Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فلسفہ قربانی اور ہمارا معاشرہ (قسط اول)

فلسفہ قربانی اور ہمارا معاشرہ (قسط اول)
عنوان: مضمون: فلسفہ قربانی اور ہمارا معاشرہ (قسط اول)
تحریر: نامعلوم
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِين، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِين، وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِين، أَمَّا بَعْد: فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيم.

حضورِ پُرنور، شافعِ یومِ نشور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ادب و احترام سے دُرود و سلام کا نذرانہ پیش کیجیے! اَللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا وَحَبِيبِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِين.

قربانی کی تعریف

برادرانِ اسلام! ایامِ نحر (قربانی کے دنوں) میں قربِ الہی کے حصول کی نیت سے، جو جانور ذبح کیا جاتا ہے، اصطلاحِ شریعت میں اُسے قربانی کہتے ہیں۔ [انظر: التعريفات، باب الألف، ر: 160، الأضحية، ص: 31 ملخصاً] صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ”مخصوص جانور کو، مخصوص دن میں، بہ نیتِ تقرب ذبح کرنا قربانی ہے۔ کبھی اس جانور کو بھی اضحیہ اور قربانی کہتے ہیں جو ذبح کیا جاتا ہے۔ قربانی حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، جو اس اُمتِ (محمدیہ) کے لیے باقی رکھی گئی“۔ [بہارِ شریعت، قربانی کا بیان، حصہ 15، ج: 3، ص: 327]

قربانی کی مشروعیت

عزیزانِ محترم! ہر صاحبِ نصاب پر قربانی واجب ہے، اللہ تعالیٰ نے مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ”تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو!“۔ [الکوثر: 2]

قربانی ایک ایسی عبادت ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی جان کے فدیہ میں ذبیحہ دے کر، لوگوں کے لیے اسے مقرر فرمایا، ارشادِ ربانی ہے: وَفَدَيْنَهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ”ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس (اسماعیل علیہ السلام) کے فدیہ میں دے کر اسے بچا لیا“۔ [الصافات: 107]

قربانی کرنے کا اجر و ثواب

حضراتِ گرامی قدر! قربانی اسلامی شعار اور نعمتِ الہی ہے، تقویٰ و پرہیزگاری اور رضائے الہی کی خاطر، دی جانے والی قربانی کو اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔

ارشادِ باری تعالی ہے: لَنْ يَنَالَ اللّٰهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ ”اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے“۔ یعنی قربانی کرنے والے صرف نیت کے اخلاص اور شروطِ تقویٰ کی رعایت سے، اللہ تعالیٰ کو راضی کر سکتے ہیں۔ [الحج: 37] [دیکھیے: تفسیر خزائن العرفان، زیرِ آیت: 37، ص: 625]

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنا نہایت ہی پسندیدہ امر ہے، عید الاضحیٰ کے ایام میں خالقِ کائنات عزوجل کو قربانی سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں۔ ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہ رحمتِ عالمیان صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ، أَحَبَّ إِلَى اللّٰهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ، إِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا، وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللّٰهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الْأَرْضِ، فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا“ ”قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں، مسلمان کا کوئی عمل خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ پسندیدہ نہیں! قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا، اور یقیناً اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے، اللہ تعالیٰ کے ہاں مقامِ قبولیت حاصل کر لیتا ہے، لہٰذا خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو!“۔ [سنن الترمذي، باب ما جاء في فضل الأضحية، ر: 1493، ص: 363]

قربانی کا دن اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت عظیم دن ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللّٰهِ، يَوْمُ النَّحْرِ“ ”یقیناً اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے عظیم دن، قربانی (10 ذی الحجہ) کا دن ہے“۔ [سنن أبي داود، كتاب المناسك، ر: 1765، ص: 259]

میرے محترم بھائیو! اجر و ثواب کی نیت سے قربانی کرنا، آتشِ جہنم سے حجاب (رکاوٹ) کا باعث ہے، حضرت سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مَنْ ضَحَّى طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ، مُحْتَسِبًا لِأُضْحِيَّتِهِ، كَانَتْ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ“ ”جس نے خوش دلی کے ساتھ، طالبِ ثواب ہو کر قربانی کی، اس کے لیے وہ قربانی آتشِ جہنم سے حجاب (رکاوٹ) ہو جائے گی“۔ [المعجم الكبير، باب الحاء، ر: 2736، ج: 3، ص: 84]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!