Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

گمراہ کافر فقہی و کافر کلامی کی نماز جنازہ (قسط: 02)

گمراہ کافر فقہی و کافر کلامی کی نماز جنازہ (قسط: ۲)
عنوان: گمراہ کافر فقہی و کافر کلامی کی نماز جنازہ (قسط: ۲)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: مہ جبین
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

کافر فقہی کی نماز جنازہ کا حکم

کافر کلامی کی نماز جنازہ اس کو کافر سمجھ کر پڑھا تو حرام قطعی ہے۔ اگر کافر کلامی کے کفر سے مطلع ہو کر اور اس کو مومن سمجھ کر اس کی نماز جنازہ پڑھا تو کفر کلامی ہے۔ اس کو مومن سمجھنا ہی کفر کلامی ہے، خواہ نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے。

فقہا کے یہاں کافر فقہی کی نماز جنازہ کافر فقہی سمجھ کر پڑھنا حرام ہے۔ اگر کافر فقہی کو مومن کامل سمجھ کر اس کی نماز جنازہ پڑھا تو کفر فقہی ہے۔ اس کو مومن سمجھنا ہی کفر فقہی ہے، خواہ نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے。

جہاں کفر کلامی یا کفر فقہی کا حکم ہوگا، وہاں توبہ، تجدید ایمان و تجدید نکاح کا حکم ہوگا۔ امام احمد رضا قادری نے غیر مقلد کافر فقہی کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم بیان فرمایا۔

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص عالم غیر مقلد عقائد و عملیات، جو کہ اس دارِ فانی سے عالمِ جاودانی کو رحلت کر جائے، اور اس کی نماز جنازہ ایک غیر مقلد پڑھائے، اور اس غیر مقلد کے پیچھے ایک عالم حنفی المذہب نے غیر مقلد متوفی کے عمل کو اچھا اور غیر مقلد کی اقتدا کو جائز سمجھ کر نماز جنازہ پڑھی، حالاں کہ وہ عالم حنفی المذہب قبل ازیں لوگوں کو عقائدِ غیر مقلدین سے منع کرتا رہا ہو۔

پس اس حالت میں جب کہ عالم حنفی المذہب نے غیر مقلد کی نماز جنازہ غیر مقلد امام کے پیچھے جائز تصور کر کے ادا کی ہو تو اس پر ازروئے شرعِ محمدی کیا تعزیر ہوتی ہے اور کیا بلا توبہ و استغفار ایسے عالم حنفی کی اقتدا جائز ہے؟

عالم غیر مقلد متوفی و امام غیر مقلد ائمہ اربعہ مجتہدین کے مسائل استنباط و اجتہادیہ کو خلافِ حدیث سمجھتا اور اکثر ان کے برعکس فتوے دیتا اور عمل کرتا ہو مثلاً:

  1. نماز تراویح میں بیس رکعات سے کم ہرگز کسی امام کے نزدیک نہیں، وہ آٹھ رکعت کا حکم دیتا اور عمل کرتا۔
  2. مسئلہ طلاقِ ثلاثہ جو کہ فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ اور جَلْسَةٍ وَاحِدَةٍ میں کہی گئی ہو، اس طلاقِ ثلاثہ کو حکم رجعی طلاق کا دے کر بدونِ نکاح شوہرِ ثانی اس کے ساتھ نکاح کرا دیتا ہو، اور طلاق بالخلع کی عدت ایک حیض آنے کے بعد نکاح کرا دیتا ہو، اور تقلیدِ شخصی سے بالکل انکار کرتا ہو، علاوہ ازیں آمین بالجہر کہنا، امام کے پیچھے الحمد کا پڑھنا، ہاتھ سینہ پر باندھنا، سورہ فاتحہ میں ض کی جگہ ظ پڑھنا وغیرہ وغیرہ جائز سمجھتا ہو۔

الجواب: سائل نے جو فہرست گنائی، وہ غیر مقلد کے بعض فرعی مسائل باطلہ و اعمال فاسدہ کی ہے۔ ان کے عقائد اور ہیں جن میں بکثرت کفریات ہیں۔ ان میں سے بعض کی تفصیل رسالہ ”الکوکبۃ الشہابیہ“ میں ہے، جس میں ستر وجہ سے ان پر اور ان کے پیشوا پر بحکم فقہائے کرام لزومِ کفر ثابت کیا ہے۔ کسی جاہل صحبت نایافتہ کی نسبت احتمال ہو سکتا ہے کہ وہ ان کے عقائد ملعونہ سے آگاہ نہیں۔ ظاہری صورت مسلمان دیکھ کر اقتدا کر لی اور نماز جنازہ پڑھ لی مگر جسے عالم ہونے کا دعویٰ ہو، اور ان کے عقائد پر مطلع ہو، لوگوں کو ان سے منع کرتا ہو، اور خود انھیں اچھا جان کر ان کے جنازہ کی نماز پڑھے، اور ان کی اقتدا کرے تو ضرور اس کے عقیدے میں فساد اور اس کے ایمان میں خلل آیا اور وہ بھی ”مِنْهُمْ“ شمار کیا جائے گا۔

قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ

اب اس شخص کے پیچھے نماز ہرگز جائز نہیں اور اس پر توبہ و تجدیدِ اسلام لازم ہے، اور اگر عورت رکھتا ہے تو بعدِ توبہ تجدیدِ اسلام تجدیدِ نکاح کرے۔ [فتاوی رضویہ، ج: ششم، ص: 121، رضا اکیڈمی ممبئی]

توضیح: شخص مذکور نے غیر مقلد کے برے عقائد سے آشنا ہونے کے باوجود اس کی تحسین کی جس سے اس کے عقائد و اعمال کی تحسین لازم آئی۔ چوں کہ غیر مقلدین کے عقائد میں بہت سے کفریات فقہیہ ہیں۔ جس طرح کفر کلامی کی تحسین کفر کلامی ہے، اسی طرح کفر فقہی کی تحسین بھی کفر فقہی ہے، اس لیے توبہ، تجدید ایمان و تجدید نکاح کا حکم دیا گیا۔

قَالَ ابْنُ نُجَيْمٍ الْمِصْرِيُّ الْحَنَفِيُّ: وَمَنْ حَسَّنَ كَلَامَ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ أَوْ قَالَ مَعْنَوِيٌّ أَوْ كَلَامٌ لَهُ مَعْنًى صَحِيحٌ، إِنْ كَانَ ذَلِكَ كُفْرًا مِنَ الْقَائِلِ كَفَرَ الْمُحْسِنُ [البحر الرائق، ج: پنجم، ص: 209، مكتبة شاملة]

ترجمہ: جو بدمذہبوں کے کلام کو اچھا جانے یا کہے کہ بامعنی ہے، یا اس کلام کا کوئی صحیح معنی ہے۔ اگر وہ کلام اس قائل کی جانب سے کلمۂ کفر تھا تو اچھا بتانے والا کافر ہو گیا۔

کافر کلامی کی نماز جنازہ کا حکم

کافر کلامی کی نماز جنازہ کافر کلامی سمجھ کر پڑھنا حرام قطعی ہے، بعض روایتوں کے مطابق کفر فقہی ہے۔ گمراہ کے حکم کے بیان میں اس کی تشریح مرقوم ہوئی۔ اگر اس کے کفری عقائد پر مطلع ہو کر اور اس کو مومن سمجھ کر اس کی نماز جنازہ پڑھا تو کافر کلامی ہے۔ دراصل اس کے کفری عقائد پر مطلع ہو کر اس کو مومن سمجھنا ہی کفر کلامی ہے۔ نماز جنازہ پڑھے، یا نہ پڑھے。

فتاوی رضویہ میں کافر کلامی کی نماز جنازہ پڑھنے کو کہیں کفر اور کہیں حرام لکھا گیا ہے۔ مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اس کو سمجھ لیں، یعنی حرام سمجھ کر پڑھا تو حرمت کے ساتھ کفر فقہی ہے۔ کفریہ عقائد سے مطلع ہو کر اسے مومن سمجھ کر نماز جنازہ پڑھا تو کفر کلامی ہے۔

امام احمد رضا قادری نے مرتد دیوبندیوں سے متعلق رقم فرمایا: ”اس پر نماز جنازہ حرام، بلکہ کفر۔ اس کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھانا حرام، اس کے جنازہ کی مشایعت حرام، اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا حرام، اس کی قبر پر کھڑا ہونا حرام، اس کے لیے دعائے مغفرت یا ایصال ثواب حرام، بلکہ کفر۔“ [فتاوی رضویہ، ج: ششم، ص: 108، رضا اکیڈمی]

امام احمد رضا قادری نے بعض مقام پر صرف کفر اور بعض مقام پر صرف حرام لکھا: ”اور ان سب سے بدتر اس کے جنازہ کی نماز ہے کہ خود کفر کا پہلو رکھتی ہے۔“ [فتاوی رضویہ، ج: ششم، ص: 24، رضا اکیڈمی ممبئی]

اس کے جنازے کی شرکت حرام، اسے مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرام، اس پر نماز پڑھنا حرام [فتاوی رضویہ، ج: ششم، ص: 150، رضا اکیڈمی میں]

یا اس کی موت کے بعد اس کے لیے دعائے بخشش کرے گا، یا اسے ثواب پہنچائے گا، گر چہ اسے کافر جان کر، وہ خود کافر ہو جائے گا۔ [فتاوی رضویہ، ج: ششم، ص: 195، رضا اکیڈمی ممبئی]

