| عنوان: | علمِ غیب (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد |
| پیش کش: | ام عروج فاطمہ بنت اکرام رضوی |
| منجانب: | جامعہ مصباح تاج الشریعہ، ردولی شریف، بہار |
علم ایک عظیم قوت ہے، دورِ جدید میں علم کی اہمیت و قوت اور نمایاں ہو کر سامنے آ گئی ہے، قرآنِ کریم نے انسان کو لکھنے پڑھنے اور تحصیلِ علم کی طرف متوجہ کیا۔ انسان کو وہ راز ہائے سربستہ بتائے کہ اس کا دماغ روشن ہو گیا، قرآنِ کریم علم و دانش کا عظیم خزانہ ہے، اس میں علم اور مشتقاتِ علم کا 800 سے زیادہ مقامات پر ذکر کیا گیا ہے اور کتاب و کتابت کا 600 سے زیادہ مقامات پر ذکر کیا گیا ہے، اس سے قرآنِ کریم کی نظر میں علم کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں“۔ آپ نے تحصیلِ علم کی تاکیدِ شدید فرمائی اور علم کی فضیلت کو آشکارا فرمایا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ: ”فضیلت تو صرف اہلِ علم کو ہے“۔ خود قرآنِ کریم میں حضرت طالوت علیہ السلام کو علم ہی کی وجہ سے بنی اسرائیل کا بادشاہ بنایا گیا، اور علم ہی کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام نے فرشتوں پر فضیلت پائی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نبوت و رسالت اور قیادت و بادشاہت کے لیے علم کتنا اہم ہے۔
علم دو قسم کا ہے۔ ایک وہ جو ہم مدرسوں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں حاصل کرتے ہیں، ہم اس کو علم سمجھتے ہیں اور اسی پر یقین رکھتے ہیں لیکن ایک علم وہ ہے جو براہِ راست پڑھایا جاتا ہے۔ اس کے لیے نہ کسی مدرسے کی ضرورت، نہ اسکول کی ضرورت، نہ کالج کی ضرورت، نہ یونیورسٹی کی ضرورت۔ یہ ایک پوشیدہ علم ہے جس کو قرآنِ حکیم نے ”علمِ غیب“ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس پر ایمان لانا ہر مسلمان کی نشانی قرار دیا ہے۔ یہ علم وہ ہے جس کو نہ انسانی عقل پا سکتی ہے اور نہ اُس کے ظاہری و باطنی حواس۔ یہ علم سارے علوم پر غالب ہے اور تحصیل و کسب سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض اللہ کے فضل و کرم سے بارش کی طرح برستا ہے، چشمے کی طرح ابلتا ہے۔
قرآنِ حکیم نے بہت سی آیات میں ”علمِ غیب“ کا ذکر کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ یہ علم اللہ اور صرف اللہ ہی کے لیے ثابت ہے۔ مثلاً یہ آیات ملاحظہ ہوں:
- اور اسی کے پاس ہیں گنجیاں غیب کی، انہیں وہی جانتا ہے۔
- میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمینوں کی سب چھپی چیزیں۔
- تم فرماؤ، غیب تو اللہ کے لیے ہے۔
اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا کہ آپ بھی اعلان فرما دیجیے:
- تم فرما دو، تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہوں کہ میں آپ غیب جان لیتا ہوں۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ ”غیب“ اللہ ہی کے لیے ہے۔ کوئی از خود ”غیب“ نہیں جانتا اور نہ بغیر عطائے الٰہی کسی کے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے کہیں یہ نہ فرمایا کہ یہ ”علمِ غیب“ ہم کسی کو عطا نہیں فرماتے اور یہ خزانے ہم کسی کو نہیں دیتے۔ یہی سب سے اہم نکتہ ہے جس پر مسلمانوں کو غور کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں ارشاد فرمایا:
- غیب کا جاننے والا وہی ہے، سو وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ہاں، مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو۔
- اور اللہ تعالیٰ ایسے امورِ غیبیہ پر تم کو مطلع نہیں کرتے لیکن ہاں جس کو خود چاہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں، اُن کو منتخب فرما لیتے ہیں۔
پھر یہی نہیں کہ صرف یہ بات کہی گئی ہو اور ”علمِ غیب“ عطا نہ کیا گیا ہو نہیں نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ پیغمبروں کو یہ علم عطا بھی فرمایا جس کا قرآنِ حکیم میں تفصیل سے ذکر ہے۔ مثلاً یہ آیات ملاحظہ فرمائیں:
- اور علم دے دیا اللہ تعالیٰ نے آدم کو سب چیزوں کے اسماء کا پھر وہ چیزیں فرشتوں کے روبرو کر دیں۔
- حضرت داؤد علیہ السلام کے لیے فرمایا: اور جو بھی منظور ہوا ان کو تعلیم فرمایا۔
- حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس ”علمِ غیب“ کا یوں ذکر فرمایا: اے لوگو! ہم کو پرندوں کی بولی کی تعلیم کی گئی ہے اور ہم کو ہر قسم کی چیزیں دی گئی ہیں۔
- حضرت لوط علیہ السلام کے لیے فرمایا: اور ہم نے لوط کو حکمت اور علم عطا فرمایا ہے۔
- حضرت یعقوب علیہ السلام کے لیے فرمایا: اور وہ بلاشبہ بڑے عالم تھے بایں وجہ کہ ہم نے اُن کو علم دیا تھا لیکن اکثر اس کا علم نہیں رکھتے ہیں۔
- حضرت یعقوب علیہ السلام نے خود بھی اپنے بیٹوں کے سامنے اس عطائے ربانی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: کیوں، میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ اللہ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے؟
- حضرت یوسف علیہ السلام کے لیے فرمایا: اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے ہم نے اُن کو حکمت اور علم عطا فرمایا۔
- اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے فرمایا: اور جب اپنی بھری جوانی کو پہنچے اور درست ہو گئے، ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا فرمایا۔
- اور حضرت خضر علیہ السلام کے لیے فرمایا: انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جن کو ہم نے اپنی خاص رحمت دی تھی اور ہم نے اُن کو اپنے پاس سے خاص طور کا علم سکھایا تھا۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ نبیوں کو علمِ غیب عطا فرمایا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
جاری ہے۔۔۔
