| عنوان: | احرام کے احکام |
|---|---|
| تحریر: | صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی |
| پیش کش: | قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
۱) یہ تو پہلے معلوم ہو چکا ہے کہ ہندیوں کے لیے میقات (جہاں سے احرام باندھنے کا حکم ہے) کوہِ یلملم کی محاذات ہے۔ یہ جگہ کامران سے نکل کر سمندر میں آتی ہے، جب جدہ دو تین منزل رہ جاتا ہے جہاز والے اطلاع دے دیتے ہیں، پہلے سے احرام کا سامان تیار رکھیں۔
۲) جب وہ جگہ قریب آئے، مسواک کریں اور وضو کریں اور خوب مل کر نہائیں، نہ نہا سکیں تو صرف وضو کریں یہاں تک کہ حیض و نفاس والی اور بچے بھی نہائیں اور باطہارت احرام باندھیں یہاں تک کہ اگر غسل کیا پھر بے وضو ہو گیا اور احرام باندھ کر وضو کیا تو فضیلت کا ثواب نہیں اور پانی ضرر کرے تو اس کی جگہ تیمم نہیں، ہاں اگر نمازِ احرام کے لیے تیمم کرے تو ہو سکتا ہے۔
۳) مرد چاہیں تو سر منڈالیں کہ احرام میں بالوں کی حفاظت سے نجات ملے گی ورنہ کنگھا کر کے خوشبودار تیل ڈالیں۔
۴) غسل سے پہلے ناخن کتریں، خط بنوائیں، موئے بغل و زیرِ ناف دور کریں بلکہ پیچھے کے بھی کہ ڈھیلا لیتے وقت بالوں کے ٹوٹنے اکھڑنے کا قصہ نہ رہے۔
۵) بدن اور کپڑوں پر خوشبو لگائیں کہ سنت ہے، اگر خوشبو ایسی ہے کہ اُس کا جرم باقی رہے گا جیسے مشک وغیرہ، کپڑوں میں نہ لگائیں。
۶) مرد سلے کپڑے اور موزے اتار دیں ایک چادر نئی یا دھلی اوڑھ لیں اور ایسا ہی ایک تہبند باندھیں۔ یہ کپڑے سفید اور نئے بہتر ہیں اور اگر ایک ہی کپڑا پہنا جس سے سارا ستر چھپ گیا جب بھی جائز ہے۔ بعض عوام یہ کرتے ہیں کہ اسی وقت سے چادر داہنی بغل کے نیچے کر کے دونوں پلو بائیں مونڈھے پر ڈال دیتے ہیں یہ خلافِ سنت ہے، بلکہ سنت یہ ہے کہ اس طرح چادر اوڑھنا طواف کے وقت ہے اور طواف کے علاوہ باقی وقتوں میں عادت کے موافق چادر اوڑھی جائے یعنی دونوں مونڈھے اور پیٹھ اور سینہ سب چھپا رہے۔
۷) جب وہ جگہ آئے اور وقتِ مکروہ نہ ہو تو دو رکعت بہ نیتِ احرام پڑھیں، پہلی میں فاتحہ کے بعد قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ دوسری میں قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ پڑھے۔
۸) حج تین طرح کا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ نرے حج کرے، اسے افراد کہتے ہیں اور حاجی کو مفرد۔ اس میں بعد سلام یوں کہے:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَيَسِّرْهُ لِي وَتَقَبَّلْهُ مِنِّي، نَوَيْتُ الْحَجَّ وَأَحْرَمْتُ بِهِ مُخْلِصًا لِلّٰهِ تَعَالَى
دوسرا یہ کہ یہاں سے نرے عمرے کی نیت کرے، مکہ معظمہ میں حج کا احرام باندھے اسے تمتع کہتے ہیں اور حاجی کو متمتع۔ اس میں یہاں بعد سلام یوں کہے:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَيَسِّرْهَا لِي وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي، نَوَيْتُ الْعُمْرَةَ وَأَحْرَمْتُ بِهَا مُخْلِصًا لِلّٰهِ تَعَالَى
تیسرا یہ کہ حج و عمرہ دونوں کی یہیں سے نیت کرے اور یہ سب سے افضل ہے اسے قران کہتے ہیں اور حاجی کو قارن۔ اس میں بعد سلام یوں کہے:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ فَيَسِّرْهُمَا لِي وَتَقَبَّلْهُمَا مِنِّي، نَوَيْتُ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ وَأَحْرَمْتُ بِهِمَا مُخْلِصًا لِلّٰهِ تَعَالَى
