| عنوان: | امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور تین عورتیں |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد جمیل احمد قادری |
| پیش کش: | نازیہ احمدی ضیائی |
امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ تین عورتوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک نے مجھے دھوکا دیا، دوسری نے فقہی مسئلہ سکھایا اور تیسری نے متقی بنا دیا، دھوکا دینے والی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں راہ چل رہا تھا، ایک عورت نے میری طرف اشارہ کر کے، راستے میں پڑی ہوئی ایک چیز کی طرف توجہ دلائی، مجھے لگا وہ گونگی ہے، اس لیے اشارے سے پڑا ہوا سامان اٹھوا رہی ہے، جب میں نے وہ چیز اٹھا کر اسے دینا چاہی، تو وہ بولی کہ:
”یہ کسی کا گرا ہوا سامان ہے، اپنے پاس باحفاظت رکھیے اور مالک تک پہنچا دیجیے گا۔“
راستے میں پڑے ہوئے سامان کے بارے میں بہارِ شریعت میں ہے کہ:
”ملتقط (یعنی اٹھانے والے) پر تشہیر لازم ہے، یعنی بازاروں اور شارعِ عام (عام راستوں) اور مساجد میں اتنے زمانے تک اعلان کرے، کہ ظنِ غالب ہو جائے کہ مالک اب تلاش نہ کرتا ہوگا، یہ مدت پوری ہونے کے بعد اسے اختیار ہے کہ لقطہ (یعنی گری ہوئی چیز) کی حفاظت کرے، یا کسی مسکین پر تصدق کر دے، مسکین کو دینے کے بعد اگر مالک آ گیا، تو اسے اختیار ہے کہ صدقے کو جائز کر دے، یا نہ کرے، اگر جائز کر دیا، ثواب پائے گا اور جائز نہ کیا، تو اگر وہ چیز موجود ہے، اپنی چیز لے لے اور ہلاک ہو گئی ہے تو تاوان لے گا۔“
اس عورت نے اپنے سر اتنا بڑا جھمیلا نہ پال کر، حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے سر ڈال دیا، زبان سے نہ بولی کہ شاید حقیقت کھل جاتی، امام المسلمین کی آنکھوں میں دھول جھونکنا آسان نہ تھا، لہٰذا اس عورت نے اشارے کا استعمال کر کے اپنا مدعا حاصل کیا، اسی لئے حضرت امام نے فرمایا کہ خَدَعَتْنِي امْرَأَةٌ ”مجھے ایک عورت نے دھوکا دیا۔“
دوسری کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے مجھ سے حیض کے بارے میں ایک ایسا مسئلہ پوچھا، جو مجھے معلوم نہ تھا، تو اس نے ایک ایسی دانائی کی بات کہی، جس کی وجہ سے میں نے مسئلہ جان لیا، امام کے الفاظ ہیں:
فَقَالَتْ قَوْلًا تَعَلَّمْتُ الْفِقْهَ مِنْ أَجْلِهِ
تیسری عورت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں ایک راستے سے گزر رہا تھا، تو ایک عورت نے میری طرف اشارہ کر کے دوسری سے کہا کہ یہ وہ شخص ہے، جو عشا کے وضو سے فجر کی نماز پڑھتا ہے، تو میں نے ارادہ کر لیا اور وہی میرا معمول بن گیا، امام کے الفاظ ہیں:
فَتَعَمَّدْتُ ذَلِكَ حَتَّى صَارَ دَأْبِي
کسی نے سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں مسئلہ پوچھا، جس کا کہنا تھا کہ:
”میں جنت کی امید نہیں رکھتا، جہنم سے نہیں ڈرتا، اور نہ خدا سے خوف کھاتا ہوں، مردار کھاتا ہوں، بغیر قراءت کے نماز پڑھتا ہوں، نماز میں رکوع سجدہ بھی نہیں کرتا، بغیر دیکھے گواہی دیتا ہوں، حق کو ناپسند کرتا ہوں، فتنہ سے محبت ہے۔“
حضرت امام رضی اللہ عنہ کے اصحاب نے کہا: اس شخص کا معاملہ مشکل بھرا ہے، امام نے فرمایا کہ (اس کی باتوں کی تاویل ہو سکتی ہے، اس نے کہا کہ: جنت کی امید نہیں رکھتا، اس کا مطلب یہ ہے کہ) وہ اللہ عزوجل کی امید رکھتا ہے، جنت کی نہیں (یہ جو کہا کہ دوزخ سے نہیں ڈرتا، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ) اللہ سے ڈرتا ہے، دوزخ سے نہیں (رب تعالیٰ سے نہ ڈرنے کی جو بات کی ہے، اس کا منشا یہ ہے کہ) عذابِ الہی میں ظلم سے نہیں ڈرتا، یعنی اسے اطمینان ہے کہ اللہ پاک اس کے ساتھ ظلم نہیں کرے گا (مردار کھانے کا مطلب) وہ مچھلی اور ٹڈی کھاتا ہے (جنہیں مر جانے کی صورت میں بھی کھانا جائز ہے اور وہ جو اس نے کہا کہ بغیر قراءت اور بلا رکوع و سجود کی نماز پڑھتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ) وہ جنازے کی نماز کے بارے میں کہتا ہے (رہ گئی بن دیکھے گواہی کی بات! تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ) وہ توحید یعنی رب تعالیٰ کے ایک ہونے کی گواہی، بغیر دیکھے دیتا ہے (حق کو ناپسند کرنے کا مطلب) وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور وہ حق ہے (فتنے سے محبت کرنے کا مطلب) وہ مال اور اولاد سے محبت کرتا ہے اور وہ دونوں فتنہ ہیں۔
اتنا سن کر وہ آدمی، جس نے سوال کیا تھا، اٹھ کھڑا ہوا، اور سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا سر مبارک چوم لیا اور کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہ برتن ہیں، جو علم سے بھرا ہوا ہے۔“ (الاشباہ والنظائر، جلد سوم، ص ۳۶۸، ۳۶۹)
نوٹ
کسی بندے کا یہ کہنا کہ ”میں جنت کی امید نہیں رکھتا“ اس کا ایک غلط مطلب بھی ہو سکتا ہے، یعنی یہ کہ ”میں خدا کی رحمت کی امید نہیں رکھتا“ اور یہ رحمتِ خداوندی سے ناامیدی ہے، لہٰذا ایسا جملہ بولنا جائز نہیں، الاشباہ کی شرح غمز عیون البصائر میں ہے:
قَالَ فِي الْفَتَاوَى الظَّهِيرِيَّةِ: لَكِنْ فِي هَذِهِ الْعِبَارَةِ ضَرْبٌ مِنَ الِاسْتِبْعَادِ لَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهَا
سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے سائل کے سوال کا مطلب بتایا تھا، استعمال کی اجازت نہیں دی تھی۔
ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، مارچ ۲۰۲۳ء
