| کہانی: | ایک جنازہ اور غفلت سے بیداری کی داستان |
|---|---|
| تحریر: | اے۔ایس۔رضویہ |
| پیش کش: | نورِ زہرہ |
| منجانب: | لباب اکیڈمی |
ساجد ایک نہایت خوبصورت نوجوان تھا۔ دنیا کی تمام آسائش اس کے قدموں میں بچھا دی گئی تھی۔ عالی شان بنگلہ، اچھی نوکری، اور ایسے محبت کرنے والدین جو اس کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے کو ہر وقت تیار رہتے۔
اس کی زندگی میں دنیا کی تمام نعمتوں سے مالامال تھی، مگر اس کے باوجود کبھی کبھی اس کے دل پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوتی جس کے بعد کسی طرح اُس کو سکون میسر نہ آتا۔ وہ اکثر راتوں میں بے چین ہو کر سوچتا: ”آخر یہ سب کب تک؟“ لیکن پھر جیسے ہی صبح ہوتی وہ دنیا میں مصروف ہو جاتا۔
ایک دن وہ آفس سے گھر کی جانب جا رہا تھا کہ اچانک راستے سے ایک جنازہ گزرا، لوگ آہستہ آہستہ کلمۂ طیبہ پڑھتے ہوئے اُس میّت کو قبرستان کی طرف لے جا رہے تھے۔ یہ منظر اُس کی نگاہوں کے سامنے آیا تو جیسے اُس کے دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اُس کے دل میں یہ خیال شدت سے اُبھرا: ”ایک دن مجھے بھی اِسی طرح اُٹھایا جائے گا۔“
وہ بوجھل قدموں کے ساتھ گھر پہنچا، اُس دن نہ کھانے کی خواہش ہوئی، نہ کسی سے بات کرنے کا دل چاہا، وہ خاموشی سے بستر پر جا گرا۔ کافی دیر تک موبائل ہاتھ میں لیے رہا، مگر آج دل کہیں نہیں لگ رہا تھا۔ ذہن میں بار بار وہی جنازہ، وہی منظر، وہی آوازیں گونج رہی تھیں، سوچتے سوچتے اچانک اس کی نگاہ الماری کی طرف اٹھ گئی، جہاں قرآنِ مجید رکھا ہوا تھا۔ وہ فوراً اٹھ کھڑا ہوا، اور لرزتے ہاتھوں سے اس نے قرآنِ پاک کھولا تو پہلی ہی نظر جس آیت پر ٹھہری، وہ اس کے دل کی دنیا بدل دینے والی تھی اور وہ آیت یہ تھی:
قرآن مجید میں اللہ رب العزت فرماتا ہے:
مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْر [آل عمران: 185]
ترجمۂ کنز الایمان: اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔
یہ الفاظ اس کے دل میں یوں اترتے چلے گئے جیسے برسوں کی غفلت پر کسی نے رحمت کی دستک دے دی ہو۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے سوئی ہوئی روح جاگ اٹھی ہو، اور دل کی بند کھڑکیاں اچانک کسی نور کے لیے کھل گئی ہوں۔
وہ دیر تک خاموش بیٹھا سوچتا رہا کہ جس دنیا کے لیے وہ دن رات محنت کر رہا ہے، اپنی نمازیں، اپنا سکون اور اپنا دین قربان کر رہا ہے، وہ تو چند دن کی مہمان ہے۔ اصل زندگی تو آخرت کی ہے۔ جہاں نہ دولت ساتھ جائے گی، نہ شہرت، نہ عہدہ، وہاں صرف اعمال کام آئیں گے، اور ہر انسان کو اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب اُس نے اپنے تمام گناہوں سے سچے دل سے توبہ کر لی، اور اپنے آپ کو ہر اعتبار سے سنوارنے کی کوشش میں لگ گیا۔ اگلے ہی دن سے ساجد نے نمازوں کی پابندی شروع کر دی، قرآنِ پاک کی تلاوت کو اپنا معمول بنا لیا。
اب جب وہ قرآن پڑھتا تو اُسے اُکتاہٹ محسوس نہ ہوتی تھی، بلکہ دل کے اندر ایک عجیب سا سکون اور روحانی سرور اُترتا چلا جاتا تھا۔ قرآنِ مجید کا ہر لفظ اُس کے دل پر یوں اثر کر رہا تھا، جیسے برسوں سے سوئی ہوئی روح کو نئی زندگی مل گئی ہو۔
پہلے جو دل دنیا کی رنگینیوں میں کھویا رہتا تھا، اب وہی دل سجدوں میں سکون تلاش کرنے لگا تھا۔ پہلے راتیں موبائل کی اسکرین کے ساتھ گزرتی تھیں، اب وہی راتیں دعا، تلاوت اور اپنے رب کے ذکر میں گزرنے لگیں۔
ساجد کو اب محسوس ہونے لگا تھا کہ اصل سکون مال و دولت، شہرت یا دنیا کی چکاچوند میں نہیں، بلکہ اپنے رب کے قریب ہونے میں ہے۔
ساجد کے دوست اس کی یہ حیران کُن تبدیلی دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے۔ وہ اکثر حیرت سے اُس سے پوچھتے: ”آخر تم میں اتنی بڑی تبدیلی کیسے آ گئی؟“ ساجد ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بس اتنا کہتا: ”پہلے میں دنیا کے پیچھے بھاگ رہا تھا، مگر اب مجھے اپنی آخرت کی فکر ہونے لگی ہے۔“
وقت گزرتا رہا، مگر اب اُس کے دل کی کیفیت پہلے جیسی نہ تھی۔ وہ بےچینی، وہ اضطراب، وہ اندرونی خلا سب رفتہ رفتہ ختم ہونے لگا، کیونکہ اُسے یہ حقیقت سمجھ آچکی تھی کہ حقیقی سکون دنیا کی چمک دمک، مال و دولت یا وقتی آسائشوں میں نہیں، بلکہ اللہ عزوجل کی اطاعت، اُس کی یاد اور اُس کے قرب میں پوشیدہ ہے۔
وہ جان چکا تھا کہ دنیا کی خواہشات انسان کو وقتی خوشی تو دے سکتی ہیں، مگر دائمی اطمینان نہیں۔ دل کا سکون صرف اُس وقت نصیب ہوتا ہے جب انسان اپنے رب سے تعلق مضبوط کر لیتا ہے۔
اور حقیقت بھی یہی ہے کہ: جو شخص دنیا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے، وہ خواہ ظاہری طور پر کتنا ہی کامیاب کیوں نہ دکھائی دے، اُس کا دل بے سکونی کا شکار رہتا ہے، اور جو انسان آخرت کو اپنا مقصود بنا لیتا ہے، اللہ رب العزت اُس کے دل میں ایسی طمانیت اور سکینت عطا فرما دیتا ہے جو دنیا کی کوئی نعمت فراہم نہیں کر سکتی
