Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

غیر مسلم ذمی ) گستاخ رسول کی سزا

غیر مسلم (ذمی) گستاخ رسول کی سزا
عنوان: غیر مسلم (ذمی) گستاخ رسول کی سزا
تحریر: ابو سعد محمد انعام المصطفئ اعظمی
پیش کش: محمد صابر عطاری

کائنات میں اٹھنے والے فتنوں میں سے عظیم ترین فتنہ توہینِ رسول، شعائر اللہ کی بے ادبی، رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموسِ مبارکہ پر رکیک و شدید حملے ہیں، اور فتنوں کے بارے میں قرآن کا ارشاد ہے: الْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ [البقرۃ: 191] فتنوں کو پالا نہیں جاتا، بخشا نہیں جاتا بلکہ بری طرح کچل دیا جاتا ہے۔

قتل جیسے جرم و گناہ کی سزا قتل ہے تو جس گناہ کو قتل کرنے سے بھی زیادہ شدید اور بڑا گناہ قرار دیا گیا ہو، اس گناہ کی سزا لبرلز و دانشور نما مخلوق کے مطابق بے غیرت بن کر فتنہ عظیم پھیلانے والے کو کھلی چھوٹ دے دینا ہے۔ بین الاقوامی قانون ہے کہ کسی ملک کے سفیر کی توہین کی جائے تو وہ اس ملک اور اس ملک کے آئین اور حکمران کی توہین سمجھی جاتی ہے جس ملک کا یہ سفیر ہے۔ جب دنیا میں یہ قانون چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا قانون تو اس سے کروڑوں گنا زیادہ افضل و اعلیٰ اور بلند و بالا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول (سفیر) ہیں اور اللہ کے رسول ﷺ کی توہین اللہ کی اور اس کے آئین (قرآن) کی توہین ہے۔

آج کل ذمی گستاخِ رسول کی جان کی امان کے حوالے سے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کا تذکرہ کیا جارہا ہے اور یہ بحث کرنے والے لوگ اسی دانشور ”طبقے“ سے تعلق رکھتے ہیں جس کا تذکرہ میں نے گزشتہ تحریر میں کیا۔

تعجب تو اس بات پر ہے کہ اپنی مطلب براری کے لیے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کا سہارا لے کر (جبکہ باقی مسائل میں بھی فقہائے احناف کی تحقیق کو قبول کرنے پر تیار نہیں) گستاخِ رسول ﷺ کی سزا کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کرنے والے خود قرآنی آیاتِ کریمہ و احادیثِ طیبہ کو بھی معاذ اللہ ہلکا جان کر بلکہ ان کا استہزاء بنا کر انھیں وزن دینے کو تیار نہیں۔

تعجب ہے کہ اکثر قوانین میں فقہائے احناف کی رائے کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا اور یہاں فقہِ حنفی کا درد چہ معنی دارد؟

شریعتِ اسلامی کے مذکورہ بالا معاملات پر بھنویں چڑھا کر فقہِ حنفی کو فرسودہ اور علمائے احناف کو تنگ نظر کہنے والے آخر اسی ایک قول سے پیار اور امام صاحب کی رائے کو اختیار کرنے پر کیوں بضد نظر آتے ہیں؟ طرفہ تماشہ ہے کہ ایک طرف یہی لوگ جمہوری نظام کے سب سے بڑے داعی کی حیثیت سے لوگوں کی رائے سے نظام ترتیب دینے کو پسند کرتے ہیں اور اس عمل کو جمہوریت کہتے ہیں اور فردِ واحد کے فیصلے کو بادشاہت و ڈکٹیٹر شپ (آمریت) سے موسوم کر کے اسمبلی میں تحریک و سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں اور اس مقام پر تنہا امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کا تعویذ بنا کر پہنا ہوا ہے۔ اے خدا! تیرے مسلمان بندے کدھر جائیں۔

پہلے شور مچاتے تھے کہ تلوار سے پھیلا ہوا نظام قبول نہیں ہو سکتا۔

اب شور مچارہے ہیں کہ اسمبلی سے پاس شدہ قانون ملا مولوی کا ہے۔ انھیں شاید معلوم نہیں کہ یہ قانون ملا کا بنایا ہوا نہیں، اللہ کا بنایا ہوا قانون ہے۔ ارے جناب آپ خود کہتے ہو کہ جمہوریت میں عوام کی مرضی سے عوام کی حکومت ہوتی ہے تو اگر علمائے کرام و عوامِ پاکستان نے اسلام کی زیرِ نگرانی مسلمانوں کی رائے سے قانون بنادیا ہے کہ گستاخِ رسول کی سزا سر تن سے جدا، تو اس جمہوری عمل کو بھی تو مانیے نا۔

