Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عید الاضحٰی

عید الاضحٰی
عنوان: عید الاضحٰی
تحریر: ڈاکٹر مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

حضورِ پُرنور، شافعِ یومِ نشور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ادب و احترام سے دُرود و سلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اَللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا وَحَبِيْبِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلَى اٰلِهِ وَصَحْبِهِ اَجْمَعِيْنَ.

برادرانِ اسلام! دنیا کے تقریباً تمام مذاہب و ادیان میں خوشی منانے کے لیے تہوار کے کچھ ایام مقرر ہیں۔ اسلام چونکہ ایک کامل و مکمل دین اور انسانی فطرت کے عین مطابق ضابطۂ حیات ہے؛ اس لیے اس نے بھی اپنے ماننے والوں کو خوشی منانے کے لیے سال میں دو دن:

  1. عید الفطر اور
  2. عید الاضحٰی کی صورت میں عطا کیے ہیں۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے، تو وہاں زمانۂ جاہلیت سے کچھ تہوار منانے کا سلسلہ جاری تھا، جس میں لوگ لہو و لعب میں مبتلا ہوتے، مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بدلے میں اپنی اُمّت کو خوشی منانے کے لیے دو دن عطا کیے، خوشی کے یہ دونوں دن دینِ اسلام کے دو بڑے ارکان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اور ان ارکان کی ادائیگی کے بعد خوشی کے طور پر مسلمان یہ دن مناتے ہیں۔ عید الاضحیٰ حج کی ادائیگی اور عید الفطر رمضان المبارک کے روزوں کی تکمیل کے بعد منائی جاتی ہے۔ روزہ اور حج جیسی عظیم عبادات کے باعث، عیدین کے ایام کی فضیلت بھی عام دنوں سے بہت بڑھ جاتی ہے۔ مگر عید الاضحیٰ کے ساتھ قربانی کا عملِ مبارک بھی جڑا ہوا ہے؛ اس لیے اسے عیدِ قرباں بھی کہا جاتا ہے۔

قربانی تاریخ کے آئینہ میں

حضراتِ گرامی قدر! تاریخ میں پہلی قربانی حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں: ہابیل اور قابیل نے پیش کی تھی۔ قابیل کی قربانی مسترد اور ہابیل کی بارگاہِ الٰہی عزوجل میں قبول ہوئی۔ پھر مسلمان جو قربانی کرتے ہیں، یہ عمل حق تعالیٰ سے سچی محبت رکھنے والے، حضرت سیدنا ابراہیم اور ان کے صاحبزادے حضرت سیدنا اسماعیل علیہما السلام کی تاریخی قربانی کی یادگار ہے۔ جب حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی قربانی کا حکم دیا گیا، اور انہوں نے اپنے لختِ جگر سے اس بابت مشورہ کیا، تو فرمانبردار بیٹا فوراً ہی راہِ حق میں قربان ہونے کو تیار ہو گیا۔

یہ دراصل حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا کڑا امتحان تھا، جس میں وہ شیطان کی ہزار کوشش کے باوجود کامیاب ہوئے، اور انہوں نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے لٹایا، مگر حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے بجائے جنت کا مینڈھا ان کے ہاتھوں قربان ہو گیا، اس کے بعد رب تعالیٰ نے انہیں اپنا خلیل (گہرا دوست) بنانے کا اعلان کیا۔ یہ منظر چشمِ فلک نے پہلی بار دیکھا تھا، کہ ایک شفیق بوڑھا باپ، اپنے ہاتھوں نوخیز لختِ جگر کو رب کی رضا کے لیے قربان کر رہا تھا، اور بیٹا بھی اپنے پروردگار، اللہ عزوجل کے نام پر کٹنے کے لیے اپنی گردن پیش کر رہا تھا، باپ بیٹے کا یہ جذبہِ ایثار رب تعالیٰ کو اتنا پسند آیا، کہ رہتی دنیا تک حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اس یادگار کو زندہ رکھا۔ اب جانور ذبح کرنے کا مقصد تقویٰ، اطاعت و فرمانبرداری اور رب تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔

