Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

جانشینِ تاج الشریعہ کا پیغام! برادرانِ اہل سنت کے نام

جانشینِ تاج الشریعہ کا پیغام! برادرانِ اہل سنت کے نام
عنوان: جانشینِ تاج الشریعہ کا پیغام! برادرانِ اہل سنت کے نام
تحریر: مفتی محمد عسجد رضا خاں قادری
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

یہ حقیقت ہے کہ ”دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا“ ہمارے پاس دینی روایات کا جو اثاثہ ہے کل کا کل اپنے اسلاف و اکابر ہی سے روایتاً و درایتاً ہمیں ملا ہے، ہم اس اثاثے کے وارث، امین اور محافظ بنائے گئے ہیں، جدِ کریم مجددِ اسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری برکاتی بریلوی قدس سرہ العزیز کی ولادتِ باسعادت اسی اسلامی اثاثے کی پاسداری، اس کے فروغ اور اس کی ترویج و تشہیر کے لیے ہوئی تھی، انھوں نے اسلاف و اکابر کی امانتوں اور عشقِ حبیبِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حرارت کو اس انداز میں دنیا کے سامنے پیش فرمایا کہ ان کے عہد کے علما و مشائخ اور اہلِ فقہ و فتاویٰ جھوم جھوم اٹھے، انھیں چودہویں صدی کا مجددِ برحق، عاشقِ مصطفیٰ جانِ رحمت، ان کی ذات کو حق کی علامت اور ان کے افکار و نظریات کو مسلکِ اعلیٰ حضرت کے نام سے یاد کیا اور اس کی تبلیغ و ترویج میں قائدانہ، سرفروشانہ اور عاشقانہ رول ادا کیا، ان کے عہد کے علما و مشائخ کی بے پناہ قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج اکنافِ عالم میں مسلکِ اعلیٰ حضرت کی شعاعیں پھیلی ہوئی ہیں اور اس سے مومنین کے اذہان و قلوب روشن و منور ہو رہے ہیں۔

مسلکِ اعلیٰ حضرت کی روشنی میں زندگی گزارنے میں ہی دارین کی صلاح و فلاح ہے، ماضیِ قریب کے اسلاف و اکابر نے اس پہ عمل کر کے اور کامیاب ہو کے دکھایا ہے، والدِ ماجد حضور تاج الشریعہ قدس سرہ العزیز کی ذاتِ گرامی اس کی زندہ مثال ہے، جن افراد، اداروں، تنظیموں اور خانقاہوں کے قول و عمل سے مسلکِ اعلیٰ حضرت کی شبیہ خراب ہو رہی تھی، ان سے انھوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، والدِ ماجد کے نقوشِ قدم ہمارے لیے یقیناً لائقِ تقلیدِ عمل ہیں بالخصوص ان کے لیے جن کے ہاتھوں میں ان کا دامن ہے، جب تک ان کے نقوشِ حیات پہ مکمل عمل نہ ہوگا ان کی ارادت و غلامی کا دعویٰ بے معنی سمجھا جائے گا۔

آج مسلم معاشرہ جس بے راہ روی کا شکار ہے اس کے بنیادی اسباب یہی ہیں کہ ہم اسلامی تعلیمات سے کوسوں دور ہو چکے ہیں، نہ ہمیں شرمِ نبی ہے نہ خوفِ خدا، برائیوں کی کوئی ایسی شکل نہیں جو ہمارے اندر موجود نہیں، پھر بھی ہم دنیا جہان کی نعمتوں کے طلب گار ہیں، ہمیں خود فریبی کے اس حصار سے باہر نکلنا ہوگا اور حقیقت کا سامنا کرتے ہوئے مسلکِ اعلیٰ حضرت کو عملی طور پر اپنی زیست کا لازمی حصہ بنانا ہوگا تب تو ہم مسلکِ اعلیٰ حضرت کا نعرہ لگانے میں حق بجانب ہیں، ورنہ ع

دعویٰ بے اصل ہے جھوٹی ہے محبت تیری

جدِ کریم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری بریلوی قدس سرہ العزیز کے وصال کو آج پورے ۱۰۰ سال ہو گئے، پوری دنیائے سنیت اس وقت جشنِ صد سالہ امام احمد رضا منا رہی ہے، امام اہلِ سنت کا جشنِ صد سالہ منانا ہمارے زندہ دل ہونے کی علامت ہے، ہمارے اس عمل سے اس بات کی توثیق و تائید ہوتی ہے کہ ہمارے دلوں میں ان کی عقیدت و محبت کا چراغ روشن ہے۔ اور ہمیں ان کی تحریکِ عشقِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے گہری وابستگی ہے، مولائے کریم اس وابستگی کو ہمیشہ سلامت رکھے، امام اہلِ سنت کے افکار و نظریات کو بڑے پیمانے پر اجاگر کرنا حالات کا جبری تقاضہ ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ہماری یہ تحریک اس وقت مؤثر ہوگی جب ہماری زندگی ہمارے قول و عمل اور ہماری طرزِ حیات سے ان کے مشن کا عملی اظہار ہو۔