اور تینوں صورتوں میں اس نیت کے بعد لبیک بآواز کہے۔ لبیک یہ ہے:
لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ
جہاں جہاں وقف کی علامتیں بنی ہیں وہاں وقف کرے۔ لَبَّيْكَ تین بار کہے اور درود شریف پڑھے پھر دعا مانگے۔ ایک دعا یہاں پر یہ منقول ہے:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رِضَاكَ وَالْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَضَبِكَ وَالنَّارِ
اور یہ دعا بھی بزرگوں سے منقول ہے:
اَللّٰهُمَّ أَحْرَمَ لَكَ شَعْرِي وَبَشَرِي وَعَظْمِي وَدَمِي مِنَ النِّسَاءِ وَالطِّيبِ وَكُلِّ شَيْءٍ حَرَّمْتَهُ عَلَى الْمُحْرِمِ، أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَكَ الْكَرِيمَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ بِيَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ، لَبَّيْكَ ذَا النَّعْمَاءِ وَالْفَضْلِ الْحَسَنِ، لَبَّيْكَ مَرْغُوبًا وَمَرْهُوبًا إِلَيْكَ، لَبَّيْكَ إِلَهَ الْخَلْقِ، لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ حَقًّا حَقًّا تَعَبُّدًا وَرِقًّا، لَبَّيْكَ عَدَدَ التُّرَابِ وَالْحَصَى، لَبَّيْكَ ذَا الْمَعَارِجِ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ مِنْ عَبْدٍ أَبَقَ إِلَيْكَ، لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ فَرَّاجَ الْكُرُوبِ، لَبَّيْكَ أَنَا عَبْدُكَ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ غَفَّارَ الذُّنُوبِ، لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلَى أَدَاءِ فَرْضِ الْحَجِّ وَتَقَبَّلْهُ مِنِّي وَاجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لَكَ وَآمَنُوا بِوَعْدِكَ وَاتَّبَعُوا أَمْرَكَ وَاجْعَلْنِي مِنْ وَفْدِكَ الَّذِينَ رَضِيتَ عَنْهُمْ وَأَرْضَيْتَهُمْ وَقَبِلْتَهُمْ
اور لبیک کی کثرت کریں، جب شروع کریں تین بار کہیں۔
مسئلہ (۱): لبیک کے الفاظ جو مذکور ہوئے اُن میں کمی نہ کی جائے، زیادہ کر سکتے ہیں بلکہ بہتر ہے مگر زیادتی آخر میں ہو درمیان میں نہ ہو۔ (جوہرہ)
مسئلہ (۲): جو شخص بلند آواز سے لبیک کہہ رہا ہے تو اُس کو اس حالت میں سلام نہ کیا جائے کہ مکروہ ہے اور اگر کر لیا تو ختم کر کے جواب دے، ہاں اگر جانتا ہو کہ ختم کرنے کے بعد جواب کا موقع نہ ملے گا تو اس وقت جواب دے سکتا ہے۔ (منسک)
مسئلہ (۳): احرام کے لیے ایک مرتبہ زبان سے لبیک کہنا ضروری ہے اور اگر اس کی جگہ سُبْحَانَ اللّٰهِ، یا اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ یا کوئی اور ذکرِ الٰہی کیا اور احرام کی نیت کی تو احرام ہو گیا مگر سنت لبیک کہنا ہے۔ (عالمگیری وغیرہ) گونگا ہو تو اسے چاہیے کہ ہونٹ کو جنبش دے۔
مسئلہ (۴): احرام کے لیے نیت شرط ہے اگر بغیر نیت لبیک کہا احرام نہ ہوا۔ یوہیں تنہا نیت بھی کافی نہیں جب تک لبیک یا اس کے قائم مقام کوئی اور چیز نہ ہو۔ (عالمگیری)
مسئلہ (۵): احرام کے وقت لبیک کہے تو اس کے ساتھ ہی نیت بھی ہو یہ بارہا معلوم ہو چکا ہے کہ نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں۔ دل میں ارادہ نہ ہو تو احرام ہی نہ ہوا اور بہتر یہ ہے کہ زبان سے بھی کہے، مثلاً قران میں لَبَّيْكَ بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ اور تمتع میں لَبَّيْكَ بِالْعُمْرَةِ اور افراد میں لَبَّيْكَ بِالْحَجِّ کہے۔ (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ (۶): دوسرے کی طرف سے حج کو گیا تو اُس کی طرف سے حج کرنے کی نیت کرے اور بہتر یہ کہ لبیک میں یوں کہے لَبَّيْكَ عَنْ فُلَانٍ یعنی فلاں کی جگہ اُس کا نام لے اور اگر نام نہ لیا مگر دل میں ارادہ ہے جب بھی حرج نہیں۔ (منسک)
