Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تاج الشریعہ (علیہ الرحمہ) خانوادہ رضویہ کا منارۂ علم و فضل

تاج الشریعہ (علیہ الرحمہ) خانوادہ رضویہ کا منارۂ علم و فضل
عنوان: تاج الشریعہ (علیہ الرحمہ) خانوادہ رضویہ کا منارۂ علم و فضل
تحریر: محمد فروغ القادری
پیش کش: محمد اکرم رضا رضوی شراوستی

مجھے یہ جان کر بے حد مسرت ہوئی کہ الجامعۃ الرضویہ مغل پورہ، پٹنہ سٹی (بہار) کے ارباب علم و دانش، وارثِ علومِ امام احمد رضا، جانشینِ مفتی اعظم ہند، تاج الشریعہ حضرت مفتی اختر رضا خان الازہری أدام المولى فضله کے ایوانِ علم و عمل اور ان کی تابناک زندگی کے مختلف گوشوں کو اپنی عقیدتوں کا خراج پیش کرنے کے لیے ملک و بیرون ملک کے اربابِ قلم کے جامع و وقیع مقالات پر مشتمل ایک عظیم کتاب شائع کرنے جا رہے ہیں۔

تاج الشریعہ حضرت مفتی اختر رضا خاں الازہری مرکزِ اہل سنت بریلی شریف اور عالمِ اسلام کی ان قد آور شخصیات میں ہیں جنھیں مبدأ فیاض نے ماضی و حال کے بے پناہ علم و فضل اور تقویٰ و طہارت کی دولت لازوال سے نوازا ہے۔ ان کی سب سے بڑی دینی و مسلکی خدمت خود اُن کی تابناک اور قابلِ عمل زندگی کا نمونہ ہے۔ وہ چودھویں صدی ہجری کے مجدد اعظم امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی کے علوم و فنون کے حقیقی وارث ہیں۔ انھوں نے عہد حاضر کے فقہ پرور ماحول میں تحریری و تقریری طور پر حالات کا صحیح مقابلہ کرنے کے لیے اپنی باوقار شخصیت میں اعلیٰ نصب العین، اولوالعزمی اور ملت اسلامیہ کی ناقابل تسخیر قدروں کو اپنی حیاتِ ظاہری کا عنوان بنایا ہے۔ ان کی پرکشش شخصیت کے نہاں خانوں میں علم و فن کا بحر ناپیدا کنار ہر لمحہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

ان کے پیکر جمال میں ٹھہراؤ بھی ہے اور جولانی بھی۔ استحکام کا سکون بھی ہے اور انقلابی شرارے بھی۔ غیرتِ جلال بھی ہے اور جمالِ مروت بھی۔ دعوت و عزیمت کی صحرا نوردی اور دینی فیصلوں کے نفاذ میں ان کی پرشکوہ اور مبسوط شخصیت جب ایک بار اپنی رائے پیش کر دیتی ہے تو پھر وہ کج کلاہانِ زمانے کی تنقیدات اور تبصروں کی پرواہ نہیں کرتی۔ ان کے فکر و نظر کی اصابت، علم و فن کا تجر، فضل و کمال کی انفرادیت اور دین و سنت کے ارتقا کی راہوں میں ان کے جذبۂ ایثار کی عظمت کو عرب و عجم کے علما نے تسلیم کیا ہے۔

