Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اجتہادی خطا اور اجر و ثواب

اجتہادی خطا اور اجر و ثواب
عنوان: اجتہادی خطا اور اجر و ثواب
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: نازیہ احمدی ضیائی

حدیثِ نبوی میں ارشاد فرمایا گیا کہ مجتہد اگر صحت کو پا لے تو دو اجر ہیں اور خطا کر جائے تو ایک اجر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ غیر مجتہد کے لیے بھی خطا پر ایک اجر ہے۔

فتاویٰ رضویہ کی عبارت سے ظاہر ہے کہ فقیہِ غیر مجتہد کی خطا پر اجر نہیں، بلکہ اس کے لیے مغفرت و بخشش ہے، جب کہ اس نے افتا کے لوازم و شرائط کی پابندی کی ہو۔

امامِ اہلِ سنت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا: ”شرعی احکام اور عرفی خیالات میں بہت تفاوت ہے۔ شریعت کا حکم تو یہ ہے کہ ہر حاکم پر فرض ہے کہ مطابقِ احکامِ الہیہ کے حکم کرے، اگر خلافِ حکمِ الہی حکم کرے تو اس کی دو صورتیں ہیں:“

  1. عمداً
  2. خطاءً

”عمداً کے لیے قرآنِ عظیم میں تین ارشاد ہوئے کہ:“

وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ

فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ

”قرآنِ مجید ایسے حکم کو فسق و ظلم و کفر فرماتا ہے، یعنی اگر عناداً ہو کہ حکم کو حق نہیں مانتا تو کافر ہے، ورنہ ظالم و فاسق۔“

”اور اگر خطاءً ہو تو اس کی پھر دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ خطا بوجہِ جہل ہو یعنی علم نہ رکھتا تھا کہ صحیح احکام سے واقف ہوتا، یہ صورت بھی حرام و فسق ہے۔ صحیح حدیث میں قاضی کی تین قسمیں فرمائیں: قَاضٍ فِي الْجَنَّةِ، وَقَاضِيَانِ فِي النَّارِ ایک قاضی جنت میں ہے اور دو قاضی دوزخ میں۔ وہ کہ عالم و عادل ہو، جنت میں ہے، وہ کہ قصداً خلافِ حکم کرے، یا بوجہِ جہل، یہ دونوں نار میں ہیں۔“

”بوجہِ جہل پر ناری ہونے کا یہ سبب ہے کہ اس نے ایسی بات پر اقدام کیا جس کی قدرت نہ رکھتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ میں عالم نہیں اور بے علم مطابقتِ احکام ممکن نہیں تو مخالفتِ احکام پر قصداً راضی ہوا، بلکہ اس سے اگر کوئی حکم مطابقِ شرع بھی صادر ہو جب بھی وہ مخالفتِ شرع کر رہا ہے کہ اس اتفاقی مطابقت کا اعتبار نہیں، ولہٰذا حدیث میں فرمایا:“

مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ

”جس نے قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہا، اگر ٹھیک کہا تو (بھی) غلط کہا۔“

”دوسری صورت خطا کی یہ ہے کہ عالم ہے، احکامِ شرعیہ سے آگاہ ہے، قابلیتِ قضا رکھتا ہے، احکامِ الہیہ کے مطابق ہی فیصلہ کرنا چاہا اور براہِ بشریت غلط فہمی ہوئی۔ اس کی پھر دو صورتیں ہیں: اگر وہ مجتہد ہے، اور اس کے اجتہاد نے خطا کی تو اس خطا پر اس کے لیے اجر ہے، اور وہ فیصلہ جو اس نے کیا، نافذ ہے۔ اور اگر مقلد ہے جیسے عموماً قاضیانِ زمانہ، اور جدوجہد میں اس نے کمی نہ کی اور فہمِ حکم میں اس سے غلطی واقع ہوئی، اور ہے پورا عالم اور اس عہدۂ جلیلہ کے قابل تو اس کی یہ خطا معاف ہے، مگر وہ فیصلہ نافذ نہیں۔“

”یہ سب احکام قاضیانِ سلطنتِ اسلامیہ سابقہ کے لیے ہیں، جو اسی کام کے لیے مقرر ہوئے تھے کہ مطابقِ احکامِ الہیہ فیصلہ کریں، بخلاف حال کی اکثر اسلامی سلطنتوں کے جن میں خود سلاطین نے احکامِ شرعیہ کے ساتھ اپنے گھڑے ہوئے باطل قانون بھی خلط کیے ہیں اور قاضیوں کو ان پر فیصلہ کرنے کا حکم ہے، ان کی شناعت کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ اللہ و رسول کے خلاف حکم کرنے ہی پر مقرر ہوئے۔“

”ان اسلامی سلطنتوں کے ایسے قاضیوں کو بھی قاضیِ شرع کہنا حلال نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کلمہ کی تہہ میں جو خباثت ہے، قائل اگر اس پر آگاہ ہو، اور اس کا ارادہ کرے تو قطعاً خارج از اسلام ہو جائے کہ اس نے باطل کا نام شرع رکھا، ولہٰذا ائمہ کرام نے اپنے زمانے کے سلاطینِ اسلام کی نسبت فرمایا کہ:“

مَنْ قَالَ لِسُلْطَانِ زَمَانِنَا عَادِلٌ فَقَدْ كَفَرَ

”ہمارے زمانے کے سلطان کو عادل کہنا کفر ہے کہ وہ خلافِ احکامِ الہیہ حکم کرتے ہیں۔ اور خلافِ احکامِ الہیہ عدل نہیں ہو سکتا۔ عدل حق ہے تو اسے عدل کہنے کے یہ معنی ہوئے کہ خلافِ احکامِ الہیہ حق ہے، تو معاذ اللہ احکامِ الہیہ ناحق ہوئے اور یہ کفر ہے۔ بہر حال جو قاضی خلافِ احکامِ الہیہ حکم کرتا ہو، ہرگز قاضیِ شرع نہیں ہو سکتا۔“

”جب قاضیانِ سلطنتِ اسلامیہ کی نسبت یہ احکام ہیں تو سلطنتِ غیر اسلامیہ کے حکام تو مقرر ہی اس لیے کیے جاتے ہیں کہ مطابقِ قانون فیصلہ کریں۔“

ماخوذ از: فتاویٰ رضویہ، جلد سوم، ص ۸۰۰، ۸۰۱، رضا اکیڈمی ممبئی

منقولہ بالا اقتباس سے ظاہر ہے کہ فقیہ غیر مجتہد کی تحقیقی لغزش پر اجر و ثواب نہیں۔ احکامِ خداوندی کے خلاف فیصلہ کرنے والے کو قاضیِ شرع کہنا جائز نہیں۔ احکامِ الہیہ کے خلاف بندوں کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے والے قاضی و جج کو عادل کہنا ہرگز صحیح نہیں، بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے۔

وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ، وَآلِهِ الْعَظِيمِ

جاری کردہ: ۲۵ ستمبر ۲۰۲۲ء

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!