معلوم ہوا کہ وجہ کوئی اور ہے بلکہ انہیں تو صرف بغضِ نبی ﷺ میں اس ایک جملے سے دیوانگی کی حد تک عشق ہو گیا ہے کہ ”فقہِ حنفی میں ذمی گستاخ کی سزا موت نہیں“ ائمہ دین کی آڑ لے کر مجمع علیہ مسائل پر حملے کرنا استعماری طاقتوں کا پرانا ہتھیار ہے جو ان گندمی رنگت والوں کو اپنے گورے باپ سے ورثے میں ملا ہے۔ انہیں فقہِ حنفی کی یاد اس وقت کیوں نہیں ستاتی جب فقہِ حنفی کہتی ہے:

  • شادی شدہ زانی و زانیہ کی سزا رجم ہے۔ اور لبرل کہتا ہے: یہ سزا وحشیانہ ہے۔ (معاذ اللہ)
  • فقہِ حنفی: ریاست شریعت کے تابع ہے۔ لبرلز: ریاست (موجودہ) نظامِ سیاست کے تابع ہے۔
  • فقہِ حنفی: ذمی پر جزیہ ہے۔ لبرلز: کوئی ذمی نہیں، تمام انسان برابر ہیں۔
  • فقہِ حنفی: عورت پردہ کرے، واجب ہے۔ لبرلز: پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
  • فقہِ حنفی: کوئی شخص کسی گستاخ کو قتل کر دے تو اس پر کوئی الزام نہیں۔ لبرلز: ماورائے عدالت قتل پر پھانسی کی سزا ہے۔

دانشور بنے پھرنے والے چڑیا گھر کے ان متولیوں سے میں یہ سوال قائم کرتا ہوں کہ اس ایک حوالے پر فقہِ حنفی کے ساتھ اپنے خلوص کا مظاہرہ کرنے والو! فقہِ حنفی کے بقیہ تمام احکام بھی اسی طرح زور لگا کر نافذ کرنے کا مطالبہ کرو گے؟ کیا غازی ممتاز قادری علیہ الرحمہ کو پھانسی دینا امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی رائے تھی؟ دن رات اسلام پر بکواس کرنا جن کی شناخت ہے، اسلامی احکام کو فرسودہ کہتے ہوئے بھونکتے نہیں تھکتے، ان کی فقہِ حنفی سے محبت پر صرف یہی کہوں گا کہ

کوئی لیلیٰ یہ مجنوں کی حقیقت کھولے
ہیر کی تاڑ میں رہتا ہے دیوانہ اُس کا

چونکہ ان کی مجبوری ہے کہ یہ لوگ اسلام کو کھل کر برا نہیں کہہ سکتے اور انہیں اسلامی احکام پسند نہیں، اس لیے اس کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ جو حکم پسند نہ آئے اس کو اکابر ائمہِ دین سے کسی بھی امام کے ساتھ نتھی کر کے اسلامی احکام کی خامیاں بیان کرنا شروع کر دو۔ یہ ان کا صریح دھوکہ ہے۔ یہ قولِ امامِ اعظم سے پیار نہیں، اجماعِ امت سے انکار اور حقیقت سے فرار ہے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ کیا یہ طبقہ جمہورِ علماء کی رائے کے مطابق قانون سازی ہو؟ خلوصِ دل و صادق نیت کے ساتھ یہ پسند کرتا ہے کہ ہر مسئلہ میں امت کے جمہورِ علماء کی رائے کے مطابق قانون سازی ہو؟

کیا یہ لوگ آئینِ پاکستان کو فقہِ حنفی میں ڈھالنے کو پسند کرتے ہیں یا دین کو ڈھانے پر کمر بستہ تیار نظر آتے ہیں؟ ان کے دماغ میں ہر اس مسئلہ پر تحقیق و جستجو کا کیڑا بلبلاتا ہے جس پر امت کا اجماع و اتفاق ہو اور جس سے اسلام دشمنوں کے مفاد پر ضربیں لگتی ہوں۔ مسئلہ بالکل سیدھا، واضح و بے غبار ہے اور اس بارے میں احناف کا موقف یہ ہے کہ حضور ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کفر ہے اور غیر مسلم کافر پہلے ہی سے ہے، اس سے ذمہ تو نہیں ٹوٹے گا، مگر اس کی یہ حرکت موجبِ قتل ہے۔ یعنی جب مسلمان گستاخی کرے گا تو وہ مرتد ہو جائے گا اور شاتمِ رسول اگر غیر مسلم ہے تو اس کے اس فعل کو ارتداد نہیں کہا جائے گا کیونکہ وہ پہلے ہی غیر مسلم ہے۔

