Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فتاوی مظہریہ کی عبارتوں کی توضیح

فتاویٰ مظہریہ کی عبارتوں کی توضیح
عنوان: فتاویٰ مظہریہ کی عبارتوں کی توضیح
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

فتاویٰ مظہریہ کی بعض عبارتیں تشریح طلب ہیں۔ ان قسط وار مضامین میں تشریح مرقوم ہے۔ ان کی وفات کے بعد مختلف مقامات سے یہ فتاویٰ جمع کیے گئے اور مجموعہ شائع ہوا۔

اشخاصِ اربعہ کی تکفیر سے سکوت کیوں؟

سوال: فتاویٰ مظہریہ میں ہے کہ مسلکِ دیوبند کے اشخاصِ اربعہ کی موت ہو گئی۔ اب ان لوگوں کو کافر کہنے سے سکوت کرنا چاہیے، جب کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز ان لوگوں کے بارے میں استفتا لے کر حرمین طیبین حاضر ہوئے تو چار لوگوں میں سے دو کی موت ہو چکی تھی۔ امام اہلِ سنت قدس سرہ القوی 1323 ہجری میں حرمین طیبین گئے۔ حج کی ادائیگی کے بعد ماہ ذی الحجہ 1323 ہجری سے استفتا کے جواب و تصدیقات کا سلسلہ شروع ہوا، اور 1324 تک جاری رہا۔

اشخاصِ اربعہ میں سے قاسم نانوتوی کی موت 04 جمادی الاولیٰ 1297 مطابق 15 اپریل 1880 کو ہوئی۔ رشید احمد گنگوہی کی موت 09 جمادی الثانی 1323 مطابق 11 اگست 1905 کو ہوئی۔ یعنی قاسم نانوتوی کی موت کے چھبیس سال بعد استفتا لے کر گئے اور جس سال رشید احمد گنگوہی کی موت ہوئی، اسی سال اس کی موت کے چند ماہ بعد استفتا لے کر حرمین طیبین گئے۔

فتاویٰ مظہریہ سے ایک سوال و جواب منقولہ ذیل ہے۔

سوال نمبر 247: مولوی اسماعیل دہلوی، مولانا محمد قاسم نانوتوی (بانی مدرسہ دیوبند)، مولوی اشرف علی، مولوی رشید احمد گنگوہی، مولوی خلیل احمد انبیٹھوی وغیرہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں جو گستاخانہ عبارتیں لکھی ہیں، ان کی وجہ سے ان پر کفر کا حکم لگایا جائے یا نہیں؟
(مستفتی: محمد ایوب الرحمن خطیب جامع مسجد سبزی منڈی خانیوال، مغربی پاکستان)

الجواب: اس میں شک نہیں کہ ان لوگوں سے جو بعض اقوال صادر ہوئے ہیں، وہ یقیناً کفر ہیں لیکن اب جب کہ یہ لوگ انتقال کر گئے، اور یہ معلوم نہیں کہ توبہ کی یا نہ کی، اور ان کی عاقبت کیسی ہوئی ہے، اس لیے میرے نزدیک ان کے حق میں سکوت بہتر ہے۔ البتہ جو شخص ان عبارتوں کا قائل ہو، یقیناً کافر ہے۔
فقط محمد مظہر اللہ غفرلہ مسجد جامع فتح پوری (دہلی)
[فتاویٰ مظہریہ، جلد دوم، ص: 374، ادارہ مسعودیہ، کراچی]

جواب: فتاویٰ مظہریہ کی منقولہ بالا عبارت میں ہے کہ اشخاصِ اربعہ کے قابلِ اعتراض اقوال یقیناً کفریہ اقوال ہیں اور ایسے اقوالِ کفریہ کا قائل یقیناً کافر ہے۔ اشخاصِ اربعہ سے متعلق سکوت کو اپنا مسلک بتایا۔ تمام مسلمانوں کا مسلک نہیں بتایا۔

انہوں نے اپنا مسلک سکوت کیوں بتایا، اس کے اسباب پر غور کیا جائے۔ اس فتویٰ میں موت اور توبہ کا ذکر ہے۔

