Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حجۃ الاسلام اور عربی زبان و ادب (قسط: اول)

حجۃ الاسلام اور عربی زبان و ادب (قسط: اول)
عنوان: حجۃ الاسلام اور عربی زبان و ادب (قسط: اول)
تحریر: ڈاکٹر محمد امجد رضا امجد
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خان اپنے عہد کے جید عالمِ دین، مرجع الانام فقیہ، سادہ اور مرصع دونوں نثر کے ماہر اور قادر الکلام شاعر تھے، آپ ہندوستان کے مشہور علمی ادبی اور روحانی خانوادے ”خانوادہِ رضا“ میں سنہ 1292ھ مطابق 1875ء میں پیدا ہوئے اور سنہ 1943ء میں انتقال فرما گئے، ان 68 سالہ زندگی میں انہوں نے مذہب و ملت اور علم و ادب کی جو نمایاں خدمات انجام دیں وہ تاریخ کے صفحات کا روشن حصہ ہیں۔

آپ کی تعلیم والدِ گرامی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ ہی کے زیرِ سایہ ہوئی، تمام درسیات معقول منقول تفسیر، حدیث، فقہ، اصول بلکہ جملہ علوم و فنون آپ نے والدِ گرامی ہی سے حاصل کیا، فراغت کے بعد بھی تعلیمی سلسلہ موقوف نہیں کیا والدِ ماجد کی خدمت میں رہ کر فقہ ادب تصوف میں انہیں کے رنگ میں رنگتے رہے چنانچہ حجۃ الاسلام کے پہلے سوانح نگار مولانا ابراہیم خوشتر اپنی کتاب ”تذکرہِ جمیل“ میں لکھتے ہیں:

فراغت 1312ھ مطابق 1895ء سے اپنے عمِ محترم استاذِ زمن حضرت حسن بریلوی کے وصال 1326ھ مطابق 1908ء تک اپنے والدِ نامدار امام احمد رضا کی خدمت و صحبت میں تربیت کے مراحل سے گزرتے رہے۔ اس درمیان آپ نے مضامین بھی لکھے، استفتا کے جوابات بھی دیے اور تصنیف و تالیف کا کام بھی جاری رہا۔ آپ کے نام کے صوری و معنوی نادر المثال مہر کی تاریخ 1312ھ سے پتہ چلتا ہے کہ امام احمد رضا نے اسی سال آپ کو کارِ افتا کے لیے تیار کر دیا تھا۔

1323ھ مطابق 1906ء میں آپ فریضہِ حج کی ادائیگی کے لیے حرمین شریفین تشریف لے گئے وہاں آپ نے مکہ معظمہ میں شیخ العلماء محمد سعید بابصیل (2) اور مدینہ طیبہ میں مولانا سید احمد برزنجی (3) کے حلقہِ درس میں شریک ہوئے۔ عرب کے اکابر علما و مشائخ نے سندیں عطا فرمائیں۔ حضرت مولانا خلیل خربوطی (4) نے سندِ فقہ عطا فرمائی، جو حضرت علامہ سید طحطاوی سے انہیں صرف دو واسطوں سے حاصل تھی، وہاں آپ مشائخِ حرمین طیبین سے عربی میں مکالمہ فرماتے، مدینہ طیبہ کے جید عالم مولانا عبد القادر طرابسی شامی سے جو مکالمہ ہوا اس کا ملفوظات میں تذکرہ ملتا ہے۔ (5)

علم و فن

علامہ حامد رضا میں علم و فن کی جو گیرائی و گہرائی اور تہہ داری تھی وہ اَلْوَلَدُ سِرٌّ لِّأَبِيْهِ کا آئینہ دار تھی۔ آپ کے والد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری قدس سرہ اپنے عہد کے ممتاز فقیہ، عبقری عالمِ دین، بلند پایہ محدث و مفسر، کثیر التصانیف مصنف اور صوفی صافی بزرگ تھے، جن کے علم کا شہرہ ہند سے بیرونِ ہند افریقہ و عرب تک پہنچا (6) اور علمائے عرب و عجم نے جنہیں بڑے بڑے القابات کے ساتھ خراجِ تحسین پیش کیا، اعلیٰ حضرت نے اس عہد میں جب کہ علوم و فنون کی تقسیم در تقسیم نہیں ہوئی تھی 55 علوم و فنون پر ہزار سے متجاوز کتابیں تصنیف فرمائیں۔ (7)

