Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فلسفہ قربانی اور ہمارا معاشرہ (قسط: سوم)

فلسفہ قربانی اور ہمارا معاشرہ (قسط: سوم)
عنوان: فلسفہ قربانی اور ہمارا معاشرہ (قسط: سوم)
تحریر: نا معلوم
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

  1. اگر باوجود مالک نصاب ہونے کے اُس نے قربانی نہ کی، اور وقت ختم ہونے کے بعد فقیر ہو گیا، تو اس پر بکری کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے، یعنی وقت گزرنے کے بعد قربانی ساقط نہیں ہوگی۔
  2. اور اگر مالک نصاب بغیر قربانی کیے ہوئے انہیں دنوں میں مر گیا، تو اس کی قربانی ساقط ہو گئی۔
  3. قربانی کے وقت میں قربانی کرنا ہی لازم ہے، کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتی، مثلاً بجائے قربانی اس نے بکری یا اس کی قیمت صدقہ کر دی، یہ نا کافی ہے۔
  4. دسویں کے بعد کی دونوں راتیں ایام نحر میں داخل ہیں، ان میں بھی قربانی ہو سکتی ہے، مگر رات میں ذبح کرنا مکروہ ہے۔
  5. اگر شہر میں متعدد جگہ عید کی نماز ہوتی ہو، تو پہلی جگہ نماز ہو چکنے کے بعد قربانی جائز ہے، یعنی یہ ضروری نہیں کہ عید گاہ میں نماز ہو جائے جبھی قربانی کی جائے، بلکہ کسی (بھی) مسجد میں ہو گئی اور عید گاہ میں نہ ہوئی، جب بھی ہو سکتی ہے۔
  6. منیٰ میں چونکہ عید کی نماز نہیں ہوتی لہٰذا وہاں جو قربانی کرنا چاہے، طلوع فجر کے بعد سے کر سکتا ہے۔
  7. قربانی کے دن گزر گئے اور اُس نے قربانی نہیں کی، اور جانور یا اس کی قیمت کو صدقہ بھی نہیں کیا، یہاں تک کہ دوسری بقر عید آ گئی، اب یہ چاہتا ہے کہ سال گزشتہ کی قربانی کی قضا اس سال کرلے، یہ نہیں ہو سکتا، بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اس کی قیمت صدقہ کرے۔ [”بہار شریعت“، قربانی کا بیان، حصہ پانزدہم ۱۵، ج: ۳، ص: ۳۳۳-۳۳۹، ملتقطاً۔]

قربانی کا بنیادی فلسفہ اور معاشرتی طرز عمل

عزیزان محترم! عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی پیش کرنے میں بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ اگر راہِ خدا میں اپنی عزیز ترین چیز بھی نچھاور کرنی پڑے، تو اس سے دریغ نہ کیا جائے! اگر قربانی کے فریضہ سے اس فلسفے کو نکال دیا جائے، تو پھر اس کا مفہوم بے معنی سا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا قربانی کرتے وقت یہ بات ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے کہ حضرت سیدنا ابراہیم عليه السلام، جس وقت اپنے بیٹے حضرت سیدنا اسماعیل عليه السلام کو قربان کرنے کے لیے پیش کر رہے تھے، اس وقت ان کا مقصود و مطلوب شہرت یا نمود و نمائش ہرگز نہیں تھا، بلکہ انہوں نے خالصتاً رضائے الٰہی کے لیے اپنے جگر گوشہ کو راہِ خدا میں قربان کرنے کے لیے پیش کیا۔ حضرت سیدنا ابراہیم عليه السلام کی یہ قربانی، رہتی دنیا تک کے لیے ایک روشن مثال، اور مسلمانوں کے لیے اطاعت و ایثار کا ایک حسین نمونہ ہے!

میرے محترم بھائیو! ہونا تو یہ چاہیے کہ سنت ابراہیمی کو پورا کرنے کی غرض سے، ذبح کیے جانے والے جانور کے ساتھ ساتھ، شہرت و ریا کاری جیسی دنیاوی خواہشات، اور انا کو بھی قربان کر دیا جائے، اور خالصتاً رضائے الٰہی اور تقویٰ و پرہیز گاری کے حصول کے لیے قربانی پیش کی جائے؛ کیونکہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ رب تعالیٰ کو ہمارے جانوروں کے گوشت اور خون کی حاجت نہیں، بلکہ وہ ہمارا جذبہ قربانی، ایثار اور تقویٰ کو ملاحظہ فرماتا ہے۔

جانور کی قربانی تو محض ایک علامت ہے، اصل قربانی تو یہ ہے کہ احکام شریعت کی تعمیل میں اپنی نفسانی خواہشات کو قربان کیا جائے، اپنی سہولت و ضروریات کو نظر انداز کر کے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کی جائے، اپنی ذات کو تقویٰ، خلوص اور ایثار کا پیکر بنایا جائے!

عزیزان محترم! ہمارے معاشرے میں عموماً دیکھا گیا ہے کہ صاحب حیثیت لوگ قربانی کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں، اعلیٰ سے اعلیٰ نسل کا جانور خرید کر، اس نیک کام میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ یہ عمل اگر رضائے الٰہی کے پیش نظر ہے تو بہت اچھی بات ہے، لیکن اگر اس سے مقصود شہرت یا دکھاوا ہے، تو سب دھن دولت اور تگ و دو رائیگاں ہے!!!