شمع کی طرح جئیں بزم کے عالم میں
خود جلیں، دیدۂ اغیار کو بینا کر دیں

عصرِ حاضر کے معاصرین میں مجھے کوئی دور دور تک علمی، عملی اور فقہی صلاحیتوں کے اعتبار سے حضرت تاج الشریعہ کا ہم پلہ نظر نہیں آتا۔ اعلیٰ درجہ ذہانت، استحضارِ علمی، ملکہ فقہی اور حاضر دماغی انھیں اپنے جد امجد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے میسر آئی ہے۔ انھیں علوم متداولہ میں ید طولیٰ حاصل ہے۔ فقہ حنفی کی جزئیات پر ان کی پرخلوص اور بلا خیز دقتِ نظر دیکھ کر مسند نشینانِ درس و افتا کو خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ وہ قرآن، حدیث، تفسیر، ادب، تاریخ، فلسفہ، منطق اور کلام کا گہرا مطالعہ رکھتے ہیں۔ ان کی عربی تصانیف اور شہ پاروں کو پڑھ کر ان پر عربائے عرب کا شائبہ گزرتا ہے۔ وسعتِ کلام سے بعض مقامات پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عربی زبان و ادب ان کی ذاتی میراث بن چکے ہوں، جس کا اظہار ان کی انشا پردازی اور عربی خطابت و محادثت میں مقتضائے حال مقولے، منتقلی و مسجع عبارت اور موزوں اشعار کے فی البدیہہ استعمال سے ظاہر ہوتا ہے۔

الفريدة في شرح البردة عربی زبان و ادب میں حضرت تاج الشریعہ کی ایسی شاہکار تصنیف ہے جسے پڑھ کر اُن کی عالمانہ ندرت، شجرِ علمی، کاروانِ شوق کی کیف و مستی اور اندازِ کلام کا بانکپن ظاہر ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ان کے اعلیٰ ذہن و دماغ کے نقش و نگار، زبان و بیان کی سلاست، عربی جملوں کی ترتیب و تہذیب میں فصاحت و بلاغت اور معنی خیز استعارے، تخیل و محاکات کی فراوانی، جذبۂ دل کے انکشافات، جبرئیلِ عشق کا فیضان اور درد مند دل کا الہام قاری کو ایک لمحے کے لیے ورطۂ حیرت میں ڈال دیتے ہیں، اور ان تمام مرحلۂ لوح و قلم سے گزرتے ہوئے ان کی معقولیت پسند دل نوازی، اجتہادِ فکر، جراتِ رندانہ اور کون و مکاں کے تاجدار کے قدمِ ناز سے ان کے قلب و جگر اور ہوش و خرد کی وابستگی ہر ہر لفظ سے نمایاں رہی ہے۔ عشقِ رسالت کے جاذبے کی منزل یقینی طور پر ایک دشوار تر منزل ہے، اس سے سرخ رو ہو کر گزرنا اتنا آسان نہیں، الفاظ ان کا بار اٹھا ہی نہیں سکتے، ایسے عالم میں اس کے وجدان و خیالات اور علم و فکر کی ہیئتِ وضعی اپنے ایجادِ معانی میں عالمِ غیب کے تصرفات و عنایات کی مرہونِ منت رہتی ہے۔ ”الفريدة في شرح البردة“ کو آپ پڑھتے جائیے، قدم قدم پر آپ کو عشقِ بے نیاز کا پہرہ نظر آئے گا اور یہی حضرت تاج الشریعہ کی داخلی زندگی کا حسن اور نمایاں کمال ہے۔

حضرت تاج الشریعہ نے اپنی مصروف ترین زندگی کے باوجود عملی دنیا کو تشنہ نہیں چھوڑا ہے۔ ان کی تمام تر تصنیفات نے اپنے دامنِ سیماب میں معلومات و حقائق کے جتنے آفاق تلاش کیے ہیں یہ انھی کا اعجازِ ہنر ہے۔ ان کی تمام تحریروں میں تعمیرِ خودی کا جوہر اور متعلقہ مباحث سے مظاہراتِ فن کا عکس دور دور تک پھیلا نظر آتا ہے۔ وہ دبستانِ رضا کے نہایت ہی پر جوش، معتبر اور بلند پایہ شاعر بھی ہیں۔