آج کی تحقیق کے مطابق ان کے علوم و فنون کی تعداد 100 سے متجاوز ہے اور خاص عربی زبان میں آپ کی تصانیف کی تعداد 250 کے قریب ہے جو کئی فنون کو محیط ہے۔ (8) کتابوں کا نام بھی عربی زبان میں ہے اور اتنا سلیس و مرصع ہے کہ اس سے جہاں موضوعِ کتاب کی وضاحت ہوتی ہے وہیں مصنف کی عربی ادب پر مہارتِ تامہ کا اذعان بھی ہوتا ہے، حضرت حجۃ الاسلام کے اندر بھی والد ہی کی خصوصیات منعکس ہوئیں، آپ کی ان صلاحیتوں کا اندازہ آپ کے والدِ گرامی سے زیادہ کس کو ہو گا اسی لیے مختلف مواقع پر آپ نے اس کا تذکرہ فرمایا، مثلاً سرکار محبی مولانا عبد الرحمن پوکھریروی (10) نے اپنے یہاں کے لیے امام احمد رضا کو مدعو کیا، آپ کثرتِ کار کے سبب پوکھریرا نہیں جا سکے مگر اپنا قائم مقام بنا کر حجۃ الاسلام کو بھیجا اور ایک گرامی نامہ تحریر فرما کر روانہ کیا جس میں تحریر فرمایا:

”اگرچہ میں اپنی مصروفیت کی بنا پر حاضری سے معذور ہوں مگر حامد رضا کو بھیج رہا ہوں یہ میرے قائم مقام ہیں ان کو حامد رضا نہیں احمد رضا ہی کہا جائے۔“ (12)

چنانچہ اس خط کے ساتھ آپ اعلیٰ حضرت کی نیابت کرتے ہوئے پوکھریرا تشریف لے گئے اور علاقہ کے مختلف گاؤں کے لوگوں کو آپ کی شخصیت اور علم و معرفت سے شرف یاب ہونے کا موقع ملا، اسی موقع سے (غالباً شعبان 1318ھ میں) راقم الحروف کے والدِ گماشتہ عبد الغفور خاں کی دعوت پر آپ میرے گاؤں ”رضا باغ گنگٹی“ بھی تشریف لے گئے اور تقریباً ہفتہ روز قیام فرمایا جہاں خلقِ خدا آپ سے خوب خوب فیضیاب ہوئی۔ (13)

اسی طرح اپنے وصال کے وقت اپنی جانشینی کے لیے جب حضرت حجۃ الاسلام کو منتخب فرمایا تو یہ جملے ارشاد فرمائے: ان کی بیعت میری بیعت ہے، ان کا ہاتھ میرا ہاتھ، ان کا مرید میرا مرید، ان سے بیعت کرو امام اہلِ سنت کی زبان سے نکلے ہوئے یہ جملے حجۃ الاسلام کی عظمتِ شان کے لیے کافی ہیں، اسی لیے علامہ حسنین رضا خان بریلوی نے فرمایا کہ اعلیٰ حضرت کے بعد اگر واقعی کوئی عالم اور ادیب تھا تو وہ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان تھے۔ (14)

اس تذکرہ کا مقصد در اصل حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا کی قابلیت و لیاقت کا اظہار تھا یہی وجہ ہے اکابر علما مشائخ نے انہیں اعلیٰ حضرت کا صحیح علمی جانشیں کہا اور جو اس بلند پایہ عالم کا صحیح علمی جانشیں ہو زبان و ادب پہ اس کی مہارت کا کیا کہنا۔ حجۃ الاسلام کی تصانیف ان کی اس صلاحیت کی شاہد ہیں جس میں استدلال، اسلوبِ تحقیق و تنقید، ترجمہ تمام طرح کی خوبیاں سمٹی ہوئی ہیں، تصانیف کی مجموعی تعداد کا اندازہ تو نہیں لگایا جا سکا تاہم معروف تصانیف کو دیکھ کر ان کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے: ان کی معروف تصانیف یہ ہیں:

  1. الصارم الربانی علی اسراف القادیانی
  2. سد الفرار
  3. دو آفت بدایوں کی خانہ جنگی
  4. نکس اباطیل مدرسہ خرما
  5. اجلی انوار رضا
  6. اجتناب العمال
  7. سلامۃ اللہ لاہل السنہ
  8. رمز شیریں چاہِ شور
  9. قصدِ یمِ شیریں با چاہِ شور
  10. خطبہ استقبالیہ
  11. اذان من اللہ
  12. مراسلتِ سنت و ندوہ
  13. تیسیر الماعون
  14. حبل اللہ المتین
  15. تعلیقاتِ فتاویٰ رضویہ
  16. کنز المصلی پر حاشیہ
  17. مسئلہ اذان کا حق نما فیصلہ
  18. تمہید و ترتیب الاجازات المتینہ
  19. حاشیہ ملا جلال
  20. ترجمہ الدولۃ المکیہ
  21. ترجمہ حسام الحرمین
  22. فتاویٰ حامدیہ
  23. فاتحۃ الریاحین بطیب آثار الصالحین
  24. دیوانِ نعتِ اردو