قربانی کا دوسرا اہم مقصد یہ ہے، کہ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے، ہم نے اپنا سب کچھ خدا کے لیے قربان کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ مقصد ہی نہ ہو، یا کسی کوتاہی کی وجہ سے یہ مقصد حاصل نہ کر سکیں، تو ہماری قربانی حق تعالیٰ کے نزدیک رائیگاں ہے؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کو ان جانوروں کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، اسے تو صرف تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ قرآن کریم کی سورہ مائدہ میں ہابیل اور قابیل کی قربانیوں کا ذکر ہے، اس میں یہی الفاظ آئے ہیں کہ: اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ ”اللہ تعالیٰ صرف متقی لوگوں کی قربانی قبول فرماتا ہے“۔ [المائدۃ: 27]

قربانی کی تعریف اور اس کے فضائل

میرے عزیز ہم وطنو! صدر الشریعہ، بدر طریقہ، مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”بہارِ شریعت“ میں قربانی کی تعریف، اور اس کے فضائل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”مخصوص جانور کو مخصوص دن میں، بہ نیتِ تقرب ذبح کرنا قربانی ہے، اور کبھی اس جانور کو بھی اضحیہ اور قربانی کہتے ہیں جو ذبح کیا جاتا ہے۔ قربانی حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، جو اس امت کے لیے باقی رکھی گئی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کا حکم دیا گیا، ارشاد فرمایا: فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ”تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو!“۔ [الکوثر: 2]

اُم المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ، أَحَبَّ إِلَى اللّٰهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ، إِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا، وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللّٰهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الْأَرْضِ، فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا“ ”قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مسلمان کا کوئی عمل خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ پسندیدہ نہیں، قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا، اور یقیناً اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے، اللہ تعالیٰ کے یہاں مقامِ قبولیت حاصل کر لیتا ہے، تو خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو!“۔ [سنن الترمذي، باب ما جاء في فضل الأضحية، ر: 1493, ص: 363]

حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ بن سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مَنْ ضَحَّى طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ، مُحْتَسِبًا لِأُضْحِيَّتِهِ؛ كَانَتْ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ“ ”جس نے خوش دلی کے ساتھ، طالبِ ثواب ہو کر قربانی کی، وہ آتشِ جہنم سے اس کے لیے حجاب (رکاوٹ) ہو جائے گی“۔ [المعجم الكبير، حسن بن حسن بن علي عن... إلخ، ر: 2736, ج: 3, ص: 84]

حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مَا أُنْفِقَتِ الْوَرِقُ فِي شَيْءٍ أَحَبَّ إِلَى اللّٰهِ تَعَالَى، مِنْ نَحِيْرٍ يُنْحَرُ فِي يَوْمِ عِيْدٍ“ ”جو روپیہ عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا، اس سے زیادہ کوئی روپیہ پیارا نہیں“۔ [الجامع الصغير، حرف الميم، ر: 7845, ج: 2, ص: 480] [بہارِ شریعت، اضحیہ یعنی قربانی کا بیان، حصہ 15, ج: 4, ص: 128، 129 بتصرف]

عید الاضحٰی کا بنیادی فلسفہ

عزیزانِ محترم! عید الاضحٰی کا بنیادی فلسفہ قربانی، ایثار، خلوص اور راہِ خدا عزوجل میں اپنی عزیز ترین چیز قربان کر دینا ہے۔ اگر عید الاضحٰی سے اس فلسفے کو نکال دیا جائے، تو پھر اس عید کا مفہوم بے معنی ہو جاتا ہے؛ لہٰذا قربانی کرتے وقت یہ بات ہمارے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ حضرت سیدنا ابراہیم اور حضرت سیدنا اسماعیل علیہما السلام کا، قربانی سے مقصود و مطلوب ذاتی مقصد و خواہشات یا نمود و نمائش ہرگز نہیں تھا، بلکہ ان حضرات نے خالصتاً رضائے الٰہی عزوجل کے حصول کے لیے اپنی ذات کو راہِ خدا میں قربان کرنے کے لیے پیش کیا۔ ان حضراتِ مقدسہ کی یہ قربانی انسانیت کے لیے ایک روشن مثال اور مسلمانوں کے لیے اطاعت و ایثار کا ایک حسین نمونہ ہے۔

