| عنوان: | ضیائے حدیث |
|---|---|
| تحریر: | حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری امجدی صاحب قبلہ المعروف حضور محدثِ کبیر مدظلہ العالی |
| پیش کش: | قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوسفیان بن حرب نے انہیں خبر دی کہ ہرقل نے ان کے پاس ایک آدمی بھیجا جبکہ وہ تجارتی غرض سے شام میں تھے (یہ اس دور کی بات ہے جب نبی کریم ﷺ نے ابوسفیان اور کفارِ قریش سے محدود پیمانے پر صلح کا معاہدہ کر رکھا تھا)۔ جب یہ قافلہ ہرقل کے دربار میں پہنچا تو اس نے اپنے ترجمان کے ذریعے ابوسفیان سے مخاطب ہو کر پوچھا: ”تم میں سے نبوت کا دعویٰ کرنے والے اس شخص کا قریبی رشتہ دار کون ہے؟“ ابوسفیان نے کہا: ”میں ہوں۔“
ہرقل نے ابوسفیان سے نبی کریم ﷺ کے بارے میں چند سوالات کیے، جن کے جوابات اس نے یوں دیے:
- نسب: وہ ہم میں اونچے نسب والے ہیں۔
- دعویٰ: ان سے پہلے کسی نے ایسا دعویٰ نہیں کیا۔
- بادشاہت: ان کے آبا و اجداد میں کوئی بادشاہ نہیں گزرا۔
- پیروکار: ان کے ساتھ کمزور اور غریب طبقے کے لوگ شامل ہیں۔
- تعداد: ان کے ماننے والوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔
- ارتداد: ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی بیزار ہو کر نہیں نکلتا۔
- وعدہ: انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی۔
- جنگ: کبھی وہ ہم پر غالب آتے ہیں، کبھی ہم ان پر (جنگ کا پلڑا برابر رہتا ہے)۔
- تعلیمات: وہ ایک خدا کی بندگی، شرک سے بچنے، نماز پڑھنے، سچائی، پاکیزگی اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔
ہرقل کا تبصرہ اور نتیجہ
ابوسفیان کے جوابات سننے کے بعد ہرقل نے ترجمان سے کہا: ”ان سے کہو کہ میں نے نسب پوچھا تو تم نے شریف بتایا، انبیاء عالی نسب ہی ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا کسی نے دعویٰ کیا؟ تم نے کہا نہیں، اگر کیا ہوتا تو میں کہتا کہ وہ پچھلی نقل کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا باپ دادا میں بادشاہ تھا؟ تم نے کہا نہیں، اگر ہوتا تو میں کہتا کہ وہ اپنی سلطنت واپس لینا چاہتے ہیں۔ میں نے پوچھا کیا کبھی جھوٹ بولا؟ تم نے کہا نہیں، جس نے انسانوں پر جھوٹ نہیں بولا وہ اللہ پر جھوٹ نہیں باندھے گا۔ میں نے پوچھا کون تابع ہوا؟ تم نے کہا کمزور، اور دراصل یہی انبیاء کے پیروکار ہوتے ہیں۔“
ہرقل نے آخر میں کہا: ”اگر تمہاری یہ باتیں سچ ہیں تو عنقریب وہ اس جگہ کا مالک ہو جائے گا جہاں آج میرے پاؤں ہیں۔ اگر میں وہاں تک پہنچ سکتا تو ضرور ان سے ملاقات کرتا اور ان کے پاؤں دھوتا۔“ پھر ہرقل نے رسول اللہ ﷺ کا وہ خط منگوایا جو آپ ﷺ نے دحیہ کلبی کے ہاتھ امیرِ بصرہ کو بھجوایا تھا اور پڑھا جس میں اسلام کی دعوت دی گئی تھی۔
ہرقل کا انجام اور پیش گوئی
ہرقل کو نجوم اور قدیم کتابوں سے معلوم ہو چکا تھا کہ ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے جس کے پیروکار ختنہ کرواتے ہیں۔ جب اس نے اپنے درباریوں کو یہ بات بتائی تو وہ سخت مشتعل ہوئے، جس پر ہرقل نے ان کی آزمائش کے لیے دین میں سختی دکھائی، لیکن ان کی نفرت دیکھ کر وہ ایمان لانے سے قاصر رہا۔
[ماخوذ از: ماہنامہ سہ ماہی امجدیہ، جنوری تا مارچ ۲۰۲۳ء، صفحہ نمبر ۲۹]
(جاری......)