اسی طرح بعض لوگ راہِ خدا میں لاکھوں روپے خرچ کرنے کے لیے تو ہر دم تیار ہوتے ہیں، لیکن اپنی انا کو قربان کر کے اپنے ناراض بھائی بہنوں کو راضی کرنے، اور اُن سے صلح کے لیے آمادہ نہیں ہوتے! ایسے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ اگر ہم اپنے اندر کے حیوان (یعنی نفس) کو قربان نہ کر سکے، تو پھر بظاہر یہ ایک جانور کی قربانی کس کام کی؟ لہٰذا سب سے پہلے ہمیں اپنے نفس کو مارنا ہوگا، اپنی نفسانی خواہشات کو قربان کرنا ہو گا، یقین کیجیے کہ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو پھر عید الاضحیٰ کے موقع پر پیش کی جانے والی یہ قربانیاں سونے پہ سہاگہ کی مثل ہوں گی! لہٰذا جس جس کی اپنے بھائی بہنوں سے باہم ناراضگی ہے، وہ عید قرباں کے مبارک ایام میں آپس کی تمام رنجشیں، ناراضگیاں دور کریں، اپنے دل کو کینہ، بغض، عداوت، چغل خوری اور حسد جیسے ایمان سوز اور مہلک گناہوں سے پاک و صاف کر کے، ہمیشہ کے لیے باہم شیر و شکر ہو جائیں، ایک دوسرے سے مصافحہ و معانقہ کریں، عید کی مبارک باد دے کر اللہ و رسول صلى الله عليه وسلم کی رضا، اور اپنے گناہوں کی معافی حاصل کریں۔ حضور نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:

إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا لَقِيَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ، تَحَانَّتْ عَنْهُمَا ذُنُوبُهُمَا، كَمَا تَتَحَاتُ الْوَرَقُ مِنَ الشَّجَرَةِ الْيَابِسَةِ فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ، وَإِلَّا غُفِرَ لَهُمَا، وَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُهُمَا مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ

جب ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملتا ہے، اس سے مصافحہ کرتا ہے، تو ان دونوں کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں، جس طرح موسم خزاں میں درخت کے پتے جھڑتے ہیں، اور ان دونوں کی بخشش کر دی جاتی ہے، اگرچہ ان کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ [”المعجم الکبیر“، باب السین، ر: ۶۱۵۰، ج: ۶، ص: ۲۵۶۔]

عید قرباں کا مقصد و پیغام

میرے محترم دوستو، بھائیو اور بزرگو! اپنے گرد و پیش رہنے والے مسلمان بھائی بہنوں کا بھی خیال رکھیے! اپنے اندر خلوص، ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا کریں؛ کہ عید قرباں کا یہی مقصد و پیغام ہے۔ جس طرح حضرت سیدنا ابراہیم عليه السلام نے اپنی قیمتی چیز اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کی، اور آزمائش میں پورے اُترے، اسی طرح ہم بھی اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کر کے، اپنے رب کی رضا و قرب حاصل کر سکتے ہیں! جس طرح حضرت سیدنا اسماعیل عليه السلام نے حکمِ الٰہی کے سامنے اپنا سرِ تسلیم خم کیا، اسی طرح ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو بھی احکامِ الٰہی کی پابندی کرنے کی تلقین کرتے رہیں، انہیں معاشرے میں بسنے والے دیگر افراد کے ساتھ حسنِ سلوک اور ہمدردی سے پیش آنے، ان کی ضروریات کا خیال رکھنے، ان کی خوشی غمی میں شریک ہونے، اور ان کی خاطر اپنی خواہشات کو قربان کرنے کا جذبہ بیدار کریں! کہ فلسفہ قربانی میں یہ ایک اہم درس پنہاں ہے، اور یہی اس کا تقاضا بھی ہے!

دعا

اے اللہ! ہماری قربانیوں اور دیگر اعمالِ صالحہ کو قبول فرما، ہمیں فلسفہ قربانی کو سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرما، ہمیں شہرت و دکھلاوے جیسی اخلاقی برائیوں سے نجات عطا فرما، تقویٰ، پرہیز گاری اور اخلاص کی دولت سے مالا مال فرما۔

اے اللہ! ہمارے ظاہر و باطن کو تمام گندگیوں سے پاک و صاف فرما، اپنے حبیبِ کریم صلى الله عليه وسلم کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالم صلى الله عليه وسلم اور صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم کی سچی محبت اور اخلاص سے بھر پور اطاعت کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں دین اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکا با عمل عاشق رسول صلى الله عليه وسلم بنا، ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ با جماعت نمازوں کا پابند بنا، اس میں سستی و کاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اخلاص کی دولت عطا فرما، تمام فرائض و واجبات کی ادائیگی بحسن و خوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل و کنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں ملک و قوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد و اتفاق اور محبت و الفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں احکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بے کس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی و چھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دور فرما، ہمارے قرضے اُتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!

اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت و اطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الٰہی! ہمارے اخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، کفار کے ظلم و بربریت کے شکار ہمارے فلسطینی و کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو ان کے حق میں خیر و برکت کے ساتھ حل فرما! آمین یا رب العالمین!

وصلى الله تعالى على خير خلقه ونور عرشه، سيدنا ونبينا وحبيبنا وقرة أعيننا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين وبارك وسلم، والحمد لله رب العالمين۔

(رسالہ: فلسفہ قربانی اور ہمارا معاشرہ)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!