جہاں تک عربی زبان و ادب پر حجۃ الاسلام کی قدرت و خدمت کا تعلق ہے تو یہ واقعہ ہے کہ ان کی عربی نثر نگاری و شاعری اور زبان و بیان پر عبور و مہارت کی تعریف علمائے عرب نے بھی کی ہے۔ 1342ھ حجۃ الاسلام کے دوسرے حج و زیارت کے موقع پر عرب کے معروف عربی داں حضرت شیخ سید حسن دباغ اور سید محمد مالکی ترکی نے آپ کی عربی دانی اور قابلیت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس طرح اعتراف کیا:

”ہم نے ہندوستان کے اطراف و اکناف میں حجۃ الاسلام جیسا فصیح و بلیغ دوسرا نہیں دیکھا جسے عربی زبان میں اتنا عبور حاصل ہو۔“ (15)

اسی سلسلہ میں ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی صاحب نے ایک واقعہ بھی نقل کیا ہے لکھتے ہیں:

”حجۃ الاسلام کو ایک بار دار العلوم معینیہ اجمیر شریف طلبہ کا امتحان لینے کی دعوت دی گئی، امتحان کے بعد جب واپس ہونے لگے تو مولانا معین الدین صاحب نے دار العلوم کے معائنہ رجسٹر میں کچھ لکھنے کی فرمائش کی، آپ نے فرمایا کس زبان میں لکھ دوں؟ مولانا معین الدین اس وقت تک حجۃ الاسلام سے مکمل طور پر متعارف نہیں تھے انہوں نے کہہ دیا عربی میں تحریر کر دیجیے، حجۃ الاسلام نے قلم برداشتہ کئی صفحات کا معائنہ نہایت ہی فصیح و بلیغ عربی میں تحریر کر دیا، اس قلم برداشتہ لکھنے پر مولانا معین کو حیرت ہو رہی تھی کیوں کہ خود ان کو اپنی عربی دانی پہ بڑا ناز تھا، جب معائنہ لکھ کر حجۃ الاسلام تشریف لے آئے تو مولانا معین ان کی واپسی کے بعد اس کا ترجمہ کرنے بیٹھے، حجۃ الاسلام کی عربی دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گئے اور لغت دیکھ دیکھ کر بدقتِ تمام اس کا ترجمہ کیا۔“ (12)

ان کے سوانح نگار نے ان کی لیاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بریلی میں خلافت کمیٹی کے جلسہ میں مولانا ابو الکلام آزاد سے مولانا سید سلیمان اشرف بہاری کا مکالمہ ہوا مولانا آزاد نے اپنے نخوتِ علم کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ پھر اس موضوع پر ہم سے مناظرہ کر لیجیے مگر مناظرہ عربی میں ہوگا، حجۃ الاسلام نے فرمایا کہ: ”منظور ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ مناظرہ میں دونوں فریق عربی کے بے نقط الفاظ استعمال کریں گے“ یہ سن کر مولانا آزاد کا پندارِ علم ٹوٹ گیا اور مناظرہ ہونے سے رہ گیا۔ (17)

حجۃ الاسلام کو عربی ادب پر اتنا ہی عبور تھا جتنا کسی اہلِ زبان کو ہوتا ہے، نثر تو نثر ہے نظم میں بھی انہیں ویسا ہی ملکہ حاصل تھا، ان کی نثر کے نمونے اعلیٰ حضرت کی عربی تصانیف: اَلدَّوْلَةُ الْمَكِّيَّةُ بِالْمَادَّةِ الْغَيْبِيَّةِ، كِفْلُ الْفَقِيْهِ الْفَاهِمِ فِيْ أَحْكَامِ قِرْطَاسِ الدَّرَاهِمِ، اَلْإِجَازَةُ الْمَتِيْنَةُ لِعُلَمَاءِ بَكَّةَ وَالْمَدِيْنَةِ، اَلْوَظِيْفَةُ الْكَرِيْمَةُ کی تمہیدوں میں محفوظ ہیں، جنہیں آپ نے برجستہ اور قلم برداشتہ لکھا ہے اور جسے دیکھ کر والدِ گرامی نے خوشی کا اظہار بھی فرمایا اور بطورِ تمہید یا مقدمہ کتاب میں شامل کرنے کی اجازت دی، مناسب ہے کہ یہاں ان کی عربی تمہیدات کے چند نمونے دے دیے جائیں۔

