| عنوان: | امام اہلِ سنت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی اسد الرحمن چشتی |
| پیش کش: | عالیہ فاطمہ انیسی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں
نام و نسب
سنہ پیدائش (1272ھ) کے اعتبار سے آپ کا تاریخی نام مختار ہے۔ آپ کا نامِ مبارک محمد ہے، اور آپ کے دادا نے احمد رضا کہہ کر پکارا اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔ پھر آپ نے اپنے نام کے ساتھ عبد المصطفیٰ کا اضافہ فرمایا۔ جب آپ دستخط کرتے تو عبد المصطفیٰ احمد رضا لکھا کرتے۔ اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بن مولانا نقی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں بن حافظ کاظم علی خاں بن محمد اعظم خاں بن محمد سعادت یار خاں بن محمد سعید اللہ خاں رحمہم اللہ۔ آپ کا تعلق ”افغانستان“ کے معزز قبیلہ بڑہیچ پٹھان سے ہے۔
تاریخِ ولادت
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت بروز ہفتہ، 10 شوال المکرم 1272ھ، بمطابق 14 جون 1856ء، بوقتِ ظہر ”محلہ جسولی“ بریلی شریف (انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم
اعلیٰ حضرت کی رسمِ بسم اللہ کے بعد تعلیم کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ آپ نے چار برس کی عمر میں ناظرہ قرآن مجید ختم کر لیا۔ چھ سال کی عمر میں ماہِ ربیع الاول شریف کی تقریب میں ایک بہت بڑے اجتماع کے سامنے ”میلاد شریف“ کے موضوع پر ایک پرمغز اور جامع بیان کر کے علمائے کرام اور مشائخِ عظام سے تحسین و آفرین کی داد وصول کی۔ ابتدائی اردو اور فارسی کی کتب پڑھنے کے بعد ”میزان و منشعب“ حضرت مولانا مرزا غلام قادر بیگ سے پڑھیں۔ پھر آپ نے اپنے والدِ ماجد سند المحققین حضرت مولانا شاہ نقی علی خان سے اکیس علوم حاصل کیے۔ ”شرح چغمینی“ کا بعض حصہ حضرت علامہ مولانا عبد العلی رام پوری علیہ الرحمہ سے پڑھا۔ ابتدائی ”علمِ تکسیر و جفر“ شیخ المشائخ حضرت شاہ ابوالحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ سے حاصل کیے۔ علمِ تصوف کی تعلیم استاذ العارفین مولانا سید آلِ رسول مارہروی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی۔
آپ نے اپنے والد نقی علی خان سے مندرجہ ذیل اکیس علوم پڑھے:
علمِ قرآن، علمِ تفسیر، علمِ حدیث، اصولِ حدیث، کتبِ فقہ حنفی، کتبِ فقہ شافعی و مالکی و حنبلی، اصولِ فقہ، جدل مہذب، علم العقائد و الکلام، علمِ نجوم، علمِ صرف، علمِ معانی، علمِ بیان، علمِ بدیع، علمِ منطق، علمِ مناظرہ، علمِ فلسفہ، ابتدائی علمِ تکسیر، ابتدائی علمِ ہیئت، علمِ حساب تا جمع تفریق، ضرب، تقسیم، ابتدائی علمِ ہندسہ۔
آپ نے تعلیم و طریقت سید آلِ رسول مارہروی سے حاصل کی۔ مرشد کے وصال کے بعد بعض تعلیمِ طریقت نیز ابتدائی علمِ تکسیر و ابتدائی علمِ جفر وغیرہ سید ابوالحسین احمد نوری مارہروی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل فرمایا۔ شرح چغمینی کا بعض حصہ عبد العلی رامپوری علیہ الرحمہ سے پڑھا۔