  1. یہ فتویٰ اشخاصِ اربعہ کی موت کے بعد لکھا گیا ہے، کیوں کہ اس میں ذکر ہے کہ ان لوگوں کی موت ہو گئی، اور توبہ کا علم نہیں تو میرے نزدیک ان کے حق میں سکوت بہتر ہے۔ طواغیتِ اربعہ میں سب سے اخیر میں تھانوی کی موت 16 رجب المرجب 1362 مطابق 20 جولائی 1943 کو ہوئی۔ اس سے واضح ہوا کہ سوال میں نقل کردہ فتویٰ اشخاصِ اربعہ کی موت کے بعد کا ہے۔
  2. سائل نے اپنا پتہ مغربی پاکستان لکھا ہے اور تقسیمِ ہند 1947 میں ہوئی۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ قومی تقسیمِ ہند کے بعد کا ہے۔

تکفیر سے سکوت کا سبب موت ہے یا توبہ کی خبر؟

  1. فتاویٰ مظہریہ میں منقولہ بالا فتویٰ کے بعد ایک فتویٰ میں ہے کہ جس کو اہلِ دیوبند کی کفریہ عبارتوں کا علم ہو، اور یہ معلوم ہو کہ وہ لوگ بلا توبہ مرے ہیں، پھر بھی وہ ان لوگوں کو مومن اور اپنا پیشوا مانتا ہو تو اس کی اقتدا میں نماز جائز نہیں، اور جو ان لوگوں کی طرف منسوب ہیں، ان کی اقتدا میں بھی نماز نہ پڑھی جائے۔ اگر نماز پڑھ لی ہو تو نماز دہرائی جائے، تا کہ فرض ادا ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مفتیِ موصوف کا مسلکِ سکوت موت کے سبب نہیں، بلکہ کسی خاص سبب کی بنیاد پر ہے۔
  2. قادیانی کی موت کے 54 سال بعد 1379 ہجری میں مفتی موصوف نے قادیانی کو کافر قرار دیا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اکابرِ دیوبند کی تکفیر سے مفتی موصوف کا مسلکِ سکوت موت کے سبب نہیں ہے، بلکہ کسی خاص سبب کی بنیاد پر ہے۔
  3. تھانوی کی موت کے سترہ سال بعد اگست 1957 میں فتویٰ دیا کہ اکابرِ دیوبند کی کفریہ عبارتوں کا حکمِ شرعی ماننا لازم ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مفتی موصوف کا مسلکِ سکوت موت کے سبب نہیں ہے، بلکہ کسی خاص سبب کی بنیاد پر ہے۔

کیا موت کے سبب تکفیر سے سکوت ہے؟

مفتی موصوف کے دیگر فتاویٰ کو دیکھ کر یہ فیصلہ بالکل واضح ہے کہ اشخاصِ اربعہ کی تکفیر سے سکوت موت کے سبب نہیں، نہ ہی محض احتمالِ توبہ کے سبب ہے، بلکہ توبہ کی غیر یقینی خبر کے سبب ہے۔ دیابنہ اپنے اکابر کو مومن ثابت کرنے کے واسطے کسی کو بھی کچھ بتا سکتے ہیں۔

توبہ کی جھوٹی خبر بھی بتا سکتے ہیں۔ دیابنہ عرب ممالک میں جا کر سنی حضرات کے پاس سنی بن جاتے ہیں اور وہابیوں کے پاس وہابی۔ مفتی موصوف کا اندازِ تحریر و دیگر فتاویٰ کی عبارتیں اس بات پر قرینہ ہیں کہ مفتی موصوف کو اکابرِ دیوبند کی توبہ کی خبر دی گئی ہے، لیکن انہیں یقین نہیں ہو سکا تو اپنا مسلک سکوت بتایا۔ یہ اپنا مسلک انہوں نے بیان کیا۔