الدولۃ المکیہ جو علمِ غیب کے موضوع پر علمائے عرب کے سوالات کے جواب پر مشتمل ہے اور جسے امام احمد رضا نے صرف ساڑھے آٹھ گھنٹے میں قلم بند فرمایا ہے اس کی برجستہ تمہید ملاحظہ کریں جس میں پوری کتاب کا نہایت شاندار اختصار اور نصوص و آثار کا خلاصہ پیش کر دیا گیا ہے:

اَلْحَمْدُ للهِ الْعَلَّامِ الْغُيُوْبِ غَفَّارِ الذُّنُوْبِ سَتَّارِ الْعُيُوْبِ الْمُظْهِرِ مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ عَلَى السِّرِّ الْمَحْجُوْبِ وَأَفْضَلُ الصَّلٰوةِ وَأَكْمَلُ السَّلَامِ عَلٰى أَرْضٰى مَنِ ارْتَضٰى وَأَحَبِّ مَحْبُوْبٍ سَيِّدِ الْمُطَّلِعِيْنَ عَلَى الْغُيُوْبِ الَّذِيْ عَلَّمَهٗ رَبُّهٗ تَعْلِيْمًا كَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْهِ عَظِيْمًا، فَهُوَ عَلٰى كُلِّ غَائِبٍ أَمِيْنٌ وَّمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ وَّلَا هُوَ بِنِعْمَةِ رَبِّهٖ بِمَجْنُوْنٍ مَّسْتُوْرٍ عَنْهٗ مَا كَانَ وَمَا يَكُوْنُ، فَهُوَ شَاهِدُ الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوْتِ وَمُشَاهِدُ الْجَبَّارِ وَالْجَبَرُوْتِ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى اِقْتَمَرُوْنَهٗ عَلٰى مَا يَرٰى نَزَّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ فَأَحَاطَ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ وَبِعُلُوْمٍ لَّا تَنْحَصِرُ بِحَدٍّ وَّيَنْحَصِرُ دُوْنَهَا الْعَدُّ وَلَا يَعْلَمُهَا أَحَدٌ مِّنَ الْعَالَمِيْنَ فَعُلُوْمُ آدَمَ وَعُلُوْمُ الْعَالَمِ وَعُلُوْمُ اللَّوْحِ وَعُلُوْمُ الْقَلَمِ كُلُّهَا قَطْرَةٌ مِّنْ بِحَارِ عُلُوْمِ حَبِيْبِنَا صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

لِأَنَّ عُلُوْمَ مَا يُدْرِيْكَ عُلُوْمُهٗ عَلَيْهِ صَلَوَاتُ اللهِ وَتَسْلِيْمُهٗ هِيَ أَعْظَمُ رَشْحَةٍ وَّأَكْبَرُ غَرْقَةٍ مِّنْ ذٰلِكَ الْبَحْرِ الْغَيْرِ الْمُتَنَاهِيْ أَعْنِي الْعِلْمَ الْأَزَلِيَّ الْإِلٰهِيَّ فَهُوَ يَسْتَمِدُّ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْخَلْقُ يَسْتَمِدُّوْنَ مِنْهُ فَمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعُلُوْمِ إِنَّمَا هِيَ لَهٗ وَبِهٖ وَمِنْهُ وَعَنْهُ.

وَكُلُّهُمْ مِّنْ رَّسُوْلِ اللهِ مُلْتَمِسٌ
غَرْفًا مِّنَ الْبَحْرِ أَوْ رَشْفًا مِّنَ الدِّيَمِ

وَوَاقِفُوْنَ لَدَيْهِ عِنْدَ حَدِّهِمِ
مِنْ نُّقْطَةِ الْعِلْمِ أَوْ مِنْ شَكْلَةِ الْحِكَمِ

قارئینِ کرام! اس نثری نمونے میں حجۃ الاسلام کی مقفی مسجع عبارت کے ساتھ براعۃ استہلال کا کمال ملاحظہ کریں کہ علمِ غیب کے مسئلہ میں ایسی آیات اور ایسے الفاظ کا استعمال جس سے موضوعِ کتاب پہ بھرپور روشنی پڑے انہوں نے کس برجستگی سے استعمال کیے ہیں، ترجمہ اہلِ علم کے ذوقِ مطالعہ پر چھوڑتے ہوئے ان کی عربی نثر کا دوسرا نمونہ حاضر کرتا ہوں۔

