| عنوان: | یہ خموشی فغان نہ بن جائے (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر محمد امجد رضا امجد |
| پیش کش: | ام رباب امجدی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
قائدِ اہلِ سنت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ نے کبھی فرمایا تھا کہ پریس کی بدولت صرف گھنٹوں میں شقاوتوں کا یہ عالمگیر سیلاب امنڈ سکتا ہے۔ [جام نور، کلکتہ، 1969ء] اور یہ المناک حقیقت ہے کہ 32 سال بعد دہلی سے نکلنے والے اسی جامِ نور نے اپنی نیک نامی کی صبح سے بدنامی کی شام تک شقاوتوں کا ایک عالمگیر سیلاب برپا کر دیا، آج جماعتِ اہلِ سنت میں نو واردوں کی طرف سے جماعتی موقف پہ شب خون مارنے کے ساتھ بزرگوں کی پگڑی اچھالنے کی جو مکروہ روایت چل پڑی ہے وہ جامِ نور (دہلی) ہی کی دین ہے، اہلِ حق کی سرزنش و احتساب سے جامِ نور تو اپنے ”منطقی انجام“ تک پہنچ گیا مگر اس کی لگائی ہوئی آگ کی چنگاریاں اب بھی موجود ہیں بلکہ اہلِ ہویٰ و ہوس کے تیل چھڑکنے سے چنگاریاں شعلہِ جوالہ بننے پر آمادہ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کی لالچ میں خود کش حملے کرنے والوں کی طرح کارِ ثواب اور دین کی خدمت سمجھ کر جماعتی موقف اور جماعتِ اہلِ سنت کے اکابر پہ حملے کر رہے ہیں اور اُن کا سب سے بڑا نشانہ ابھی حضور تاج الشریعہ ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود ذمہ داروں نے سکوت کا صومِ وصال رکھا ہوا ہے جس سے ان سر پھروں کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں اور آئے دن یہ کوئی نہ کوئی شوشہ ایسا ضرور چھوڑتے ہیں جس سے افرا تفری کا ماحول پیدا ہو اور جماعت کے افراد آپس میں دست و گریباں ہو جائیں، ان ذمہ داروں کی خاموشی کیوں اور کتنی پراسرار ہے یہ بتانا تو مشکل ہے مگر اس سے جو خدشات پیدا ہو رہے ہیں وہ بتانے سے زیادہ محسوس کرنے کے ہیں کہ اس سے فتنے مستحکم ہو رہے ہیں اور سر پھرے شرر آمادہ ہیں، جس کی تازہ مثال تین طلاق کے مسئلہ پہ ذیشان مصباحی کی وہابیوں کی حمایت ہے۔ ان حضرات کو جماعتی تحفظ سے زیادہ شاید ذات کا تحفظ پیارا ہے ورنہ یہ ایسی کوئی معمولی بات نہیں تھی جس پر خاموشی کی چادر لپیٹ دی جائے، ہمارے بزرگوں کی روایت رہی کہ برسرِ منبر کسی کی غلط بات سنی تو وہیں ٹوکا اور اس کی اصلاح کی مگر یہاں معمولات سے عقائد تک کے خلاف بات کرنے کے باوجود کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں، ایک فتنہِ مسلسل ہے جو سر ابھارے چلا جا رہا ہے، کبھی اہلِ قبلہ کی تکفیر کا مسئلہ اٹھایا گیا اور جماعتِ اہلِ سنت کی پوری تاریخ مسخ کرنے کی پہل کر دی گئی مگر احتساب کے نام پر خاموشی، تقلید بیزاری کی تعلیم دی گئی مگر باز پرس سے احتراز، وہابیوں کے امام ابن تیمیہ اور ابن قیم کے خطبے پڑھے گئے مگر سرزنش سے گریز، اقامت کے مسئلہ میں دیابنہ کی روش اختیار کی گئی مگر دم نہ کشیدم کا مظاہرہ، علمِ غیب کے مسئلے پہ علما کی محققانہ و مخلصانہ جدوجہد کو لایعنی کہا گیا مگر دیدہِ تحیر پہ قناعت، تین طلاق کے مسئلہ میں مضامین لکھ کر غیر مقلدین کے موقف کی تائید میں سر جوڑ کوشش کی گئی مگر مواخذہ کے نام پر صومِ سکوت۔
یہ تصویر کی ایک صورت ہے جس کا سیدھا تعلق ہمارے جماعتی حریف سے ہے اور اس سے عقائد میں تصلب کے کمزور ہونے کا خدشہ ہے، یہ منفی فکر اگر اسکول اور کالج کے فیض یافتگان کی طرف سے ہوتی تو افسوس کم ہوتا مگر یہ تو مدارسِ اہلِ سنت کے فارغین ہیں اُن کی فکری بغاوت کیسے برداشت کی جائے؟