کیا سکوت کا حکم سب کے لیے ہے؟

اگر صاحبِ فتاویٰ مظہریہ اکابرِ دیوبند کی تکفیر سے سکوت کا حکم سب کے لیے دیتے تو اشخاصِ اربعہ کو مومن ماننے والے کی اقتدا میں نماز کے عدمِ جواز کا فتویٰ نہیں دیتے۔

موصوف نے ذی الحجہ 1379 کے فتویٰ میں اشخاصِ اربعہ کو مومن ماننے والے کی اقتدا میں نماز کے عدمِ جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ اشخاصِ اربعہ میں سے تھانوی کی موت سب سے آخر میں 1362 ہجری میں ہوئی۔

تھانوی کی موت کے سترہ سال بعد 1379 میں سوال ہوا، جس کے جواب میں آپ نے نماز کے عدمِ جواز کا فتویٰ دیا۔ سوال اور جواب درج ذیل ہے۔

سوال نمبر 249: دیوبندی حضرات کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اور کیا ان سب کو کافر کہا جائے، یا بعض کو؟ اور ان سے رشتہ رکھنا، شادی بیاہ کرنا کیسا ہے؟ کتاب ”مالا بد منہ“ میں ترجمہ باب الکفر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے لکھا ہے کہ: ”میں اہلِ قبلہ کو کافر نہیں جانتا اور جو ان کو کافر جانے، میں اس کو کافر جانتا ہوں“۔
از راہِ کرم ان سوالات کے جوابات بالتفصیل تحریر فرما کر ممنون فرمائیں: بَيِّنُوْا تُؤْجَرُوْا
(السائل: رحیم بخش، ساکن کنکر کھیڑہ - 9 ذی الحجہ 1379ھ)

الجواب وَهُوَ الْمُوَفِّقُ لِلصَّوَابِ:
یہ تو صحیح ہے کہ کسی اہلِ قبلہ کو کافر کہنا جائز نہیں لیکن اہلِ قبلہ سے حقیقتاً وہ لوگ مراد ہیں جو نہ کوئی عقیدہِ کفریہ رکھتے ہوں، نہ ان سے کوئی ایسا قول یا فعل سرزد ہوا ہو جو موجبِ کفر ہو، گو وہ مرتکبِ کبائر ہوں، برخلاف خوارج کے کہ وہ مرتکبِ کبائر کو بھی کافر کہتے ہیں۔

یہ ہرگز مراد نہیں کہ جو قبلہ کی جانب منہ کر کے نماز پڑھتا ہے، وہ اہلِ قبلہ ہے، اگرچہ وہ بت کو پوجتا ہو۔ اللہ و رسول (جل وعلا وصلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخیاں کرتا ہو، اور ضروریاتِ دین میں سے کسی امر کا منکر ہو کہ ایسا شخص بالاجماع کافر ہے، جو نصِ قطعی سے ثابت ہے۔ چنانچہ مولیٰ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: يَحْلِفُوْنَ بِاللهِ مَا قَالُوْا وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوْا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ نیز فرماتا ہے: لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ الآیۃ۔ اور رد المحتار میں ہے: لَا خِلَافَ فِيْ كُفْرِ الْمُخَالِفِ فِيْ ضَرُوْرِيَّاتِ الْإِسْلَامِ.

الحاصل جب یہ معلوم ہو گیا، اگرچہ کوئی صورۃً اہلِ قبلہ ہو، لیکن اگر اس سے کوئی کفر سرزد ہوگا تو وہ کافر ہو جائے گا، اور یہ بھی ثابت ہوا کہ جو ایسے شخص کے متعلق بالیقین یہ جانتے ہوئے کہ اس سے ایسا کفر صادر ہوا ہے جس میں کوئی صحیح تاویل نہیں ہو سکتی، پھر بھی اسے مسلمان سمجھے گا تو وہ بھی کافر ہو جائے گا: لقولہ تعالیٰ: وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَإِنَّهٗ مِنْهُمْ.

