Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مکہ سے مدینہ ہجرت کا تذکرہ (قسط: اول)

مکہ سے مدینہ ہجرت کا تذکرہ (قسط: اول)
عنوان: مکہ سے مدینہ ہجرت کا تذکرہ (قسط: اول)
تحریر: غلام احمد قریشی
پیش کش: عائشہ رضا عطاریہ

وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا۔ وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهُوْقًا۔

ترجمہ: اے نبی! (صلی اللہ علیہ وسلم) دعا کرو کہ اے میرے پروردگار! مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا، جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال، اور اپنی طرف سے مجھے غلبہ عطا فرما، اس کو میرا مددگار بنا دے اور اعلان کر دے کہ حق آ گیا اور ناحق نابود ہو گیا اور باطل نابود ہونے کے لئے ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کریمہ میں ہجرت کی اجازت ملی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلوی نے ترجمہ قرآن شریف ”کنز الایمان“ میں ان آیات مبارکہ کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں اذنِ ہجرت اور فتحِ مکہ کی بشارت سے تعبیر کیا ہے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے حاضر ہو کر یہ حکم سنایا: ”اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكَ الْهِجْرَةَ“ اللہ تعالیٰ آپ کو ہجرت کرنے کا حکم فرماتا ہے۔ (مدارج النبوۃ شیخ عبدالحق دہلوی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل تیرہ سال تک مکہ کے کافروں کو توحید کی طرف بلایا، کفر و شرک کو چھوڑ کر اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دی اور ظلم و زیادتی کو چھوڑ کر عدل و انصاف کا راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دی۔ اس کے جواب میں کافروں نے نبیِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم، ان کے اہل خانہ اور ان کے ساتھیوں کو گالیاں دیں، الزام تراشیاں کیں، اذیتیں دیں، بنو ہاشم کو ابوطالب کی گھاٹی میں قید کیا، قتل کرنے کی سازش کی اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیست و نابود کرنے کا فیصلہ کیا۔ خداوندِ قدوس نے قرآن مجید میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ ط وَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ ط وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ

ترجمہ: اے محبوب! یاد کیجئے! جس وقت کفار تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کر دیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کر دیں، وہ اپنی چال چل رہے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا تھا اور اللہ کی پوشیدہ تدبیر سب سے بہتر تدبیر ہے۔ (الانفال: ۳۰)

ہجرت کا اذن اور واقعات

سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک خواب دیکھا اور خود ہی اس کی تعبیر نکالی جو مکمل تھی۔ آپ نے خواب کی یہ تعبیر نکالی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ منورہ ہجرت کریں گے اور بعد میں وفات پا کر مدینہ میں ہی مدفون ہوں گے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا کہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ تمہارا مقامِ ہجرت، دو پہاڑوں کے درمیان نخلستان یعنی مدینہ منورہ میں ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض اصحاب کو مدینہ طیبہ کی جانب ہجرت کر جانے کی اجازت فرمائی تھی۔ اکثر صحابہ کرام نے پوشیدہ طور پر ہجرت کی تھی مگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے علی الاعلان ہجرت کی۔ مکہ مکرمہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام میں سے سوائے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہما کے کوئی باقی نہ رہا تھا۔

دارالندوہ کی سازش

کفارِ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ ہجرت سے بہت خطرہ محسوس کیا۔ دارالندوہ میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا جس میں ابوجہل، ابولہب، امیہ بن خلف، عتبہ، شیبہ، نضیر بن حارث، عقبہ بن ابی معیط اور دوسرے بدبختوں نے متفقہ طور پر طے کیا کہ ہر قبیلہ کا ایک ایک مشہور بہادر تلوار لے کر اُٹھ کھڑا ہو اور سب بیک بارگی حملہ کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر ڈالیں۔ (سیرت ابن ہشام)

شبِ ہجرت اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قربانی

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے اطلاع ملی کہ آج کی رات آپ اپنے بستر پر آرام نہ فرمائیں اور مدینہ منورہ کی طرف متوجہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ اے علی! میری سبز رنگ کی چادر اوڑھ کر میری جگہ پر لیٹ جاؤ۔ تم مطمئن رہو تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرنے کا تہیہ کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ یٰسٓ کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں، ایک مشت خاک کفار پر پھینکی، اللہ تعالیٰ نے ان کی بصارت سلب کر لی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان سے نکل گئے۔

سفرِ ہجرت

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۲۲ ماہِ صفر دوشنبہ کی رات گھر سے نکلے اور غارِ ثور کی طرف چل دیے۔ آپ ایڑیوں کے بل چلے تاکہ قدموں کے نشان نہ پڑیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے۔ مکہ سے نکلتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارضِ مکہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”خدا کی قسم! تیری زمین خدا کی تمام زمینوں سے زیادہ میرے نزدیک محبوب ہے، اگر تیرے رہنے والے مجھے ہجرت پر مجبور نہ کرتے تو میں اس سے باہر نہ ہوتا۔“

غارِ ثور میں قیام اور توشہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غارِ ثور میں داخل ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے توشہ تیار کیا اور اپنا کمر بند کھول کر اس کے دو ٹکڑے کیے، ایک سے توشہ باندھا اور دوسرا کمر کے گرد باندھا۔ اسی بناء پر ان کو ”ذات النطاقین“ (دو پٹکے والی) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن ابوبکر دن بھر کفار کی خبریں پہنچاتے تھے اور عامر بن فہیرہ بکریاں چرایا کرتے تھے تاکہ دودھ مل سکے۔ غارِ ثور میں جاتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے مبارک زخمی ہو گئے تھے لیکن آپ نے صبر و استقامت کا پہاڑ بن کر سفرِ ہجرت جاری رکھا۔

[ماخوذ از: ماہنامہ کنز الایمان، دہلی (مارچ ۲۰۲۰ء، ص: ۳۱، ۳۲، ۳۳)]

(جاری ہے......)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!