| عنوان: | علمِ غیب (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد |
| پیش کش: | ام عروج فاطمہ بنت اکرام رضوی |
| منجانب: | جامعہ مصباح تاج الشریعہ، ردولی شریف، بہار |
اس پس منظر میں یہ احادیثِ کریمہ ملاحظہ فرمائیں:
- ایک حدیثِ پاک میں فرمایا، جس طرح میں آگے دیکھتا ہوں اسی طرح پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔
- دوسری حدیث میں آتا ہے کہ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ جاتے ہوئے وادیِ ازرق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلند آواز سے تلبیہ پڑھتے ہوئے دیکھا پھر وادیِ ہرشیٰ میں حضرت یونس علیہ السلام کو اونی جبہ پہنے سرخ اونٹنی پر سوار دیکھا ہے۔
- تیسری حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جنت و دوزخ ملاحظہ فرما رہے ہیں۔
- چوتھی حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جنت و دوزخ میں جانے والے ہر فرد کو نام بنام جانتے ہیں۔
- پانچویں حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ایک شخص نے محفلِ پاک میں یہ دریافت کیا کہ وہ جنت میں جائے گا یا دوزخ میں تو آپ نے برملا ارشاد فرمایا: تو دوزخ میں جائے گا۔
- چھٹی حدیثِ پاک میں فرمایا، میری ساری امت اپنے سب اعمالِ نیک و بد کے ساتھ میرے حضور پیش کی گئی ہے۔
- ساتویں حدیثِ پاک میں فرمایا، رات میری سب امت میرے اس حجرے کے پاس پیش کی گئی، یہاں تک کہ بے شک ان کے ہر شخص کو اس سے زیادہ پہچانتا ہوں جیسا تم میں کوئی اپنے ساتھی کو پہچانے۔
قرآنِ کریم میں ایک جگہ ارشاد ہوا:
أَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرٰى.
کیا اُس شخص کے پاس علمِ غیب ہے کہ اُس کو دیکھ رہا ہے؟ [سورۃ النجم، آیت: 35]
اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ علمِ غیب اُس کے پاس ہوتا ہے جو دیکھ بھی رہا ہو۔ قرآنِ کریم میں متعدد مقامات میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ دید کو بیان کیا گیا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ جس نے اللہ کو دیکھ لیا، اس کے آگے کوئی چیز چھپی نہ رہی سب ظاہر ہو گئی۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم خود فرما رہے ہیں:
رَأَيْتُ رَبِّيْ عَزَّ وَجَلَّ فَوَضَعَ يَدَهٗ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتّٰى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهٖ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَتَجَلّٰى لِيْ كُلُّ شَيْءٍ وَّعَرَفْتُ.
میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا، اُس نے اپنا دستِ قدرت میری پشت پر رکھا کہ میرے سینے میں اُس کی ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ اسی وقت ہر چیز مجھ پر روشن ہو گئی اور میں نے سب کچھ پہچان لیا۔ [جامع الترمذی، ج: 5، ص: 366]
اب تک تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی وسعتوں اور آپ کے دیکھنے کی باتیں ہو رہی تھیں لیکن جو ”علمِ غیب“ آپ کو عطا کیا گیا، کیا اس نعمتِ عظمیٰ کی خیرات اپنے غلاموں کو بھی آپ نے تقسیم فرمائی؟ بہت سی احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے عطا فرمایا اور خوب عطا فرمایا، اور کیوں عطا نہ فرماتے جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمانے ہی کے لیے بھیجا ہے۔
مشہور و محبوب صحابی حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس حال پر چھوڑا کہ ہوا میں کوئی پرندہ پر مارنے والا ایسا نہیں جس کا علم حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے بیان نہ فرما دیا ہو۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ہم میں کھڑے ہو کر جب سے، قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا سب بیان فرما دیا، کوئی چیز نہ چھوڑی جسے یاد رہا، یاد رہا۔ جو بھول گیا، بھول گیا۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ:
- نہیں چھوڑا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی فتنے چلانے والے کو دنیا کے ختم ہونے تک مگر ہم کو اس کا نام، اس کے باپ کا نام اور اس کے قبیلے کا نام بتا دیا۔
- 17 رمضان المبارک (سنہ 2ھ) (624ء) میں غزوہِ بدر پیش آیا، جہاد شروع ہونے سے قبل میدانِ جہاد میں اپنا دستِ مبارک رکھ رکھ کر دشمنانِ اسلام کے مقتولین کی نشاندہی فرمائی کہ فلاں فلاں شخص اس اس جگہ قتل کیا جائے گا۔ جب جہاد ختم ہوا تو جس شخص کے لیے اپنے دستِ مبارک سے جس جگہ کی نشاندہی فرمائی تھی، وہ وہیں پڑا ہوا ملا ایک انچ آگے نہ پیچھے۔
بخاری شریف میں ایک طویل حدیث آتی ہے جو ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
- سورج ڈھلنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، پھر نہیں ظہر کی نماز پڑھائی، جب سلام پھیر دیا تو آپ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور قیامت کا ذکر فرمایا، نیز ان بڑے بڑے امور کا جو اس سے پہلے ہیں۔ پھر فرمایا ”اگر کوئی مجھ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے تو پوچھ لے۔ کیوں کہ خدا کی قسم تم مجھ سے کسی چیز کے بارے میں نہیں پوچھو گے مگر میں تمہیں اس کے متعلق بتا دوں گا، جب تک کہ میں اس جگہ ہوں۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ لوگ زار و قطار رونے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار فرماتے رہے کہ ”مجھ سے پوچھ لو! مجھ سے پوچھ لو!“
اس حدیثِ پاک پر یہ آیتِ کریمہ گواہ ہے:
وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ.