فقہائے کرام اسے ذمی کے عہد کے عنوان کے تحت ذکر فرماتے ہوئے بحث اس بات پر کی ہے کہ ذمی کے اس فعل سے اس کا عقدِ ذمہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ فقہائے احناف کا مسلک یہ ہے کہ اس فعل سے اس کا ذمہ یعنی دار السلام میں سکونت کا حق ختم تو نہیں ہوتا لیکن چونکہ یہ فعل دار السلام کے ملکی قانون کے تحت جرم ہے اس لیے اسے سزا دی جائے گی۔ یعنی ذمی دار الاسلام میں رہتا ہو اور وہ گستاخیِ رسول ﷺ کا مرتکب ہوگا تو ریاست کی جانب سے اس کا معاہدہ نہیں ٹوٹے گا، لیکن اسے اس جرم کی سزا ضرور دی جائے گی۔

فقہِ حنفی کی معتبر ہستی قاضی امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اسلامی ریاست میں تعزیرات میں ذمی اور مسلمان کا درجہ مساوی ہے۔ جرائم کی جو سزا مسلمان کو دی جائے گی وہی ذمی کو بھی دی جائے گی۔ [کتاب الخراج: 108، 109]

لہٰذا جب جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کے حقوق میں ذمی مسلمانوں کے برابر ہیں۔ جب آزادی اور بنیادی حقوق میں مسلمانوں کے برابر شریک ہیں۔ جب قانون کی نگاہ میں مسلم و ذمی کے ساتھ یکساں معاملہ ہے اور انہیں وہ تمام عدالتی و قانونی حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں اور وہ ان تمام مراعات و سہولیات کے مستحق ہیں جن کے مستحق مسلمان ہیں، تو پھر سزا کے معاملے میں عدمِ مساوات کا مظاہرہ کوئی معنی نہیں رکھتا اور ذمیوں کے ساتھ نرمی کا مطالبہ سراسر احمقانہ و جاہلانہ اور اسلام سے بغض و عداوت کا شاخسانہ ہے۔ گویا کہ بقولِ شخصے ”حق اچھا ہے، مگر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اچھا ہے“

در مختار میں ہے (ترجمہ) ذمی کو دینِ اسلام یا قرآن یا نبی کریم ﷺ کی شان میں نازیبا کلمات کہنے کی وجہ سے تادیباً سزا دی جائے گی اور اس کی پکڑ ہوگی۔ [ج 6 ص 332، 333]

حاوی وغیرہ میں اسی طرح ہے۔ علامہ عینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ذمی کے گالی دینے کی صورت میں میری رائے یہی ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے ابن الہمام کی رائے بھی اسی طرح ہے (علامہ حصکفی) کہتا ہوں کہ یہی فتویٰ ہمارے شیخ خیر الرملی نے دیا ہے اور یہی امام شافعی رحمہ اللہ کی رائے ہے۔

اور یہ بھی تب جب کہ صرف اپنے حلقہ میں خفیہ طور پر گستاخی کرے۔ اگر اعلانیہ گستاخی کرے تو سزا صرف اور صرف قتل ہے۔

رد المحتار میں ہے: أي إذا لم يعلن، فلو أعلن بشتمه أو اعتاده قتل ولو امرأة و به يفتى اليوم [رد المختار علامہ ابن عابدین شامی ج 6 ص 331]

ترجمہ: ذمی کے قتل میں اختلاف کا مسئلہ اس وقت تک ہے جب اس کا یہ جرم پوشیدہ ہو لیکن جب وہ اعلانیہ بے غیرتی پر اتر آئے تو اسے قتل کر دیا جائے گا چاہے وہ عورت ہی کیوں نہ ہو۔ اسی پر فتویٰ ہے۔ آج کے دور میں فتویٰ اسی پر ہے۔

احناف میں ایسے قتل کی سزا کو سیاستا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (یعنی ایک تو قتل کی وہ سزا جو شرعاً مقرر ہے اور دوسری وہ سزا جو شرعی مصلحت کی بنا پر دی جائے اور اس میں عوامی مصلحت کو ملحوظ رکھا جائے اس قتل کو سیاستا کہا جاتا ہے)

