| عنوان: | والدین |
|---|---|
| تحریر: | سعدیہ نوری |
| پیش کش: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
انسان جب اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو وہ نہایت کمزور، بے بس اور محتاج ہوتا ہے۔ نہ اسے بولنا آتا ہے، نہ چلنا، نہ اپنی ضرورت کا اظہار کرنا۔ ایسے عالم میں دو ہستیاں اس کی زندگی کا سہارا بنتی ہیں: والدین۔ وہ اپنی نیندیں قربان کرتے ہیں، اپنی راحتیں چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی خواہشات کو دبا دیتے ہیں، تاکہ ان کی اولاد سکون سے جی سکے۔
ماں راتوں کو جاگتی ہے، باپ دن بھر محنت کرتا ہے، اور دونوں اپنی زندگی کو اولاد کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ ان کی محبت میں کوئی غرض نہیں ہوتی، کوئی لالچ نہیں ہوتا، بلکہ خالص ایثار اور قربانی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ سچی محبت اگر کہیں ملتی ہے، تو وہ والدین کے دل میں ملتی ہے۔
ماں کی آغوش وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں انسان محبت، شفقت، نرمی اور ایثار کا سبق سیکھتا ہے۔ بچہ جب روتا ہے تو سب سے پہلے ماں کا دل تڑپتا ہے، اور جب وہ مسکراتا ہے، تو ماں کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھتی ہیں۔ ماں اپنی بھوک اور پیاس کو برداشت کر لیتی ہے، مگر اپنے بچے کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔
دوسری طرف باپ وہ مضبوط سایہ ہے جو زندگی کی سخت دھوپ میں اولاد کو محفوظ رکھتا ہے۔ وہ اپنی پریشانیوں کو چھپا کر اولاد کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ باپ کی محبت بظاہر سختی میں چھپی ہوتی ہے، مگر حقیقت میں وہ بھی بے حد گہری اور سچی ہوتی ہے۔
والدین کی شفقت اور محبت ایسی نعمت ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔ دنیا کی کوئی دولت، کوئی کامیابی اور کوئی آسائش اس محبت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ وہ اپنی خوشیوں کو اولاد پر نچھاور کر دیتے ہیں اور خود ہر تکلیف کو خاموشی سے سہہ لیتے ہیں۔ اولاد کی ایک مسکراہٹ کے لیے وہ اپنی زندگی کی ساری خوشیاں قربان کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے والدین کے مقام کو بہت بلند رکھا ہے اور ان کے حقوق کو نہایت اہم قرار دیا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے مقام کو اپنی عبادت کے ساتھ جوڑ کر بیان فرمایا ہے: وَقَضٰى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوْا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا [بنی اسرائیل: 23]
ترجمہ (کنز الایمان): ”اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔“
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ والدین کی خدمت اور ان کی اطاعت دینِ اسلام کا ایک اہم ستون ہے۔
اسی آیت میں مزید تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا: فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا [بنی اسرائیل: 23]
ترجمہ (کنز الایمان): ”تو انہیں اف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو۔“
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ والدین کے ساتھ معمولی سی ناگواری کا اظہار بھی مناسب نہیں۔ ہمیں ان کے سامنے ہمیشہ ادب، نرمی اور احترام کا مظاہرہ کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے دل کو دکھانا اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے کے مترادف ہے۔
اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے: وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ [بنی اسرائیل: 24]
ترجمہ (کنز الایمان): ”اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا دے نرم دلی سے۔“
اس آیت میں والدین کے ساتھ عاجزی، محبت اور شفقت کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رویے میں نرمی پیدا کریں اور ان کے ساتھ انتہائی محبت سے بات کریں۔
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: أَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ [لقمان: 14]
ترجمہ (کنز الایمان): ”میرا شکر کر اور اپنے ماں باپ کا۔“
یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جس طرح ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے والدین کے احسانات کا بھی شکر گزار ہونا چاہیے، کیونکہ وہی ہمارے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کے مقام کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ ... فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلَيْهَا ترجمہ: ”اس کی خدمت لازم پکڑ لو، کیونکہ جنت اس کے قدموں کے نیچے ہے۔“ [مسند احمد: 15593]
یہ حدیث ماں کی عظمت کو واضح کرتی ہے کہ اس کی خدمت انسان کو جنت تک پہنچا سکتی ہے۔
ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا: رِضَا الرَّبِّ فِي رِضَا الْوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ ترجمہ: ”اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔“ [ترمذی: 1899]
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ والد کی خوشی اللہ تعالیٰ کی خوشی کا ذریعہ ہے، لہٰذا ہمیں ہمیشہ ان کو راضی رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ایک اور حدیث میں آتا ہے: ... أُمُّكَ ... أُمُّكَ ... أُمُّكَ ... ثُمَّ أَبُوْكَ ترجمہ: ”تمہاری ماں، تمہاری ماں، تمہاری ماں، پھر تمہارا باپ۔“ [بخاری: 5971]
یہ حدیث ماں کے مقام کو تین گنا زیادہ بیان کرتی ہے، جو اس کی قربانیوں اور محبت کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے۔
والدین وہ چراغ ہیں جو خود جل کر ہماری راہوں کو روشن کرتے ہیں۔ وہ ہماری ہر خوشی میں خوش ہوتے ہیں، اور ہماری ہر تکلیف پر پریشان ہوتے ہیں۔ ان کی دعائیں ہماری زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتی ہیں۔
والدین کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے ہمیشہ خیر اور بھلائی کی دعا کرتے ہیں۔ ان کی دعا انسان کی تقدیر بدل سکتی ہے اور زندگی میں کامیابی کے دروازے کھول سکتی ہے۔ آج کے دور میں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے لوگ دنیا کی مصروفیات میں کھو کر والدین کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وہی والدین جو کبھی ان کے لیے سب کچھ تھے، آج ان کی توجہ کے محتاج بن جاتے ہیں۔
والدین کی خدمت صرف ایک ذمہ داری نہیں بلکہ ایک عظیم سعادت ہے۔ ان کے ساتھ بیٹھنا، ان کی باتیں سننا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا اور ان کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھنا ایک نیک انسان کی پہچان ہے۔ خصوصاً بڑھاپے میں والدین کو زیادہ محبت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت ان کا سہارا بننا، ان کی خدمت کرنا اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنا ہماری ذمہ داری ہے۔
جو اولاد اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کی زندگی میں برکت عطا فرماتا ہے، اس کے رزق میں اضافہ کرتا ہے اور اسے دنیا و آخرت میں کامیابی دیتا ہے۔ اور جو لوگ اپنے والدین کی نافرمانی کرتے ہیں، وہ نہ صرف دنیا میں پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں، بلکہ آخرت میں بھی سخت سزا کے مستحق بنتے ہیں۔
والدین اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہیں۔ ان کی خدمت، اطاعت اور محبت ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی قدر کریں، ان کے حقوق ادا کریں اور ہمیشہ ان کے لیے دعا کرتے رہیں، تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکیں۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
