| عنوان: | صدیق اکبر کی افضلیت اور انسانی فکریں |
|---|---|
| تحریر: | مفتی جمیل احمد قادری |
| پیش کش: | ناظم اسماعیلی |
ارشاداتِ اعلیٰ حضرت کی روشنی میں:
میں ایک کتاب دیکھ رہا تھا ”مطلع القمرین“ یہ امامِ اہلِ سنت، حضور اعلیٰ حضرت کی تصنیف ہے، آیات و احادیث اور عقلی دلائل کی موجوں سے گزرتے ہوئے جب انسانی فکروں کے جزیرے پر پہنچا، تو میں دم لینے کو رک گیا۔ سوچا اپنے ناظرین کو بھی اس کے دلکش مناظر کی سیر کرادوں۔
جس سمت آگئے ہو، سکے بٹھا دیئے ہیں۔
امام نے سچ میں دریا بہادیئے ہیں، دُرِ بے بہا دیئے ہیں۔
صدیقِ اکبر کی افضلیت کی بحث تھی، امامِ اہلسنت دلائل و براہین کے دریا بہا رہے تھے، اسی ضمن میں انسانی طبیعت اور فکری معیار کا ذکر آگیا تو فرمایا:
”حکم باختلافِ مقاصد، مختلف ہو جاتا ہے، کفار کا غایتِ مرام و نہایتِ مراد، غنا وزینتِ حیاتِ دنیا ہے۔“
یعنی جیسی سوچ، ویسا مقصد! کافروں کے لیے دنیا ہی سب کچھ ہے، لہٰذا مال و دولت، دنیوی سازوسامان اور آرائش و زیبائش ہی ان کا معیار ہے، جسے مال و منال میں زیادہ دیکھا، اسے بڑا سمجھا اور جس کے پاس دنیوی اسباب کم نظر آئے، وہ کفار کی نظروں میں کمتر و حقیر ہو گیا اور کمال تو یہ ہے کہ آج بیشتر مسلمانوں کا زاویۂ نظر بھی ایسا ہی ہے، وہ بھی دنیا اور اسبابِ دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں، کفار کی الٹی سوچ کو مجددِ اسلام نے آیتِ قرآنی سے ثابت کیا، کہ دیکھو فرعون نے سیدنا کلیم کو کیا کہا اور کیا سمجھا:
”اور پکارا فرعون اپنی قوم میں، بولا اے قوم میری! کیا نہیں ہے میرے لیے بادشاہی مصر کی اور یہ نہریں، بہتی میرے نیچے، سو کیا تمہیں سوجھتا نہیں یا میں بہتر ہوں اس سے، یعنی موسیٰ سے، وہ ذلیل ہے اور قادر نہیں بات صاف کرنے پر۔“ [الزخرف: 51-52]
ایک ذلیل کافر، ایک مقدس پیغمبر کو صرف اس لئے ذلیل اور کمتر کہہ رہا ہے، کیونکہ اس کے پاس سلطنت ہے، سامانِ عیش و عشرت ہے، صاف زبان ہے جبکہ اس کے بالمقابل اللہ کا پیارا رسول، اسبابِ دنیا سے عاری اور زبان میں لکنت والا ہے، اس کافر کی نظروں میں اخلاقی حسنات، اخروی محاسن, باطنی کمالات، کچھ معنی نہیں رکھتے، ظاہری اسباب ہی اس کے نزدیک سب کچھ ہیں، کفارِ مکہ کے نظریات کو قرآن نے یوں بیان فرمایا:
”اور بولے کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن کسی عظمت والے مرد پر، دونوں بستیوں مکہ مدینہ میں سے۔“ [الزخرف: 31]
یعنی معاذ اللہ! رسولِ گرامیِ وقار، اہلِ مکہ کی نظروں میں عظمت والے نہ تھے، کیونکہ عظمت کا معیار ان کفار کے یہاں دولت و ثروت تھا، وہ جن کے قدموں کا بوسہ عرشِ الٰہی، ملائکہ اور سید الملائکہ جن کی خدمت گاری پر نازاں ہوں، جن کے تلووں کا دھون آبِ حیات ہو، اور اگر انھیں قدموں سے ٹھوکر لگا دیں تو احد پہاڑ کا زلزلہ تھم جائے، شجر و حجر جنہیں سلامی دیں، قیصر و کسریٰ کے تاج جن کی جوتیوں کے سامنے شرمائیں، وہ کافروں کی نظر میں عظمت والے نہیں اور لطف کی بات تو یہ کہ عظمت کا معیار دو چیزوں کو ٹھہرایا: ۱۔ دولت و ثروت، ۲۔ اور مکہ یا مدینہ کا باشندہ ہونا! مگر پہلی چیز کے نہ ہونے کی وجہ سے دوسری حیثیت بھی بے معنی ہو گئی۔
