Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد کبیر اور ان کے القابات (قسط: اول)

امام احمد کبیر اور ان کے القابات (قسط: اول)
عنوان: امام احمد کبیر اور ان کے القابات (قسط: اول)
تحریر: مدثر جمال رفاعی
پیش کش: محمد بلال رضا عطاری مدنی، احمدآباد، گجرات

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کی مختلف صفات مختلف الفاظ میں بیان فرمائی ہیں اور اپنے نافرمان بندوں کے بارے میں بھی ان کی نافرمانی کے شدید یا خفیف ہونے کے لحاظ سے مختلف الفاظ والقاب استعمال فرمائے ہیں، اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعدد کبار صحابہ کو ان کی خصوصیات اور امتیازات کے پیش نظر مختلف القاب اور مختلف فضائل و مناقب والے الفاظ سے شرف یاب فرمایا ہے، مذکورہ بالا یہ دونوں حقائق القاب کی اصل اور بنیاد ہیں، اگر غور کیا جائے تو القاب کے صدور کے لحاظ سے اس کی دو قسمیں بنتی ہیں:

ایک وہ القاب جو قرآن و سنت میں کسی کے لیے وارد ہوئے ہوں، مثلاً قرآن کریم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خاتم النبیین وغیرہ یا احادیث میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے عتیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لیے محدث یا سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے لیے مولا، وغیرہ وغیرہ۔

دوسرے وہ القاب جو اہل علم و معرفت نے اپنے اپنے علم و فن کے ماہرین اور متعلقین کے لیے صادر کیے ہوں، مثلاً فقہائے کرام کے ہاں مجتہد مطلق، مجتہد منتسب، مجتہد مذہب، مجتہد مرجح اور مقلد وغیرہ وغیرہ، یا مثلاً محدثین عظام کے ہاں أمير المؤمنين في الحديث، ثقہ، ثبت، حجت، حافظ، مسند، محدث، وغیرہ وغیرہ۔

حضرات صوفیائے کرام اور اولیائے عظام کے ہاں مختلف شخصیات کے لیے جو القاب استعمال کیے جاتے ہیں وہ بھی بنیادی طور پر اسی دوسری نوعیت کے ہوتے ہیں، جو زہد و معرفت اور سلوک طریقت کے ماہرین مختلف شخصیات کے مراتب کے پیش نظر استعمال کرتے ہیں، علاوہ ازیں القاب کے صدور کی ایک صورت اور بھی ہے وہ یہ کہ کسی معتبر بندے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت ہو، یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور نبی یا کسی صحابی و ولی کی زیارت ہو اور اس میں اسے کسی ”ولی“ کے متعلق کوئی لقب بتایا جائے، یہ صورت بھی ایک معتبر صورت ہے۔ بشرطیکہ اس میں خواب کے متعلق شریعت اسلامیہ کی عمومی ہدایات کو ملحوظ رکھا جائے، نیز یہ بھی ملحوظ رکھا جائے کہ قرآن کریم میں حکم ہے: وَلَا تَنَابَزُوا بِالألقاب [الحجرات: 11] ”اور ایک دوسرے کو برے لقب سے یاد نہ کرو۔“

اس سے مفہوم مخالف کے طور پر اس بات کا جواز اخذ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کو اچھے لقب سے یاد کیا جا سکتا ہے، اس مختصر تمہید کے بعد اب ہم سلسلہ مبارکہ رفاعیہ جو اہل حق کے سلاسل طیبہ میں ایک ممتاز سلسلہ طریقت ہے جس کے مؤسس امام احمد کبیر رفاعی موسوی حسینی حسنی (قدس الله سره اللطيف ونفعنا بعلمه الشريف وفيضه المنيف) کے القاب کے متعلق کچھ عرض کرتے ہیں، تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ ان کے متعلق جو القاب استعمال کیے جاتے ہیں، وہ محض ان کے حلقہ رفاعیہ کے احباب کی ذاتی وضع ہے یا دیگر کبار اہل علم اور کبار اہل طریقت نے ان کے متعلق اس نوع کے بلند پایہ القاب استعمال کیے ہیں اور ان کی بلند شان و عظمت کو اس نوع کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔

اس مختصر مضمون میں بندہ ناچیز کی کوشش ہے کہ امام رفاعی قدس سرہ کے متعلق مختلف اہل علم نے جو القاب استعمال فرمائے ہیں، وہ انہی کی تصریحات کے ساتھ اپنے قارئین کے سامنے رکھ دیے جائیں تاکہ ان کے سامنے صورت حال پوری طرح واضح ہو جائے، والله الموفق وهو المعين۔

سید المرسلین کی بشارت اور امام رفاعی کا مقام عظمت

سیدی امام رفاعی قدس سرہ کے شیخ و مرشد (جو رشتے میں ان کے ماموں بھی تھے) امام منصور بطائحی انصاری قدس سرہ فرماتے ہیں کہ:

