہے:
فَآتَاهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْآخِرَةِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [آل عمران: 148]
”تو اللہ نے انھیں دنیا کا انعام اور آخرت کے ثواب کی خوبی دی اور نیک اللہ کو پیارے ہیں۔“
عبادت و تلاش رزق میں توازن۔ اگر ایک طرف مسلمانوں سے کہا گیا:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ [الذاریات: 56]
”میں نے جن اور آدمی اسی لیے بنائے کہ میری بندگی کریں“، تو دوسری طرف انھیں یہ بھی حکم دیا گیا:
فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ [الجمعۃ: 10]
”پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔“
دین و دنیا میں اس معیار توازن کو برقرار رکھنے کے لیے حکم دیا گیا:
وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِنْ كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ [القصص: 77]
”جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے، اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا کہ اللہ نے تجھ پر احسان کیا۔ زمین میں فساد نہ چاہ، بے شک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔“
دین و دنیا میں اعتدال کو ہر حال میں برقرار رکھنے کے لیے معلم انسانیت و اخلاق کا یہ حکیمانہ ارشاد ملاحظہ کیجیے۔ ہمارے آقا ﷺ فرماتے ہیں:
اعْمَلْ لِدُنْيَاكَ كَأَنَّكَ تَعِيشُ أَبَدًا وَاعْمَلْ لِآخِرَتِكَ كَأَنَّكَ تَمُوْتُ غَدًا
یعنی اپنی دنیا اس طرح کماؤ کہ گویا تمھیں یہیں رہ جانا ہے اور اپنی آخرت اس طرح بناؤ کہ گویا تمھیں کل ہی مر جانا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس انسان کو دنیاوی حیات کی ہمیشگی کا یقین ہو جائے وہ دنیا کو جوڑنے اور اُسے بنانے میں صبح و مساء، لیل و نہار دل و جان سے جٹ جائے گا مگر اسی کے ساتھ اگر اُسے یہ قوی احساس و یقین بھی ہو جائے کہ کل قیامت رونما ہونے والی ہے تو ظاہر ہے کہ پھر وہ دنیا میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھے گا اور ہر کام پر دس بار سوچے گا کہ کہیں میری گرفت نہ ہو جائے اور کہیں میں پکڑا نہ جاؤں۔
ایک موقع پر آپ طبیب جسمانی و حکیم روحانی ﷺ نے فرمایا: الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ یعنی ”دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔“ اب جیسا بوؤ گے ویسا کاٹو گے۔ انگریزی میں کہتے ہیں ”As you sow so you reap“ یعنی دنیا اتنا کماؤ کہ ٹاٹا اور امبانی کو پیچھے چھوڑ دو مگر تمھاری کمائی ایسی ہو کہ اُس میں ہر وقت دولت عثمانی کا جلوہ نظر آتا رہے۔ سچ فرمایا صادق و مصدوق ﷺ نے کہ دنیا ایک خواب ہے اُس کی تعبیر مرنے کے بعد معلوم ہوگی۔ [کیا آپ جانتے ہیں؟، ص: 459]
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری
اہل خیر کے تین کلمات
عون بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ اہل خیر حضرات ایک دوسرے کی طرف تین کلمات لکھ بھیجا کرتے:
- جو آخرت کے لیے عمل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کی کفالت کرتا ہے۔
- جو اپنے باطن کی اصلاح کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو درست کر دیتا ہے۔
- جو اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ سے درست کر لیتا ہے، اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ اس کا معاملہ درست کر دیتا ہے۔ [سنت نبوی اور جدید سائنس، ص: 236، بحوالہ شمائل ترمذی مکتبہ فاروق اینڈ سنس دیوبند]
ایک قول معتدلانہ و حکیمانہ
پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو! زندگی کو موت سے قبل، جوانی کو بڑھاپے سے قبل، صحت کو بیماری سے قبل، ثروت کو ناداری سے پہلے اور فراغت کو مشغولیت سے پہلے۔ [ماہنامہ کنز الایمان، اکتوبر 2019، ص: 7]
