Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

جمعہ کی پچھلی سنتیں کس طرح پڑھی جائیں

جمعہ کی پچھلی سنتیں کس طرح پڑھی جائیں
عنوان: جمعہ کی پچھلی سنتیں کس طرح پڑھی جائیں
تحریر: مفتی عرفان الحق نقشبندی
پیش کش: محمد رضا توصیفی

جمعہ کے بعد طرفین (امام ابو حنیفہ و امام محمد) کے نزدیک چار سنت ہیں اور چاروں ایک سلام کے ساتھ پڑھیں اور چاروں مؤکدہ ہیں جبکہ امام ابو یوسف کے نزدیک چھ ہیں اور سب مؤکدہ ہیں، فتویٰ بھی اس قول پر ہے۔ جمعہ کے بعد اکثر روایات میں ہے کہ چار سنت پڑھی جائیں:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا صلى أحدكم الجمعة فليصل بعدها أربعا. (رواه الجماعة إلا البخاري)

بعض روایات میں جمعہ کے بعد دو رکعت کا بھی ذکر ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھی ہیں:

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان لا يصلي بعد الجمعة حتى ينصرف، فيصلي ركعتين. (متفق عليه) وفي رواية للبخاري: أنه كان يصلي في بيته ركعتين بعد الجمعة. (بخاري)

اس حدیث کے کئی جوابات دیے گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعتیں ادا فرمائیں اور بعد میں دو رکعتیں چار کے بعد پڑھی ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ کی حدیث قولی بھی ہے اور ابن عمر کی حدیث فعلی بھی ہے اور قولی حدیث فعلی حدیث پر مقدم ہوتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ عذر پر محمول ہو جیسا کہ بعض روایات میں عذر کی صراحت ہے۔ اب اس وضاحت کے بعد ان کے پڑھنے کا کیا طریقہ ہے، اس بارے میں فقیہِ اعظم مفتی نور اللہ نعیمی علیہ الرحمہ کا موقف ہے کہ ظہر و جمعہ کی پہلی چار سنتوں کے علاوہ جتنے سنن و نوافل چار چار پڑھے جائیں تو ان کے قعدۂ اُولیٰ میں درود و دعا پڑھنا چاہیے اور تیسری رکعت کے اول میں ثنا پڑھنا چاہیے۔

جب اس مسئلہ پر اس عدیم العلم نے مزید غور و خوض کیا تو مجھے یہی موقف حق نظر آیا اور اس پر 2006ء میں ایک مفصل مقالہ بھی لکھا اور میرے قابلِ فخر دوست مفتی محمد ہاشم زید مجدہ (مفتی جامعہ نعیمیہ) سے تحریری و قلمی گفتگو بھی ہوئی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو مطمئن نہ کر سکے اور یہ کہہ کر تحریری سلسلہ بند کر دیا کہ ہم ایک دوسرے کے لیے شرحِ صدر کی دعا کرتے رہیں چونکہ میرا مقالہ میرے پاس محفوظ رہ گیا اور مفتی ہاشم صاحب قبلہ کا مقالہ میرے پاس محفوظ نہیں، شاید خود ان کے پاس محفوظ ہو۔

مفتی نور اللہ نعیمی علیہ الرحمہ اپنی مشہور کتاب فتاویٰ نوریہ میں فرماتے ہیں: ”ظہر و جمعہ کی پہلی چار سنتوں کے علاوہ جتنے نفل اور سنتیں چار چار پڑھی جائیں ان کے دونوں التحیات پر درود شریف اور پہلی اور تیسری رکعت کے اول میں ثنا پڑھی جائے البتہ جمعہ کی پچھلی چار سنتوں کا بھی بعض نے استثنا فرما دیا جو محققین نے رد فرما دیا۔“ [فتاویٰ نوریہ، ج: 1، ص: 381، 382، ملخصاً]

اس پر فقیر نے اس فتویٰ کی روشنی میں مندرجہ ذیل دلائل کا اضافہ کیا۔ فتاویٰ شامی میں ہے:

وأما الأربع بعد الجمعة فغير مسلم.

[رد المحتار، ج: 1، ص: 500] یعنی جمعہ کی بعد والی سنتوں کے متعلق یہ کہنا کہ انہیں بھی بغیر درود و دعا کے پڑھیں تو یہ ایک ناقابلِ تسلیم بات ہے۔

ومثله في الحلية وهذا مؤيد لما بحثه الشرنبلالي من جوازها بتسليمتين لعذر.

