| عنوان: | حضرت مخدوم شرف الدین احمد یحییٰ منیری |
|---|---|
| تحریر: | محمد ضیاء الحق حفیظی |
| پیش کش: | محمد احسان مصطفیٰ |
مخدوم الملک حضرت شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری ۶۶۱ھ میں اپنے آبائی وطن منیر میں پیدا ہوئے۔ (منیر پٹنہ سے ۲۸۰ کلو میٹر دکھن جانب واقع ہے) آپ کے دادا حضرت شاہ محمد تاج فقیر بیت المقدس کے محلہ قدس خلیل کے رہنے والے تھے۔ ۵۷۶ھ میں ہندوستان آ کر قصبہ منیر میں سکونت اختیار کر لی۔ مخدوم کے والد کا نام مخدوم یحییٰ تھا۔ جس زمانے میں ناصر الدین محمود دہلی میں بادشاہت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے تھا، اسی دور میں مخدوم کی پیدائش ہوئی۔ مخدوم پدری و مادری خاندان کے اعتبار سے صاحبِ طریقت تھے۔ والد شیخ یحییٰ منیری بھی نہایت پارسا، پرہیز گار، ولی تھے۔ آپ کی والدہ بی بی رضیہ بھی نہایت عبادت گزار تھیں۔
حضرت مخدوم شرف الدین یحییٰ منیری چار بھائی تھے:
- شیخ جلیل الدین
- شیخ شرف الدین
- شیخ خلیل الدین
- شیخ حبیب الدین
ان چاروں میں حضرت مخدوم شرف الدین کی شہرت اور مقبولیت زیادہ دور دور تک پھیلی۔ حسبِ دستور مخدوم نے بھی مکتب سے تحصیلِ علم کا آغاز کیا۔ معدن المعانی میں خود فرماتے ہیں:
”در ایام خوردگی چندیں کتابہا مارا یاد کرانیدند۔ چنانچہ مصادر و مفتاح اللغات و جزآں در کتابہا و مفتاح اللغات جزوے پیشی خواہد بود - مقدار یک ..... یاد کرانیدند و ہر بار یاد تمام می شنیدند ۔۔۔ بجائے آن قرآن یاد می کرانیدند۔“
چونکہ اس زمانے میں ابتدائی تعلیم کا یہی دستور تھا۔ آپ کے ابتدائی استاد کے بارے میں صحیح تحقیق نہیں ہو سکی کہ کون تھے مگر ایک استاد کا ذکر آتا ہے کہ مولانا شرف الدین ابو توامہ نے مخدوم کو مختلف علوم سے آگاہ کیا۔ حضرت مخدوم اپنی کتاب ”خوانِ پر نعمت“ کی مجلس ششم میں ابو توامہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
”مولانا شرف الدین ابو توأمه ایں چنیں دانشمندے كه در تمامه ہندوستان مشارٌ إليه بود و هیچ کس را در علم ایشاں شبیه نبود۔“
مولانا شرف الدین ابو توامہ ایک ایسے دانشور تھے جن کی علمی شہرت پورے ہندوستان میں تھی اور کوئی شخص علم میں ان کے ہم پایہ نہ تھا۔
ابو توامہ ہر علم میں کامل اور مختلف فنون میں ماہر تھے، اسی وجہ سے مخدوم نے انھیں استادِ کامل کی حیثیت سے تسلیم کیا۔ ۶۷۱ھ میں مولانا ابو توامہ منیر سے رخصت ہونے لگے تو مخدوم کے والد نے اپنے فرزند کو تعلیم و تربیت کی خاطر مولانا موصوف کے سپرد کیا۔ مولانا نے بھی دیکھا کہ اس طالب علم کے اندر ایک جوہر پوشیدہ ہے، اپنے ساتھ لے گئے اور سنار گاؤں پہنچ کر تعلیم و تبلیغ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مخدوم نے بھی کافی دلجمعی کے ساتھ ان سے درسِ تفسیر، فقہ، حدیث، اصول، کلام، منطق، فلسفہ، ریاضیات اور دیگر علومِ مروجہ کی تحصیل کی۔
حضرت مخدوم نے تحصیلِ علم کے بعد مشاہیرِ دہلی سے ملنے کا ارادہ کیا، ان بزرگانِ دین سے ملاقات کے بعد مخدوم حضرت نظام الدین اولیاء کے پاس اس غرض سے حاضر ہوئے کہ ان کے ہاتھ پر بیعت کا شرف حاصل کریں۔ جس وقت مخدوم حضرت نظام الدین اولیاء کے پاس پہنچے اُس وقت ان کی مجلس میں علمی مذاکرہ ہو رہا تھا۔ آپ نے بیعت کی خواہش ظاہر کی مگر حضرت نظام الدین اولیاء نے بیعت سے انکار کر دیا۔ فرمایا: ”سیمرغیست كه نصیب دام ما نیست“ (یہ ایک سیمرغ ہے) میری نصیب میں اس کی بیعت نہیں لکھی ہوئی ہے۔ اس سے متعلق فرشتہ کی روایت کافی اہمیت رکھتی ہے، فرشتہ لکھتا ہے:
”در ہماں ایام شیخ شرف الدین منیری و برادر بزرگ او شیخ جلیل الدین بقصد ارادت به دہلی آمدند و شیخ (نظام الدین اولیاء) را در یافته خواستند كه مرید شوند لیکن شیخ فرمود: ’حواله شما خانواده فردوسیاں است‘۔“
یعنی انھی دنوں شیخ شرف الدین منیری اور ان کے بڑے بھائی شیخ جلیل الدین بیعت کی غرض سے دہلی آئے۔ شیخ نظام الدین اولیاء کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور بیعت کی خواہش ظاہر کی مگر نظام الدین اولیاء نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ تمھاری بیعت ہمارے ہاتھوں پر ممکن نہیں، کیونکہ تمھاری قسمت میں خانوادۂ فردوسیہ ہے۔
جب دہلی میں سلطان الاولیاء نے بیعت سے انکار کر دیا تو آپ کے بڑے بھائی خلیل الدین جو آپ کے ساتھ تھے تو اس نے کہا کہ شیخ نجیب الدین فردوسی کی خدمت میں ہمیں چلنا چاہیے۔ مخدوم نے شیخ نجیب الدین فردوسی سے ملنے کا ارادہ کیا۔ جب آپ گھر کے قریب پہنچے تو دہشت کے مارے پسینہ پسینہ تھے۔ بیعت کی خواہش ظاہر کی۔ حضرت شیخ نجیب الدین فردوسی نے انھیں بیعت سے سرفراز فرمایا۔ اجازت نامہ ان کے ہاتھوں میں لا کر دیا۔ طریقت کی روشن تلقین فرمائی اور کچھ نصائح مخدوم کو لکھ کر دیے۔ اس کے بعد مخدوم کو رخصت کیا۔
جب وہاں سے چلے تو بہیا کے جنگل سے آپ کا گزر ہوا۔ وہاں پہنچتے ہی آپ کے دل کی کیفیت میں کافی تبدیلی ہونے لگی۔ اپنے گریبان کو چاک کیا اور جنگل کا راستہ لیا۔ اسی وقت سے فنا فی اللہ کے راستے پر نکل پڑے۔ خدا کی یاد اور اس کی خوشنودی کی خاطر آپ نے اپنی زندگی وقف کر دی۔ یہ واقعہ ۶۹۱ھ کا ہے۔ مناقبِ اولیاء کے مصنف کے مطابق آپ بارہ برس تک بہیا کے جنگل میں خدا کی یاد اور اس کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ اس کے بعد راجگیر کے جنگل اور دوسرے جنگلوں میں اپنی زندگی بسر کی۔
بہار میں راجگیر کی حیثیت ایک تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ راجگیر کے جنگلوں میں بھی آپ نے ریاضت و عبادت کی۔ اس وقت بھی راجگیر میں آپ کی ریاضت و مجاہدہ کے آثار موجود ہیں۔ راجگیر کے جنگل سے نکل کر آپ نے (بہار شریف) میں سکونت اختیار کر لی۔ اپنی زندگی کا آخری حصہ تقریباً ساٹھ سال بتائی جاتی ہے، بہار میں ہی گزارا۔
مخدوم شرف الدین یحییٰ منیری کی مجالس کے بارے میں شواہد بتاتے ہیں کہ ان کی مجلسوں میں لوگ بلا جھجک آزادی کے ساتھ شرکت کرتے، اپنے مسائل بیان کرتے اور مخدوم ان کے جوابات دلائل کی روشنی میں دیتے۔ ان کی مجلس میں یہ بھی آزادی حاصل تھی کہ سائل ان کی باتوں پر اتفاق کرے یا نہ کرے، اس کو اختیار ہوتا۔ ان کی مجلس فقہ، اصول، منطق، فلسفہ، ادب و تصوف کے مسائل حل کرنے کے لیے بھی منعقد کی جاتی تھی۔ معترضین کے اعتراضات کے جوابات بھی مخدوم نہایت سنجیدگی سے دیتے تھے۔
حضرت مخدوم شرف الدین احمد یحییٰ منیری کا وصال ۶/ شوال ۷۸۲ھ کو ہوا۔ حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ منیر بہار شریف (بہار) میں آپ کا مزار مبارک ہے۔ [ماہنامہ کنز الایمان دہلی ستمبر 2019ء، ص: 25]