رسولِ پاک مکی تھے، کیونکہ مکہ ان کا وطن تھا، حضور مدنی تھے، کیونکہ مدینہ تشریف لا کر مستقل قیام فرما لیا تھا، مگر ان مال و دولت کے پجاریوں کی نظروں میں کوئی عظمت والا، تب قرار پائے گا، جب وہ مکی یا مدنی ہونے کے ساتھ ساتھ دولت و ثروت والا بھی ہو، لے دے کر بات وہی کہ کفار کی نظروں میں مال و اسباب ہی عزت و عظمت کا سبب ہیں، انسانی فکر میں جب کفر یا جہالت کا غلبہ ہو تو یہ حال ہوتا ہے، مگر جب تکبر غالب آجائے تو، اب زاویۂ نگاہ کا قبلہ کوئی اور قرار پاتا ہے، امام فرماتے ہیں:
”اہلِ تکبر نجابتِ اصل و شرافتِ نسب و نسل پر نازاں ہوتے ہیں اور اسی کو، اگر چہ خلاف واقع ہو، اپنے زعم کے مطابق مدارِ خیریت و مناطِ مفاخرت سمجھتے ہیں۔“
ایسے لوگوں کو سمجھنا ہو تو مسلمانوں اور ہندوؤں میں بڑی برادری کو دیکھ کر سمجھا جا سکتا ہے، بعض جگہ مسجد کے امام کو اس لیے اہمیت نہیں دی جاتی کہ وہ انصاری برادری کے ہوتے ہیں، کیونکہ مسلم اقوام میں انصاری کو چھوٹی برادری سے شمار کیا جاتا ہے، میں نے تو ایک خان صاحب کو یہاں تک کہتے ہوئے سنا کہ:
”میں کسی جولا ہے پیر سے مرید نہیں ہوں گا، کوئی دوسرا پیر بتاؤ جو بڑی برادری کے ہوں۔“
ایسے افراد کے یہاں ظاہر ہے کہ بڑا اور عظمت والا وہی قرار پائے گا، جو بڑی برادری سے تعلق رکھتا ہو، عشق کا مزاج بھی سب سے مختلف ہوتا ہے، بندہ جب عشق کا شکار ہوتا ہے، تو اس کا بھی فکری زاویۂ بدل جاتا ہے، امام فرماتے ہیں:
”عشاق صورت کے دل سے تناسبِ اعضا و حسنِ دلربا و صفائے چہرہ و نزاکتِ بشرہ و صباحتِ خد و شاکلتِ قد کی لولگی ہے، وہ اپنے محاورات میں اسی کو افضل کہتے ہیں، جو سب سے زیادہ حسین و صاحبِ ادائے شیریں و حسنِ نمکین ہو۔“
یعنی عشق پیشہ دل کو محبوب کے اندر چاہیے، اعضا کا تناسب! یعنی جسمانی اعضا متناسب ہوں، محبوب اتنا حسین ہو کہ دیکھتے ہی دل قربان ہونے لگے، چہرہ گورا اور روشن ہو، جلد نازک اور چکنی ہو، رخسار نمکین ہو، قد خوبصورت ہو اور جو، ان اوصاف میں فائق ہو، اسے ہی افضل کہتے ہیں، امامِ اہل سنت نے انسانی مزاج و فکر کی چند صورتوں کو بیان فرما کر ایک مومن کی شان و پہچان بیان فرمائی کہ:
”ہم معشرِ اسلام کا مقصدِ اعلیٰ و مرامِ اسنی حضرت الٰہی تبارک و تعالیٰ سے تقرب و حصولِ عرفان و بلوغِ رضوان و عز وجاہ و کرامت عند اللہ ہے کما قال ربنا عز من قائل: إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنتَهَىٰ۔ بے شک تمہارے رب ہی کی طرف انتہا ہے۔“ [النجم: 42]
سبحان اللہ! کیا کہنے، اے کاش اتر جائے ترے دل میں مری بات، کاش مسلمان یہ نکتہ سمجھ لیں اور اپنا اصل قبلہ متعین کر لیں، امام فرماتے ہیں:
”مسلمانوں کا مقصدِ اعلیٰ ہونا چاہیے، رب تعالیٰ کی بارگاہ میں تقرب، رب کی ذات و صفات اور شان و عظمت کی پہچان! آج مومن اپنے رب کو پہچانتا تو اس کے دشمنوں کے دامن میں پناہ نہ لیتا، غیر مسلموں کے ساتھ ساز باز نہ کرتا، ان کی مذہبی اور شرکیہ تقریبات میں خوشی اور مسرت سے شریک نہ ہوتا، کفار کے جلسوں میں شرکت اور ان کی عبادت گاہوں میں تفریح نہ کرتا، کافر و بد مذہب سے دوستی اور ان کے یہاں شادی بیاہ نہ کرتا۔
یہ ساری حرکتیں مسلمان اس وجہ سے کرتا ہے، کیونکہ وہ اپنے رب کو پہچانتا ہی نہیں ہے، مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ مومن کا مقصد ہونا چاہیے، رضائے الٰہی کا حصول، مقام و مرتبہ اور عزت دنیا کی نہیں، بلکہ اپنے رب کے یہاں مقام و مرتبہ چاہیے۔“
اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت کی چار سطریں حقائق و معارف کے چار دریا ہیں، مولیٰ تعالیٰ ان کا فیضان ہم سب پر جاری و ساری فرمائے، آمین۔ [سنی دنیا بریلی شریف اپریل 2023, ج: , ص: 50 - 51]