[شامی، ج: 1، ص: 500]

بحر الرائق میں ہے:

وأما الأربع بعد الجمعة ففي غير مسلم بل هي كغيرها من السنن فإنهم لم يثبتوا لها تلك الأحكام المذكورة.

[بحر الرائق، ج: 1، ص: 571]

منحة الخالق میں بھی یہی عبارت ہے:

والأربع قبل الجمعة بمنزلتها، وأما الأربع بعد الجمعة ففي غير مسلم.

[منحة الخالق، ج: 2، ص: 87]

احادیث سے استناد:

عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا صليتم بعد الجمعة فصلوا أربعا، فإن عجل شيء فليصل ركعتين في المسجد وركعتين إذا رجعت. (رواه الجماعة إلا البخاري)

عن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا صليتم بعد الجمعة فصلوا أربعا. قال سهيل: فإن عجل بك شيء فصل ركعتين في المسجد، وركعتين إذا رجعت. [صحيح مسلم، ج: 1، ص: 288]

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من كان منكم مصليا بعد الجمعة فليصل أربعا، فإن كان له شغل فركعتين في المسجد وركعتين في البيت. وفي رواية: فإن عجل بأحدكم حاجة فليصل ركعتين. [كنز العمال، ج: 7، ص: 308]

طرزِ استدلال:

جن چار نفلی رکعتوں کو دو دو یا جن دو دو رکعتوں کو چار چار کی صورت میں پڑھنا جائز ہے ان کو درود، دعا سمیت پڑھیں جیسا کہ ان احادیث سے ثابت ہے اور اس کی واضح نظیر تراویح ہیں۔ بہت سی کتبِ فقہ میں ہے کہ جمعہ کے بعد والی چار سنتوں کو پہلی چار سنتوں کی طرح بغیر درود و دعا کے پڑھیں لیکن ان عبارات پر ایک قوی اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ان عبارات کا اصل ماخذ قنیہ للزاہدی ہے۔ علامہ زاہدی کٹر معتزلی اور نقل میں پرلے درجے کا خائن ہے جس نے اس مسئلہ کو فتاویٰ ظہیریہ سے نقل کیا ہے اس کے متعدد جواب ہیں: اولاً زاہدی معتزلی ہے جس کی نقل معتمد نہیں۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سمیت متعدد فقہاء نے کھلم کھلا یہ بات فرمائی مثلاً فتاویٰ رضویہ میں ہے زاہدی اور زمخشری دونوں معتزلی ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ زمخشری نقل میں معتبر ہے بخلاف زاہدی کے کہ اس کی نقل پر بھی اعتماد نہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 13، ص: 254]

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ”زاہدی موثوق فی النقل نہیں۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 13، ص: 113]

جو مسئلہ فقط فتاویٰ ظہیریہ میں ہو اُس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ فتاویٰ شامی میں علامہ ابنِ عابدین شامی علیہ الرحمہ فتاویٰ ظہیریہ سے ایک نقل شدہ مسئلہ کے متعلق فرماتے ہیں:

وهذا عزاه في البحر إلى المضمرات، وقال: إن الثاني غريب، وذكر الخير الرملي عن خط المصنف أن صاحب المضمرات عزاه إلى صاحب الظهيرية (إلى أن قال): قلت: وجه غرابته أنه انفرد بذكره صاحب الظهيرية، ولذلك عزاه من بعده إليها فقط. [رد المحتار، ج: 1، ص: 567]

غور فرمائیں اصل مسئلہ بحر الرائق کا ہے اور انہوں نے مضمرات کا حوالہ دیا (تاتارخانیہ، قنیہ کا بھی حوالہ ہے) اور صاحبِ مضمرات نے فتاویٰ ظہیریہ سے نقل کیا لیکن محققین نے پھر بھی اس مسئلہ کو غریب قرار دے کر قبول کرنے سے انکار کر دیا تو اگر ناقل زاہدی جیسا معتزلی اور غیر موثوق فی النقل ہو تو ظلمات بعضها فوق بعض ہونے میں کیا شک ہے۔ بحر الرائق میں بھی صاحبِ ظہیریہ کے بعض مسائل کو غریب قرار دیا گیا ہے حالانکہ وہاں ناقل بھی ثقہ ہیں اور زاہدی جیسے بد مذہب نہیں۔

ومن الغريب ما في الظهيرية والكفاءة في النساء للرجال غير معتبرة عند أبي حنيفة خلافا لهما. [البحر الرائق، ج: 3، ص: 225]

واللہ اعلم
[ماہنامہ کنزالایمان ستمبر 2019ء، ص: 13]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!