Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ویلنٹائن ڈے اور اس موقع پر ہونے والی خرافات

ویلنٹائن ڈے اور اس موقع پر ہونے والی خرافات
عنوان: ویلنٹائن ڈے اور اس موقع پر ہونے والی خرافات
تحریر: حافظ افتخار احمد قادری
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

انسان فطرتاً جلد باز اور جدت پسند ہوتا ہے، اگر اپنی عقل سے احکامِ شریعت کو سمجھ کر اس کے دائرہ میں زندگی بسر نہ کرے تو عادتیں اسے قدم قدم پر برائی میں مبتلا کرتی رہتی ہیں اسے اپنے کئے کا احساس بھی نہیں ہوتا اور برائی کے بھنور میں ایسا پھنسا رہتا ہے کہ اس سے نکلنا اس کے لئے دشوار ہو جاتا ہے۔ پھر ایک فطری عادت انسان کی مل جل کر زندگی بسر کرنے کی بھی اس میں موجود ہے اس لئے دوسروں کے ساتھ رہنا اس کے لئے ضروری ہے۔ مسلمانوں میں نیک اور نا فرمان دونوں طرح کے ہوتے ہیں اس لئے معاشرتی زندگی میں بگاڑ کے اسباب زیادہ اور سدھار کے کم دستیاب ہوتے ہیں۔

موجودہ گلوبلائزیشن کے اس دور میں جب میڈیا کی بڑی کمپنیوں کے مقاصد میں برائیاں، بدکرداریاں، بداخلاقیاں عام کرنا شامل ہے، نفسانی لذات و شہوات کو دکھا دکھا کر لوگوں کا سکون برباد کرنا اور ان کی طبیعتوں میں ہیجان برپا کئے رکھنا ان کے اہداف میں سے ہے، منظم طریقہ سے برائی کی نشر و اشاعت کا کام بہت تیزی سے ہو رہا ہے جس سے اغیار کے طور طریقے اور نت نئی نافرمانیاں منٹوں سیکنڈوں میں ساری دنیا میں پھیل جاتی ہیں۔ اس لئے معاشرہ میں تباہ کن اثرات ڈھکے چھپے نہیں ہیں بلکہ ظاہر ہو رہے ہیں۔ پھر خرابیوں اور اخلاقی برائیوں میں مبتلا ہونے والے زیادہ تر دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں:

  1. اول: جو مالی لحاظ سے آسودہ حال عیش پسند، کروفر، جاہ و حشمت کے ساتھ رہنے والے۔
  2. دوم: جو عقل کے لحاظ سے کمزور اور غیر سمجھدار، عقل کے لحاظ سے کمزور لوگ اس لئے اخلاقی برائیوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں کہ اپنے بھلے برے سے کما حقہ واقف نہیں ہوتے۔

اس لئے ان سے عقل کے لحاظ سے فائق طبقہ جب زور و شور سے اپنا پیغام ان میں نشر کرتا ہے تو اس سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ چونکہ برائی کی دعوت دینے والے زیادہ ہوتے ہیں اس لئے برائی عوام میں بہت جلد وسیع پیمانے پر پھیلتی ہے اور بچانے والے اگر چہ انتہائی عقلمند دیندار چونکہ کم ہوتے ہیں اس لئے برائی سے بچنے والوں کی تعداد تھوڑی ہوتی ہے۔

ویلنٹائن ڈے کا پس منظر

ویلنٹائن ڈے کا تاریخی پس منظر اور اس دن ہونے والی خرافات کا جائزہ لیں تا کہ مسلمانوں پر واضح ہو کہ گناہوں سے بھر پور اس دن کی حقیقت کیا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ ایک پادری جس کا نام ویلنٹائن تھا تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ کلاڈیس ثانی کے زیرِ حکومت رہتا تھا۔ کسی نافرمانی کی بنا پر بادشاہ نے پادری کو جیل میں ڈال دیا، پادری اور جیلر کی لڑکی کے مابین عشق ہو گیا حتی کہ لڑکی نے اس عشق میں اپنا مذہب چھوڑ کر پادری کا مذہب نصرانیت قبول کر لیا۔ اب لڑکی روزانہ ایک سرخ گلاب لے کر پادری سے ملنے آتی، بادشاہ کو جب ان باتوں کا علم ہوا تو اس نے پادری کو پھانسی دینے کا حکم صادر کر دیا۔ جب پادری کو اس بات کا علم ہوا کہ بادشاہ نے اس کی پھانسی کا حکم دے دیا ہے تو اس نے اپنے آخری لمحات اپنی معشوقہ کے ساتھ گزرنے کا ارادہ کیا۔