ان کا ایک ایک لفظ ادبِ لطیف کے عرقِ دو آتشہ میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہ جس جذبۂ بے خودی اور سوزِ دروں سے اپنے محبوبِ حقیقی کو آواز دیتے ہیں اس میں بظاہر کسی اور ترفع کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ عالمِ نور کے پیکرِ لطیف اور عرشِ الٰہی کے مسند نشین کی بارگاہِ ناز میں ان کی اجابت کا حال یہ ہے کہ مدیحِ نبوی کہتے وقت وہ افکار و تخیلات کے بجائے اپنے عشقِ لازوال تک براہِ راست رسائی حاصل کر کے اپنے اعجازِ ہنر سے اصنافِ سخن کے ماہرین کو دیدۂ حیرت بنا دیتے ہیں۔ فنِ شاعری میں زبان و بیان کی اہمیت کیا ہے، ترسیل و ابلاغ کی راہوں میں کس قدر دشواریاں درپیش ہوتی ہیں، ایک سخن ور کو زندگی کی تزئین و تعمیر اور اس کے بقائے دوام کے لیے کیا کردار ادا کرنا چاہیے؛ حضرت تاج الشریعہ کا بافیض اور سیال قلم فطرت کی حنا بندیوں سے واقف کار ہے۔ وہ غیر مرئی سے مرئی کی صورت پذیری کا ہنر جانتے ہیں۔ گویا کہ فنِ شاعری کا محرکِ اول خود ان کی داخلیت، پرکشش جاہ و جلال اور شائستگی ہے۔

میری مشاطگی کی کیا ضرورت حسنِ معنی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالہ کی حنا بندی

حضرت تاج الشریعہ کی گراں قدر تصنیفات کی ایک لمبی فہرست ہے، عربی، فارسی، اردو اور انگریزی زبان و ادب پر انھیں مکمل دسترس حاصل ہے۔ ان کی جامع اور وقیع تحریروں سے ہر صنفِ سخن پر ان کے گہرے مطالعے کا اندازہ ہوتا ہے۔ تحقیق و تدقیق کے حوالے سے ان کا رنگ و آہنگ حد درجہ منفرد اور اثر پذیر ہے۔ قحط الرجال کے نامساعد حالات میں اب ہمارے ہاں کی درس گاہوں میں اس طرح کے حساس موضوعات پر طبع آزمائی کی روایت اٹھتی جا رہی ہے۔ حضرت تاج الشریعہ نے اپنی مؤثر ترین اور لازوال نگارشات کے ذریعے سے ملک و بیرون ملک کی عصری جامعات کا رشتہ خانقاہوں سے جوڑ دیا ہے۔ خاص کر ان کی عربی تصنیفات نے عالمِ عرب میں اپنی شہرت و پذیرائی کے جتنے آفاق فتح کیے ہیں اس سے حقیقی معنوں میں اہل سنت و جماعت کا وقار بلند ہوا ہے۔ انھوں نے معمولاتِ اہل سنت کو استدلال کی زبان عطا فرمائی ہے۔

حضرت تاج الشریعہ کی مندرجہ ذیل کتابیں اپنے عناوین کے لحاظ سے حد درجہ معلومات افزا اور معارف و حقائق سے پر ہیں:

  1. الدفاع عن كنز الإيمان في جزأين
  2. حكم التصوير
  3. الحق المبين
  4. مرآة النجدية
  5. تحقيق أن إبراهيم تارخ آزر
  6. تعريب رسالة شمول الإسلام لأصول الرسول الكريم للعلامة أحمد رضا رحمه الله
  7. رسالة سد المشارع على من يقول إن الدين يستغني عن الشارع
  8. رسالة الصحابة نجوم الاهتداء
  9. الهادي الكافي في حكم الضعاف
  10. تعريب قوارع القهار على المجسمة الفجار
  11. تعريب الأمن والعلى لناعتي المصطفى بدافع البلاء
  12. تعريب سبحان السبوح عن عيب كذب مقبوح
  13. الفريدة في شرح البردة (عربی شرح)

مذکورہ بالا کتابوں میں ”الفريدة“ جو قصیدہ بردہ شریف، علامہ شیخ شرف الدین محمد بن سعید البوصیری رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ۶۹۷ھ) کی شرح ہے۔ اس کے ایک ایک لفظ سے کوثر و تسنیم کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ حضرت تاج الشریعہ نے قصیدہ بردہ کی عربی شرح لکھ کر حضرت امام بوصیری کے جذب و مستی، فکر و فن، عشقِ بے پناہ اور ذوقِ تصوف کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