تو ایسی صورت میں نہ کسی دیوبندی کی تخصیص کی جا سکتی ہے، نہ کسی بریلوی کی، نہ کسی وہابی کی ہو سکتی ہے، نہ کسی سنی کی، اور یہ حکم نہ کسی نجدی کے ساتھ خاص ہے، نہ کسی مکی مدنی کے ساتھ۔

جس سے بھی ضروریاتِ دین میں سے کسی شے کا خلاف وقوع میں آئے گا، اس پر کفر کا حکم کیا جائے گا، خواہ کوئی بھی کیوں نہ ہو، پس کسی مقام سے نسبت رکھنے والے کو عام طور پر کیسے کافر کہا جا سکتا ہے؟ ہاں، اگر اس نسبت سے ایسے شخص کے ساتھ نسبت مراد ہے جو کافر ہو چکا ہے، اور جس وجہ سے کافر ہوا ہے، وہ وجہ اس سے نسبت رکھنے والے میں موجود ہو تو پھر عام طور پر اس ہر نسبت والے کو کافر کہا جائے گا۔

جیسے قادیانی کہ وہ باوجودیکہ صورۃً اہلِ قبلہ تھا، لیکن ادعائے نبوت اور اہانتِ انبیا کی وجہ سے کافر ہوا تھا، اور اس کے ہر معتقد میں بھی یہ امر موجود ہے کہ وہ اس کو ان امور میں سچا جانتا ہے، یا کم از کم یہ جانتے ہوئے کہ اس سے یہ امور صادر ہوئے، اس کو مسلمان اور اپنا پیشوا جانتا ہے۔

پس اگر دیوبندی میں بھی کوئی ایسا ہو جو کسی ایسے شخص جس کے متعلق اسے یقیناً معلوم ہو کہ اس سے کلمہِ کفر سرزد ہوا ہے، اور اس کا خاتمہ بھی اسی کفر پر ہوا ہے، اسے مسلمان جانتا اور اپنا پیشوا مانتا ہو تو اس کے پیچھے تو نماز جائز نہ ہوگی (ہادیِ مطلق اس کی اصلاح فرمائے)، ورنہ حرج نہیں۔

البتہ چونکہ ان لوگوں میں سے اکثر ایسے کے معتقد ہیں، جن سے کلماتِ کفریہ سرزد ہوئے، اور یہ معلوم نہیں کہ ان کو اس کا علم ہے یا نہیں، اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ ان میں سے کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے، اور پڑھ لی ہو تو لوٹائی جائے، تا کہ فرضِ وقت کی ادائیگی میں شبہ نہ رہے۔ فقط وَاللهُ تَعَالٰى أَعْلَمُ
محمد مظہر اللہ غفرلہ مسجد جامع فتح پوری (دہلی)
[فتاویٰ مظہریہ: جلد دوم، ص: 375-377، ادارہ مسعودیہ، کراچی]

توضیح: منقولہ بالا عبارت میں ہے کہ جس کو ان کفریہ عقائد کا علم ہو، اور یہ یقینی طور پر معلوم ہو کہ یہ لوگ بلا توبہ مرے ہیں، اس کے باوجود وہ ان لوگوں کو مومن مانتا ہو تب اس کی اقتدا جائز نہیں۔ اس سے واضح ہو گیا کہ موت کے سبب تکفیر سے سکوت مفتی موصوف کا مسلک نہیں، بلکہ کسی خاص سبب سے سکوت ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ مفتی موصوف کا مسلک یہ ہے کہ موت کے بعد محض احتمالِ توبہ کے سبب نہ مومن کہا جائے، نہ کافر تو یہ بھی مفتی موصوف کا مسلک نہیں۔ مفتی موصوف نے قادیانی کی موت کے بعد اس کو کافر کہا، پس اکابرِ دیوبند کی تکفیر سے سکوت کو اپنا مسلک بتانا کسی خاص سبب کی بنیاد پر ہے۔

مفتی موصوف نے قادیانی کے ذکر میں وجہ بیان فرما دی ہے کہ جو مرتد کو اس کے کفریات میں سچا جانے، یا اس کے کفریات پر مطلع ہو کر بھی اس کو مسلمان اور اپنا پیشوا مانے تو وہ بھی اسی کی طرح کافر ہے۔ اسی طرح دیوبندی کا حال ہے، ایسا دیوبندی اور ایسا قادیانی مسلمان نہیں تو اس کی اقتدا میں نماز جائز نہیں۔