نوٹ کے مسئلہ پہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی ایک مایہ ناز تصنیف کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم اپنا ثانی نہیں رکھتی جس وقت کاغذ کا نوٹ پہلی بار مارکیٹ میں آیا تو یہ سوال سامنے آیا کہ یہ جائز ہے یا نہیں تو جہاں اوروں نے جواب دیا کہ بندہ کو اس کی تحقیق نہیں وہیں امام احمد رضا نے باضابطہ اس پر عربی زبان میں ایک کتاب لکھ ڈالی جو اپنے استدلال اور زورِ بیان کے اعتبار سے انتہائی لاجواب اور بے مثل ہے، اس کی تمہید حضرت حجۃ الاسلام نے لکھی ہے اور اس میں وہ کمالِ فن دکھایا ہے کہ بقول علامہ ابراہیم خوشتر کفل الفقیہ الفاہم کی تمہید عربی زبان و بیان کے انمول جواہرات ہیں اور عربی ادب کے خزائن میں نوادرات کا حسین اضافہ ہیں اگر ان کی بات پہ یقین نہ ہو تو ذیل کا یہ اقتباس ملاحظہ کریں اور خود ہی اپنے دل کی آواز سنیں:

أَحْمَدُ الْحَمِيْدَ الْمَحْمُوْدَ حَمْدَ حَامِدًا حَمْدًا وَّأُصَلِّيْ وَأُسَلِّمُ عَلٰى أَحْمَدَ مُحَمَّدٍ اِسْمُهٗ أَحْمَدُ وَبَعْدُ فَلَمَّا تَوَجَّهَ لِلْمَسِيْرِ كَالْبَدْرِ الْمُنِيْرِ مِنْ حَضِيْضِ الْهِنْدِ إِلٰى أَوْجِ حَجِّ أُمِّ الْقُرٰى وَزِيَارَةِ حَرَمِ الْحَبِيْبِ الْمُصْطَفَى الْمُرْتَجَى الْمُرْتَضَى الْمُجْتَبٰى عَلَيْهِ أَفْضَلُ التَّحِيَّةِ وَالثَّنَاءِ مَرَّةً أُخْرٰى فِي الْعَامِ الْمَاضِيْ قَبْلَ عَامٍ خَلَا إِمَامُ أَهْلِ السُّنَّةِ السَّنِيَّةِ وَالْجَمَاعَةِ السَّنِيَّةِ مُجَدِّدُ الْمِأَةِ الْحَاضِرَةِ مُؤَيِّدُ الْمِلَّةِ الطَّاهِرَةِ سَنَامُ نُوْرِ الْإِيْمَانِ إِنْسَانُ عَيْنِ الْأَعْيَانِ الَّذِيْ لَمْ يَكْتَحِلْ بِمِثْلِهٖ طَرْفُ الْأَوَانِ قُطْبُ الْمَكَانِ وَغَوْثُ الزَّمَانِ بَرَكَةُ الْأَعْيَانِ آيَةٌ مِّنْ آيَاتِ الرَّحْمٰنِ سَيِّدِيْ وَأُسْتَاذِيْ وَوَالِدِيْ وَمَلَاذِيْ حَضْرَةُ الْمَوْلَى الْحَاجُّ الشَّيْخُ أَحْمَد رِضَاخَان أَفَاضَ اللهُ عَلَيْنَا مِنْ شَآبِيْبِ فَيْضِهِ الْمِدْرَارِ مَا تَرَنَّمَ الْهَزَارُ فَوْقَ الْأَزْهَارِ..... (18)

نثر کے بعد اب نظم کا جائزہ لیں تو یہاں بھی ایک جہانِ حیرت ہمیں متحیر کرنے کے لیے موجود ہے، اردو کی طرح برجستہ بر محل اور علمی و فنی اعتبار سے بھرپور اشعار کہنا ان کے لیے اتنا ہی آسان نظر آتا ہے جتنا غیر عربی داں کو سوچ کر بھی لکھنے میں مشکل معلوم ہوتا ہے، اس دعویٰ کی دلیل کے لیے بھی چند نمونے دیکھیں۔

امام احمد رضا کی عربی شاعری بھی اپنا جواب آپ ہے، ان کے اشعار پہ اضافہ آسان نہیں ہے، جن لوگوں نے ان کی اردو زمین میں نعتیں کہی ہیں وہ معیار و اقدار کے اعتبار سے کس پایہ کی ہیں سب کو معلوم۔ پھر ان کی عربی شاعری پہ اضافہ کتنا مشکل ہوگا اہلِ علم سوچ سکتے ہیں مگر آپ کی جانشینی کا حق ادا کرتے ہوئے حضرت حجۃ الاسلام نے اس پر معیاری اشعار کا کس طرح اضافہ فرمایا ملاحظہ کریں:

حَسْبِيَ الْخَيْرَاتُ مَا عَدَوْتُهٗ
يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْ رِضَاءِ الرَّحْمٰنِ