اور یہ غیب کی بات بتانے میں بخیل نہیں۔ [سورۃ التکویر، آیت: 24] یعنی جو پوچھو گے، بتایا جائے گا جو مانگو گے، دیا جائے گا۔
حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا قسم کھا کر یہ فرمانا کہ جو پوچھو گے بتایا جائے گا اور پھر بار بار فرمانا، مجھ سے پوچھ لو، مجھ سے پوچھ لو! اس حقیقت پر گواہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے فضل و کرم سے ”غیب“ حاصل تھا۔ ایک عرب عالم شیخ احمد بن محمد بن الصدیق الغماری الحسنی نے ایک فاضلانہ کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ہے ”مطابقۃ الاختراعات العصریۃ لما اخبر بہ سید البریۃ“ مصنف نے اس کتاب میں ان غیبی خبروں کو جمع کیا ہے جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہیں۔ پڑھ پڑھ کر حیرت بڑھتی جاتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ماضی و مستقبل حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئینہ تھے اور کیوں نہ ہوں کہ سرکار خود فرما رہے ہیں:
أُعْطِيْتُ مَفَاتِيْحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ.
میرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے ہاتھ پر رکھ دی گئیں۔ [صحیح البخاری، ج: 3، ص: 1087]
خزانے کا مالک وہی ہوتا ہے جس کے پاس کنجیاں ہوتی ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ اللہ تعالیٰ بے اختیار ہو گیا بلکہ اس سے تو اللہ کا اختیار اور قدرت اور ظاہر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے اپنے حبیبِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنا نوازا ہے!
یہی وہ کنجیاں ہیں جن سے آیاتِ قرآنی کے معانی کے خزانے کھولے جاتے ہیں۔ قرآن کو ہم بھی دیکھتے ہیں، ہم بھی پڑھتے ہیں مگر آیاتِ قرآنی میں نگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ دیکھتی ہے ہم نہیں دیکھ سکتے صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں قرآنِ کریم میں ایک آیت ہے:
وَأَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ.
اور اُن کے لیے تیار رکھو جو ”قوت“ تمہیں بن پڑے (یعنی دشمنانِ اسلام کے لیے)۔ [سورۃ الانفال، آیت: 60] یہاں لفظ ”قوت“ کے معنی میں بظاہر کوئی راز نہیں معلوم ہوتا لیکن جب اس راز سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم پردہ اٹھاتے ہیں تو انسانی عقل حیران ہو جاتی ہے۔ لفظ ”قوت“ کی تفسیر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:
أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ.
خبردار، یہ قوت ”رمی“ ہے! خبردار، یہ قوت ”رمی“ ہے! خبردار یہ قوت ”رمی“ ہے۔ [صحیح مسلم، ج: 3، ص: 1522]
عربی میں ”رمی“ کے معنی ”پھینکنا“ آتے ہیں چنانچہ حج میں جمرات پر جو کنکریاں پھینکی جاتی ہیں اس کو ”رمی“ کہتے ہیں۔ اس حدیثِ پاک میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام ہتھیاروں کا ذکر فرمایا جو آج ہمارے سامنے ہیں اور قوت کا توازن اس ملک کے حق میں ہے جس کے پاس یہ ہتھیار ہیں خصوصاً خطرناک ایٹم بم، راکٹ، میزائل وغیرہ یہ سب ہتھیار پھینکے جاتے ہیں اور قوت کا راز بنے ہوئے ہیں۔ احادیث کا مطالعہ کریں تو آپ کو غیبی خبروں کا ایک سیلاب اُمنڈتا نظر آئے گا۔
اوپر جو کچھ عرض کیا گیا اس کی روشنی میں ہمیں علمِ غیب کے بارے میں ان حقائق کا علم ہوتا ہے، ان حقائق کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے:
- پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ”علمِ غیب“ ایک حقیقت ہے۔
- دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ”علمِ غیب“ اللہ ہی کے لیے ہے۔
- تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو علمِ غیب عطا فرماتا ہے۔
- چوتھی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ انبیاء علیہم السلام کو علمِ غیب عطا فرمایا ہے۔
- پانچویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو ”علمِ غیب“ عطا فرمایا ہے۔
- چھٹی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ علمِ غیب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتایا ہے اور انہوں نے ہم کو بتایا۔
اس وقت دنیائے اسلام، عالمی سازش کی زد میں ہے۔ دشمنانِ اسلام کا ہدف حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے، یہی وہ مرکزِ قلب و نظر ہے جس سے زندگی ملتی ہے، اس سازش کے تحت مسلمانانِ عالم کو ہر اس سوچ اور ہر اس عمل سے روکا جا رہا ہے جس سے دل و دماغ میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عظمت کا نقش بیٹھتا چلا جائے اس سازش سے آپ خود کو محفوظ رکھیں اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب کچھ عطا فرمایا ہے۔ بے شک:
لوح بھی تو، قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
(اقبالؔ)
