Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اسلام میں قربانی کا تصور

اسلام میں قربانی کا تصور
عنوان: اسلام میں قربانی کا تصور
تحریر: محسن رضا ضیائی
پیش کش: کنیز قائد ملت ماہما رضویہ

عید الاضحیٰ اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے مومنوں کے لیے ایک بیش قیمتی تحفہ ہے۔ یہ ہر سال اپنی آن بان اور شان کے ساتھ بے پناہ انعامات و اکرامات لے کر وارد ہوتی ہے، اور بندوں کے اندر ایثار و قربانی اور اطاعت و فرماں برداری جیسے جذبات و احساسات پیدا کر کے رخصت ہوتی ہے۔ ساتھ میں سنتِ ابراہیمی کی یاد بھی تازہ کراتی ہے، جو آپ نے اپنے لختِ جگر نورِ نظر فرزندِ دلبند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو رضائے الٰہی کی خاطر قربانی کے لیے پیش کیا تھا۔ رب تعالیٰ کو آپ کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ اسے ہر سال کے لیے ہر صاحبِ مال پر قیامت تک کے لیے واجب و ضروری قرار دے دیا۔ اس واقعے کے بعد سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر جانوروں کی قربانی پیش کرنا خاص عبادت میں شامل و داخل ہو گیا۔ اسی لیے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں کے لیے بھی باقی رکھا گیا اور اسے شعائرِ اسلام میں شمار کیا گیا۔ اس واقعہ کو ہوئے ہزاروں ہزار سال گزر گئے، لیکن آج تک اس کو ایک تازہ واقعے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جو مسلمانوں کے اندر ایثار و قربانی، خلوص و للہیت اور تقویٰ و پرہیزگاری جیسے جذبات کو جاں گزیں کر دیتا ہے۔ مسلمان سال میں ایک بار دسویں ذی الحجہ کو عید الاضحیٰ مناتے ہیں، جس کا خاص مقصد رضائے الٰہی، سنتِ ابراہیمی اور تقویٰ و پرہیزگاری ہے۔ اسی طرح یہ عید آپسی اختلاف و انتشار کو ختم کرنے کا بھی ایک اہم پیغام دیتی ہے۔ تمام ظاہری و باطنی جرائم و معاصی سے بچنے اور ان کے انسداد کی دعوتِ فکر بھی پیش کرتی ہے۔

اگر اسے مختلف زاویۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو دراصل یہ اپنے رب کا شکر و احسان بجا لانے کی عید ہے، تکبیر و تہلیل کی گونجوں سے رب کو منانے کی عید ہے اور راہِ خدا میں اپنا مال و متاع اور جانوروں کی قربانی پیش کرنے کی عید ہے۔ اس عید کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اسے تین دنوں تک منانا مشروع ہے۔ اس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس کے مخصوص و مقررہ ایام میں مخصوص جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے۔

قربانی ایک ایسا عمل ہے جو ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک مختلف طور طریقوں، فکروں اور عقیدوں کی بنیاد پر ہوتا چلا آ رہا ہے۔ ہر زمانے میں اسے ایک محبوب و پسندیدہ عمل سمجھا گیا اور مذہبی عبادت کے طور پر کیا گیا ہے۔ ہر مذہب و ملت میں اس کا تصور ملتا ہے۔ آج بھی دنیا کے بیشتر مذاہب میں اس کے قدیم اقدار و روایات باقی ہیں، جسے کسی خاص موقع، یا مذہبی تہوار پر مختلف اور علاحدہ طریقوں سے عمل میں لایا جاتا ہے لیکن ان کے بر خلاف اسلام میں اس کا تصور تخلیقِ انسانیت کے بعد سے ہی ملتا ہے، چناں چہ قرآنِ عظیم میں فرمایا گیا: ”اور انہیں پڑھ کر سناؤ آدم کے دو بیٹوں کی خبر جب انہوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔“ [المائدۃ: 27]

اسی طرح قرآنِ عظیم اور دیگر مقامات پر ”لفظِ قربان“ وارد ہوا ہے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا تصور اسلام میں بہت قدیم ہے۔

قربانی کا معنی:

”قربانی“ یہ لفظ قرب سے بنا ہے اور عربی میں ”قرب“ کا معنیٰ ہے: قریب ہونا اور نزدیک ہونا ہے۔ چوں کہ قربانی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی نزدیکی طلب کی جاتی ہے اسی لیے اسے قربانی کہا جاتا ہے۔ اردو زبان میں قربانی کا معنیٰ ہے حلال ذبیحہ جس کو خاص عید الاضحیٰ کے موقع پر اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو۔

قربانی قربِ خداوندی کا ذریعہ:

قربانی دراصل تقربِ خداوندی روحِ ایمان کی تازگی اور تواضع و انکساری کا ایک مرغوب و محبوب عمل ہے، جسے کر لینے کے بعد انسان کے اندر گوناگوں ظاہری و باطنی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جس کی بنیاد پر وہ اپنے رب کے قربِ خاص میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، اور اس کے ذریعہ تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب اور تمام جلی و خفی معاصی و جرائم سے احتراز و اجتناب کرتے ہوئے اپنے رب کا مقرب و محبوب بن جاتا ہے۔ یوں تو انسان کو اپنے خالق و مالک کا انتہائی مقرب و محبوب بننے کے لیے بے شمار مشکل گزار گھاٹیوں، مرحلوں اور منزلوں سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے۔ ان گنت مصائب و آلام، مشکلات و صعوبات اور ابتلا و آزمائش سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اپنی ہر محبوب اور قیمتی چیزیں قربان کرنی پڑتی ہیں۔ اتنی ساری کٹھنائیوں اور مشکلوں سے گزرنے کے بعد بندہ اپنے رب کا قرب حاصل کرنے میں کامیاب اور اپنے مقصد میں بارآور ہوتا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں جو شرعی قربانی کا اسلام میں عمل و تصور ہے وہ نہایت ہی آسان ہے، جس میں عبادت و اطاعت، محبت و فنائیت اور خلوص و للہیت کا جذبہ کار فرما ہے۔ اس میں اس قدر کٹھنائیوں اور پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے، جو اور دیگر قربانیوں میں کرنا پڑتا ہے، اس میں بس تقویٰ اور پرہیزگاری کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔ چناں چہ اللہ پاک کا ارشاد ہے: ”ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے۔“ [الحج: 37]

اس آیتِ کریمہ کے شانِ نزول میں علامہ شیخ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر ”روح البیان“ میں لکھتے ہیں:

”اہلِ جاہلیت کی عادت تھی کہ وہ قربانی کے جانوروں کے خون سے کعبہ معظمہ کو لت پت کرتے اور گوشت کے ٹکڑے بنا کر کعبہ شریف کے ارد گرد رکھ دیتے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس سے روکا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہرگز نہیں پہنچتے، ہاں اس کے ہاں اس کی رضا پہنچتی ہے۔“

اسی طرح اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ نہ تمہارے جسموں اور نہ تمہاری صورتوں کی طرف نظرِ رحمت فرماتا ہے، بلکہ تمہارے اعمال اور دلوں کی طرف نظرِ رحمت فرماتا ہے۔“ [ریاض الصالحین]

دوسرے مقام پر حضرت امام احمد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”افضل قربانی وہ جو بہ اعتبارِ قیمت اعلیٰ ہو اور خوب فربہ ہو۔“

مذکورہ آیت و حدیث کی روشنی میں یہ ظاہر و عیاں ہو گیا کہ قربانی محض جانوروں کو راہِ خدا میں ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اخلاص و للہیت، تقویٰ و پرہیزگاری اور حسنِ نیت کا نام ہے۔ اگر جانوروں کو ان مذکورہ بالا فرامین پر عمل پیرا ہو کر ذبح کیا جائے تو وہ بارگاہِ خداوندی میں مقبولیت کی سند رکھتے ہیں۔ لیکن اگر ان چیزوں سے پرے ہو کر کیا جائے تو وہ محض نام و نمود، عزت و شہرت اور تصنع و ریاکاری کا ایک عمل ہے، جو اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں۔

قربانی کرنے کی فضیلت:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کے دن انسان کے اعمال میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ خون بہانا ہے اور بے شک وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور بے شک خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہو جاتا ہے تو اسے دل کی بھلائی کے ساتھ کرو۔“ [مشکوٰۃ]

ایک اور روایت میں ہے کہ: ”اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابۂ کرام نے دریافت کیا کہ یہ قربانی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، صحابۂ عظام نے پھر پوچھا کیا اس میں ہمارے لیے اجر و ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بال کے بدلے میں نیکی ملے گی۔“ [ترمذی]

قربانی کے بے شمار فضائل کتبِ احادیث میں مذکور ہیں، جن سے قربانی کی فضیلت و اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ ان کتبِ حدیث کی طرف رجوع کیا جائے، جن کا مطالعہ معلومات میں اضافے کا باعث ثابت ہوگا۔

قربانی کا وقت:

قربانی کا وقت تین دن ہے۔ دسویں گیارہویں اور بارہویں ذی الحجہ تک، جو دسویں کی طلوعِ آفتاب سے شروع ہو کر بارہویں کے غروبِ آفتاب تک باقی رہتا ہے۔ اس میں افضل پہلا دن ہے، اس کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا دن۔ ان ایام میں کسی بھی دن قربانی کر سکتے ہیں۔

ایام تشریق و تکبیر:

اسی طرح عید الاضحیٰ کے دنوں میں کیا جانے والا عمل تکبیرِ تشریق بھی ہے۔ در مختار کے حوالے سے اردو مسائل میں انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھنے والی کتاب ”بہارِ شریعت“ میں ”تنویر الابصار“ کے حوالے سے ہے: نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک ہر نمازِ فرض پنج گانہ کے بعد جو جماعتِ مستحبہ کے ساتھ ادا کی گئی، ایک بار تکبیر بلند آواز سے کہنا واجب ہے اور تین بار افضل اسے تکبیرِ تشریق کہتے ہیں۔ وہ یہ ہے:

اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ [تنویر الابصار، کتاب الصلوٰۃ، باب العیدین، ج: 3، ص: 71]

