| عنوان: | اب نصابی کتابوں میں بھی زعفرانی رنگ |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد شہاب الدین رضوی بریلوی |
| پیش کش: | محمد کیف رضا |
موجودہ ہندوستان کے تہذیب و تمدن، جغرافیائی خدو خال، اور تاریخی لٹریچر پر شب خون مارنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ وہ مخصوص طبقہ جو حسرت و یاس میں ۷۵ سال سے مہر بلب تھا، وہ اب کھل کر میدان عمل میں کود پڑا ہے اور حسن اتفاق کہیے یا شومی قسمت کہ اس مخصوص طبقہ کو سیاسی اقتدار کی سرپرستی حاصل ہو گئی ہے۔ ان زعفرانی صاحبان اقتدار نے کبھی بابری مسجد ایودھیا، شاہی عیدگاہ متھرا اور گیان واپی مسجد بنارس کو اپنا ہتھیار بنایا تھا اور اب باشندگان ہند کی نونہال نسل کو اپنا ہدف مقرر کر لیا ہے۔ اس جدید نسل کے دل و دماغ اور ذہن و فکر میں مسلم بادشاہان ہند کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے اسکول اور کالجوں کے “نصاب تعلیم” کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی جدوجہد شروع کر دی ہے۔ ابھی حال ہی میں NCERT کی نصابی کتابوں میں مسلم بادشاہان ہند کی تاریخی اور حکمرانی تصویر کو مسخ کر کے پیش کیا گیا۔ کتاب میں بابر کو بے رحم، اکبر کو سفاک، اور اورنگزیب عالمگیر کو مندر توڑنے والا تحریر کیا گیا ہے۔ “جزیہ” جو اسلامی ممالک میں غیر مسلموں کو جان و مال اور عزت و آبرو کی ضمانت کے طور پر تھا، اسی کو عوامی ذلت و رسوائی کا ذریعہ اور اسلام مذہب قبول کرنے کے لیے مالی “ترغیب” اور لالچ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اس کو “تاریخ گڑھنا” کہا جاتا ہے۔ ماضی میں ہمارے پاس بہت سارے شواہد ہیں کہ ایسے افراد آزادی ہند میں تاریخ کا حصہ بنے ہوئے ہیں جنھوں نے انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوایا۔ اور جن لوگوں نے اپنی بیش قیمتی جانیں قربان کر دیں، تاریخ نے ان کو یکسر فراموش کر کے نام و نشان مٹا دیا۔
ہم ذیل میں نصابی کتابوں کی تاریخ میں بے جا مداخلت، توڑ مروڑ اور جدید نسل کے “برین واش” کرنے کی تیاری کا جائزہ پیش کریں گے اور غیر مسلم حکمرانوں کے ذریعہ مسجدوں کے مسمار کیے جانے کا بھی تذکرہ کریں گے، جس کا اب چرچا نہیں ہوتا۔
آٹھویں جماعت کے نصاب کے لیے تاریخ کے مضمون سے متعلق ایک کتاب آئی ہے، یہ کتاب حکومت کے منشا و مرضی کے مطابق تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر نئی نسل کے ذہن کو انتہائی نفرت زدہ کرنے کے لیے قومی کونسل برائے تعلیم و تحقیق و تربیت (NCERT) نے جاری کی ہے۔ سوشل سائنس کی اس کتاب میں عہد مغلیہ کے بادشاہوں کو ظالم، جابر، بے رحم، سفاک، قاتل اور پوری انسانی آبادی کا صفایا کرنے والا بتایا گیا ہے۔ ایسی تصویر پیش کی ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ کئی مورخین اور سماجی تنظیموں نے کتاب کو سماج میں زہر گھولنے والی قرار دیا ہے، جب کہ NCERT نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ: جدید نسل کو ملک کے تاریک دور کی جانکاری سے واقف کرانا ضروری ہے۔ حال ہی میں ہونے والی NCERT کی سوشل سائنس پارٹ 1 کے “ایکسپلورنگ سوسائٹی، انڈین اینڈ بی اونڈ” یعنی بھارت اور اس کے آگے ہندوستانی سماج کی تلاش میں “مغلیہ عہد کی جانکاری دیتے ہوئے مغل بادشاہوں کو ظالم، مذہب اسلام کے لیے دوسرے مذاہب کے لوگوں کو قتل کرنے والے، دیگر مذاہب کے لوگوں کو برداشت نہ کرنے والے، اور ان کی عبادت گاہوں کو منہدم کرنے والے بتایا گیا ہے۔ اس کتاب میں ۱۳ ویں سے ۱۷ ویں صدی کی تاریخ کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہوئے اس دور کو تاریک عہد قرار دینے کی سعی بلیغ کی گئی ہے، کتاب میں لکھا گیا ہے کہ: راجستھان کے چتوڑ گڑھ قلعے پر جس وقت حملہ کیا گیا، اس وقت اکبر کی عمر ۲۵ برس تھی اور اس نے ۳۰ ہزار لوگوں کا قتل عام کیا تھا، جن میں عورتیں اور بچے بھی بڑی تعداد میں شامل تھے۔