توضیح: مذکورہ بالا عبارتوں میں کافر کلامی کی نماز جنازہ و دعائے مغفرت کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ کافر کلامی کو مرتد جان کر اور اس کی نماز جنازہ حرام سمجھ کر بھی اس کی نماز جنازہ پڑھنا و دعائے مغفرت و ایصال ثواب کرنا کفر فقہی ہے۔ کہیں اس کفر فقہی کا ذکر آیا اور کہیں صرف حرام کہا گیا۔ مذکورہ تفصیل کے مطابق ان عبارتوں کے معانی سمجھ لیں۔

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل صورت میں کہ ایک شخص جو شیعہ اثنا عشری مذہب رکھتا ہے اور کلمہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ، علی خلیفہ بلافصل وغیرہ اعتقاداتِ مذہب شیعہ کا معتقد ہے، فوت ہوا ہے، اس کا جنازہ ہمارے امام حنفی المذہب جامع مسجد نے پڑھایا اور اس کو غسل دیا، نیز اس کے ختم میں شامل ہوا، شیعہ جماعت نے امام مذکور کے نماز جنازہ پڑھانے کے بعد دوبارہ شیعہ امام سے متوفی مذکور کی نماز جنازہ پڑھائی۔

کیا امام مذکور حنفی المذہب کا یہ فعل ائمہ احناف کے نزدیک جائز ہے؟ اگر ناجائز ہے تو کیا امام صاحب مذکور کا فعل شرعاً قابلِ تعزیر ہے، اور کیا تعزیر ہونی چاہیے؟

الجواب: صورت مذکورہ میں وہ امام سخت اشد کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا۔ اُس نے حکم قرآنِ عظیم کی خلاف ورزی کی:

قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى: وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا

تعزیر یہاں کون دے سکتا ہے، اس کی سزا حاکمِ اسلام کی رائے پر ہے۔ وہ چاہتا تو پچھتر کوڑے لگاتا، اور چاہتا تو قتل کر سکتا تھا کہ اُس نے مذہب کی توہین کی۔ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں اور اسے امامت سے معزول کرنا واجب۔ تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے: لِأَنَّ فِي تَقْدِيمِهِ لِلْإِمَامَةِ تَعْظِيمَهُ وَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِمْ إِهَانَتُهُ شَرْعًا فتاویٰ حجہ و غنیہ میں ہے: لَوْ قَدَّمُوا فَاسِقًا يَأْثَمُونَ

یہ سب اس صورت میں ہے کہ اس نے کسی دنیوی طمع سے ایسا کیا ہو۔

اگر دینی طور پر اسے کارِ ثواب اور رافضی تبرائی کو مستحقِ غسل و نماز جان کر یہ حرکاتِ مردودہ کیں تو وہ مسلمان ہی نہ رہا۔ اگر عورت رکھتا ہو، اس کے نکاح سے نکل گئی کہ آج کل رافضی تبرائی عموماً مرتدین ہیں: كَمَا حَقَّقْنَاهُ فِي رَدِّ الرَّفْضَةِ۔

اور بحکم فقہائے کرام تو نفسِ تبرا کفر ہے: كَمَا فِي الْخُلَاصَةِ وَفَتْحِ الْقَدِيرِ وَغَيْرِهِمَا كُتُبٍ كَثِيرَةٍ۔

اور کافر کے لیے دعائے مغفرت ہی کفر ہے، نہ کہ نماز جنازہ: كَمَا فِي الْأَعْلَامِ وَغَيْرِهِ وَبَيَّنَّاهُ فِي فَتَاوَانَا وَاللّٰهُ تَعَالَى أَعْلَمُ۔ [فتاوی رضویہ، ج: چہارم، ص: 57، رضا اکیڈمی ممبئی]

توضیح: منقولہ بالا فتویٰ میں پہلی صورت یہ ہے کہ دنیوی لالچ کے سبب نماز جنازہ پڑھا یعنی اس رافضی کو مومن نہیں سمجھا، بلکہ کافر ہی سمجھ کر پڑھا تو یہ حرام ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ اس رافضی کو مستحقِ نماز یعنی مومن سمجھ کر اس کی نماز جنازہ پڑھا تو چوں کہ عصرِ حاضر کے روافض کافر کلامی ہیں اور کافر کلامی کے کفر سے آگاہ ہو کر اس کو مومن سمجھنا کفر کلامی ہے۔ تو اس دوسری صورت میں اس کی بیوی بائنہ ہو گئی اور اس کے نکاح سے بالکل نکل گئی۔ یہ حکم کفر کلامی کا ہے۔ کفر فقہی میں بیوی نکاح سے نکلتی نہیں ہے، بلکہ نکاح میں نقص آ جاتا ہے۔ یہاں نکاح سے نکلنے کی بات کہی گئی ہے، پس یہ کفر کلامی ہے، یعنی کافر کلامی کو مومن اور نماز جنازہ کا مستحق سمجھ کر اس کی نماز جنازہ پڑھنا کفر کلامی ہے۔

ماہنامہ فرقۂ وہابیہ اقسام و احکام 25 جنوری 2021ء ص 88

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!