ساتھ ہی امام احمد رضا فاضل بریلوی کے تتبع میں آپ کا نعتیہ دیوان سفینۂ بخشش (۱۹۸۶ء) جو آپ کی عربی و اردو نعت، قصائد، رباعیات اور مناقب پر مبنی ہے، شعر و فن کی دنیا میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اشعار کی بندش اور صنعتِ کلام سے بے شمار مقامات پر فاضل بریلوی کا رنگ و آہنگ، وارفتگیِ شوق اور فکری تجلیات کا عکس نکھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ میرے نزدیک جذبات کی حرارت جب فکر و خیال کی روشنیوں کے رنگ نکھارتی ہے تو الفاظ الہام کی آئینہ بندی کر کے ذہنی حجابوں سے ادھر پوشیدہ حقیقتوں کا سراغ لگاتے اور محسوسات کے آفاق سے پرے اسرار و رموز کا پتہ لگاتے ہیں۔ دراصل شعری معنویت اپنے مقاصدِ بیان میں لفظیات کا سہارا چاہتی ہے۔ جب تک صاحبِ نطق و بیان کی لفظیات پر باضابطہ گرفت نہ ہو نثر و نظم کی دنیا ناتمام رہتی ہے۔ میں ہمیشہ سے الفاظ کی حسیاتی اور عملی اثر و نفوذ کا قائل رہا ہوں۔ لفظیات کا صحیح اور برمحل انتخاب معانی کی ترسیل و ابلاغ کے لیے از بس ضروری ہے، لفظ انسانی زندگی کا سرمایہ، تہذیب و تمدن کا عنوان، فکری نظریات کی پہچان اور احساسِ خودی کا استعارہ ہے۔ لفظ ہماری کائناتِ بیکراں، ہماری ذات کے ادراک کا مؤثر ذریعہ، اور ہمارے محسوسات کے اظہار کا توانا تر وسیلہ ہے۔

دریا متلاطم ہوں تری موجِ گہر سے
شرمندہ ہو فطرت ترے اعجازِ ہنر سے

خورشید کرے کسبِ ضیا تیرے شرر سے
ظاہر تری تقدیر ہو سیمائے قمر سے

میرے ممدوحِ گرامی حضرت تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خاں قادری الازہری دام ظله العالي على الأمة المسلمة کی ہمہ جہت شخصیت عالمِ اسلام میں مرجعِ فتاویٰ بھی ہے اور مرکزِ علم و فن بھی، وہ مفتی بھی ہیں قاضی بھی، مفسر بھی ہیں محدث بھی، فلسفی بھی ہیں اور مایہ ناز مفکر بھی، دانشور بھی ہیں اور کہنہ مشق شاعر و ادیب بھی، دعوت و عزیمت اور جرات و استقامت کی تمام تر خوبیوں سے مرصع ہیں۔ ان کی زندگی کی داخلی خوبیوں پر ہند و پاک کے اربابِ قلم نے اب تک بہت کچھ لکھا ہے تا ہم الجامعۃ الرضویہ، پٹنہ سٹی کے زیرِ اہتمام حضرت تاج الشریعہ کی حیات و خدمات پر شائع ہونے والی کتاب اپنی نوعیت کی منفرد کاوش ہوگی، جس میں ان کے طغرائے جمال کے دلکش خدوخال کو لوح و قلم کے دامنِ سیماب میں اتارنے کے لیے ملک و بیرون ملک کے مشاہیر اربابِ علم و دانش کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، جس کے لیے الجامعۃ الرضویہ مغل پورہ پٹنہ سٹی، بہار اور ان کے تمام رفقائے کار کو اپنی جانب سے ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں۔

بلا شبہ یہ پوری علمی دنیا اور عاشقانِ تاج الشریعہ کی طرف سے بے شمار نیک خواہشات اور دعاؤں کے مستحق ہیں۔ رب قدیر و جبار اُن کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین

جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا [ماہنامہ کنز الایمان دہلی دسمبر 2016، ص: 41]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!