والدِ ماجد حضور تاج الشریعہ ہر جہت سے امام اہلِ سنت کے وارث و امیں تھے، ان کی زندگی میں امام اہلِ سنت کی طرزِ حیات کا خوبصورت عکس دور سے نظر آتا ہے، جب تک ہم اصولِ اسلام اور احکامِ اسلام پر کما حقہ عامل نہیں ہوں گے ہماری زندگی غیر مکمل رہے گی، اسلامی اقدار و روایات پر عمل کرنے میں دارین کی سعادتیں ہیں، حضور اعلیٰ حضرت، حضور حجۃ الاسلام، حضور مفتی اعظم، حضور مفسرِ اعظم اور حضور تاج الشریعہ کا ہم سے یہی مطالبہ ہے، جب تک ہم اپنے اسلاف و اکابر کی طرزِ حیات اور ان کے مطالبات پورا نہیں کرتے، مسلکِ اعلیٰ حضرت پہ عمل کا دعویٰ ناقص رہے گا۔

آئیے عرسِ صد سالہ کے اس مبارک و مسعود موقع پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنی پیشانی کو سجدوں کے نور سے منور و مجلیٰ کریں گے، روزے، زکوٰۃ، حج اور دیگر احکامِ شرعیہ کی پابندی کریں گے، ایک دوسرے سے بغض و حسد، جھوٹ، بدی، غیبت جیسی برائیوں سے دور و نفور رہیں گے، اپنی شادیوں کو فضول خرچی اور جہیز کی لعنت سے محفوظ رکھیں گے، سبھی سلاسلِ طریقت کے بزرگوں اور مشائخ کا ادب و احترام کریں گے، صلح کلیت کے زہرِ ہلاہل سے اپنے ایمان و اسلام کو محفوظ و مامون رکھیں گے، بد مذہبوں اور مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گستاخ فرقوں سے کسی بھی طرح کا میل جول، شادی بیاہ نہیں کریں گے، آپسی تنازعات کو باہم حل کرنے کی سعیِ بلیغ کریں گے اور حتی المقدور ملک و ملت کی فلاح و بہبود کی کوشش کریں گے۔

ماہنامہ سنی دنیا افکارِ اسلامی یعنی مسلکِ اعلیٰ حضرت کا سچا ترجمان ہے، والدِ ماجد حضور تاج الشریعہ نے اسی مقصد کی تکمیل کے لیے اس کا اجرا فرمایا تھا اور جب سے یہ رسالہ جاری ہے اپنے مقصد سے کبھی عدول نہیں کیا، اس رسالہ کو فروغ دینا مسلکِ اعلیٰ حضرت کو فروغ دینا ہے، جو لوگ اس کے فروغ میں حصہ لیں گے یقیناً ان کے قلوب حضور تاج الشریعہ کے روحانی فیضان سے منور و مجلیٰ ہوں گے۔

زیرِ نظر شمارہ ”امام احمد رضا نمبر“ کی شکل میں آپ کے پیشِ نگاہ ہے، جدِ کریم امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہ العزیز کی بارگاہ میں یہ ہمارا حقیر سا نذرانۂ عقیدت ہے، کوئی بھی نمبر محنت، مشقت اور وقت کا تقاضہ کرتا ہے، یہ نمبر بہت ہی تھوڑے سے وقت میں تیار ہوا ہے، چونکہ والدِ ماجد کے وصال کے صدمے سے ہم ابھی تک باہر نہیں نکل سکے ہیں، اس لیے یہ نمبر جس توجہ کا طالب تھا ہم وہ توجہ اسے نہیں دے سکے، پھر بھی مدیرِ رسالہ مولانا عبدالرحیم نشتر فاروقی اور ان کے رفقائے کار اس کے لیے قابلِ مبارکباد ہیں، مولائے کریم انھیں جزائے خیر عطا فرمائے اور رسالہ کو ہر گھر کی زینت بنائے۔

امام اہلِ سنت کے اس جشنِ صد سالہ میں شرکت کی غرض سے آئے ہوئے زائرین اور دنیا کے دوسرے حصوں میں اپنے اپنے طور پر جشن منا رہے لوگوں کو ہم صمیمِ قلب سے مبارکباد پیش کرتے ہیں، ہماری نیک خواہشات ان سب کے ساتھ ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو دارین کی نعمتوں سے بہرہ ور فرمائے آمین، بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم [ماہنامہ سنی دنیا امام احمد رضا نمبر 2018، ص: 5]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!