Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فرقہ قادیانی: قسط اول

فرقہ قادیانی: قسط اول
عنوان: فرقہ قادیانی: قسط اول
تحریر: ابو احمد محمد انس رضا قادری
پیش کش: رابعہ خاتون بنت عمران احمد شیخ

تحریکِ قادیانیت کا آغاز اور ارتقاء

قادیانی کہ مرزا غلام احمد کے پیرو ہیں۔ اس شخص نے نبوت کا دعوی کیا اور انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں نہایت بیباکی کے ساتھ گستاخیاں کیں خصوصاً حضرت عیسی روح اللہ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ طیبہ طاہر و صدیقہ مریم کی شان جلیلہ میں بہت بیہودہ کلمات استعمال کئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی 1839ء میں قادیان ضلع گورداسپور مشرقی پنجاب انڈیا میں پیدا ہوا۔ 1864ء میں ضلع کچہری سیالکوٹ میں بحیثیت محرر (منشی / کلرک) ملازمت اختیار کی۔ 1868ء میں مختاری کے امتحان میں فیل ہوا اور اس کے ساتھ ہی ملازمت چھوڑ دی۔

بعد میں مرزا نے مذاہب کا تقابلی مطالعہ شروع کیا نیز عیسائیوں اور آریوں سے مباحثے اور مناظرے شروع کئے اس طرح مولوی، مبلغ و مناظر کہلایا اور یوں شہرت حاصل کی۔ اس دوران میں ولی، صاحب وحی، محدث، کلیم (اللہ سے ہم کلام ہونے والا) صاحب کرامت، امام الزماں، مصلح امت، مہدی دوراں، مسیح زمان اور مثیل مسیح بن مریم ہونے کے دعوے کئے۔ 1885ء کے آغاز میں مرزا نے ایک اشتہار کے ذریعے کھلم کھلا اعلان کر دیا کہ وہ اللہ کی طرف سے مجدد مقرر کر دیا گیا ہے تمام اہل اسلام پر اس کی اطاعت ضروری ہے۔

1888ء میں باقاعدہ بیعت لینے کا سلسلہ شروع کر کے مرید سازی کی گئی۔ 1890ء میں پوری امت کے متفقہ عقیدہ حیات مسیح کا کھلا انکار کیا اور وفات مسیح کے موضوع پر ایک مستقل کتاب ”فتح اسلام“ تصنیف کر ڈالی۔ 1891ء کے آغاز میں مہدی موعود اور مسیح موعود ہونے کا اشتہار کیا۔

ابھی تک مرزا قادیانی ختم نبوت کا قائل تھا چنانچہ اس دور تک کی تصانیف میں صراحتہً یہ تحریر اور تسلیم کرتا رہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعوائے نبوت کرنے والا کافر ہے۔ (بعض قادیانیوں سے جب کوئی جواب نہ بن پڑتا تو منافقت سے کام لیتے ہوئے مرزا کی اس دور کی لکھی ہوئی کتابیں رکھ کر کہتے ہیں کہ ہم تو ختم نبوت کو مانتے ہیں)۔

1901ء میں مرزا نے اپنی زبانی کھلم کھلا نبی اور رسول ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ 1901ء ہی میں گروہ مبایعین کا ملت اسلامیہ سے جدا ہو کر ایک علیحدہ نام فرقہ احمدیہ رکھا۔ 1906ء میں آخر کار مرزا 26 مئی کو صبح سوا دس بجے ممتاز عالم دین پیر جماعت علی شاہ صاحب علیہ الرحمہ کی پیشن گوئی کے مطابق ہیضے کی بیماری میں مبتلا ہو کر برانڈرتھ روڈ کی احمدیہ بلڈنگ میں بیت الخلاء کے اندر ہی مرا۔ قادیان میں دفن کر دیا۔

گویا کہ مرزا قادیانی کا دعوی نبوت یکدم سامنے نہیں آیا بلکہ اس نے اس دعوی سے قبل مختلف دعوے کیے کبھی ملہم ہونے کا دعوی، کبھی مجدد، کبھی محدث ہونے کا دعوی، کبھی مثیل مسیح ہونے کا دعوی، کبھی مسیح موعود ہونے کا دعوی کبھی ظلی بروزی ہونے کا دعوی، کبھی بروزی ہونے کا، غرض اس طرح کے مختلف جھوٹے دعووں کے بعد نبوت و رسالت کا دعوی کر دیا۔ [ساٹھ زہریلے سانپ، ص: 75, 76, تنظیم اہل سنت، کراچی]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!