دِيْنُ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ خَيْرِ الْوَرٰى
ثُمَّ اعْتِقَادِيْ مَذْهَبُ النُّعْمَانِيْ

وَتَوَسُّلِيْ وَتَوَرُّدِيْ وَإِرَادَتِيْ
بِأَبِي الْحُسَيْنِ أَحْمَدَ النُّوْرَانِيْ

الدولۃ المکیہ جسے امام احمد رضا نے علمِ غیبِ مصطفیٰ سے متعلق مکہ معظمہ میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں صرف آٹھ گھنٹہ میں تحریر فرمایا۔

یہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی مایہ ناز تصنیف ہے جس پر علمائے عرب کی بڑی وقیع تقریظیں ہیں جیسے علامہ سید اسمعیل بن خلیل مدینہ شریف، شیخ العلماء محمد سعید بن محمد بابصیل مکی، مفتی شافعیہ شیخ عبد اللہ بن عبد الرحمن سراج مکی، مفتی حنفیہ، علامہ شیخ محمد عابد مکی، مفتی مالکیہ، علامہ شیخ عبد اللہ بن حمید، مکی مفتی حنبلیہ، علامہ شیخ صالح بن شیخ صدیق کمال، شیخ علامہ احمد ابوالخیر بن عبد اللہ میر داد، امام مدرس و خطیب مسجدِ حرام، مدرس مسجدِ حرام محمد علی بن شیخ صدیق کمال حنفی، استاذ العلماء مسجدِ حرام عبد اللہ بن محمد صدقہ بن زینی دحلان وغیرہ وغیرہ یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے 47 علما و شیوخ کی تقریظیں اس کتاب میں شامل ہیں، اس کتاب کی منظوم عربی تمہید کا انداز ملاحظہ فرمائیں:

وَكُلُّهُمْ مِّنْ رَّسُوْلِ اللهِ مُلْتَمِسٌ
غَرْفًا مِّنَ الْبَحْرِ أَوْ رَشْفًا مِّنَ الدِّيَمِ

وَوَاقِفُوْنَ لَدَيْهِ عِنْدَ حَدِّهِمِ
مِنْ نُّقْطَةِ الْعِلْمِ أَوْ مِنْ شَكْلَةِ الْحِكَمِ

اسی طرح حجۃ الاسلام کی مایہ ناز تالیف ”الاجازۃ المتینۃ لعلماء بکۃ والمدینۃ“ جس میں اسنادِ حدیث و سلاسلِ طریقت کا ذکر ہے، اس کی تمہید کے یہ اشعار دیکھیں:

أَلَا بِأَبِيْ مَنْ كَانَ مَلِكًا وَّسَيِّدًا
وَآدَمُ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّيْنِ وَاقِفُ

إِذَا رَامَ أَمْرًا لَّا يَكُوْنُ خِلَافُهٗ
وَلَيْسَ لِذٰلِكَ الْأَمْرِ فِي الْكَوْنِ صَارِفُ

فَقَرَّبَهٗ تَقْرِيْبًا وَّجَعَلَهُ الْإِكْرَامُ
حَبِيْبًا وَّوَاصَلَهٗ مِنَ الْقُلُوْبِ الْمَحَلُّ جَلِيْلُ

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے خلیفہ مولانا برہان الحق جبل پوری کی کتاب ”اجلال الیقین بتقديس سید المرسلین“ پر منظوم تقریظ کا رنگ دیکھیں:

أَحْمَدُ اللهَ خَالِقَ النَّسَمِ
ذَارِءَ اللَّوْحِ بَارِءَ الْقَلَمِ

وَنُصَلِّيْ عَلَى الْحَبِيْبِ لَهٗ
أَعْلَمُ الْخَلْقِ خَيْرُ كُلِّهِمِ

وَعَلٰى آلِهٖ وَأَصْحَابِهٖ
مَا تَمُرُّ السَّحَابُ بِالدِّيَمِ

عَنِ الْحَقِّ فِيْهِ يَا بُرْهَانُ
مُسَمَّاهُ لِاسْمِكَ كَسَمِ

بریلی شریف جنکشن کی مسجد جب بن کر تیار ہوئی اور اس کی تاریخ کے لیے بعض احباب نے فرمائش کی تو شیخ الانام، حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی محمد حامد رضا خاں قادری برکاتی بریلوی نے برجستہ یہ قطعہِ تاریخ تحریر فرمایا ہے:

إِنَّمَا يَعْمُرُ لِمَسَاجِدِ مَنْ
آمَنَ بِالْإِلٰهِ وَالْأُخْرٰى

مَنْ بَنَاهُ بَنٰى لَهُ اللهُ
بَيْتَ دُرٍّ بِجَنَّةِ الْمَأْوٰى

شَكَرَ اللهُ سَعْيَ قَيِّمِهٖ
عَمَّرَ حَامِدُ رِضَا شَفِيْقُ رِضَا

قُلْتُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى
مَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى

28 + 3 + 1 = 1332

[معارفِ رضا، کراچی شمارہ ہفتم 1987ء]

الدولۃ المکیہ پر علما و شیوخِ عرب نے عربی میں تقریظیں لکھی ہیں بعض نے منظوم تقریظ لکھی ہے اور بعض نے تقاریظ میں اشعار بھی استعمال کیے ہیں اور اس میں مصنفِ کتاب کو بڑے بڑے القابات سے نوازا یہاں اس کا ذکر میرے مضمون کا حصہ نہیں، اس کی مکمل تفصیل کے لیے ماہرِ رضویات پروفیسر مسعود احمد مظہری کی مؤلفہ کتاب ”امام احمد رضا علمائے حجاز کی نظر میں“ کا مطالعہ مفید ہوگا، الدولۃ المکیہ کے ذکر کا مقصد یہ تھا کہ اس کتاب کا ترجمہ کیا ہے، حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا نے، آپ خود عربی زبان کے ماہر زبان داں تھے جیسا کہ اس سے پہلے گزرا آپ کی یہ قابلیت اس کتاب کے ترجمہ سے بھی ظاہر ہے، منظوم کتاب کا منظوم ترجمہ اور نثر میں شامل اشعار کا اشعار میں ترجمہ عربی ادب پر حجۃ الاسلام کی مہارتِ تامہ کی دلیل ہے اس حوالہ سے چند شواہد دیکھیں، اس کتاب پہ منظوم تقریظ حضرت شیخ عبد القادر محمد بن سودہ القرشی کی ہے ان کے بعض اشعار ہیں:

أَيُّهَا النَّاظِرُ فِيْهَا
اُنْظُرِ الْحَقَّ يَقِيْنًا

فَهِيَ وَاللهِ أَسَاسٌ
وَهِيَ نُوْرُ الْمُؤْمِنِيْنَا

وَيَخْفَى النُّوْرُ حَقًّا
مِنْ نُّجُوْمٍ ظَاهِرِيْنَا

نُوْرُهُمْ فِي الْهِنْدِ ظَاهِرٌ
مِنْ جَمِيْعِ الْمُؤْمِنِيْنَا

عَالِمُ الْخَمْسِ يَقِيْنًا
بَلْ رَأَى الْحَقَّ مُبِيْنًا

حجۃ الاسلام نے ان کا منظوم ترجمہ یوں کیا ہے:

اے مرے پیارے ناظریں
حق ہے یہ رسالہ بالیقیں

واللہ وہ ہیں اصلِ دیں
نور و ضیائے مؤمنین

کیا نور سچ مچ چھپ رہے
انجم سے جب ہو سب کھلے

یہ نورِ ہند کا نور ہے
مسلم میں جس کا ظہور ہے

اسے علمِ خمس ہے بالیقیں
کہ خدا بھی اس سے چھپا نہیں

اسی طرح حرمِ شریف میں مدرس علامہ شاہ عطیہ محمود نے تقریظ لکھی:

للهِ دَرُّ مُؤَلِّفٍ أَهْدٰى لَنَا
دُرَّ الْقُدُوْحِ شَرَحَ الصُّدُوْرَ صُدُوْرُهٗ

أَهْدَتْهُ لِلْأَرْوَاحِ رَاحَةَ أَحْمَدَ
قَسَمًا وَّطَابَ لَدَى الْأَنَامِ سُرُوْرُهٗ

قَدْ صَاغَ جَوْهَرَهٗ بِمَكَّةَ فَازْدَهٰى
وَازْدَادَ فَضْلًا حَيْثُ تَمَّ ظُهُوْرُهٗ

لَا شَكَّ أَنَّ الْأَرْضَ الْإِلٰهِ وَأَحْمَدًا
هٰذَا الشَّنِيْعُ الْمُشْرِقَاتُ بُدُوْرُهٗ

يَا مَنْ تَرُوْمُ الْعِلْمَ بَادِرُوْا وَاغْتَنِمْ
رَوْضَ الْعُلُوْمِ الْفَائِحَاتِ زُهُوْرُهٗ

حجۃ الاسلام نے اس کا ترجمہ کتنا سلیس کیا ہے ملاحظہ فرمائیں:

