Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عشق و ادب کی جنگ

عشق و ادب کی جنگ
عنوان: عشق و ادب کی جنگ
تحریر: غلام ربانی قادری
پیش کش: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

سب تعریفیں حق جل و علا کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے محبوب علیہ السلام کے دامنِ کرم سے وابستہ فرما کر شرف و فضیلت بخشا اور اس درِ محبوب کی حاضری پر، شفاعتِ حبیب کی خوشخبری اُنہی کی زبانی سنائی جس کو ہمارے امام نے اشعار کی لڑی میں پرو کر کچھ یوں ترتیب دیا کہ؛

مَنْ زَارَ تُرْبَتِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي
اُن پر درود جن سے نوید اِن بُشَر کی ہے

[حدائقِ بخشش] و صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ خیرِ خلقِہٖ و آلہٖ واصحابہٖ وسلم تسلیماً

عشق، متقاضیِ وصل و اتباع ہے

محترم قارئین! عشق، وصل و اتباع کا تقاضا کرتی ہے اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ جتنے بھی مناسکِ حج ہیں، سب میں وصل و اتباع کی واضح جھلک نظر آئے گی اور یہ بات عاشق پر مخفی نہیں ہے، چنانچہ:

ارشادِ ربانی ہے:

فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ [آل عمران: 97]

ترجمۂ کنز الایمان مع خزائن العرفان (اردو)
اس میں کھلی نشانیاں ہیں، ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ، اور جو اس میں آئے امان میں ہو، اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے، اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے

تفسير الخازن میں اس آیت (فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ) کے تحت بڑی خوبصورت باتیں مذکور ہیں جو من و عن یہاں نقل کی جاتی ہیں:
”(اس میں روشن نشانیاں ہیں) جو اس کی حرمت و فضیلت پر دلالت کرتی ہیں۔ ان نشانیوں میں سے بعض یہ ہیں کہ پرندے کعبہ شریف کے اوپر نہیں بیٹھتے اور اس کے اوپر سے پرواز نہیں کرتے بلکہ پرواز کرتے ہوئے آتے ہیں تو اِدھر اُدھر ہٹ جاتے ہیں، اور جو پرندے بیمار ہوجاتے ہیں وہ اپنا علاج یہی کرتے ہیں کہ ہوائے کعبہ میں ہو کر گزر جائیں، اسی سے انہیں شفا ہوتی ہے، اور وُحوش (جنگلی جانور) ایک دوسرے کو حرم میں ایذا نہیں دیتے حتیٰ کہ کتے اس سرزمین میں ہرن پر نہیں دوڑتے اور وہاں شکار نہیں کرتے، اور لوگوں کے دل کعبہ معظمہ کی طرف کھنچتے ہیں اور اس کی طرف نظر کرنے سے آنسو جاری ہوتے ہیں، اور ہر شبِ جمعہ اولیاءِ کرام مرکزِ عشق میں حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی اس کی بے حرمتی کا قصد کرتا ہے برباد ہو جاتا ہے۔ انہیں آیات (نشانیوں) میں سے مقامِ ابراہیم وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن کا آیت میں بیان فرمایا گیا۔“ [مدارک، خازن، احمدی]

سبحان اللہ! پرندوں کی یہ عقیدت، اور ان کا کعبہ معظمہ کے اوپر سے پرواز نہ کرنا اور بغرضِ شفا فضائے کعبہ میں تیرنا، اولیاءِ کرام کا ہر شبِ جمعہ مرکزِ عشق میں حاضر ہونا، یہ سب دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ عشق، وصل کا تقاضا کرتی ہے۔ لیکن کہنے کو تو لوگ حج یا عمرے کے لیے جاتے ہیں مگر عاشق اصل مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں کہتا ہے:

اس کے طفیل حج بھی خدا نے کرا دیے
اصل مراد حاضری اس پاک در کی ہے

[حدائقِ بخشش]

جذبۂ عشق اور احتیاطِ ادب

اس درِ محبوب کی حاضری کے لیے نہ جانے کتنے دل بے قرار ہیں، کتنی آنکھیں شب و روز اشک بہاتی ہیں، کتنے جذبات ایسے ہیں جنہیں امیدوں سے تسلی بخشی جاتی ہے، اور جب درِ یار سے دوری کا غم دل کی کیفیت کو بدلنے لگتا ہے تو عاشق پکار اٹھتا ہے:

یہ دل تڑپ کے کہیں آنکھوں میں نہ آ جائے
کہ پھر رہا ہے کسی کا مزار آنکھوں میں

[سامانِ بخشش]

لیکن کیا کرے، حقیقت تو یہی ہے نا کہ جنہیں بلایا ہے مصطفیٰ نے وہی مدینے کو جا رہے ہیں۔
مگر جب اس شعر کو دیکھتے ہیں تو دل میں ایک بے چین کرنے والا سوال بھی اٹھتا ہے کہ آخر ان بلائے جانے والوں میں ہم کیوں نہیں؟ لیکن! سوال مکمل ہونے سے پہلے ہی ادب حائل ہوتا ہے، اور ابھرتے ہوئے جذبات کی گرفت کرتے ہوئے کہتا ہے: خبردار! اس پاک بارگاہ میں تجھ جیسے عاصی کی کیا مجال کہ کوئی سوال کر سکے!
لیکن عشق و ادب کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوتی۔ شاید اس وقت اس کیفیت کی عکاسی امامِ اہلِ سنت کا یہ شعر ہی کر سکتا ہے کہ:

سنگِ درِ حضور سے ہم کو خدا نہ صبر دے
جانا ہے سر کو جا چکے دل کو قرار آئے کیوں

[حدائقِ بخشش]

عشق اپنے مؤقف پر کتابُ اللہ سے استدلال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ فرمانِ الٰہی ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا [النساء: 64]

ترجمۂ کنز الایمان مع خزائن العرفان (اردو)
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اُس کی اطاعت کی جائے، اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں، پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ...

اعرابی کا عشقِ رسول

اس آیتِ مذکورہ سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ الٰہی میں رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا وسیلہ اور آپ کی شفاعت کاربرآری (حاجت روائی) کا ذریعہ ہے۔ سیّدِ عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفاتِ شریف کے بعد ایک اعرابی روضۂ شریف پر حاضر ہوا اور روضۂ اقدس کی خاکِ پاک اپنے سر پر ڈالی اور عرض کرنے لگا: ”یارسول اللہ! جو آپ نے فرمایا ہم نے سنا، اور جو آپ پر نازل ہوا اس میں یہ آیت بھی ہے: وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا، میں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور میں آپ کے حضور میں اللہ سے اپنے گناہ کی بخشش چاہنے کے لیے حاضر ہوا ہوں، تو میرے رب سے میرے گناہ کی بخشش کرائیے۔“
اس پر قبرِ شریف سے ندا آئی کہ تیری بخشش کر دی گئی۔

اس سے چند مسائل معلوم ہوئے:

مسئلہ: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرضِ حاجت کے لیے اُس کے مقبولوں کو وسیلہ بنانا ذریعۂ کامیابی ہے۔
مسئلہ: قبر پر حاجت کے لیے جانا بھی ”جَآءُوْكَ“ میں داخل اور خیرُ القرون کا معمول ہے۔
مسئلہ: بعدِ وفات مقبولانِ حق کو ”یا“ کے ساتھ ندا کرنا جائز ہے۔
مسئلہ: مقبولانِ حق مدد فرماتے ہیں اور ان کی دعا سے حاجت روائی ہوتی ہے۔
[تفسیرِ خازن تحت ہٰذہ الآیۃ]

امامِ اہلِ سنت اسی آیت و تفسیر کی منظر کشی عشق کے انداز میں کچھ یوں کرتے ہیں کہ:

مجرم بُلائے آئے ہیں جَاءُوْكَ ہے گواہ
پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے

قارئین! اس عشق و ادب کی جنگ کیسی دلچسپ ہے۔ آخر کار امیدِ عاصی کو اس آیتِ کریمہ سے مزید تقویت مل ہی جاتی ہے اور ادب، آخر کار عشق کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دیتا ہے، اور ایسا کیوں نہ ہو کہ ادب تو نام ہے حد میں رہنے کا، لیکن عشق تو حد سے گزر جانے کا نام ہے۔
جی ہاں! جب محب، محبت کی حد سے تجاوز کر جائے تو وہ عشق کی ابتدائی منزل کو پا لیتا ہے۔ اللہ پاک ہمیں محبوبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا سچا عاشق بنائے اور ہم سب کو بیتِ عتیق اور درِ محبوب کی باادب حاضری نصیب فرمائے۔
آمین بجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!