ایک شب خواب میں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے منصور! میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کو چالیس دن بعد ایک لڑکا عطا فرمائے گا، اس کا نام احمد رفاعی ہوگا، جس طرح میں تمام انبیاء کا سردار ہوں، اسی طرح وہ (سید احمد کبیر رفاعی) تمام اولیاء کا سردار ہوگا۔ [إرشاد المسلمين إلى طريقة شيخ المتقين، الشيخ أبي الفرج عز الدين عمر الفاروثي الرفاعي المحدث]

سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور امام رفاعی کا مقام عظمت

سلطان المتکلمین، امام ربانی مجدد حقانی سیدی محمد مہدی الرفاعی الثانی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ روحانی مکاشفے میں حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا:

ارتبط بالسيد أحمد فهو أعظم الأولياء المحمديين بعد الأئمة الآل الاثني عشر نيابة عني من مقام الحال وعن جده محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم من منزلة الحال والمقام ووهو شيخك وشيخ كل مسلم يؤمن بالله وبرسوله وأوسع أقطاب الأمة المحمدية دائرة [بوارق الحقائق، طبع قاہرہ، ص: 120]

”تم سید احمد رفاعی کے ساتھ جڑ جاؤ، کیونکہ وہ میری طرف سے مقام حال میں اور اپنے نانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف سے حال اور مقام دونوں اعتبار سے نائب ہیں اور اہل بیت کے بارہ اماموں کے بعد امت محمدی کے سب سے بڑے ولی ہیں، وہ تمہارے بھی شیخ ہیں اور ہر اس مسلمان کے شیخ ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو اور امت محمدیہ کے اقطاب میں انہی کا دائرہ سب سے وسیع ہے۔“

سیدنا خضر علیہ السلام اور امام رفاعی کا مقام عظمت

سلطان المتکلمین، امام ربانی مجدد حقانی سیدی محمد مہدی الرفاعی الثانی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ملک شام کے علاقہ مکین میں جہاں سلسلہ رفاعیہ کے بزرگوں کے مزارات ہیں، وہاں سیدنا خضر علیہ السلام سے میری ملاقات ہوئی، اس ملاقات میں انہوں نے امام رفاعی قدس سرہ کے متعلق جو القاب استعمال فرمائے وہ درج ذیل ہیں:

  • شيخ المتقين (متقی لوگوں کے شیخ)
  • سيد الصديقين (صدیقین کے سردار)
  • إمام الممكنين (صاحب تمکین لوگوں کے امام)
  • سلطان العارفين (عارفین کے بادشاہ)
  • نائب جده النبي الأمين صلى الله عليه وسلم (اپنے نانا نبی امین صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب) [بوارق الحقائق، طبع قاہرہ، ص: 47]

غوث اعظم اور امام رفاعی کا مقام عظمت

کتاب سواد العینین میں مذکور ہے کہ ایک مرید نے شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ سے امام رفاعی قدس سرہ کے متعلق سوال کیا تو شیخ نے جواب میں فرمایا:

”اے فقیر! امام رفاعی وہ شخص ہیں کہ ان کے مقام و مرتبے اور حد کو کوئی نہیں پہچان سکتا اور نہ کوئی وہاں تک پہنچ پایا ہے، یہ وہ باکمال شخص ہیں کہ شریعت اور قرآن کریم ہی ان کے اخلاق ہیں، ان کا دل رب الارباب اللہ تعالیٰ کے ساتھ مشغول ہے، انہوں نے سب کچھ چھوڑ دیا اور سب کچھ پالیا۔“ [سماع و شراب عند اشراف الاقطاب، سواد العینین، طبع دار التقوی دمشق الشام]

سید ابو القاسم بن السید ابراہیم البرزنجی الحسینی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”إجابة الداعي في مناقب القطب الكامل العارف الشريف السيد أحمد الرفاعي“ میں حضرت سیدی امام رفاعی قدس سرہ کے متعلق درج ذیل القاب تحریر کیے ہیں:

العارف الأكبر، الكبريت الأحمر، خريدة المعارف، مرجع كل عارف، قطب دائرة الجمال، فلك سمة الكمال، مربي السالكين، إمام العارفين، مظهر الأنوار الإلهية، سر المحبة الذاتية، كاشف نقاب وحدة الوجود، حامل راية أصحاب الشهود، الشيخ الواصل المحقق، سندنا الكامل المكمل المدقق، فخر العارفين، قرة عين الواجدين، إنسان عين المحققين، نتيجة مقدمة العاشقين. [إجابة الداعي، ص: 2، دار التقوى دمشق الشام]

[ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف، مارچ 2022، ص: 45 تا 46]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!