ایک قابلِ غور بات یہ ہے کہ مفتی موصوف نے قادیانی کے بارے میں کفر پر خاتمہ کا ذکر نہیں فرمایا، لیکن دیوبندی اکابرین کے بارے میں کفر پر خاتمہ کی بات صراحتاً لکھی کہ جسے معلوم ہو کہ اکابرِ دیوبند سے کفر صادر ہوا، پھر وہ اسی کفر پر مر گئے، توبہ نہ کی تو ایسا علم رکھنے والا شخص اگر اکابرِ دیوبند کو مومن و پیشوا سمجھے تو اس کی اقتدا میں نماز جائز نہیں۔

اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مفتی موصوف کو اکابرِ دیوبند کی توبہ کی کوئی خبر دی گئی تھی۔

[حوالہ: مناظراتی مباحث اور عقائد و نظریات، ص: 166 تا 172]

قادیانی کو موت کے بعد کافر کہنا

غلام احمد قادیانی کی موت 1326 ہجری مطابق 26 مئی 1908 کو ہوئی۔ فتاویٰ مظہریہ میں قادیانی کی موت کے بعد 09 ذی الحجہ 1379 کے استفتا کے جواب میں قادیانی کو کافر لکھا گیا ہے، جب کہ قادیانی کی موت استفتا سے قریباً 54 سال قبل ہو چکی تھی۔ اگر صاحبِ فتاویٰ مظہریہ موت کے بعد محض احتمالِ توبہ کے سبب تکفیر سے سکوت کا مسلک اختیار کرتے تو ہرگز قادیانی کو اس کی موت کے بعد کافر نہیں کہتے۔ عبارت درج ذیل ہے۔

”جیسے قادیانی کہ وہ باوجودیکہ صورۃً اہلِ قبلہ تھا، لیکن ادعائے نبوت اور اہانتِ انبیا کی وجہ سے کافر ہوا تھا، اور اس کے ہر معتقد میں بھی یہ امر موجود ہے کہ وہ اس کو ان امور میں سچا جانتا ہے، یا کم از کم یہ جانتے ہوئے کہ اس سے یہ امور صادر ہوئے، اس کو مسلمان اور اپنا پیشوا جانتا ہے۔“ [فتاویٰ مظہریہ: جلد دوم، ص: 376، ادارہ مسعودیہ، کراچی]

توضیح: منقولہ بالا عبارت سے معلوم ہوا کہ مفتی موصوف کا یہ مسلک نہیں کہ محض احتمالِ توبہ کے سبب کسی کافر کی تکفیر سے سکوت کیا جائے، ورنہ موت کے بعد قادیانی کو کافر نہیں کہتے۔

اشخاصِ اربعہ پر عائد حکم کو ماننا لازم

فتاویٰ مظہریہ میں 14 اگست 1957 کے فتویٰ میں ہے کہ اکابرِ دیوبند کی عبارتوں پر جو حکمِ شرعی ہے، اس کو ماننا لازم ہے۔

سوال نمبر 248: جو حضرات علمائے دیوبند کی ایسی تحریرات کی تاویلیں پیش کرتے ہیں جن سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی مترشح ہوتی ہے، اور یہ کہتے ہیں کہ علمائے بریلوی ان عبارات کے غلط معنی و مفہوم لیتے ہیں تو ایسے حضرات کے لیے کیا حکم ہے؟ بَيِّنُوْا تُؤْجَرُوْا
(مستفتی: محمد ایوب الرحمن خطیب جامع مسجد سبزی منڈی خانیوال، مغربی پاکستان۔ 29 جولائی 1957ء)

