| عنوان: | کثرت طلاق کی وجوہات اور ان کا شرعی حل (قسط: پنجم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی مشتاق احمد امجدی |
| پیش کش: | بنت شہاب عطاریہ |
۶۔ بدگمانی، شکوک و شبہات اور جاسوسی
بدگمانی اور جاسوسی طلاق کے اسباب میں ایک اہم ترین سبب ہے بعض مرد و عورت اس کے سخت مرتکب ہوتے ہیں، مثلاً بعض مرد اپنی عورت کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور بغیر شرعی ثبوت کے یہ سمجھتا ہے کہ میری بیوی کا شاید کسی دوسرے مرد سے کوئی ناجائز تعلق ہے اسی طرح اپنے خاوند کے متعلق عورت بدگمانی کرتی ہے اور شکوک و شبہات اور دوسروں کی سنی سنائی باتوں پر دھیان دیتی ہے جو اکثر و بیشتر طلاق کا سبب بن جاتا ہے جبکہ اسلام بدگمانی اور جاسوسی سے سخت اجتناب کی تاکید کرتا ہے اور کھلے الفاظ میں ان کی مذمت بیان کرتا ہے۔ چناں چہ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا
(سورۂ حجرات، آیت ۱۲)
یعنی اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو بے شک کوئی گمان گناہ ہو جاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈو۔ (کنز الایمان)
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ
(بخاری شریف)
”خود کو بدگمانی سے بچاؤ کیوں کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔“
غرض کہ میاں بیوی کے خوشگوار تعلقات اور ایک دوسرے کی شادی شدہ کامیاب زندگی کے لیے ہر ایک کا دوسرے پر کامل اعتماد اور مکمل بھروسہ کرنا از حد ضروری ہے ورنہ اس کے ہولناک انجام سے ایک دوسرے کو سخت دوچار ہونا پڑے گا جیسا کہ عام مشاہدہ ہے۔
۷۔ والدین کی بے جا محبت
والدین کو اپنی اولاد سے محبت ہونا ایک فطری بات ہے لیکن ہر کام کی طرح اس میں بھی میانہ روی اور اعتدال اسلام کو محبوب و پسندیدہ ہے، افراط و تفریط نقصان اور خسارے کے موجب ہیں، بعض والدین شادی کے بعد اپنی بیٹی سے حد درجہ محبت کرتے ہیں اور اسی محبت میں یہ سبق بھی پڑھاتے ہیں کہ دیکھ سسرال میں کسی کی ماتحت یا کسی کی نوکرانی بن کر مت رہنا بلکہ اپنے خاندانی رعب و دبدبہ کے ساتھ رہنا اور اگر کسی قسم کی کوئی بات ہو تو فوراً اس کی اطلاع دینا پھر دیکھنا ہم ان کا کیا کرتے ہیں، اس طرح اول دن سے ہی اپنی بیٹی کو جری اور بہادر بنا کر بھیجا جاتا ہے اور پھر جب معمولی سی کوئی بات ہوتی ہے تو بیٹی فوراً اس کی اطلاع اپنے والدین کو دیتی ہے جس کے سبب لڑکی کے والدین اپنے داماد کے اہلِ خانہ پر اپنا بے جا رعب دکھاتے ہیں، بعض بے توفیق ماں باپ اپنی لڑکی کو بھاگ کر گھر آجانے کا مشورہ بھی دیتے ہیں اس طرح جب ایک مرد اپنے سسرال والوں کی بے اعتدالی اور اپنی اور اپنے خانہ کی بے عزتی محسوس کرتا ہے تو ناچاہتے ہوئے بھی وہ طلاق دے بیٹھتا ہے۔ لہٰذا ہر والدین کو چاہیے کہ اپنی بیٹی سے محبت کریں اور ضرور کریں لیکن اعتدال کی حد تک، اس سے تجاوز نہ کریں ورنہ آپ کی بے اعتدالی کی وجہ سے آپ کی بیٹی کا گھر اجڑ سکتا ہے جس سے نہ صرف آپ کی بیٹی کا سکون غارت و برباد ہوگا بلکہ آپ بھی دور نہ ہونے والی پریشانی میں مبتلا ہوں گے، ہمارے سماج میں اس قسم کی مثالیں بکثرت موجود ہیں۔ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ
۸۔ بیوی کے مناسب اخراجات پورے نہ کرنا
اللہ تعالیٰ نے فطرۃً عورت کو صنفِ نازک اور مرد کو طاقتور اور توانا بنایا ہے اور اسی فطرت کے مطابق ہر ایک پر الگ الگ ذمہ داری عطا فرمائی، عورتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اندرونِ خانہ کے امور کی دیکھ بھال کریں، بچوں کی پرورش و پرداخت پر کامل دھیان دیں اور مرد کو یہ ڈیوٹی دی گئی ہے کہ حلال مال کما کر خود اپنی بیوی اور بچوں کی کفالت کرے، اپنی حیثیت کے مطابق ان کے مناسب کھانے، پینے، پہننے اوڑھنے میں اپنا مال خرچ کرے، اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ
(سورۂ نساء، آیت ۳۴)
یعنی مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے۔ (کنز الایمان)
سنن ابو داؤد میں ہے:
عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي نِسَائِنَا؟ قَالَ: أَطْعِمُوهُنَّ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُنَّ مِمَّا تَكْتَسُونَ
یعنی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہماری بیویوں کے حقوق کے بارے میں کیا فرماتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب تم کھاؤ تو اس کو کھلاؤ اور جب تم پہنو تو اس کو پہناؤ۔“ (ابوداؤد شریف، کتاب النکاح، باب فی حق المراۃ علی زوجہا، ج: ۱، ص: ۲۹۲)
مگر کچھ ناعاقبت اندیش مرد تنہا خوری کے عادی ہوتے ہیں جو صرف اور صرف اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں، بیوی بچوں کے اخراجات کا مناسب بندوبست نہیں کرتے، ہزار فہمائش کے باوجود جب ایسا مرد اپنی اصلاح نہیں کرتا تو عورت اس سے جدائی پر آمادہ ہوتی ہے بلکہ بسا اوقات جدائی واقع ہو جاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور اپنے اوپر خرچ کرنے کے ساتھ اپنے اہلِ و عیال پر بھی حسبِ استطاعت خرچ کریں اور تنہا خوری کی مذموم عادت کو ترک کریں۔