مسلم صاحبان اقتدار نے مسلمانوں پر کتنا ظلم کیا ہے، وہ سب تاریخ کا حصہ ہیں، مگر ان تمام واقعات سے پہلو تہی کی گئی ہے۔ کتاب میں اکبر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ: “ہم نے کافروں کے قلعوں اور قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ خون کی پیاسی تلواروں کی مدد سے ہم نے ان کے دلوں سے کفر کے نشانات تک مٹا ڈالے ہیں۔ ہم نے وہاں کے مندروں کو بھی تباہ کر ڈالا ہے۔” جب کہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے نہیں پھیلا۔ کتاب میں حضرت اورنگزیب کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ: اورنگزیب نے اسکولوں اور مندروں کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا۔ کتاب کے مطابق: بنارس، متھرا، اور سومناتھ سمیت جین مندروں اور سکھوں کے گردوارے بھی تہس نہس کیے گئے۔ اور پارسیوں کی عبادت گاہوں کو ڈھانے، نیز صوفیوں کے مزارات توڑنے کا بھی کتاب میں ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت اورنگزیب اور دیگر مسلم بادشاہوں نے مندروں کو ہزاروں بیگھہ زمین عطیہ کے طور پر دی، وہ سب فراموش کر دیا۔ حکومت جان بوجھ کر مسلم طبقہ کی دل آزاری کرنے اور سماج میں نفرت و تعصب پیدا کرنے کے لیے یہ تبدیلی کر رہی ہے۔ بعض مورخین کا یہ بھی کہنا ہے کہ: اس کتاب کے ذریعے نئی نسل کو تاریخی حقائق سے محروم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کتاب میں تاریخ کے ماخذ، معیار اور حقائق کا بالکل خیال نہیں رکھا گیا۔ کتاب میں حقائق کے بجائے روایت، قصہ، کہانیوں اور افسانوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھ کر نئی نسل اندھی تقلید اور گمراہی میں مبتلا ہو گی۔ NCERT نے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ہم نے معتبر ذرائع سے موصولہ حقائق کی بنیاد پر متوازن تاریخی تفصیل پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن NCERT نے ان معتبر ذرائع کے حوالے نہیں دیے ہیں۔ پورا حکمراں طبقہ اپنے مخصوص نظریہ کی اشاعت و تشہیر میں منہمک ہے۔ اس سے چھٹکارا پانا مشکل نظر آ رہا ہے تاہم ہر مسلم دانشور اور تنظیموں کو جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔
تاریخ ایک ایسا مضمون ہے جو ماضی کے واقعات، تجربات، کوتاہیوں اور خامیوں سے واقف کرا کے مستقبل کو روشن و بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن جب اس مضمون کو بھی سیاسی مفادات کے لیے تعصب اور تنگ نظری کے ساتھ استعمال کیا جانے لگے گا تو نئی نسل کس زہریلے ذہن کے ساتھ دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ پیش آئے گی، اس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آج کی دنیا گہری تحقیق کے بعد حقائق تک پہنچنے کی طرف گامزن ہے، لیکن ہماری آٹھویں کلاس میں پڑھائی جانے والی کتاب حقائق سے پرے ہو گی تو دنیا میں ہمارا مذاق ہی بنے گا۔ NCERT کو چاہیے کہ ایسی کتاب کو نئی نسل کے ہاتھوں میں نہ پہنچائے، جس کو پڑھ کر دنیا ہماری ذہنی پسماندگی پر تبصرہ کرے بلکہ اس طرح کے نصاب ترتیب دے کہ ترقی کرتی ہوئی دنیا میں ہماری نئی نسل اپنی انفرادی شناخت قائم کر سکے اور ملک کی جمہوری قدریں مضبوط ہوں۔
غیر مسلم مفکرین اسی طرح عبادت گاہوں کے انہدام کا مسئلہ بھی اٹھاتے ہیں، بعض مسلمان فرماں رواؤں نے اپنے احساس برتری، فاتحانہ غرور، سپاہیانہ غیظ و غضب، حربی جوش اور حصول دولت کی طمع میں کچھ مندر ضرور منہدم کیے، جس کا ذمہ دار آج کل اسلام کو سمجھا جا رہا ہے۔ کسی بادشاہ کے ذاتی فعل کو اسلام کا قانون مشہور کرنے میں بعض غیر مسلم مؤرخین تامل نہیں کرتے اور مسلمانوں کی طرف اس کی مدافعت اور معذرت میں ہر قسم کا زور صرف کیا جا رہا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کا پورا زور ہے کہ مسلم بادشاہوں نے ہزاروں مندر توڑے ہیں۔ ان سے جب بدھسٹوں کے مندروں کو توڑے جانے کی بات کرتے ہیں، تو پھر بغلیں جھانکنے لگتے ہیں، اس کا جواب نہیں بن پڑتا۔ اس تنازعے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہندوستان کے علمائے مسلم حکمران اور غیر مسلم رعایا کی حیثیت کو پورے طور سے واضح کرنے کی کوشش نہیں کی، حالاں کہ شروع میں محمد بن قاسم نے سندھ میں اپنی غیر مسلم رعایا کو وہی حیثیت دی جو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اہل فارس کو دی تھی، یعنی ان کو مشابہ اہل کتاب تسلیم کیا، جس کے معنی یہ ہیں کہ دو باتوں کے سوا یعنی نکاح اور ذبیحہ اور تمام امور میں ان کے ساتھ اہل کتاب کا برتاؤ کیا جائے، اور ان کے مندروں کی حیثیت ایران کے آتش کدوں کی طرح رکھی گئی اور جس طرح صحابہ نے آتش کدے نہیں توڑے، اسی طرح مصالحت کے بعد مندر بھی محفوظ رہنے دیے گئے۔ یہ باتیں تاریخی کتابوں میں بھری پڑی ہیں، وہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ [حوالہ: ماہنامہ جامعہ اشرفیہ، نومبر 2025]
