| عنوان: | گمراہ کافر فقہی و کافر کلامی کی نماز جنازہ |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | مہ جبین |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
کافر کلامی چونکہ دائرہ اسلام سے بالکل خارج اور غیر مسلم ہے، اس لیے اس کی اقتدا میں نماز کا حکم وہی ہے جو غیر مسلمین یعنی مجوسی و یہود و ہنود وغیرہ کی اقتدا میں نماز کا حکم ہے کہ نماز بالکل ادا ہی نہیں ہوگی اور باطل ہوگی۔ فرضیت ذمہ سے ساقط ہی نہیں ہوگی۔
نیز اقتدا کرنا اس بات پر دلیل بن جائے گا کہ وہ کافر کلامی کو مومن اعتقاد کرتا ہے۔ ورنہ اس کی اقتدا نہیں کرتا اور کافر کلامی کے کفریہ عقائد پر مطلع ہو کر اس کو مومن اعتقاد کرنا کفر کلامی ہے، اس لیے اس مقتدی پر حکم کفر عائد ہوگا۔ اپنے دین و ایمان کی حفاظت کریں۔
صحیح قول کے مطابق کافر فقہی کی اقتدا میں بھی نماز باطل ہے۔ دوسرے قول کے مطابق کافر فقہی اور گمراہ مذکور کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ عوام الناس مکروہ کا لفظ سن کر اس کو ہلکا سمجھنے لگتے ہیں، دراصل حرام کی طرح اس کا ارتکاب بھی سخت گناہ اور سبب عذاب ہے، یہ حرام کے قریب ہے۔ بسا اوقات اس کو حرام بھی کہا جاتا ہے۔ جس طرح کافر کلامی کو مومن ماننے والا کافر کلامی ہے، اسی طرح کافر فقہی کو مومن کامل الایمان ماننے والا کافر فقہی اور گمراہ کو مومن کامل الایمان ماننے والا گمراہ ہے۔
گمراہ کی نماز جنازہ کا حکم
عہد حاضر کے روافض ضروریات دین کے انکار کے سبب کافر کلامی ہیں۔ عہد ماقبل کے تبرائی روافض جو کسی ضروری دینی کا مفسر انکار نہیں کرتے تھے، وہ کافر فقہی تھے۔ شیعوں کا فرقہ تفضیلیہ محض گمراہ ہے، یعنی کافر فقہی یا کافر کلامی نہیں۔ امام احمد رضا قادری نے ایک ہی فتویٰ میں گمراہ، کافر فقہی و کافر کلامی تینوں کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم بیان فرما دیا ہے۔
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اہل شیعہ کی نماز جنازہ پڑھنا اہل سنت و جماعت کے لیے جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر کسی قوم سنت والجماعت نے نماز کسی شیعہ کی جنازہ کی پڑھی تو اس کے لیے شرع میں کیا حکم ہے؟
الجواب: اگر رافضی ضروریات دین کا منکر ہے، مثلاً قرآن کریم میں کچھ سورتیں یا آیتیں یا کوئی حرف صرف امیر المومنین عثمان ذی النورین غنی رضی اللہ تعالی عنہ یا اور صحابہ خواہ کسی شخص کا گھٹایا ہوا مانتا ہے، یا مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم خواہ دیگر ائمہ اطہار کو انبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم میں کسی سے افضل جانتا ہے۔
اور آج کل یہاں کے رافضی تبرائی عموماً ایسے ہی ہیں۔ ان میں شاید ایک شخص بھی ایسا نہ نکلے جو ان عقائد کفریہ کا معتقد نہ ہو جب تو وہ کافر مرتد ہے، اور اس کے جنازہ کی نماز حرام قطعی و گناہ شدید ہے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ اَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَسِقُونَ
کبھی نماز نہ پڑھ ان کے کسی مردے پر، نہ اس کی قبر پر کھڑا ہو، انہوں نے اللہ و رسول کے ساتھ کفر کیا اور مرتے دم تک بے حکم رہے۔
اگر ضروریات دین کا منکر نہیں، مگر تبرائی ہے تو جمہور ائمہ فقہا کے نزدیک اس کا بھی وہی حکم ہے: كما في الخلاصة وفتح القدير وتنوير الأبصار والدر المختار والهداية وغيرها عامة الأسفار۔
