| عنوان: | محبت الہی اور اس کے حصول کے طریقے |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی |
| پیش کش: | بنت جمال الدین اشرفی |
محبت الہی اور اس کے حصول کے طریقے
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی سچی محبت کی طرف بلاتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
”یعنی اے حبیب! آپ فرما دیجیے کہ لوگو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو، تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ! اللہ تعالیٰ تم سے محبت فرمائے گا۔“
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو کثرت سے محبت الہی سکھاتے، ان کے دلوں کو محبت الہی سے گرمایا کرتے، نیکیوں کے ذریعے قرب الہی پانے کا درس دیتے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام ان اعمال سے متعلق دریافت کرتے رہتے، جن سے محبت الہی کا حصول ممکن ہو اور جن اعمال کے ذریعے محبت الہی میں روز بروز اضافہ ہوتا رہے۔
اللہ کے پسندیدہ اعمال
اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے اور اس میں اضافہ کرنے والے اعمال بے شمار ہیں، ان میں سے اہم ترین عمل یہ ہے کہ بندہ فرائض و واجبات کی ادائیگی کا اہتمام کرے، سیدنا عبد اللہ بن مسعود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا یعنی نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا。
نماز کی حفاظت
نماز کی حفاظت اور اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ
”یعنی سب نمازوں کی پابندی کرو اور خاص کر درمیانی نماز کی اور اللہ کے حضور ادب سے کھڑے ہو۔“
فرائض کے ساتھ نوافل کی کثرت
حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ
”یعنی میرا بندہ جس چیز کے ذریعے میرا قرب چاہتا ہے، اس میں سے فرض زیادہ محبوب ہے اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو اس کا کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں ہو جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، جب وہ مجھ سے مانگے تو اسے ضرور دیتا ہوں اور جب وہ میری پناہ مانگے تو اسے ضرور پناہ دیتا ہے۔“
اعمال صالحہ پر ہمیشگی
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال میں زیادہ محبوب کیا ہے؟ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ یعنی وہ کام جو ہمیشہ پابندی کے ساتھ کیا جائے، اگرچہ مقدار میں تھوڑا ہی ہو۔ نیکیوں پر ہمیشگی اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے فضل و احسان کا اعتراف ہے۔
اللہ کے محبوب معاملات
رب العالمین نے ارشاد فرمایا:
وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
”یعنی بھلائی والے ہو جاؤ! یقیناً بھلائی والے اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں۔“
معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے قول و عمل میں بھلائی، وہ عظیم کام ہے جسے وہ پسند کرتا ہے کہ آدمی جب لوگوں سے بات کرے تو اچھی گفتگو کرے، ہر کام یقین کامل کے ساتھ انجام دے، لوگوں کے ساتھ احسان و بھلائی کا معاملہ کرے، جو محروم کرے اسے بھی عطا کرے، جو ظلم کرے اس سے بھی معاف کر دے، جو برائی سے پیش آئے اس کے ساتھ بھی بھلائی کرے اور اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہوئے اس پر صبر کرے تاکہ نعمت الہی پا سکے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ یعنی صبر والے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔
اپنے خالق و مالک پر کامل بھروسا رکھنے والوں کے متعلق فرمایا: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ یعنی یقیناً توکل والے، اللہ تعالیٰ کو پیارے ہیں۔
وہ جو اپنی صلاحیتوں کو بھر پور انداز سے بروئے کار لاتے ہیں، تمام ممکنہ اسباب اختیار کرتے ہیں، اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر ہماری تدبیر سے بہتر ہے، لہٰذا ان کا وجود پر سکون اور دل مطمئن ہو جاتا ہے اور لوگوں کے ساتھ نرمی و فیاضی سے اس اچھے معاملے کا ثمرہ حاصل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت فرمانے لگتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ سَمْحَ الْبَيْعِ، سَمْحَ الشِّرَاءِ، سَمْحَ الْقَضَاءِ یعنی اللہ تعالیٰ بیچنے میں نرمی برتنے والے، خریدنے میں نرمی کرنے والے اور قرض کے تقاضا میں نرمی اپنانے والے سے محبت فرماتا ہے۔
بلاشبہ انسان کی خوبی اپنے معاملات میں عدل و انصاف کا تقاضا کرتی ہے، اس لیے کہ وہ اپنے حق سے اوپر کچھ نہیں لیتا، یہ بات قابل تعریف صفات میں سے ہے اور ان اچھائیوں کی ابتدا ہے جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ یعنی یقیناً انصاف والے اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور انصاف، برابری کرنے کا نام ہے۔
اللہ کو محبوب اخلاق
خوبصورتی ایک ایسی نعمت ہے، جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے، کسی نے عرض کی: یا رسول اللہ! آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو، اس کے جوتے بھی عمدہ ہوں، مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ یعنی یقیناً اللہ تعالیٰ صاحب جمال ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔
خوبصورتی کا مفہوم قول و عمل اور ظاہر و باطن کو شامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُرَى أَثَرُ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ یعنی یقیناً اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اس کے بندے پر نعمت کا اثر دکھائی دے۔
یعنی نعمت الہی اس کی ذات کی اچھائی، اس کے لباس کی خوبصورتی اور اس کے کردار کی بہتری میں نظر آئے۔
اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ انسان کے دل میں بھی اپنی نعمت کا اثر دیکھے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے فضل کا اعتراف کرے۔ وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ یعنی تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے، سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
چاہے وہ نعمت چھوٹی ہو یا بڑی، سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا یعنی یقیناً اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جو کچھ کھاتا ہے تو اللہ کی حمد کرے اور کچھ پیتا ہے تو اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرے۔
راضی ہونے کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے سے محبت فرماتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کی تعریف کرتا ہے، وہ جانتا ہے کہ سب فضل اللہ کا ہے، رزق کی پاکیزگی کی قید میں ہے، اس بندے کا دل صاف، جان ستھری، اس کی نیت نیک ہو تو وہ دوسروں کے ساتھ بھلائی میں تعاون کرتا ہے، ہر بھلا کام انجام دینے میں کوشاں رہتا ہے، وہ سب ان ہی محبت کرنے والوں میں سے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ دنیا میں ان کی قدر و منزلت بلند فرماتا ہے اور آخرت میں بھی انہیں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حدیث قدسی میں فرمایا:
الْمُتَحَابُّونَ فِي جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ
”یعنی میری خاطر باہم محبت کرنے والوں کے لیے آخرت میں نور کے منبر ہیں، جن پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔“
اللہ تعالیٰ کا محبوب
بلاشبہ جو عبادات و معاملات اور اخلاق و سلوک میں اپنے آپ کو سنوار لے، یعنی محبت اپنے معاشرے میں بکھیرتا رہے اور استقامت و عزم و ہمت کے لیے کوشاں رہتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ کامیاب و کامران ہو جاتا ہے، نبی کریم رؤف و رحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحْبِبْهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ
”یعنی اللہ جل جلالہ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو حضرت جبریل سے فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو، تب جبریل بھی اس سے محبت کرتے ہیں، پھر حضرت جبریل علیہ السلام آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت فرماتا ہے، لہٰذا تم لوگ بھی اس سے محبت کرو، تب آسمان والے بھی اس سے محبت کرتے ہیں، پھر اس کی مقبولیت اہل زمین میں عام کر دی جاتی ہے۔“
اے اللہ! ہمیں اپنی محبت عطا فرما، اس کے لیے ہمیں اچھے اچھے کام کرنے کی سعادت نصیب فرما، ہمیں اچھے انداز سے انجام دینے کی ہمت و طاقت عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے ظاہر و باطن کو تمام گندگیوں سے پاک و صاف فرما، اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی سچی محبت اور اخلاص سے بھر پور اطاعت کی توفیق عطا فرما، ہم پر اپنی نعمتوں کی فراوانی اور ان میں دوام عطا فرما، ان کی حفاظت و شکر کی توفیق عطا فرما، ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائیاں عطا فرما، پیارے مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری دعاؤں سے نواز دے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت عطا فرما، ہمیں اپنا اور اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ بنا، ہم سے وہ کام لے جس میں تیری رضا شامل حال ہو، تمام عالم اسلام کی خیر فرما، آمین یا رب العالمین۔
حوالہ جات
- پ ۳، آل عمران ۳۱
- صحیح بخاری کتاب مواقیت الصلاۃ، ۵۲۷ : ص ۹۰
- پ ۲، البقرۃ : ۲۳۸
- صحیح البخاری کتاب الرقاق، ۶۵۰۲، ۶۴۶۵
- صحیح البخاری کتاب الرقاق، ۱۱۲۷
- پ ۲، البقرۃ ۱۹۵
- پ ۴، آل عمران : ۱۴۶
- پ ۴، آل عمران ۱۵۹، سنن الترمذی ابواب الجہاد، ۱۳۱۹ : ص ۳۲۰
- پ ۴، المائدۃ ۴۲
- صحیح مسلم کتاب الایمان، ۲۶۵ ص ۵۴
- مسند الامام احمد مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص، ۶۷۲۰ ۔ ۲/۶۰۳
- پ ۱۰، النحل ۵۳، صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء، ۶۹۳۲ ص ۱۱۸۶
- صحیح الاوزعی تحت ۱۸۱۶ / ۲ ۱۵۷۰
- سنن الترمذی ابواب الزھد، ۲۳۹۰ : ص ۵۴۵
- صحیح البخاری کتاب بدء الخلق، ۳۲۰۹ : ص ۵۳۶
ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، ص ۲۱، ۲۲، ۲۳