الجواب: جو عبارتیں مابہ النزاع ہیں، وہ خالص اردو کی عام فہم ہیں، پس ان کے معنی کے سمجھنے میں نہ کسی دیوبندی کا اعتبار ہے، اور نہ بریلوی کے فہم کا۔ بلا کسی رو رعایت کے عام ہندوستانی جو ان عبارات کے معنی بتلائیں، اسی کا اعتبار ہے، پھر اس پر شریعتِ مطہرہ کا جو حکم ہے، اس پر عمل لازم۔ الخ
محمد مظہر اللہ غفرلہ مسجد جامع فتح پوری (دہلی)
14 اگست 1957ء
[فتاویٰ مظہریہ، جلد دوم، ص: 375، ادارہ مسعودیہ، کراچی]

توضیح: مذکورہ بالا فتویٰ اشخاصِ اربعہ کی موت کے بہت بعد کا ہے۔ تھانوی کی موت کے سترہ سال بعد کا فتویٰ ہے۔ اس میں یہ ہے کہ ان عبارتوں کا جو حکمِ شرعی ہے، وہ ماننا ہے۔

مفتی موصوف نے خود ہی ان عبارتوں کا حکم رقم فرمایا ہے کہ یہ سب کفریہ اقوال ہیں اور جو شخص ایسے عقائد کا قائل ہو، وہ یقیناً کافر ہے، پس اکابرِ دیوبند کو کافر ماننا ان کا بھی مسلک ہے محض اپنے حق میں توبہ کی خبر کے سبب سکوت کا ذکر فرمایا ہے۔

مذکورہ مباحث کا نتیجہ و خلاصہ

  1. صاحبِ فتاویٰ مظہریہ کو یہ تسلیم ہے کہ اکابرِ دیوبند کی قابلِ اعتراض عبارتیں کفریہ ہیں۔ (سوال میں منقول فتویٰ)
  2. یہ بھی تسلیم ہے کہ ایسے اقوال کے قائلین کافر ہیں۔ (سوال میں منقول فتویٰ)
  3. یہ بھی تسلیم ہے کہ ان عبارتوں کا جو حکمِ شرعی ہے۔ وہ ماننا لازم ہے۔ (فتویٰ 14 اگست 1957)
  4. یہ بھی تسلیم ہے کہ جو ان اقوالِ کفریہ پر مطلع ہو، اور اس کو معلوم ہو کہ اکابرِ دیوبند نے توبہ نہیں کی ہے، اس کے باوجود وہ اکابرِ دیوبند کو مومن و پیشوا مانے تو اس کی اقتدا میں نماز جائز نہیں۔ (فتویٰ 9 ذی الحجہ 1379)

مذکورہ بالا حقائق واضح دلیل ہیں کہ مفتی موصوف نے دوسروں کو تکفیر سے سکوت کا حکم نہیں دیا، بلکہ اپنا مسلک سکوت بتایا۔ اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ مفتی موصوف کو توبہ کی خبر موصول ہوئی ہے۔ توبہ کی خبر قوی نہ رہی ہو تو آپ نے اپنا مسلک سکوت بتایا۔

  1. موصوف نے اپنے بارے میں کہا کہ میرے نزدیک سکوت بہتر ہے۔ سکوت کا سبب یہ بیان کیا کہ ان کی توبہ کا علم نہیں اور ان کی عاقبت کیسی ہوئی؟ معلوم نہیں۔ فتویٰ کو دوبارہ دیکھا جائے۔

الجواب:
اس میں شک نہیں کہ ان لوگوں سے جو بعض اقوال صادر ہوئے ہیں، وہ یقیناً کفر ہیں لیکن اب جب کہ یہ لوگ انتقال کر گئے، اور یہ معلوم نہیں کہ توبہ کی یا نہ کی، اور ان کی عاقبت کیسی ہوئی ہے، اس لیے میرے نزدیک ان کے حق میں سکوت بہتر ہے۔ البتہ جو شخص ان عبارتوں کا قائل ہو، یقیناً کافر ہے۔ فقط محمد مظہر اللہ غفرلہ مسجد جامع فتح پوری (دہلی)
[فتاویٰ مظہریہ، جلد دوم، ص: 374، ادارہ مسعودیہ، کراچی]