اور اگر صرف تفضیلیہ ہے تو اس کے جنازے کی نماز بھی نہ چاہئے۔ متعدد حدیثوں میں بدمذہبوں کی نسبت ارشاد ہوا: إن ماتوا فلا تشهدوهم وہ مریں تو ان کے جنازہ پر نہ جائیں۔ ولا تصلوا عليهم ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو، نماز پڑھنے والوں کو توبہ استغفار کرنی چاہیے۔
اور اگر صورت پہلی تھی یعنی وہ مردہ رافضی منکر بعض ضروریات دین تھا اور کسی شخص نے باآں کہ اس کے حال سے مطلع تھا، دانستہ اس کے جنازے کی نماز پڑھی، اس کے لیے استغفار کی جب تو اس شخص کو تجدید اسلام اور اپنی عورت سے از سر نو نکاح کرنا چاہئے۔ في الحلية نقلا عن القرافي وأقره الدعاء بالمغفرة للكافر كفر لطلبه تكذيب الله تعالى فيما أخبر به [فتاوی رضویہ، ج: چہارم، ص: 53، رضا اکیڈمی ممبئی]
توضیح اس فتوی کی آخری عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ کافر کلامی کے کفریہ عقائد سے مطلع ہو کر اور اس کی نماز جنازہ حرام ہی سمجھ کر پڑھا تو بھی بعض روایتوں کے مطابق کفر فقہی کا حکم عائد ہوگا؛ کیوں کہ کافر کے لیے دعائے مغفرت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ کلام الہی کی تکذیب کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ارشاد الہی ہے کہ وہ شرک و کفر کی مغفرت نہیں فرمائے گا: إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاءُ [النساء: 48]
کافر کے لیے دعائے مغفرت سے اس کلام الہی کی تکذیب کا مطالبہ ہو جا رہا ہے، لیکن چونکہ یہ مطالبہ لزومی طور پر ثابت ہو رہا ہے، اس لیے بعض روایتوں کے مطابق کفر فقہی لزومی کا حکم ثابت ہوگا، اور اسے تجدید ایمان و تجدید نکاح کرنا چاہئے۔ في الحلية نقلا عن القرافي وأقره الدعاء بالمغفرة للكافر كفر لطلبه تكذيب الله تعالى فيما أخبر به
ترجمہ: حلیہ میں قرافی سے نقل کیا اور اسے برقرار رکھا کہ کافر کے لیے دعائے مغفرت کفر (کفر فقہی) ہے؛ کیوں کہ یہ خبر الہی کی تکذیب کا مطالبہ ہے۔
جو لوگ محض نماز جنازہ کی صفوں میں کھڑے ہو گئے، اور نہ نماز جنازہ کی نیت کی، نہ ہی دعائے مغفرت کی تو حکم میں تخفیف ہے۔ یہ گناہ ضرور ہے لیکن کسی بھی روایت کے مطابق حکم کفر نہیں، پس توبہ کا حکم ہوگا، لیکن تجدید ایمان و تجدید نکاح کا حکم نہیں ہوگا۔
فرقہ تفضیلیہ کی نماز جنازہ کا حکم
منقولہ بالا فتوی میں فرقہ تفضیلیہ کی نماز جنازہ سے بھی ممانعت کا حکم بیان کیا گیا اور اگر کسی نے پڑھ لیا تو اس کے لیے توبہ و استغفار کا حکم دیا گیا۔ فرقہ تفضیلیہ محض گمراہ ہے، کافر فقہی و کافر کلامی نہیں۔ فرقہ تفضیلیہ اہل سنت و جماعت کے اجماعی عقیدہ کا مخالف ہے۔ تفضیل شیخین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما اہل سنت و جماعت کا اجماعی عقیدہ ہے۔
واضح رہے کہ مسئلہ تفضیل شیخین رضی اللہ تعالی عنہما شعار اہل سنت میں سے ہے، لیکن یہ ضروریات اہل سنت میں سے نہیں۔ اگر یہ ضروریات اہل سنت میں سے ہوتا تو تفضیلیہ اس کے انکار کے سبب کافر فقہی قرار پاتے۔ فقہائے احناف اور ان کے مؤیدین ضروریات اہل سنت کے منکر کو کافر کہتے ہیں یعنی کافر فقہی۔ شعار اہل سنت و ضروریات اہل سنت میں فرق ہے۔
چونکہ فرقہ تفضیلیہ کافر نہیں ہے، اس لیے تفضیلیہ کی نماز جنازہ پر منقوشہ بالا آیت قرآنیہ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُم کا حکم منطبق نہیں ہوگا۔ اس کی نماز جنازہ پڑھنا حرام قطعی نہیں ہوگا، بلکہ مذکورہ حدیث نبوی کا حکم نافذ ہوگا۔ چونکہ وہ حدیث خبر واحد اور ظنی ہے، اس لیے تفضیلیہ کی نماز جنازہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہوگا۔ اس مکروہ تحریمی کو بھی حرام کہہ دیا جاتا ہے۔