سُنّتِ ابراہیمی کو پورا کرنے کے لیے جانوروں کی قربانی کے ساتھ ساتھ، ذاتی خواہشات، مفادات، اور اپنی انا کو بھی قربان کرنا ضروری ہے؛ کیونکہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہے، کہ رب تعالیٰ کو ہمارے جانوروں کے گوشت اور خون کی حاجت نہیں ہے، بلکہ وہ ہمارا جذبۂ قربانی، ایثار اور تقویٰ کو ملاحظہ فرماتا ہے۔

جانور کی قربانی تو محض ایک علامت ہے، درحقیقت اس میں یہ درس پوشیدہ ہے، کہ بوقتِ ضرورت راہِ خدا عزوجل میں اگر ہمیں اپنی قیمتی سے قیمتی، اور عزیز ترین چیز ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑے، ہمیں ہرگز دریغ نہیں کرنا چاہیے، اور فوراً سے پیشتر اس چیز کو حق تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے پیش کر دینا چاہیے۔

شبِ عید کی فضیلت

برادرانِ ملتِ اسلامیہ! اللہ تعالیٰ نے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دنوں کو جہاں خوشی و مسرت کے اظہار اور میل ملاپ کا دن بنایا ہے، وہیں اس کی بابرکت راتوں میں کی جانے والی عبادت کو بھی عام دنوں کی نسبت زیادہ فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اور ان مقدس راتوں میں قیام کرنے والے کو یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ بروزِ قیامت وہ زندہ دلوں میں سے ہوگا۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مَنْ قَامَ لَيْلَتَيِ الْعِيْدَيْنِ مُحْتَسِبًا لِلّٰهِ، لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوْبُ“ ”جو شخص عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی راتوں میں، محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عبادت کرے، اس کا دل اُس دن بھی نہیں مرے گا، جس دن تمام دل مردہ ہو جائیں گے“۔ [سنن ابن ماجه، باب فيمن قام في ليلتي العيدين، ر: 1782, ص: 297]

نمازِ عیدین سے متعلق بعض شرعی مسائل

میرے دوستو وبزرگو! عیدین کی نماز واجب ہے، مگر سب پر نہیں، بلکہ انہیں پر (واجب ہے) جن پر جمعہ فرض ہے۔ اور اس کی ادا کی وہی شرطیں ہیں جو جمعہ کے لیے ہیں، صرف اتنا فرق ہے کہ جمعہ میں خطبہ شرط یعنی واجب ہے، اور عیدین میں سنّت۔ اگر جمعہ میں خطبہ نہ پڑھا تو جمعہ نہ ہوا، اور عید میں نہ پڑھا تو نماز ہوگئی مگر بُرا کیا۔

دوسرا فرق یہ ہے کہ جمعہ کا خطبہ قبلِ نماز ہے اور عیدین کا بعدِ نماز۔ عیدین میں اگر خطبہ پہلے پڑھ لیا تو بُرا کیا مگر نماز ہوگئی، لوٹائی نہیں جائے گی۔ اور خطبے کا بھی اعادہ نہیں۔ عیدین میں نہ اذان ہے، نہ اقامت، صرف دو بار اتنا کہنے کی اجازت ہے: ”الصَّلَاةُ جَامِعَة!“۔

نمازِ عید کا وقت بقدر ایک نیزہ آفتاب بلند ہونے سے، ضحوۂ کبریٰ یعنی نصف النہار شرعی تک ہے، مگر عید الفطر میں دیر کرنا، اور عید الاضحٰی میں جلد پڑھنا مستحب ہے۔ اور سلام پھیرنے سے پہلے زوال ہوگیا تو نماز جاتی رہی۔ زوال سے مراد نصف النہار شرعی ہے۔

  • ماہنامہ: ادارۂ اہل سنت کراچی پاکستان
  • صفحہ نمبر: ۱
  • جمعۃ المبارک: ۷ ذوالحجہ ۱۴۴۰ھ
  • مطابق: ۹ / ۸ / ۲۰۱۹ء
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!