دوسری صورت ان قدیم مسائل کو چھیڑ کر جماعت میں انتشار پیدا کرنے کی ہے جس پر جماعت کا اجماع ہے، کچھ شر پسند عناصر دانستہ اور مخصوص ذہنیت کے تحت وقفہ وقفہ سے ان مسائل کو چھیڑ رہے ہیں جن سے جماعتی اتحاد پارہ پارہ ہو جائے، یہ صورت بھی ایسی نہیں کہ اسے معمولی سمجھ کر چھوڑ دیا جائے، اس سے جہاں سرکار اعلیٰ حضرت کی تحقیقات سے اختلاف کا دروازہ کھولنا مقصود ہے وہیں جماعت میں انتشار پیدا کرنا بھی کہ امام احمد رضا ملی وحدت کی ضمانت اور اتحادِ باہمی کا بنیادی مرکز ہیں، یہ سوچنے کی بات ہے کہ جب اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی تحقیقات پہ اکابرِ اہلِ سنت نے اعتماد کیا کسی اور کو بایں کوتاہ علمی و فہمی ان سے اختلاف کی اجازت کیونکر مل سکتی ہے؟ پھر یہ بھی دیکھنے کی چیز ہے ان پر اعتماد کا جو زریں عہد گزرا ہے اس میں جماعت میں کہیں کوئی انتشار نہیں ہے، پھر ان سے اختلاف کے دروازے کو وا کرنا انتشار کو ہوا دینا نہیں تو اور کیا ہے؟ مگر جنونیوں کا ایک دستہ ہے جو مسئلہِ سماع، مزارات پہ عورتوں کی حاضری، قراءت خلف الامام، طوافِ مزارات، دونوں ہاتھ سے مصافحہ کے عنوانات سے جماعتی اتحاد کو پتوں کی طرح بکھیرنے میں کوشاں ہے، اب اس طوفانِ بلا خیز کے بعد بھی احتساب و سرزنش کے بجائے سکوتِ حوصلہ نواز سے کام لیا جائے تو اس کی تحسین کی جا سکتی ہے؟
اس خاموش مزاجی کا تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے شر پسند عناصر کی شر انگیزیاں بڑھ رہی ہیں، اب جماعتِ اہلِ سنت کے اکابر کے خلاف لکھنا بولنا ایسے ہی ہے جیسے تلامذہ اور ماتحت افراد کے خلاف لکھنا اور بولنا۔ اس جارحیت کا سب سے بڑا نشانہ ابھی حضور تاج الشریعہ ہیں۔ آئے دن سوشل میڈیا پہ ایسی تحریریں ڈالی جاتی ہیں جس میں انہیں نشانہ بنایا گیا ہو، یہ لکھنے بولنے والے وہی لوگ ہیں اور انہی کے نمائندے ہیں جو جماعتی موقف پہ چٹان کی طرح اڑے رہنے کے سبب ان سے شاکی اور ان کی مقبولیت سے نالاں ہیں۔ ایسے افراد یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مقبولیت کسبی نہیں وہبی ہوتی ہے اور جسے اللہ تعالیٰ قبول فرما لے اس کی مخالفت خدا سے جنگ لینے کے مترادف ہے، تاج الشریعہ ”پدرم سلطان بود“ والے پیر نہیں بلکہ خود ہی سلطان ہیں اور ان کی سلطانی مسلم ہے، پروردگارِ عالم نے انہیں علم و فن میں یگانہ، تصوف و معرفت میں یکتا، خلق و کرم میں ممتاز اور پیرویِ سنت میں امامِ اعظم بنایا ہے، عالمِ شباب سے عمر کی اس منزل تک اپنے ہر عمل میں رضائے الہی کی طلب نے اس مرتبہِ کمال تک پہنچا دیا ہے کہ آج ہر آنکھ آپ کی دید کی طالب، ہر دلِ محبت کیش آپ کا تمنائی اور ہر صالح ذہن فرد آپ کا شیدائی ہے، عالمی سطح پر ابھی جو مقبولیت آپ کی ہے اس سے یہ حقیقت عیاں ہے کہ خلقِ خدا کے دل میں آپ کی محبت ڈال دی گئی ہے اور یہ یقیناً اللہ کے ولی کی پہچان ہے۔
ہمارے بعض کرم فرماؤں نے حقائق سے آنکھیں موند کر جس طرح اکابر کی کردار کشی کو بطورِ مہم اپنا رکھا ہے اس کے نتائج کتنے بھیانک ہوں گے اس کا اندازہ انہیں اس وقت ہوگا جب حضور تاج الشریعہ کے سایہِ کرم سے محروم ہو جائیں گے، انہوں نے یہ دیکھا کہ تاج الشریعہ نے کسی معروف خطیب کے خلاف شرعی محاسبہ کیا ہے مگر یہ نہیں دیکھا کہ اس شرعی محاسبہ کے اسباب کیا ہیں؟ بعض سنی تنظیموں کے خلاف تاج الشریعہ کی برہمی دیکھی مگر ان تنظیموں کی قابلِ گرفت حرکتیں نہیں دیکھیں، بعض اہلِ خانقاہ سے ان کا اعراض دیکھا مگر ان صاحبانِ جبہ و دستار کی صوفیانہ روش نہیں دیکھی، ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف ان کا سخت احتجاج اور مجاہدانہ کردار دیکھا مگر طاہر القادری کے پردے میں چھپے دین کے غاصب کو نہیں دیکھا۔ ان تمام سانحات کی تفصیل مختلف کتابوں میں بھری پڑی ہے، انہیں دیکھے بغیر علمی و شرعی گرفت کرنے والے کے خلاف واویلا مچانا کہاں کی دانشمندی ہے؟ اب بھی چور کا ہاتھ کاٹنے والا مجرم مگر چوری کرنے والا متقی؟ سنگساری کا حکم دینے والا مجرم مگر مرتکبِ زنا مظلوم؟ دین کے باغیوں کی گرفت کرنے والا مجرم مگر دین سے کھلواڑ کرنے والا محبوب؟ کیا اس کا نام دینی شعور اور پختہ ایمانی ہے؟
(جاری)
