| عنوان: | قانون الٰہی نہیں بدلتا حکومتیں بدل جاتی ہیں |
|---|---|
| تحریر: | حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی |
| پیش کردہ: | زیبا رضویہ |
اللہ رب العزت احکم الحاکمین ہے، سارے جہاں کا رب ہے۔ اس نے انسانوں کو پیدا فرمایا، ان کو اچھے برے کی پہچان بتائی اور زندگی گزارنے کے اصول و ضوابط بھی بتائے۔ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، دینِ اسلام کے ماننے والے مسلمان ہیں۔ اہل اسلام کے عقائد، اعمال و ایمان کی بنیاد وحدتِ الہی اور نبوتِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے اور کلامِ الہی و فرموداتِ مصطفوی ہی مسلمانوں کے لئے دینی و دنیاوی اساس ہیں، یہی مسلمانوں کے لئے قانون (Law) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ رب العالمین کا بنایا ہوا قانون بدل نہیں سکتا کیونکہ وہ انسانی فطرت اور تمام معاملات کا جاننے والا ہے۔ اسی اعتبار سے اس نے بندوں کے لئے قوانین بنائے اور اس پر عمل کرنے کی تاکید بھی فرمائی:
أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ
اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی۔ یہ بھی اعلان فرمایا کہ رب کا قانون بدلتا نہیں:
لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
ترجمہ: اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں، یہی بڑی کامیابی ہے۔ (سورہ یونس، آیت ۶۴)
رب کے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا، رب کے کام ہمیشہ حکمت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ الحمد للہ ہم مسلمان ہیں اور اس پر عمل پیرا ہیں۔ جو لوگ نکاح و طلاق کے قوانین میں تبدیلی چاہ رہے ہیں، وہ اسلامی شریعت پر عمل کرنے کے بجائے اپنی طبیعت پر عمل کر رہے ہیں اور روز روز نئے فتنے پیدا کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت جو آر ایس ایس کے نظریات کی حامل ہے، قانون کو کندھا بنا کر اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے، لیکن انشاء اللہ یکساں سول کوڈ جیسی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ آئین نے ہندوستان میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی کی ضمانت دی ہے۔
ہندوستانی قانون اور مسلم پرسنل لا
ہمارا ملک ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو آزاد ہوا لیکن ہندوستان کا اپنا قانون ۲۶ جنوری ۱۹۵۰ کے دن سے لاگو ہوا۔ جب ملک آزاد ہوا تو ڈاکٹر امبیڈکر کی رہنمائی میں دستور ساز کمیٹی نے قانون بنایا۔ انگریزی حکومت میں مسلمانوں نے اپنے مسائل اسلامی طریقے پر حل کرنے کی درخواست دی تھی تو حکومت نے اسے منظور کر کے شریعت ایکٹ ۱۹۳۷ پاس کیا تھا۔ ڈاکٹر امبیڈکر کی دستور ساز کمیٹی نے شریعت ایکٹ ۱۹۳۷ کو جوں کا توں برقرار رکھا۔ اس کو ”مسلم پرسنل لا“ (Muslim Personal Law) کہتے ہیں جو آج بھی ہمارے عدالتی نظام میں موجود اور رائج ہے۔
بھارت کے دستور کی بنیادی حقوق والی دفعات ۲۵، ۲۶، ۲۷، ۲۸، ۲۹ اور ۳۰ میں ہر شہری کو مذہبی اور تہذیبی خصوصیات کے ساتھ رہنے، اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج، مذہبی تقریبات، اپنی زبان اور اپنی تہذیب کے تحفظ کی آزادی دی گئی ہے۔
قانون کا احترام اور تبدیلی کا نظریہ
۲۶ جنوری یوم جمہوریہ کا مطلب ہے کہ لوگ قانون کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالیں، نہ کہ لوگوں کی طبیعت کے مطابق قانون بدلا جائے، ورنہ قانون کا مذاق بن جائے گا۔ حکومتیں بدلیں گی تو قانون بدلا جائے گا، لیکن مسلمانوں کا پرسنل لا ”قانونِ الٰہی“ ہے جسے بدلنے کی ضرورت نہیں۔
سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا
ترجمہ: اللہ کا دستور چلا آتا ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزر گئے اور تم اللہ کے دستور کو ہرگز بدلتا نہ پاؤ گے۔ (سورہ احزاب، آیت ۶۲)
تین طلاق کو ختم کرنے کی نیت ٹھیک نہیں کیونکہ اگر قانون کی خلاف ورزی ہو تو اس کا غلط استعمال روکنے کے لئے بیداری لانے کی ضرورت ہے، نہ کہ قانون بدلنے کی۔ تین طلاق کے خاتمے اور یکساں سول کوڈ کے جو لوگ مطالبے کر رہے ہیں، ان کا تعلق شیعہ اور اہل حدیث حضرات سے ہے جو چاروں ائمہ میں سے کسی مسلک کو نہیں مانتے۔ اسلام کے چاروں فقہی مذاہب (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) کے یہاں متفق علیہ مسئلہ ہے کہ تین طلاق، تین ہی ہوتی ہے۔ چھٹی صدی ہجری تک تمام محدثین و فقہا کا یہی مسلک رہا ہے۔ بعد میں ابن تیمیہ اور ابن قیم نے نظریہ پیش کیا کہ تین طلاق ایک ہی ہوگی، اور آج بھی ان کے پیروکار اسی پر قائم ہیں۔
عہدِ رسالت اور خلافتِ راشدہ میں بھی تین طلاق نافذ رہی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین طلاق کو تین ہی مانتے ہوئے نافذ فرمایا ہے۔ لہٰذا یہ نظریہ واضح ہو گیا کہ چاروں ائمہ کے نزدیک طلاقِ ثلاثہ کا وقوع ثابت ہے۔
عوام کو حقِ نمائندگی کا مسئلہ
سوال یہ ہے کہ میڈیا میں دین سے بیزار، آزاد خیال اور اردو ترجمہ پڑھ کر دین سمجھنے والے لوگوں کو یہ حق کہاں سے مل گیا کہ وہ تمام مسلم عورتوں کے نمائندہ بن کر کھڑے ہو جائیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ان لوگوں کو دینِ اسلام اور شریعتِ محمدی کی ذرہ برابر جانکاری نہیں۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا
ترجمہ: رحمان کے سچے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب بے علم جاہل لوگ ان سے باتیں کرتے ہیں تو سلام کہتے ہوئے الگ ہو جاتے ہیں۔ (سورہ فرقان، آیت ۶۳)
مسلمانوں کو چاہیے کہ تمام لوگ مل کر اس کی پرزور مخالفت قانونی دائرے میں کریں، قانونی لڑائی لڑیں اور گھبرائیں نہیں۔ اللہ و رسول کے حکم کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اس کے قانون کو بدلنے والا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا ہے۔ اس کا قانون دنیا جب سے قائم ہے چلا آ رہا ہے اور آگے بھی چلے گا۔
سُنَّةَ مَنْ قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُسُلِنَا وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا
ترجمہ: ایسا ہی دستور ان کا تھا جو آپ سے پہلے رسول ہم نے بھیجے اور آپ ہمارے دستور میں کبھی ردو بدل نہ پائیں گے۔ (سورہ بنی اسرائیل، آیت ۷۷)
جو ضد پر رہے گا کہ ہم خدائی قانون کو نہیں مانیں گے تو ان کو دردناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اللہ ہم سب کو عمل کرنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