قربانی کے ایام میں ضرورت مندوں کا خیال رکھنا:

عید الاضحیٰ بار بار ہمیں اس جانب متوجہ کراتی ہے کہ اپنے ان خوشیوں کے ایام میں غریبوں، فقیروں، مسکینوں، یتیموں، پڑوسیوں، ہمسائیوں اور رشتہ داروں کا بھی خوب خیال رکھیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس خوشی سے محروم رہ جائیں، لہذا اپنی ان خوشیوں میں انہیں بھی برابر کا شریک کریں۔ اسی لیے علمائے کرام نے بعض آثار کی بنیاد پر یہ فرمایا ہے کہ؛ اگر گوشت کے تین حصے کر لیے جائیں تو بہتر ہے۔ ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں کے لیے اور تیسرا حصہ غربا و مساکین کے لیے۔

آج کل ہمارے سماج میں یہ رواج عام ہو گیا ہے کہ قربانی کے گوشت کی خوب ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے، اور کئی کئی دنوں تک فریج میں رکھ کر اسے کھایا جاتا ہے۔ حالاں کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ پہلے معاشرے کے غربا و فقرا کے درمیان گوشت تقسیم کریں پھر جو بچ رہا ہے، اسے اپنے لیے رکھ چھوڑیں۔ یقیناً ہمارے اس طرح کے نیک عمل سے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی حاصل ہوگی اور ساتھ ہی ساتھ ضرورت مندوں کی دل جوئی بھی ہو جائے گی۔ لہذا عید الاضحیٰ کے ایام میں غربا و فقرا کا خیال رکھیں، اپنے جانوروں کی قربانی کے گوشت سے ان کی مدد کریں۔ یاد رکھیں کہ حدیثِ پاک میں غریبوں اور فقیروں کی حاجت روائی کرنے کو جہاد اور عبادت قرار دیا گیا ہے۔

چناں چہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”بیواؤں اور مسکینوں کی خبر گیری کرنے والا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ (راویِ حدیث کہتے ہیں کہ) میرا گمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ وہ اس عبادت کرنے والے کی طرح ہے، جو سست نہیں ہوتا اور اس روزے دار کی طرح ہے، جو ناغہ نہیں کرتا ہے۔“ [بخاری: 5353]

لہذا اہلِ خیر و صاحبِ ثروت افراد کو اس جانب از حد توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ غریب و نادار لوگ بھی اس خوشی سے کسی حد تک محروم نہ رہ سکیں۔

پیغامِ عید الاضحیٰ:

عید الاضحیٰ سال میں ایک بار آتی ہے اور مومنوں کے دلوں پر سیکڑوں قربانیوں اور یادوں کا دلکش نقش چھوڑ جاتی ہے۔ اس کے حسین و پر بہار موقع پر اپنے اعمال و افعال کے ذریعہ رب تعالیٰ کی رضا جوئی و خوشنودی اور قربت و نزدیکی حاصل کریں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت پر مکمل طور پر عمل کریں اور ان کے فرزندِ عزیز حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایثار و قربانی جیسا جذبہ و حوصلہ اپنے اندر جاں گزیں کریں۔ اپنے خوشی و مسرت کے ایام میں سب کا یکساں اور برابر خیال رکھیں۔ اسی طرح اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کریں، اپنے اندر سے کبر و انانیت اور بغض و عداوت کے عفریت کو باہر نکال پھینکیں۔ دراصل قربانی اسی کا نام ہے۔

ہماری ذمہ داریاں:

عید الاضحیٰ کی عن قریب آمد ہونے والی ہے۔ ابھی سے جانوروں کی خرید و فروخت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ گرچہ عید الاضحیٰ کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ لیکن مسلمانوں کو ابھی سے ہوشیار اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ چند سالوں سے بقر عید کے موقع پر شرپسند عناصر اپنی شرانگیزی اور فتنہ خیزی سے ملک کے پُر امن ماحول کو خراب کرنے کی ناروا کوششیں کر رہے ہیں۔ خاص طور پر قربانی کے جانوروں کو لے کر مار پیٹ اور قتل و فساد کی فضا ہموار کر کے مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی مذموم حرکتیں انجام دے رہے ہیں۔ لہذا مسلمانوں کو اپنی طرف سے کوئی ایسا کام نہیں کرنا ہے جس سے ان شرپسند عناصر کو کوئی موقع ہاتھ لگے اور حالات خراب اور کشیدہ ہوں۔ بلکہ غیر مسلم علاقوں میں جانوروں کی قربانی سے احتراز اور جانوروں کی کھال کھلے عام ان علاقوں سے لے کر گزرنے سے بھی بچیں۔ جن جانوروں پر حکومت کی طرف سے پابندی عائد ہے، ان سے بھی گریز کریں اور قانون شکنی کی زد میں آنے سے بچیں۔ یہ چند احتیاطی تدابیر اور اقدامات ماحول کو پر امن بنائے رکھنے اور شر پسند عناصر کو ان کے مذموم عزائم میں ناکام بنانے کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ [ماہنامہ اشرفیہ مئی 2023، ص: 28]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!