مسئلہ (۷): سونے والے یا مریض یا بیہوش کی طرف سے کسی نے احرام باندھا تو وہ مُحرم ہو گیا جس کی طرف سے احرام باندھا گیا مُحرِم کے احکام اس پر جاری ہوں گے، کسی ممنوع کا ارتکاب کیا تو کفارہ وغیرہ اسی پر لازم آئے گا، اس پر نہیں جس نے اس کی طرف سے احرام باندھ دیا اور احرام باندھنے والا خود بھی مُحرِم ہے اور جرم کیا تو ایک ہی جزا واجب ہوگی دو نہیں کہ اس کا ایک ہی احرام ہے۔ مریض اور سونے والے کی طرف سے احرام باندھنے میں یہ ضرور ہے کہ احرام باندھنے کا انھوں نے حکم دیا ہو اور بیہوش میں اس کی ضرورت نہیں۔ (ردالمحتار)
مسئلہ (۸): تمام افعالِ حج ادا کرنے تک بے ہوش رہا اور احرام کے وقت ہوش میں تھا اور اپنے آپ احرام باندھا تھا تو اس کے ساتھ والے تمام مقامات میں لے جائیں اور اگر احرام کے وقت بھی بے ہوش تھا انھیں لوگوں نے احرام باندھ دیا تھا تو لے جانا بہتر ہے ضرور نہیں۔ (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ (۹): احرام کے بعد مجنون ہوا تو حج صحیح ہے اور جرم کرے گا تو جزا لازم۔ (ردالمحتار)
مسئلہ (۱۰): ناسمجھ بچہ نے خود احرام باندھا یا افعالِ حج ادا کیے تو حج نہ ہوا بلکہ اس کا ولی اس کی طرف سے بجا لائے مگر طواف کے بعد کی دو رکعتیں کہ بچہ کی طرف سے ولی نہ پڑھے گا، اس کے ساتھ باپ اور بھائی دونوں ہوں تو باپ ارکان ادا کرے سمجھ دار بچہ خود افعالِ حج ادا کرے، رمی وغیرہ بعض باتیں چھوڑ دیں تو ان پر کفارہ وغیرہ لازم نہیں۔ یوہیں ناسمجھ بچہ کی طرف سے اس کے ولی نے احرام باندھا اور بچہ نے کوئی ممنوع کام کیا تو باپ پر بھی کچھ لازم نہیں۔ (عالمگیری، ردالمحتار، منسک)
مسئلہ (۱۱): بچہ کی طرف سے احرام باندھا تو اس کے سلے ہوئے کپڑے اتار لینے چاہیے، چادر اور تہبند پہنائیں اور ان تمام باتوں سے بچائیں جو مُحرِم کے لیے ناجائز ہیں اور حج کو فاسد کر دیا تو قضا واجب نہیں اگرچہ وہ بچہ سمجھ دار ہو۔ (عالمگیری)
مسئلہ (۱۲): لبیک کہتے وقت نیت قران کی ہے تو قران ہے اور افراد کی ہے تو افراد، اگرچہ زبان سے نہ کہا ہو۔ حج کے ارادہ سے گیا اور احرام کے وقت نیت حاضر نہ رہی تو حج ہے اور اگر نیت کچھ نہ تھی تو جب تک طواف نہ کیا ہو اسے اختیار ہے حج کا احرام قرار دے یا عمرے کا اور طواف کا ایک پھیرا بھی کر چکا تو یہ احرام عمرہ کا ہو گیا۔ یوہیں طواف سے پہلے جماع کیا یا روک دیا گیا (جس کو احصار کہتے ہیں) تو عمرہ قرار دیا جائے یعنی قضا میں عمرہ کرنا کافی ہے۔ (عالمگیری)
مسئلہ (۱۳): جس نے حجۃ الاسلام نہ کیا ہو اور حج کا احرام باندھا، فرض و نفل کی نیت نہ کی تو حجۃ الاسلام ادا ہو گیا۔ (عالمگیری)
مسئلہ (۱۴): دو حج کا احرام باندھا تو دو حج واجب ہو گئے اور دو عمرے کا تو دو عمرے۔ احرام باندھا اور حج یا عمرہ کسی خاص کو معین نہ کیا پھر حج کا احرام باندھا تو پہلا عمرہ ہے اور دوسرا عمرہ کا باندھا تو پہلا حج ہے اور اگر دوسرے احرام میں بھی کچھ نیت نہ کی تو قران ہے۔ (عالمگیری)
مسئلہ (۱۵): لبیک میں حج کہا اور نیت عمرہ کی ہے یا عمرہ کہا اور نیت حج کی ہے، تو جو نیت ہے وہ ہے لفظ کا اعتبار نہیں اور لبیک میں حج کہا اور نیت دونوں کی ہے تو قران ہے۔ (عالمگیری)