لہٰذا آج جس انداز میں مغربی غار سے بھیڑیے نکل کر ہمارے ایمان بلکہ جانِ ایمان پر گاہے بگاہے یلغار کر رہے ہیں اور ہماری دینی اقدار اور ملی روایات کو پامال کرنے میں مصروف ہیں، اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنے کی عالمی مہم تیز ہو چکی ہے اور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہماری جذباتی وابستگی کو جس شرمناک طریقے سے چیلنج کیا جارہا ہے، اس کا دینی، سیاسی، سماجی اور غیرتِ ایمانی کا تقاضا یہ ہے کہ بلا تفریقِ مذہب، گستاخِ رسول کی سزا کو سخت سے سخت تر کیا جائے اور اس معاملہ میں کوئی لچک روا نہ رکھی جائے کیونکہ فقہا کے نزدیک حکومتِ وقت کو سیاستا حد سے بھی زیادہ سخت اور سنگین سزا مقرر کرنے کا حق حاصل ہے۔

اب رہا سوال ذمی کے عہد کا کہ گستاخی کے بعد اس کا عہد ختم نہیں ہوتا تو معترضین اپنے مطلب کی بات فقہِ حنفی کی کتب سے ڈھونڈنے میں اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے پوری دیانت کے ساتھ تمام اقوال تفصیلات کے ساتھ پیش کرتے تو اس وقت ان کی قائم کی گئی فتنہ و فساد کی عمارت زمین بوس ہو جاتی۔ اسی وجہ سے ان لوگوں نے یہودی خصلت کا سہارا لیتے ہوئے آدھی عبارات پیش کر کے عام مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہا۔ اگر معاہدہ میں یہ شرط لگائی گئی ہو کہ ذمی یہ کام نہ کرے گا۔ اس کے باوجود یہ کام کر ڈالے تو پھر معاہدہ بھی ٹوٹ جائے گا جیسا کہ در مختار میں ہے:

هذا إن لم يشترط انتقاضه به أما إذا شرط انتقض به كما هو ظاهر [در مختار علامہ علاء الدین حصکفی حنفی ج 6 ص 331]

ترجمہ: یہ (معاہدہ) اس وقت ہے جب عقد میں ان چیزوں کی شرط نہ لگائی ہو۔ اور اگر معاہدہ میں یہ شرط لگائی گئی ہو کہ ذمی یہ کام نہ کرے گا اس کے باوجود وہ یہ کام کر دے تو پھر معاہدہ بھی ٹوٹ جائے گا۔ اور یہ بات بالکل ظاہر ہے۔

یعنی اس معاہدہ میں یہ بات ازخود شامل ہے کہ وہ مسلمانوں کے مذہب اور مذہبی شخصیات اور شعائر کا احترام ملحوظ رکھیں گے۔

سب سے اہم نکتہ جو ایک مسلمان کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، وہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور میں ایسے شاتمانِ رسول سے جو غیر مسلم اور ذمی تھے، کوئی رعایت ملحوظ نہ رکھی اور ان کو خود اپنے حکم سے قتل کروایا جو صحیح بخاری کے علاوہ دیگر کتبِ احادیث میں موجود ہیں اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کا قول ہے:

إذا صح الحديث فهو مذهبي

جب کوئی حدیثِ صحیح آجائے تو وہی میرا مذہب ہے۔

لہٰذا آپ کا قول ان احادیث (جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو کعب بن اشرف یہودی و دیگر کے قتل کرنے کے لیے بھیجا) کے بعد یہی بنتا ہے جو دیگر علمائے امت کا ہے جیسا کہ مشہور حنفی امام علامہ قاضی ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

جب کوئی حدیثِ صحیح اور مستند ہو حالانکہ وہ حنفی مذہب کے خلاف ہو تو اس صحیح حدیث پر عمل کیا جائے گا اور وہی امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا مسلک ہوگا اور اس حدیث پر عمل کرنے کی بنا پر امام ابوحنیفہ کا مقلد حنفیت کے دائرہ سے خارج نہیں ہوگا کیونکہ امام ابوحنیفہ سے یہ بات درست طور پر منقول ہے کہ جب حدیثِ صحیح مل جائے تو وہی میرا مذہب ہے، یہ بات امام ابن عبدالبر اور دیگر ائمہِ اسلاف نے امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ سے بیان کی ہے۔ [ردالمختار: 1 / 166] یعنی حنفیہ کا موقف امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے موقف سے جدا ہرگز نہیں۔ ان کی بنیاد بھی حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے اور ہر انصاف پسند شخص یہ تسلیم کرتا ہے کہ سب ائمہِ مجتہدین کی فقہی رائے کا خمیر حدیث سے ہی اٹھتا ہے۔ لہٰذا فقہِ حنفی میں فتویٰ اس پر ہے کہ جو شخص اعلانیہ گستاخی کرے وہ واجب القتل ہے، در مختار اور شامی میں اس کا واجب القتل ہونا نہایت تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ خود غیر مقلدین کے شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب "الصارم المسلول" میں بھی حنفیہ سے ذمی شاتم کا واجب القتل ہونا نقل کیا ہے۔

علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ نے خود یہ وضاحت فرمائی ہے: ولا يلزم من عدم نقض عهده عدم قتلہ یعنی ذمی کے عہد نہ ٹوٹنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کو قتل بھی نہیں کیا جاسکتا۔ [رسائل ابن عابدین، جلد 1 ص 355]

ان تمام اقوال، آراء کی روشنی میں:

  1. ذمی شاتم کو قتل کرنے کا قانون جمہورِ فقہاء کے قول پر ہے کہ گستاخی کرنے والا ذمی ہر صورت میں واجب القتل ہے۔
  2. فقہاء کی آراء میں سے کوئی ایک رائے جس پر اکثریت کا اتفاق ہو، وہ اختیار کی جاسکتی ہے کیونکہ احناف کے ہاں کئی مسائل میں باقی فقہاء کی رائے لی جاتی ہے۔
  3. چونکہ یہ قانون مذہبی ہونے کے ساتھ ریاست کا بھی ہے جسے حاکم نے باہمی مشاورت سے بنایا ہے اس لیے یہ قانون درست ہے۔
  4. حنفی عالم عدالتی معاملے میں کوئی شاذ قول نہیں بلکہ تمام فقہاء کی آراء بیان کرتا ہے۔

لہٰذا ذمی کے لیے توہینِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا میں رعایت فقہِ حنفی کا موقف نہیں اور نہ ہی پاکستان یا کسی بھی مسلم ملک کے عیسائی یا دیگر غیر مسلم ذمی ہیں اور نہ ہی وہ خود کو ذمی تسلیم کرتے ہیں اور نہ اس کے تقاضے پورے کرتے ہیں۔ وہ غیر مسلم جو جنگ کے بعد مفتوح کی حیثیت سے ریاست کے شہری بنے ہوں انہیں ذمی کہا جاتا ہے جس کی حفاظت اور ضروریات کی ذمہ داری مسلمان حاکم نے اپنے ذمہ لی ہو اور اس ذمہ داری کے عوض ان پر "جزیہ" (ٹیکس) عائد کیا گیا ہو، اب کسی بھی ملک میں یہ معمول رائج نہیں۔

بلکہ خود نام نہاد دانشور انہیں ذمی تسلیم نہیں کرتے بلکہ بغیر ذمیت کے انہیں ریاست میں رہنے والے مسلمانوں کے برابر کا شہری متصور کرتے ہیں پھر ان دانشوروں کا ذمی کا نام لے کر واویلا مچانا اور ان کے لیے رعایت کا مطالبہ کس بنا پر ہے؟ ریاست میں ذمی کا مسئلہ ڈال کر معاملہ کو الجھانا اور عوام کو گمراہ کرنا مغرب زدہ دانشوروں کا پرانا وطیرہ ہے۔ یہ سب پاکستان کے ایک شہری ہیں اور شہری ہونے کے ناطے ان پر پاکستان کا ہی قانونِ توہینِ رسالت لاگو ہوگا اور انہیں کوئی خصوصی رعایت حاصل نہ ہوگی۔

ریاست کے اس متفق و مجمع علیہ مسئلہ کو چھیڑنا ہماری نظر میں یہ صاف تخریب کاری ہے۔ لہٰذا فقہِ حنفی کا اور امام ابو حنیفہ کا موقف نافذ کرنے کا مطالبہ کرنے والوں سے ایک مطالبہ ہمارا بھی ہے کہ دیگر قوانین میں بھی ترامیم کرانے کے لیے اسمبلی میں بل پیش کرو اور ان قوانین کو امام ابو حنیفہ کے اقوال کے مطابق کر کے پاکستان میں فقہِ حنفی کو نافذ کرنے کا بھی صدقِ دل سے مطالبہ کرو۔ اور ہاں لبرلز کے پٹھوؤں کو یہ بات اپنی نسل کو بتا کر ہی مرنا ہوگا کہ اس قانون کے ہوتے ہوئے آج اگر دنیا میں 500 قتل ہوتے ہیں تو اس قانون کے ختم ہو جانے کے بعد 5000 ہوں گے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!