Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مکہ سے مدینہ ہجرت کا تذکرہ (قسط: دوم)

مکہ سے مدینہ ہجرت کا تذکرہ (قسط: دوم)
عنوان: مکہ سے مدینہ ہجرت کا تذکرہ (قسط: دوم)
تحریر: غلام احمد قریشی
پیش کش: عائشہ رضا عطاریہ

کتاب ”الرحیق المختوم“ (The Sealed Nectar) میں منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً ۵ میل پیدل چلے یہاں تک کہ ایک کھردرے اور چٹانی پہاڑ پر پہنچے جسے 'ثور' کہا جاتا ہے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے پھٹ گئے تھے۔ بعض کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قدموں کے نشانات نہ چھوڑنے کے لیے پنجوں کے بل چل رہے تھے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کر پہاڑ کے اوپر ایک غار تک پہنچایا، جس کا نام اسی پہاڑ کی نسبت سے 'غارِ ثور' ہے۔

غارِ ثور اور کفارِ قریش کی ناکامی

حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کفارِ قریش کی ایک جماعت ہمارے گھر آئی اور دروازہ کھٹکھٹا کر میرے باپ (حضرت ابوبکر) کے بارے میں پوچھا۔ جب میں نے لاعلمی ظاہر کی تو ابوجہل نے میرے منہ پر تھپڑ مارا جس سے میرا گوشوارہ گر پڑا۔ پھر ابوجہل نے اعلان کر دیا کہ جو شخص ابوبکر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لائے گا اسے سو اونٹ انعام دیے جائیں گے۔ جوانانِ قریش مال و دولت کے لالچ میں مکہ کا چپہ چپہ چھان مارا اور غارِ ثور تک پہنچ گئے۔ مگر غار کے منہ پر خداوندی حفاظت کا پہرہ تھا کہ مکڑی نے جالا تن دیا تھا، اور ایک وحشی کبوتر کے جوڑے نے آشیانہ بنا کر انڈے دے رکھے تھے۔ کفار نے جب یہ منظر دیکھا تو آپس میں کہنے لگے کہ اگر یہاں کوئی انسان ہوتا تو نہ مکڑی جالا تنتی اور نہ کبوتر انڈے دیتے۔

غارِ ثور میں قیام اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جانثاری

غارِ ثور میں داخل ہوتے وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر پھاڑ کر سوراخوں کو بند کیا۔ ایک سوراخ پر انہوں نے اپنی ایڑی رکھ دی تاکہ کوئی موذی جانور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ پہنچا سکے۔ اس سوراخ میں سانپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ڈس لیا، لیکن انہوں نے جنبش تک نہ کی کہ مبادا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں خلل پڑے۔ درد کی شدت سے آنسو گرے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعابِ دہن لگایا تو درد جاتا رہا۔ جب مشرکین غار کے بالکل قریب پہنچ گئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غمگین ہوئے۔ تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا

اے ابوبکر غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (سورہ توبہ: ۴۰)

روانگی اور عبداللہ بن اریقط کی خدمات

حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تین راتیں غارِ ثور میں رہے۔ چوتھے دن دوشنبہ کو عامر بن فہیرہ اور عبداللہ بن اریقط (جو راستہ جاننے والا تھا) دو اونٹنیاں لے کر آ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے اور ساحلِ سمندر کے غیر معروف راستے سے سفر شروع کیا۔ دورانِ سفر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ یاد آیا تو جبرئیلِ امین نے یہ خوشخبری سنائی:

إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ

یقیناً وہ اللہ جس نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے، وہ آپ کو دوبارہ لوٹنے کی جگہ (مکہ) واپس لائے گا۔ (سورہ قصص: ۸۵)

امِ معبد کے گھر معجزہ

مقامِ قدید میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اُمِ معبد عاتکہ بنت خالد خزاعیہ کے مکان پر ہوا، جہاں ایک لاغر بکری کے تھنوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ لگایا تو وہ دودھ سے بھر گئے۔ تمام لوگ سیراب ہوئے اور برتن بھی بھر گئے۔ یہ معجزہ دیکھ کر اُمِ معبد اور ان کے شوہر دولتِ ایمان سے مشرف ہوئے۔

سراقہ بن مالک اور پیش گوئی

سراقہ بن مالک سو اونٹوں کے انعام کے لالچ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تعاقب میں نکلا۔ اس کا گھوڑا تین بار ٹھوکر کھا کر گرا اور پاؤں زمین میں دھنس گئے۔ وہ خوف زدہ ہو کر معافی مانگنے لگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سراقہ! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کسریٰ کے کنگن تم اپنے ہاتھ میں پہنو گے؟“ چنانچہ سالوں بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایران فتح ہوا اور کسریٰ کے کنگن سراقہ کو پہنائے گئے۔

[ماخوذ از: ماہنامہ کنز الایمان، دہلی (مارچ ۲۰۲۰ء، ص: ۳۴، ۳۵، ۳۶)]

(جاری ہے......)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!