  1. مفتی موصوف کے مندرجہ ذیل دو جملوں کو دیکھیں:
    (الف) اس میں شک نہیں کہ ان لوگوں سے جو بعض اقوال صادر ہوئے ہیں، وہ یقیناً کفر ہیں۔
    (ب) البتہ جو شخص ان عبارتوں کا قائل ہو، یقیناً کافر ہے۔

نتیجہ: اشخاصِ مذکورہ یعنی اکابرِ دیوبند سے صادر ہونے والے اقوال یقیناً کفر ہیں، اور جو ایسے کفریات کا قائل ہو تو یقیناً کافر ہے تو اشخاصِ مذکورہ یقیناً کافر ہیں۔ مفتی موصوف کے مذکورہ دونوں جملوں کا یہ بدیہی نتیجہ ہے، لیکن چونکہ ان لوگوں کے بارے میں کچھ یقین نہیں کہ توبہ کی یا نہیں، اس لیے اپنا مسلک سکوت بتایا۔ سب کو یہ مسلکِ سکوت اختیار کرنے نہیں کہا، جیسا کہ دیگر فتاویٰ سے واضح ہے کہ ان عبارتوں کا حکمِ شرعی ماننے کا حکم فرمایا۔

موصوف نے رقم فرمایا کہ جس کو اکابرِ دیوبند کے کفریہ عقائد کا علم ہو، اور یقینی طور پر معلوم ہو کہ وہ لوگ بلا توبہ مرے ہیں، اس کے باوجود ان لوگوں کو مومن اور پیشوا مانے تو اس کی اقتدا میں نماز جائز نہیں۔ اس سے واضح ہے کہ محض احتمالِ توبہ کے سبب سکوت نہیں، ورنہ محض احتمالِ توبہ قادیانی کے حق میں بھی ہے تو پھر مفتی موصوف نے اسے کافر کیسے کہا؟

سوال میں نقل کردہ فتویٰ میں محض احتمالِ توبہ کا ذکر نہیں، بلکہ توبہ کے یقینی و غیر یقینی ہونے کا ذکر ہے، اور نہ محض احتمالِ توبہ تو قادیانی کے حق میں بھی موجود ہے، مفتی موصوف نے اسے کافر کہا ہے۔

  1. یہ سکوت احتمالِ توبہ کے سبب نہیں ہے، بلکہ منقولہ بالا فتویٰ اور فتاویٰ مظہریہ کے دیگر فتاویٰ دیکھ کر یہ مفہوم واضح ہے کہ صاحبِ فتاویٰ مظہریہ کو ان لوگوں کی توبہ کی کوئی خبر موصول ہوئی ہے لیکن یقینی خبر نہیں ہے تو سکوت کو اپنا مسلک بتایا۔
  2. مذکورہ بالا فتویٰ میں ہے کہ: یہ معلوم نہیں کہ توبہ کی یا نہ کی۔ معلوم کا لفظ کبھی متیقن کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور علم سے محض جاننا مراد نہیں ہوتا، بلکہ علمِ یقینی مراد ہوتا ہے۔ منقولہ بالا فتویٰ میں توبہ کے عدمِ علم سے علمِ یقینی کا عدم مراد ہے۔ ممکن ہے کہ توبہ کی غیر یقینی خبر مفتی موصوف کو کہیں سے فراہم ہوئی ہو۔ دیوبند سے دہلی قریب ہے، نیز دیابنہ تقیہ بازی میں بھی مشہور ہیں۔ وہ اپنے اکابرین کی توبہ کی جھوٹی خبر پھیلا سکتے ہیں۔
  3. محض احتمالِ توبہ قادیانی کے حق میں بھی موجود ہے، تو قادیانی کو کافر کہنے سے بھی سکوت کرنا چاہیے لیکن موصوف نے قادیانی کو کافر کہا، اس سے بالکل واضح ہے کہ محض احتمالِ توبہ کے سبب سکوت نہیں، بلکہ توبہ کی خبر کے سبب سکوت ہے۔ اسماعیل دہلوی کی توبہ کی ایک خبر تھی۔ اکابرِ دیوبند کی توبہ کی خبر نہیں۔ ممکن ہے کہ کسی نے ایسی افواہ اڑا دی ہو۔
  4. 1379 کے فتویٰ میں موصوف نے لکھا کہ جس کو اکابرِ دیوبند کے کفریہ عقائد معلوم ہیں اور یہ معلوم ہے کہ اکابرِ دیوبند بلا توبہ مرے ہیں، وہ اگر اکابرِ دیوبند کو کافر نہ مانے تو اس پر حکمِ شرعی وارد ہو گا۔ یہ فتویٰ بھی اشخاصِ اربعہ کی موت کے بعد کا فتویٰ ہے۔
  5. 1957 کے فتویٰ میں لکھا کہ ان عبارتوں کا جو حکمِ شرعی ہے، وہ ماننا لازم ہے۔ یہ فتویٰ بھی اشخاصِ اربعہ کی موت کے بعد کا فتویٰ ہے۔

