Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

درود و سلام پر ایک نئے اعتراض کا محققانہ جائزہ (قسط: دوم)

درود و سلام پر ایک نئے اعتراض کا محققانہ جائزہ (قسط: دوم)
عنوان: درود و سلام پر ایک نئے اعتراض کا محققانہ جائزہ (قسط: دوم)
تحریر: ڈاکٹر امجد رضا امجد
پیش کش: شاہین صبا نوری
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

قیام کا شرعی مسئلہ

سلام مخالف جماعت کسی طرح بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام پڑھنے دینے کی روادار نہیں چنانچہ دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے اب یہ لکھا کہ حضور کے لیے کھڑا ہونا کسی طرح بھی درست نہیں، صحابہ آپ کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوتے تھے کیوں کہ صحابہ کو معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پسند نہیں کہ کوئی مجھے دیکھ کر کھڑا ہو۔ افسوس! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کے لیے کھڑے ہونے کو ناپسند کرنے والے خود اپنی عظمت کے لیے پوری قوم کو کھڑا کر دینے کا کیسا مکروہ جذبہ رکھتے ہیں، اگر کوئی ان کے لیے کھڑا نہیں ہوتا تو دل میں محبت کی جگہ نفرت جنم لے لیتی ہے، برسوں کی محبت یکلخت دم توڑ دیتی ہے، اپنی عزت اتنی پیاری ہے کہ اس وقت امامت اور شریعت سب بے معنی شے ہو جاتی ہے، ایسے ہی لوگوں کے لیے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَّتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهٗ مِنَ النَّارِ.

یعنی اپنی تعظیم کے لیے جو دوسروں کے کھڑا ہونے کا خواہش مند ہو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔ [مشکوٰۃ، ص: 403]

حیرت ہے دعویِ اسلام کرنے والے ان موحدین پر کہ انہیں قرآن و احادیث میں صرف وہی باتیں ملتی ہیں جس سے یہ عظمتِ رسالت کا انکار کر سکیں، پورے قرآن میں انہیں تنقیص کے علاوہ کچھ نہیں ملتا، ایمان والے اور محبتِ رسول کا سرمایہ رکھنے والے عظمتِ رسالت کے اظہار کے لیے قرآن و احادیث کی روشنی میں پوری پوری کتاب لکھ دیتے ہیں ثبوت چاہیں تو:

  1. مواہب اللدنیہ: امام قسطلانی
  2. شرح مواہب اللدنیہ: علامہ زرقانی
  3. الخصائص الکبریٰ: امام جلال الدین سیوطی
  4. حسن المقصد فی عمل المولد: امام جلال الدین سیوطی
  5. الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ: علامہ قاضی عیاض
  6. انوار المحمدیہ: علامہ نبہانی
  7. دلائل النبوۃ: علامہ ابونعیم
  8. شیخ عبد الحق محدث دہلوی
  9. تفسیراتِ احمدیہ: ملا احمد جیون
  10. تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین: امام احمد رضا قادری
  11. الامن والعلیٰ لناعتی المصطفیٰ: امام احمد رضا قادری
  12. شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام: امام احمد رضا قادری
  13. منیۃ اللبیب ان التشریع بید الحبیب: امام احمد رضا قادری
  14. الموہبۃ الجدیدہ فی وجود الحبیب بمواضع عدیدہ: امام احمد رضا قادری
  15. شانِ حبیب الرحمٰن من آیات القرآن: مفتی احمد یار خان نعیمی
  16. شانِ حبیب الباری من احادیث البخاری

اور شانِ حبیب المنعم من احادیث المسلم جیسی کتابوں کا مطالعہ فرما لیں۔

مسئلہ سلام و قیام میں بھی ذاتِ رسالت میں نقص تلاش کرنے والے افراد ڈھونڈ کر ایسی حدیث لاتے ہیں جس سے ان کے مکروہ جذبے کی تسکین ہو۔ اگر انہوں نے موحد کے ساتھ مومن کی نگاہ سے احادیثِ کریمہ کا مطالعہ کیا ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھڑے ہونے والی حدیثیں بھی انہیں مل جاتیں، احادیث میں مختلف مواقع پر مختلف افراد کے لیے کھڑا ہونا اور کھڑے ہونے کے لیے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم فرمانا ثابت ہے، حضور علیہ السلام کے لیے صحابہ کرام کھڑے ہوتے تھے اور حضور علیہ السلام حضرت فاطمہ زہرا کے لیے کھڑے ہوتے تھے، یہ سارے احوال و اقوال احادیث میں موجود ہیں، چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:

ابوداؤد شریف میں ہے: كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا. حضرت فاطمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر تشریف لاتیں تو آپ ان کے لیے کھڑے ہو جاتے، اسی میں ہے: كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا فَأَخَذَ بِيَدِهَا فَقَبَّلَهَا وَأَجْلَسَهَا فِيْ مَجْلِسِهٖ وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِلَيْهِ فَأَخَذَتْ بِيَدِهٖ فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِيْ مَجْلِسِهَا. یعنی جب حضرت فاطمہ زہرا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر تشریف لاتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے کھڑے ہوتے، ان کا ہاتھ پکڑتے، انہیں بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ زہرا کے گھر تشریف لے جاتے تو حضرت فاطمہ زہرا آپ کے لیے قیام فرماتیں، انہیں بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ انہیں بٹھاتیں۔ [ابوداؤد، ص: 708]

صحابیِ رسول حضرت سعد کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہونے کا حکم فرمایا، چنانچہ بخاری شریف جلد 2 ص 926 میں ہے: قُوْمُوْا إِلٰى سَيِّدِكُمْ. یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جنازہ کے لیے قیام کا حکم فرمایا، چنانچہ بخاری شریف جلد 1 ص 175 اور مسلم شریف جلد 1 ص 310 میں ہے: إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُوْمُوْا حَتّٰى تُخَلِّفَكُمْ.

اور اب وہ حدیثِ پاک سماعت کریں جس سے ایمان تازہ ہو جائے، چنانچہ بیہقی شعب الایمان اور مشکوٰۃ شریف ص 689 پر ہے:

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ مَعَنَا فِي الْمَجْلِسِ يُحَدِّثُنَا فَإِذَا قَامَ قُمْنَا قِيَامًا حَتّٰى نَرَاهُ قَدْ دَخَلَ بَعْضَ بُيُوْتِ أَزْوَاجِهٖ.

یعنی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ تشریف رکھتے اور گفتگو فرماتے، پس جب آپ جانے کے لیے کھڑے ہوتے ہم تمام صحابہ کھڑے ہو جاتے اور اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک آپ کسی زوجہِ محترمہ کے حجرے میں داخل نہ ہو جاتے۔

کتنی صراحت و وضاحت کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور کے لیے تمام صحابہ کے کھڑے ہونے اور کھڑے رہنے کا واقعہ سنا رہے ہیں، مگر افسوس بیمار دلوں کو نقص کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔

دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

یہ دعویِ توحید والے درود و سلام مع القیام کو اتنا بڑا گناہ سمجھتے ہیں کہ اس کے آگے نماز نہ پڑھنا، روزہ نہ رکھنا، حرام کھانا، چندہ کی رقم ہضم کرنا، دھوکہ دے کر مال جمع کرنا کوئی گناہ نہیں، اب ان ادبِ رسالت سے محروموں کو کون سمجھائے کہ کھڑے ہو کر درود و سلام پڑھنا فرشتے کا بھی معمول ہے، صحابہ کرام کا بھی معمول ہے اور اولیائے کرام کا بھی معمول ہے قرآنِ شریف میں فرشتوں کے بارے میں فرمایا گیا: وَمَلٰئِكَتُهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ. اور اللہ کے فرشتے بھی درود بھیجتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہ۔ فرشتے درود کس طرح بھیجتے ہیں؟ تو سورہِ صافات میں ہے کہ ان گنت فرشتے صف بصف کھڑے درود بھیج رہے ہیں۔

حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں صبح و شام ستر ہزار فرشتے درود و سلام کا ہدیہ پیش کرتے ہیں کیا وہ بیٹھ کر پیش کرتے ہیں نہیں، فرشتے بارگاہِ نبوت کے ادب شناس ہیں، وہ بے اجازت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہِ پاک میں حاضر نہیں ہوتے، وہ ان کے قدموں کا بوسہ دینا بھی باعثِ فخر سمجھتے ہیں پھر یہ کیسے ممکن ہے، صبح و شام بارگاہِ نبوی میں روضہِ اطہر پہ حاضر ہونے والے فرشتے بیٹھ کر یا لیٹ کر درود و سلام پڑھتے ہیں، اگر کسی پاس یہ صراحت ہے کہ فرشتے بیٹھ کر یا لیٹ کر درود و سلام پڑھتے ہیں تو وہ قرآن و بخاری سے دلیل فراہم کرے۔

حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازہ کے بارے میں ایک روایت بزار، حاکم، ابن منیع، بیہقی، طبرانی معجم اوسط میں ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے حدیث مروی ہے:

إِذَا غَسَّلْتُمُوْنِيْ وَكَفَّنْتُمُوْنِيْ فَصَلُّوْا عَلٰى سَرِيْرِيْ ثُمَّ اخْرُجُوْا عَنِّيْ فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُّصَلِّيْ عَلَيَّ جِبْرِئِيْلُ ثُمَّ مِيْكَائِيْلُ ثُمَّ إِسْرَافِيْلُ ثُمَّ مَلَكُ الْمَوْتِ مَعَ جُنُوْدِهٖ مِنَ الْمَلَائِكَةِ بِأَجْمَعِهِمْ ثُمَّ ادْخُلُوْا عَلَيَّ فَوْجًا بَعْدَ فَوْجٍ فَصَلُّوْا عَلَيَّ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا.

جب میرے غسل و کفن سے فارغ ہو تو مجھے ایک تخت پر رکھ کر باہر چلے جاؤ، سب سے پہلے جبرئیلِ امین مجھ پر درود پڑھیں گے پھر میکائیل، اسرافیل اور پھر ملک الموت اپنے سارے لشکروں کے ساتھ درود بھیجیں گے، پھر گروہ در گروہ میرے پاس حاضر ہو کر مجھ پر درود و سلام عرض کرتے جاؤ۔

یہ حدیث بھی بتا رہی ہے کہ فرشتے اور صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کھڑے ہو کر درود و سلام پڑھا اور ایسا کرنے کا انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا، کیا اس صراحت کے بعد درود و سلام کھڑے ہو کر پڑھنے کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت ہے؟

حضرت انس سے مروی روایت کا مفہوم

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھڑے ہونے کو ناپسندیدہ ثابت کرنے کے لیے حضرت انس کی جس روایت کو پیش کیا گیا ہے، وہ روایت ترمذی کی ہے اور غریب ہے، ہم اگر تعظیمِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ثبوت پر کوئی حدیث پیش کریں تو مطالبہ ہو حدیثِ صحیح کا اور وہ بھی بخاری سے اور خود تعظیمِ نبی کے خلاف ثبوت دینا ہو تو ترمذی سے اور بھی حدیثِ غریب سے، ہماری پیش کردہ ہر حدیث بغیر سوچے سمجھے ضعیف ہے اور منکرین کی پیش کردہ غریب بھی ہو تو قابلِ قبول۔

اللہ رے خود ساختہ قانون کا نیرنگ
جو بات کہیں فخر وہی بات کہیں ننگ

قارئین اس علمی بددیانتی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں یہ ان پہ چھوڑتا ہوں، شارحینِ حدیث نے اس حدیثِ پاک کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے لیے قیام کو ناپسند فرمانا تواضع اور لوگوں کے جبر و کبر کی عادت کی مخالفت کی غرض سے تھا، یعنی امت کو تعلیم دینا مقصود تھا کہ اپنے لیے کسی کو کھڑا ہونے کی آرزو رکھنا پسندیدہ عمل نہیں، اسی لیے ایک جگہ آپ نے فرمایا: مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَّتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهٗ مِنَ النَّارِ. یعنی اپنی تعظیم کے لیے جو دوسروں کے کھڑا ہونے کا خواہش مند ہو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔ [مشکوٰۃ، ص: 403]

حدیثِ انس کی شرح کرتے ہوئے صاحبِ تحفۃ الاحوذی نے لکھا: أَيْ لِقِيَامِهِمْ تَوَاضُعًا لِّرَبِّهٖ وَمُخَالَفَةً لِّعَادَةِ الْمُتَكَبِّرِيْنَ وَالْمُتَجَبِّرِيْنَ. اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھڑا ہونا کلیتہً ناپسندیدہ ہوتا تو حضرت ابوہریرہ کی روایت کے مطابق صحابہ کرام مسجدِ نبوی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھڑے نہیں ہوتے، صحابہ کرام کا کھڑا ہونا بتا رہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھڑا ہونا سنتِ صحابہ ہے۔