پھر حسبِ ذیل علوم و فنون میں دسترس حاصل کی اور ان کے شیخ و امام ہوئے: قراءت، تجوید، تصوف، سلوک، علمِ اخلاق، اسماء الرجال، سیر، تواریخ، لغت، ادب، مع جملہ فنون، ارثماطیقی، جبر و مقابلہ، حسابِ ستینی، لوغارثمات یعنی لوگارتھم، علم التوقیت، مناظرہ، علم الاکر، زیجات، مثلثِ کروی، مثلثِ مسطح، ہیئتِ جدیدہ یعنی انگریزی فلسفہ، مربعات، منتہی علمِ جفر، علمِ زائچہ، علمِ فرائض، نظمِ عربی، نظمِ فارسی، نظمِ ہندی، انشائے نثرِ عربی، انشائے نثرِ فارسی، انشائے نثرِ ہندی، خطِ نسخ، خطِ نستعلیق، منتہی علمِ حساب، منتہی علمِ ہیئت، منتہی علمِ ہندسہ، منتہی علمِ تکسیر، علمِ رسمِ خطِ قرآن مجید۔
تیرہ برس دس مہینے پانچ دن کی عمرِ شریف میں 14 شعبان 1286ھ مطابق 19 نومبر 1869ء کو آپ فارغ التحصیل ہوئے اور دستارِ فضیلت سے نوازے گئے۔
اسی دن مسئلہ رضاعت سے متعلق ایک فتویٰ لکھ کر اپنے والدِ ماجد کی خدمت میں پیش کیا۔ جواب بالکل صحیح تھا۔ والدِ ماجد نے اسی وقت سے فتویٰ نویسی کی جلیل الشان خدمت آپ کے سپرد کر دی۔
بیعت و خلافت
آپ 1294ھ بمطابق 1877ء کو شیخ المشائخ حضرت شاہ آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ کے دست پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت اور خلافت سے مشرف ہوئے۔ آپ نے اپنے مرشد کی شان میں ایک منقبت لکھی جس کا ایک شعر یہ ہے۔
خدمات و خصوصیات
اعلیٰ حضرت محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک جامعہ ہیں۔ آپ کی سیرتِ مبارکہ اور کارہائے نمایاں سے قرونِ اولیٰ کے اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ آپ کی شخصیت ایسی جامع و کامل و عالی مرتبت ہے، جن کی علمی سطوت و شوکت اور مخالفین و دشمنانِ اسلام پر ہیبت و دبدبہ ان شاء اللہ العزیز تا قیامِ قیامت اپنی پوری آب و تاب اور شان و شوکت کے ساتھ آفتابِ نصف النہار کی طرح مطلعِ علم و شریعت پر چھائی رہے گی۔ آپ کی پھیلائی ہوئی شمعِ عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک پورے عالم میں پھوٹتی رہے گی اور ہر آنے والے دن کے ساتھ اس کی خوشبو اور فیض رسانی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
امام احمد رضا مروجہ علومِ دینیہ کے علاوہ ایسے علوم پر مہارت رکھتے تھے جن سے عام طور پر علماء تعلق نہیں رکھتے۔ ہر فن میں قیمتی تحقیقات و تعلیقات کا اضافہ کیا۔ آپ نے پچاس سے زیادہ علوم و فنون میں تصانیف کا یادگار ذخیرہ چھوڑا۔ جدید حساب سے ان کی تعداد ایک سو بیس کے قریب ہے۔
اسی طرح مختلف علوم و فنون پر ایک ہزار سے زیادہ یادگار تصانیف چھوڑی ہیں۔ صرف فتاویٰ رضویہ کی جدید طباعت تیس جلدوں میں ہے۔ بہت سی کتب طباعت کے مراحل میں ہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ مدح و ثنا خوانی میں حافظ شیرازی، امام بوصیری و جامی بلکہ حسان الہند کہیں تو مبالغہ نہ ہوگا۔ صرف ”ترجمہ کنز الایمان“ دیکھ لیں تو حقائق و معرفت کا خزینہ ہے۔ اس ترجمے میں رازی کی موشگافیاں، غزالی کا تصوف، جامی کی وارفتگی، نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا تفقہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا عشق ہے۔ آپ نے ردِ بدعات، بے حیائی و خرافات، جاہلانہ رسوم و رواج کے خلاف ساری زندگی جہاد فرمایا اور سب سے زیادہ جہلا کے خلاف لکھا اس کی نظیر نہیں ملتی۔