الحاصل: مفتی موصوف نے احتمالِ توبہ کے سبب سکوت اختیار نہیں کیا، بلکہ توبہ کی خبر کے سبب سکوت کو اپنا مسلک بتایا۔ توبہ کی خبر یقینی نہیں تھی تو اکابرِ دیوبند کو مومن نہیں مانے۔

توبہ کی کیسی خبر معتبر ہے؟

الموت الاحمر کے حاشیہ میں حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ القوی نے تحریر فرمایا کہ توبہ کی خبر کے سبب بھی کسی کی تکفیر سے کفِ لسان کرنے کا حکم ہے۔ اس کے مختلف درجات ہیں:

”متکلم میں احتمال یہ کہ اس کلام سے اس کی توبہ و رجوع مسموع ہو، یہ اگر بہ ثبوتِ قطعی ثابت ہو، جب تو ظاہر کہ اس کی تکفیر حرام، بلکہ بفتوائے کثرِ فقہا خود کفر، اور ایسا ثبوت ہو کہ متردد کر دے، جب بھی قائل کے بارے میں کفِ لسان درکار، اگرچہ قول کفرِ صریح ناقابلِ تاویل ہو۔ حدیث کا ارشاد ہے: كَيْفَ وَقَدْ قِيْلَ، اور اگر نری افواہ بے سروپا، یا کن فیکون کے بعد اس کے بعض ہوا خواہوں کا مکابرانہ ادعا ہو تو اس پر التفات نہ ہوگا: فَاحْفَظْ - 12 منہ“۔ [حاشیہ: الموت الاحمر، ص: 53، جامعۃ الرضا، بریلی شریف]

توضیح: ممکن ہے کہ صاحبِ فتاویٰ مظہریہ کو توبہ کی کوئی غیر یقینی خبر ملی ہو، جس سے ان کو تردد ہو گیا ہو، اور اس خبرِ توبہ کے سبب انہوں نے تکفیر سے سکوت کیا ہو تو وہ معذور ہیں۔ وَاللهُ تَعَالٰى أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْحَالِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِعُ وَالْمَآلُ.

لیکن چونکہ دیوبندی لوگ آج تک ان عبارتوں پر مناظرے کرتے ہیں۔ ان کفریہ عبارتوں کی تاویل کرتے ہیں۔ اگر اشخاصِ اربعہ سے توبہ کی خبر منقول ہوتی تو دیابنہ واضح لفظوں میں اعلان کرتے کہ ہمارے اکابرین نے کفریہ عبارتوں سے توبہ کر لی ہے۔

ایسی صورت میں صاحبِ فتاویٰ مظہریہ کے قول کے مطابق بھی اشخاصِ اربعہ کو کافر ماننا ہے۔ خود ان کو اگر توبہ کی کوئی خبر تھی تو وہ خبر کاذب تھی۔ اس کا اعتبار نہیں ہوگا۔

جاری کردہ: 25 فروری 2021ء

[حوالہ: مناظراتی مباحث اور عقائد و نظریات، ص: 172 تا 177]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!