اس حدیث کی ماہرِ رضویات پروفیسر مسعود احمد مظہری نے بڑی ایمان افروز وضاحت کی ہے، وہ لکھتے ہیں:

سوال کرنے والا سوال کر سکتا ہے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلقاً تعظیم کے لیے کھڑا ہونا پسند نہ تھا تو پھر اپنے پیاروں کے لیے آپ کیوں کھڑے ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کھڑے ہونے کا حکم کیوں دیا؟ اس کا کوئی جواب نہیں، آپ نے ناپسندیدہ بات کا کبھی حکم نہیں دیا، جو خود پسند فرمایا اسی کا حکم دیا، اگر یہ سمجھ لیا جائے تعظیم کے لیے کھڑا ہونا ہی آپ کو ناپسند تھا تو آپ نے ناپسندیدہ بات کا حکم دیا؟ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ! اس کا تو کوئی مسلمان تصور نہیں کر سکتا، کسی کے لیے دل میں پیار و محبت ہو تو خود بخود کھڑے ہونے کو جی چاہتا ہے، نفرت و عداوت ہو تو کھڑا ہونا تو درکنار سلام کرنے کو بھی جی نہیں چاہتا، یہ انسان کی فطرت ہے، کسی کے لیے ذوق و شوق سے کھڑا ہونا خلوص و محبت کی علامت ہے اور نہ کھڑا ہونا نفرت و عداوت کی، کسی کی دل سے تعظیم کرنی ہوتی ہے تو ہم کھڑے ہوتے ہیں اور تذلیل و تحقیر کرنی ہوتی ہے تو ہم بیٹھے رہتے ہیں، یہ ہماری عادت ہے، اللہ تعالیٰ نے بار بار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا حکم دیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ تعظیم و توقیر کے لیے کھڑا ہونا تاریخ کے ہر دور میں عزت و احترام کی علامت رہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ خلوصِ دل کے ساتھ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا اہلِ بیت اطہار، ازواجِ مطہرات اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب ہی کی سنت ہے۔

مضمون نگار نے ایک جگہ لکھا ہے کہ میلاد النبی کسی امام، محدث، غوث یا اللہ کے ولی نے نہیں کیا، اگر بزرگوں کے معمولات کو تقویۃ الایمان اور تبلیغی نصاب میں ڈھونڈیں گے تو کہاں سے ملے گا؟ اللہ والوں کی باتیں اللہ والوں کی کتابوں میں ملتی ہیں، اس موضوع پہ ان گنت کتابیں لکھی گئی ہیں اور اتنی زبانوں میں لکھی گئی ہیں کہ ان کا شمار بھی مشکل ہے، عربی، فارسی پڑھنے میں دشواری ہو تو اکثر کتابوں کا اردو ترجمہ بھی ہو گیا ہے، حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی کتاب ”اخبار الاخیار“ کا اردو ترجمہ بھی دستیاب ہے، اس میں انہوں نے اپنا عمل صاف لکھا ہے کہ میں محفلِ میلاد النبی میں شریک ہوتا ہوں اور کھڑے ہو کر سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود و سلام پڑھتا ہوں، انہوں نے اسی عمل کو آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بھی بتایا ہے توفیق ہو تو بزرگوں کے معمولات پر ہی اپنے عمل کی بنیاد رکھیں، بزرگوں کا ہر عمل مجرب نسخہِ نجات ہے اور كُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِيْنَ کے ذریعہ انہیں کے ساتھ رہنے کی تاکید بھی کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو بزرگوں کے معمولات و مراسم اور عقیدہ و نظریہ پہ قائم رکھے، آمین۔

درود و سلام کی فضیلت

درود و سلام کی فضیلت سے احادیثِ کریمہ کے صفحات پر ہیں، اخیر میں احادیث میں مذکور چند فضائل بیان کر کے اپنی گفتگو ختم کروں، حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی اپنی کتاب ”جذب القلوب“ میں فرماتے ہیں ”جو بندہ ایک بار درود شریف پڑھتا ہے، خدائے تعالیٰ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے، دس درجے بلند فرماتا ہے، دس نیکیاں عطا فرماتا ہے، دس گناہ مٹاتا ہے، دس غلام آزاد کرنے کا ثواب اور بیس غزوات میں شرکت کا (بقیہ ص: 12 پر)“

[ماہنامہ سنی دنیا، دسمبر 2017ء، ص: 40]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!