دستِ رضا نے جام دیا ارمغاں جاں
جس سے بلند خلق کا کیف و سرور ہے

مکہ میں ناز اس کے ڈھلے ناز ہے تو یہ
فضل و شرف بڑھا کہ وہاں کا یہ نور ہے

پاکیزہ برگزیدہِ حق اس کا ہے گر کہوں
تحریرِ آبِ زر سے نگارِ سطور ہے

اللہ و مصطفیٰ کے حرم ارضِ محترم
وہ آسمانِ علم یہ بدر الدرور ہے

جلد آؤ شائقو کہ غنیمت ہے باغِ علم
مہکے چمن علوم کے فوزہور ہے

اس طرح کے نمونے ان کی مختلف کتابوں میں موجود ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حضرت حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ عربی نثر پہ عربی نژاد کی طرح قدرت و مہارت رکھتے تھے، ان کی کتابیں جن کا تذکرہ اوپر مذکور ہوا اہلِ علم کے مطالعہ کی زینت کے لیے بیقرار ہیں ضرورت ہے کہ خالص علمی نقطہِ نگاہ سے ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے مجھے یقین ہے کہ مطالعہ کے بعد ہر قاری کا یہی تاثر ہوگا کہ حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان دیگر علوم و فنون کی طرح عربی ادب پہ بھی کامل دستگاہ رکھتے تھے اور ہندوستان میں عربی ادب کی خدمت کرنے والوں میں آپ کا قابلِ ذکر اور ناقابلِ فراموش کردار ہے۔

حواشی:

  1. شواہد کے لیے مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ کیا جائے: فتاویٰ افریقہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا، امام احمد رضا اور علمائے عرب/ پروفیسر مسعود احمد مظہری، امام احمد رضا اور علمائے عرب پروفیسر مسعود احمد مظہری، امام احمد رضا اور علمائے مکہ بہاؤ الدین زکریا شاہ، خلفائے امام احمد رضا۔
  2. فقیہِ اسلام ڈاکٹر حسن رضا خاں، تصانیفِ امام احمد رضا، رضا بک ریویو کا رضویات کا اشاریہ نمبر۔
  3. فقیہِ اسلام ڈاکٹر حسن رضا خاں، تصانیفِ امام احمد رضا مولانا عبد المبین نعمانی، رضا بک ریویو کا رضویات کا اشاریہ نمبر۔
  4. معارفِ رضا، کراچی شمارہ ہفتم (1987ء)
  5. حضرت محبی کا اصل نام عبد الرحمن ہے، آپ اپنے عہد کے جید عالم و عارف اور کثیر التصانیف مصنف تھے، آپ کے مکمل حالات مفتی محمود احمد رفاقتی کی کتاب تذکرہِ علمائے اہلِ سنت اور مولانا ریحان رضا انجم کی مرتبہ ”سرکار محبی نمبر“ میں موجود ہیں۔
  6. یہ سنہ 1315ھ مطابق 1900ء کا واقعہ ہے۔ اس موقع پر احمد رضا معروف محقق قاضی عبد الودود کے والد حضرت قاضی عبد الوحید فردوسی علیہ الرحمہ کی منعقدہ سات روزہ کانفرنس میں پٹنہ تشریف لائے ہوئے تھے۔
  7. تذکرہِ جمیل مولانا ابراہیم خوشتر انگلینڈ، اسی موقع پر حضرت حجۃ الاسلام سیتا مڑھی کے مشہور گاؤں پوکھریرا تشریف لے گئے اور یہیں سے ہماری بستی ”رضا باغ گنگٹی“ بھی میرے والد عبد الغفور خاں حامدی اور ان کے برادران عبد الشکور خان وغیرہ کی دعوت پر تشریف لائے اور تقریباً سات روز قیام فرمایا۔
  8. محدثِ بریلوی اور علمائے مکہ، ص: 251
  9. محدثِ بریلوی اور علمائے مکہ
  10. محدثِ بریلوی اور علمائے مکہ
  11. معارفِ رضا، ہفتم (شمارہ 1997ء)
  12. بروایت امینِ شریعت مفتی عبد الواحد قادری مدظلہ
  13. تذکرہِ جمیل
  14. تذکرہِ جمیل
  15. فتاویٰ حامدیہ
  16. ابو الکلام کی تاریخی شکست
  17. الدولۃ المکیہ
  18. کفل الفقیہ الفاہم
  19. تجلیاتِ حجۃ الاسلام ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی
  20. تاریخِ مشائخِ قادریہ
  21. فتاویٰ حامدیہ ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی، ص: 58
  22. فتاویٰ حامدیہ ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی، ص: 59

[ماہنامہ سنی دنیا، فروری 2018ء، ص: 36 تا 41]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!