بالآخر ۱۴ فروری کو اس پادری کو پھانسی دے دی گئی اس کے بعد سے ہر ۱۴ فروری کو یہ محبت کا دن اس پادری کے نام ویلنٹائن ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کو منانے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے بے پردگی و بے حیائی کے ساتھ میل ملاپ تحفے تحائف کے لین دین سے لے کر فحاشی و عریانی کی ہر قسم کا مظاہرہ کھلے عام یا چوری چھپکے جس کا جتنا بس چلتا ہے انجام دیتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق فیملی پلانگ کی ادویات عام دنوں کے مقابلے ویلنٹائن ڈے میں کئی گنا زیادہ بکتی ہیں اور خریدنے والوں میں اکثریت نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ہوتی ہے، گفٹ شاپس اور پھولوں کی دکان میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ان اشیا کو خریدنے والے بھی نوجوان لڑکے لڑکیاں ہی ہوتی ہیں۔

مشرقی اقدار کے حامل ممالک میں کھلی چھوٹ نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان جوڑوں کو محفوظ مقام کی تلاش ہوتی ہے اسی مقصد کے لئے اس دن ہوٹلز کی بلنگ عام دنوں کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے اور بکنگ کرانے والے رنگ رلیاں منانے والے نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں۔ شراب کا بے تحاشہ کاروبار ہوتا ہے۔ ساحلِ سمندر پر بے پردگی اور بے حیائی کا ایک نیا سمندر دکھائی دیتا ہے، مغربی ممالک میں جہاں غیر مسلم مادر پدر آزادی کے ساتھ رہتے ہیں اور فحاشی و عریانی و جنسی بے راہ روی کو وہاں ہر طرح کی قانونی چھوٹ حاصل ہے اس دن کی دھما چوکڑی سے بعض اوقات وہ بھی پریشان ہو جاتے ہیں اور اس کے خلاف بعض اوقات کہیں کہیں سے دبی دبی صدائے احتجاج بلند ہوتی رہتی ہے۔ انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دن انگریز کی چھوڑی ہوئی پھلجھڑی کو جلانے اور اغیار کی طرح بے حیائی کے ساتھ منانے والے بہت سے مسلمان بھی اللہ رب العزت اور اس کے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کئے ہوئے پاکیزہ احکامات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کر کے نہ صرف یہ کہ اپنے نامۂ اعمال کی سیاہی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مسلم معاشرے کی پاکیزگی کو بھی ان بے ہودگیوں سے ناپاک و آلودہ کرتے ہیں۔

بدنگاہی، بے پردگی، فحاشی عریانی، اجنبی لڑکے لڑکیوں کا میل ملاپ ہنسی مذاق، اس ناجائز تعلق کو مضبوط رکھنے کے لئے تحائف کا تبادلہ یہ وہ باتیں ہیں جو اس روز زور و شور سے جاری رہتی ہیں جبکہ یہ وہ باتیں ہیں جن کے ناجائز و حرام ہونے میں کسی مسلمان کو ذرہ بھر بھی شبہ نہیں ہو سکتا۔

قرآنِ کریم کی آیاتِ بینات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح ارشادات سے ان اُمور کی حرمت و مذمت ثابت ہے۔ مگر ہمارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو دینی نقطۂ نظر سے سمجھایا جائے اور اس دن کی خرافات کے ساتھ اس کو منانے کی شناعت و برائی سے انہیں آگاہ کر کے ان کے دلوں میں خوفِ خدا اور شرمِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا کی جائے تا کہ وہ ان ناپاکیوں سے تائب ہو کر اپنے افکار و کردار کی اصلاح میں مشغول ہو کر بروزِ قیامت سرخرو ہوں ۔

لہٰذا! ترغیب و ترہیب کے لئے چند باتیں دین سے محبت کرنے والے اپنے اسلامی بھائیوں کی خدمت ہیں عرض کرتا ہوں وہ خود بھی پڑھیں اور اس کو عام کریں تا کہ عامۃ المسلمین کے دین و دنیا کا بھلا ہو۔ کس طرح بدنگاہی بے حیائی، بے پردگی اور ہر قسم کی فحاشی و عریانی کی مذمت قرآن کریم کی آیات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بیان ہوئی ہے۔ ویلنٹائن ڈے والے دن اجنبی مرد و عورت کے مابین جو ناجائز محبت کا تعلق قائم ہوتا ہے اور آپس میں جو تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے فقہائے کرام فرماتے ہیں: یہ رشوت کے حکم میں داخل ہے۔ اس لئے ناجائز و حرام ہے۔ ایسے گفٹ لینا اور دینا دونوں ہی ناجائز و حرام ہیں اگر کسی نے یہ تحائف لئے ہیں تو اس پر توبہ کے ساتھ ساتھ یہ تحائف واپس کرنا بھی لازم ہے، بحر الرائق میں ہے عاشق و معشوق (ناجائز محبت میں گرفتار) آپس میں ایک دوسرے کو جو (تحائف) دیتے ہیں وہ رشوت ہے ان کا واپس کرنا واجب ہے اور وہ ملکیت میں داخل نہیں ہوتے۔ (بحر الرائق)