مسئلہ (۱۶): احرام باندھا اور یاد نہیں کہ کس کا باندھا تھا تو دونوں واجب ہیں یعنی قران کے افعال بجا لائے کہ پہلے عمرہ کرے پھر حج مگر قران کی قربانی اس کے ذمہ نہیں۔ اگر دو چیزوں کا احرام باندھا اور یاد نہیں کہ دونوں حج ہیں یا عمرے یا حج و عمرہ تو قران ہے اور قربانی واجب۔ حج کا احرام باندھا اور یہ نیت نہیں کہ کس سال کرے گا تو اس سال کا مراد لیا جائے گا۔ (عالمگیری)
مسئلہ (۱۷): منت و نفل یا فرض و نفل کا احرام باندھا تو نفل ہے۔ (عالمگیری)
مسئلہ (۱۸): اگر یہ نیت کی کہ فلاں نے جس کا احرام باندھا اسی چیز کا میرا احرام ہے اور بعد میں معلوم ہو گیا کہ اُس نے کس چیز کا احرام باندھا ہے تو اُس کا بھی وہی ہے اور معلوم نہ ہوا تو طواف کے پہلے پھیرے سے پیشتر جو چاہے معین کر لے اور طواف کا ایک پھیرا کر لیا تو عمرہ کا ہو گیا۔ یونہی طواف سے پہلے جماع کیا یا روک دیا گیا یا وقوفِ عرفہ کا وقت نہ ملا تو عمرہ کا ہے۔ (منسک)
مسئلہ (۱۹): حجِ بدل یا منت یا نفل کی نیت کی تو جو نیت کی وہی ہے، اگرچہ اس نے اب تک حج فرض نہ کیا ہو اور اگر ایک ہی حج میں فرض و نفل دونوں کی نیت کی تو فرض ادا ہو گا اور اگر یہ گمان کر کے احرام باندھا کہ یہ حج مجھ پر لازم ہے یعنی فرض ہے یا منت، بعد کو ظاہر ہوا کہ لازم نہ تھا تو اس حج کو پورا کرنا ضروری ہو گیا۔ فاسد کرے گا تو قضا لازم ہوگی، بخلاف نماز کہ فرض سمجھ کر شروع کی تھی بعد کو معلوم ہوا کہ فرض پڑھ چکا ہے تو پوری کرنا ضروری نہیں فاسد کرے گا تو قضا نہیں۔ (منسک)
مسئلہ (۲۰): لبیک کہنے کے علاوہ ایک دوسری صورت بھی احرام کی ہے اگرچہ لبیک نہ کہنا برا ہے کہ ترکِ سنت ہے وہ یہ کہ بدنہ (یعنی اونٹ یا گائے) کے گلے میں ہار ڈال کر حج یا عمرہ یا دونوں میں ایک غیر معین کے ارادے سے ہانکتا ہوا لے چلا تو محرم ہو گیا اگرچہ لبیک نہ کہے، خواہ وہ بُدنہ نفل کا ہو یا نذر کا یا شکار کا بدلہ یا کچھ اور۔ اگر دوسرے کے ہاتھ بُدنہ بھیجا پھر خود گیا تو جب تک راستہ میں اسے پا نہ لے محرم نہ ہوگا، لہذا اگر میقات تک نہ پایا تو لبیک کے ساتھ احرام باندھنا ضروری ہے۔ ہاں اگر تمتع یا قران کا جانور ہے تو پا لینا شرط نہیں مگر اس میں یہ ضرور ہے کہ حج کے مہینوں میں تمتع یا قران کا بُدنہ بھیجا ہو اور انہیں مہینوں میں خود بھی چلا ہو پیشتر سے بھیجنا کام نہ دے گا اور اگر بکری کو ہار پہنا کر بھیجا یا لے چلا یا اونٹ گائے کو ہار نہ پہنایا بلکہ نشانی کے لیے کوہان چیر دیا یا جھول اڑھا دیا تو محرم نہ ہوا۔ (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ (۲۱): چند شخص بُدنہ میں شریک ہیں، اسے لیے جاتے ہیں سب کے حکم سے ایک نے اسے ہار پہنایا، سب محرم ہو گئے اور بغیر ان کے حکم کے اس نے پہنایا تو یہ محرم ہوا وہ نہ ہوئے۔ (عالمگیری)
مسئلہ (۲۲): ہار پہنانے کے معنی یہ ہیں کہ اون یا بال کی رسی میں کوئی چیز باندھ کر اس کے گلے میں لٹکا دیں کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ حرم شریف میں قربانی کے لیے ہے تاکہ اس سے کوئی تعرض نہ کرے اور راستے میں تھک گیا اور ذبح کر دیا تو اسے مالدار شخص نہ کھائے۔ (ردالمحتار)
مسئلہ (۲۳): اس صورت میں بھی سنت یہی ہے کہ بدنہ کو ہار پہنانے سے پیشتر لبیک کہے۔ (منسک)
ماخوذ از: بہار شریعت، حصہ ۶، صفحہ نمبر ۱۰۷۱
