| عنوان: | مفتی اعظم اڑیسہ اور مسلک اعلیٰ حضرت |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | ثمن فردوس امجدی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
حضرت علامہ مولانا سید اولادِ رسول قدسی صاحب قبلہ کی تصنیف ”مفتی اعظم اڑیسہ اور مسلکِ اعلیٰ حضرت“ علمی مواد کے اعتبار سے ایک انفرادی شان کی حامل کتاب ہے۔ یہ کتاب محض ایک سوانح نہیں بلکہ مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ہمہ گیریت اور اس کے خلاف اٹھنے والے اعتراضات کا ایک مدلل محاکمہ ہے۔
کتاب کا علمی و فکری جائزہ
- موضوع اور مواد: اگرچہ ٹائٹل مفتی اعظم اڑیسہ حضرت مولانا سید عبدالقدوس رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات پر مبنی لگتا ہے، لیکن اس کی اصل روح 'مسلکِ اعلیٰ حضرت' کی وضاحت ہے۔ مصنف نے موروثی وابستگی کے ساتھ ساتھ دلائل و اسلاف کی آراء کا انبار لگا کر اپنے موقف کو ثابت کیا ہے۔
- لفظ 'بریلوی' کی بحث: کتاب کا ایک اہم حصہ 'بریلوی' ٹائٹل کے دفاع میں ہے۔ اس میں موافقین و مخالفین کے کثیر اقوال جمع کیے گئے ہیں۔
- خدماتِ رضا پر اظہارِ خیال: کتاب میں علامہ محمد احمد مصباحی صاحب کے حوالے سے ایک بحث موجود ہے۔ راقم نے اس موقع پر مصباحی صاحب کی رضویات میں خدمات (خصوصاً فتاویٰ رضویہ کی اشاعت اور تراجم) کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ ان کی ان خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
مباحثِ علمیہ: شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز رحمہم اللہ
مضمون نگار نے 'حدوثِ فتن' کے حوالے سے ایک علمی نکتہ اٹھایا ہے کہ اشاعتِ حق کی بنیاد پر شاہ عبدالعزیز محدثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا مقام نہایت بلند ہے۔ آپ کی کتاب *تحفہ اثنا عشریہ* کو برصغیر کی سب سے وقیع کتاب قرار دیتے ہوئے مصنف نے لکھا کہ یہ روافض کے خلاف ایک ایسی حجت ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
نتیجہ و تاثر
مجموعی طور پر یہ تالیف مسلکِ اعلیٰ حضرت کے دفاع میں ایک بہترین کاوش ہے۔ مصنف کا اسلوبِ بیان کہیں کہیں شدتِ جذبات کا حامل ہے، جو کہ مسلک کے خلاف ہونے والی حالیہ تنقیدوں کے تناظر میں ایک فطری ردعمل معلوم ہوتا ہے۔ اس کتاب کا خوبصورت مقدمہ مولانا رحمت اللہ صدیقی صاحب نے تحریر کیا ہے، جن کی رضا مخالف سرگرمیوں کے سدِ باب میں خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔
اللہ تعالیٰ مصنف اور مقدمہ نگار دونوں کو سلامت رکھے اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ترویج و اشاعت میں ان کی مساعی کو قبول فرمائے۔ آمین۔