غور کیجئے! اس قسم کے آزاد معاشرے اور اس میں جنم لینی والی برائیوں سے مسلم معاشرہ کیوں محروم ہے، اس فکر میں مغربی مفکرین اور اسلام دشمن قوتیں ہر لمحہ مصروف رہتی ہیں اور ویلنٹائن ڈے جیسے دنوں کے نام پر اپنی ان خرافات سے مسلم دنیا کو بھی روشناس کرانا چاہتی ہیں اور جانتی ہیں کہ موجودہ حالات میں اکثر مسلمان دین سے اور دینی تعلیمات سے دور ہیں اور نفس و شیطان کے مکر و فریب میں بآسانی مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اس لئے ایک ایک دن کی حد تک ہی سہی جب ہماری طرح جدت ولذت کے نشہ میں مدہوش ہو کر بے حیائی وبے پردگی اور وہ بھی سرِ عام کریں گے تو پھر اس لت سے پیچھا چھڑانا ان کے لئے مشکل ہو جائے گا اور آہستہ آہستہ یہ برائیاں ان کے معاشرے میں بھی جڑ پکڑ لیں گی اور دیمک کی طرح اسے چاٹتی رہیں گی۔ چونکہ دینی و روحانی پاکیزگی سے روشناس کرانے والے علمائے حق جو ان کے معالج بھی ہیں اور رہبر بھی ان سے تو پہلے ہی قوم دور ہے۔ اس لئے ان کے سمجھانے کا ان پر اثر تو کم ہی ہوتا ہے، ان بے حیائیوں کے باعث ان سے مزید دور ہو کر ان کی برکات سے مزید محروم ہو جائے گی پھر اس لاعلاج مرض کا علاج ان کے بس میں نہ رہے گا، بدقسمتی سے کافی حد تک وہ اپنے اس ناپاک منصوبے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔

شرم و حیا کے پیکر نبیوں کے سرور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والو یاد رکھو! حقیقی ترقی ان یورپین کی خرافات میں نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات میں ہے۔ مغربی معاشرے کی مادر پدر آزادی کی یہ جھلکیاں اس لئے نقل کی ہیں تا کہ جو لوگ یہ کہہ کر سمجھانے والوں سے جان چھڑا لیتے ہیں کہ تھوڑا بہت تو چلتا ہے تہوار ہی تو ہے ایک ہی دن کی تو بات ہے ہم کون سے پاک وصاف ہیں اس طرح کے بیباکی اور نا انصافی کے ساتھ جملے ادا کرنے والوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ سنجیدگی کے ساتھ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ دین سے محبت اور اس کے احکام اور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے نظام کے مطابق زندگی گزارنے سے محبت کرنے والا طبقہ ان کے بھلے کی بات کر رہا ہے اگر وہ آج ہنس ہنس کر گناہ کریں گے تو کل ان کی اولاد یا اولاد کی اولاد ان مصائب اور گناہوں کی نحوست کی بنا پر دنیا میں بھی آفات کا شکار ہوں گی اور آخرت کی تباہی اس پر مزید ہوگی۔

قارئین! آپ سے اتنی گزارش آخر میں ضرور کروں گا کہ غیر مسلم آئے دن مسلمانوں کے دلوں کو توہین آمیز خاکوں سے چھلنی کر رہے ہیں اور مسلمان جو یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ سرکار کے نام پر جان بھی قربان ہے اور ہر بے ادب کی بے ادبی اور شرارت پر سراپا احتجاج ہوتے ہیں اور حقیقتاً اور ایماناً ہماری عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے، ان کی مبارک پر نور ہستی سے مسلمانوں کو وابستگی ہے اور ان سے وہ اپنے ماں باپ اولاد بلکہ اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کرتے ہیں اور اس کا حکم حدیث شریف میں مسلمانوں کو دیا بھی گیا ہے تو جان سے بڑھ کر عزیز ہستی اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ادنیٰ توہین برداشت نہ کر سکنا بلا شبہ ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔ مگر اس پہلو پر تو غور کیجئے کہ آج کے مسلمان بالخصوص ہمارے نوجوان انہیں غیر مسلموں کے ایجاد کردہ گناہوں سے بھر پور رسم و رواج اور دنوں تہواروں کے ناپاکیوں کا شکار ہیں جیسا کہ ویلنٹائن ڈے اور اس روز بدنگاہی بے پردگی ناجائز تحائف کا لین دین اور شراب و کباب، زنا کی برائیاں عام ہوتی ہیں اور مسلمان بھی اس میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں۔

اس لئے خدارا ہوش کے ناخن لیں کہ شیطان کے آلہ کاروں کے نقشِ قدم پر چلنا جہنم کی راہ ہے۔ لہٰذا! اللہ رب العزت سے ڈرتے ہوئے اس کے محبوب سے شرم کرتے ہوئے اس دن اور اس کے علاوہ زندگی بھر بے حیائی بے پردگی فسق و فجور سے توبہ کر لیجئے اور آئندہ شریعت کے احکامات کی پابندی ستھری اسلامی زندگی گزارنے کا پختہ عزم کر لیجئے۔

ماخوذ از: سنی دنیا، بریلی شریف، فروری ۲۰۲۵ء، ص ۲۹

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!