متکلمین کے یہاں کافر فقہی گمراہ ہے، اس لیے اس کی نماز جنازہ اور اس کی اقتدا میں نماز کا حکم وہی ہوگا جو حدیث میں بیان ہوا، یعنی اس کی نماز جنازہ پڑھنی مکروہ تحریمی ہوگی، اور اس کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی ہوگی۔ اس کو حرام بھی کہا جاتا ہے لیکن یہ حرام قطعی نہیں۔
کافر فقہی فقہا کے یہاں کافر ہے، اس لیے ان کے یہاں کافر کلامی کی نماز جنازہ پڑھنی حرام قطعی ہے، تو وہی حکم کافر فقہی کے لیے بھی مانتے ہیں۔ اسی طرح جب کافر کلامی کی اقتدا میں نماز باطل ہے تو فقہا کافر فقہی کی اقتدا میں بھی نماز کو باطل کہتے ہیں۔
فقہا کی دلیل گزشتہ مضمون میں ہے۔ تفصیل یہ کہ گرچہ کافر فقہی متکلمین کے اعتبار سے کافر نہیں، یعنی اسلام سے بالکلیہ خارج نہیں تو اس اعتبار سے اس کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی، اور فرضیت ذمہ سے ساقط ہو جائے گی لیکن جب فقہا اسے کافر کہتے ہیں تو ان کے اصول کے اعتبار سے کافر فقہی کی اقتدا میں نماز باطل ہوگی، اور نماز جب بعض اعتبار سے باطل اور بعض اعتبار سے غیر باطل ہو تو اس کے بطلان کا حکم ہوگا۔
فإن الصلاة إذا صحت من وجوه وفسدت من وجه حكم بفسادها
ترجمہ: اس لیے کہ نماز جب چند وجوہ سے صحیح ہو، اور ایک وجہ سے فاسد ہو تو اس کے فاسد ہونے کا حکم کیا جائے گا۔
باب عملیات میں فقہا کے قول پر عمل ہوگا اور باب اعتقادیات میں متکلمین کے قول پر یعنی فقہا کے قول کے مطابق کافر فقہی کے پیچھے نماز باطل سمجھی جائے گی اور متکلمین کے قول کے مطابق کافر فقہی کے لیے ایمان کا ضعیف احتمال مانا جائے گا۔
فقہا بھی کافر فقہی کو کافر کلامی سے ایک درجہ نیچے قرار دیتے ہیں، اس لیے کفر فقہی میں نکاح کے بطلان اور اعمال سابقہ کے بطلان کا حکم نہیں دیتے، جبکہ یہی فقہا کفر کلامی میں نکاح کے بالکل بطلان اور اعمال سابقہ کے بطلان کا حکم دیتے ہیں حتیٰ کہ پہلے حج کر چکا ہو تو کفر کلامی سے تائب ہونے پر دوبارہ حج کرنا ہوگا اور کافر کلامی کا یہی حکم متکلمین بیان کرتے ہیں، پس کافر کلامی کا حکم متفق علیہ ہے اور فقہا کافر فقہی کو خود بھی اس منزل کا کافر نہیں مانتے۔ واضح رہے کہ متکلمین نہ باب عملیات کے احکام بیان کرتے ہیں، نہ ہی فقہا کے بیان کردہ احکام پر عمل سے منع کرتے ہیں، بلکہ وہ خود بھی باب عملیات میں فقہائے کرام کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔ علم کلام میں ضمنی طور پر بعض عملی احکام کا بیان ہوتا ہے، اصالۃً نہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمۃ والرضوان نے رقم فرمایا:
دنیا کے پردے پر کوئی وہابی ایسا نہ ہوگا جس پر فقہائے کرام کے ارشادات سے کفر لازم نہ ہو، اور نکاح کا جواز عدم جواز نہیں، اگر ایک مسئلہ فقہی، تو یہاں حکم فقہا یہی ہوگا کہ ان سے مناکحت اصلاً جائز نہیں۔ خواہ مرد وہابی ہو، یا عورت وہابیہ اور مرد سنی۔ [فتاوی رضویہ، ج: پنجم، رسالہ: ازالۃ العارض، ص: 261، نوری دارالاشاعت بریلی شریف]
توضیح منقولہ بالا اقتباس سے معلوم ہوا کہ عملی احکام میں فقہا کے قول پر عمل ہوگا۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[ماہنامہ فرقۂ وہابیہ اقسام و احکام 25 جنوری 2021، ص: 83]
