Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

علومِ اسلامیہ اور علومِ عصریہ کا امتزاج (قسط:دوم)

علومِ اسلامیہ اور علومِ عصریہ کا امتزاج (قسط:دوم)
عنوان: علومِ اسلامیہ اور علومِ عصریہ کا امتزاج (قسط:دوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: ناہد فاطمہ قادریہ محتشمیہ

علومِ عصریہ سے متعلق امام اہلِ سنت کے افکار و نظریات

امام اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو علوم اسلام کے متضاد نہ ہوں، ان علوم کو حاصل کرنا جائز ہے۔ اسی طرح جو علوم، دنیاوی امور کے لیے فائدہ مند ہیں، ان کی تعلیم و تعلم بھی جائز ہے۔ امام احمد رضا قادری نے تحریر فرمایا:

  1. اسی طرح بہت سے اجزائے حکمت مثلِ ریاضی، ہندسہ و حساب و جبر و مقابلہ و ارثماطیقی و سیاحت و مرایا و مناظر و جرثقیل و علمِ مثلثِ کروی و مثلثِ مصطلح و سیاستِ مدن و تدبیرِ منزل و مکائدِ حروب و فراست و طب و تشریح و بیطرہ و بیرزہ و علمِ زیجات و اسطرلاب و آلاتِ رصدیہ و مواقیت و معادن و نباتات و حیوانات و کائنات الجو و جغرافیہ وغیرہا بھی شریعت سے مضادت نہیں رکھتے، بلکہ ان میں بعض بلا واسطہ، بعض بالواسطہ امورِ دینیہ میں نافع و معین اور بعض دیگر دنیا میں بکار آمد ہیں، گرچہ مقاصدِ اصلیہ کے سوا حاجت سے زیادہ کسی شے میں توغل فضول و بیہودگی ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 23، ص: 632، جامعہ نظامیہ لاہور پاکستان]
  2. اگر جائز فنون جائز نوکری کے لیے پڑھے تو جائز ہے، جبکہ اس میں وہ انہماک نہ ہو کہ اپنے ضروریاتِ دین و علومِ فرض کی تعلیم سے باز رکھے۔ ورنہ جو فرض سے باز رکھے، حرام ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے دین و اخلاق و وضع پر اثر نہ پڑے۔ اسلامی عقائد و خیالات پر ثابت و مستقیم اور مسلمانی وضع پر قائم رہے۔ ان سب شرائط کے اجتماع کے بعد جائز رزق حاصل کرنے کے لیے حرج نہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 23، ص: 710]
  3. ذی علم مسلمان اگر بہ نیتِ ردِ نصاریٰ انگریزی پڑھے، اجر پائے گا اور دنیا کے لیے صرف زبان سیکھنے یا حساب، اقلیدس، جغرافیہ جائز علم پڑھنے میں حرج نہیں، بشرطیکہ ہمہ تن اس میں مصروف ہو کر اپنے دین و علم سے غافل نہ ہو جائے۔ ورنہ جو چیز اپنا دین و علم بقدرِ فرض سیکھنے میں مانع آئے، حرام ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 23، ص: 533]

بعض دانشوروں کے سوالات

سوال: اسکول و کالج کے بہت سے تعلیم یافتگان گورنمنٹ سروس کے انتظار میں عمر کھپا دیتے ہیں لیکن کامیابی نہیں ملتی، پس عصری تعلیمات ملازمت اور حسنِ معاش کا ضامن نہیں؟ جبکہ بہت سے علمائے کرام حکومتی مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے ملحق مدارس میں ملازمت پا کر فارغ البالی کی زندگی گزارتے ہیں؟

جواب: عصری تعلیم گاہوں میں دو قسم کے کورسز اور ڈگریاں پائی جاتی ہیں:

  1. ایک سلسلہِ تعلیم انسانی شخصیت کی تعمیر و ترقی سے متعلق ہے خصوصاً آرٹس (Arts) کے کورسز اور ڈگریاں۔
  2. بعض کورسز اور ڈگریاں معاش اور پیشہ ورانہ امور سے متعلق ہیں مثلاً میڈیکل سائنس، بزنس، کمپیوٹر وغیرہ سے متعلق کورسز اور ڈگریاں۔ ایک ڈاکٹر کو گورنمنٹ جاب کی حاجت نہیں، پس ایسے کورسز اور ڈگریوں کا انتخاب کریں جو معاشی اعتبار سے مفید ہوں۔

مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے ملحق مدارس صرف ریاست اتر پردیش اور بہار اسٹیٹ میں ہیں، جبکہ علمائے کرام ہر ریاست میں پائے جاتے ہیں۔ اس طرح ہندوستان بھر کے علمائے کرام میں سے دو یا تین فیصد علم مدرسہ بورڈ سے منسلک مدارس میں ملازمت پا سکیں گے۔

سوال: معاش یا پیشہ ورانہ امور سے متعلق کورسز اور ڈگریز کی تعلیم بہت مہنگی ہوتی ہے، مثلاً میڈیکل سائنس کے کسی کورس یا ڈگری میں ایڈمیشن کے لیے خطیر رقم کی ضرورت ہوتی ہے جو ایک عام آدمی کی قوت سے باہر ہے؟

جواب: میں نے مدارسِ اسلامیہ کا جو نصاب و نظام اس مضمون میں پیش کیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسا نصاب و نظام مدارسِ اسلامیہ میں رائج کیا جائے کہ مالدار گھرانوں (Rich Families) کے بچے بھی مدارس میں آ سکیں۔ اِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالٰى ثُمَّ اِنْ شَاءَ الرَّسُوْلُ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس سے کم از کم پانچ فوائد حاصل ہوں گے:

  1. مالداروں کے بچے بھی دینی تعلیم سے آراستہ ہو سکیں گے۔
  2. طلبہ عالمیت کی سند کے ساتھ میٹرک (Matriculation) کا سرٹیفیکیٹ پا لیں گے اور فضیلت کی سند کے ساتھ انٹرمیڈیٹ (Intermediate) کا سرٹیفیکیٹ حاصل کر لیں گے۔ اب ان دونوں سرٹیفیکیٹ (Certificate) کے ذریعہ کم از کم اغنیا کے بچے مہنگی تعلیم میں شامل ہو سکیں گے، اور ان شعبہ جات میں موجود مسلمانوں کی صالح رہنمائی کر سکیں گے۔ اس طرح مالداروں کے بچے بھی بد عقیدگی سے بچ جائیں گے اور ان شاء اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو بد عقیدگی و بد عملی سے بچا بھی سکیں گے۔
  3. ان شعبہ جات سے منسلک افراد کے درمیان تبلیغِ اسلام اور فروغِ سنیت کا خوشنما موقع میسر آئے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ہندوستان میں اہلِ سنت و جماعت کا سمٹتا ہوا دائرہ وسیع ترین ہو سکے گا۔
  4. مدارسِ اسلامیہ کے غریب بچوں کو بھی ترغیب ملے گی۔ تعلیمی ادارہ جات ان کا تعاون کر سکتے ہیں، نیز تعلیم کے لیے بینک سے بھی قرض (Loan) مل سکتا ہے۔ نیٹ ایگزام (National Eligibility Test) میں کامیابی کے بعد حکومت کی جانب سے ہر ماہ معقول وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔
  5. علمائے دین و فضلائے مدارس کا وقار بھی قومِ مسلم کے درمیان بحال ہو جائے گا، کیونکہ علمائے اسلام بھی معاشی اعتبار سے قوم کے دوش بدوش کھڑے ہو سکیں گے۔

علومِ عصریہ کی ضرورت و اہمیت

استاذ الکل فی الکل حضرت ملا نظام الدین بن قطب الدین شہید انصاری فرنگی محلی لکھنوی (م 1161ھ - 1748ء) نے آج سے قریباً تین سو سال قبل ”درسِ نظامی“ کے نصابِ تعلیم کی ترتیب دی۔ اب حالاتِ زمانہ بالکل بدل چکے ہیں لیکن نصابِ تعلیم نہ بدل سکا۔ عہدِ ماقبل میں منطق و فلسفہ کا بہت رواج تھا۔ اس لیے ”درسِ نظامی“ میں منطق و فلسفہ کی بہت سی کتابیں شاملِ نصاب کی گئی تھیں۔ اب علومِ عصریہ کا چرچا ہے، پس لامحالہ روایتِ سابقہ کے مطابق علومِ عصریہ کو داخلِ نصاب کرنا ہوگا۔

مدارسِ اسلامیہ کے فارغین کے علاوہ تمام عوام و خواص عصری علوم سے آراستہ ہوتے ہیں، اور عوام و خواص کے مذہبی رہنما علومِ عصریہ سے ناواقف ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خود قومِ مسلم نے علمائے دین کو اپنے سماج سے جداگانہ ایک ”آفاقی مخلوق“ سمجھنا شروع کر دیا ہے، محض مساجد و مدارس تک علمائے کرام کا دائرہ محدود ہو چکا ہے۔ اگر تمام شعبہ جات میں علمائے کرام موجود ہوتے تو یقیناً ہر قدم پر مسلمانوں کو شرعی احکام کی جانب ترغیب دے سکتے تھے۔ مسلمانوں کو ”عمل بالشرع“ کی دعوت کے مواقع ہر محاذ پر انہیں میسر ہوتے، لیکن علمائے کرام اپنے نصابِ تعلیم کے سبب مدارس و مساجد کے علاوہ دنیا کے کسی شعبہ میں داخل نہیں ہو سکتے، کیونکہ ہر شعبہ میں داخل ہونے کے لیے عصری تعلیم شرط ہے، اور جس شعبہ میں تعلیمی قابلیت کی ضرورت نہیں مثلاً مزدوری کا شعبہ تو یہ علمائے کرام کے شایانِ شان نہیں۔

سرکاری ملازمتوں سے مسلمانوں کی محرومی

شیخ محمد اکرام پاکستانی نے ڈاکٹر سر ولیم ہنٹر کی کتاب ”آور انڈین مسلمانز“ (Our Indian Musalmans) کے حوالے سے لکھا۔ ڈاکٹر ہنٹر لکھتے ہیں: ”جب ملک ہمارے قبضہ میں آیا تھا تو مسلمان سب قوموں سے بہتر تھے۔ نہ صرف وہ دوسروں سے زیادہ بہادر، جسمانی حیثیت سے زیادہ توانا اور مضبوط تھے، بلکہ سیاسی اور انتظامی قابلیت کا ملکہ بھی ان میں زیادہ تھا لیکن یہی مسلمان آج سرکاری ملازمتوں اور غیر سرکاری اسامیوں سے یکسر محروم ہیں۔ ڈاکٹر ہنٹر کی کتاب بڑی مفصل ہے۔ اس کے مندرجہ بالا اقتباسات ہی سے ظاہر ہے کہ 1870ء کے قریب دوسری قوموں کے مقابلے میں مسلمانوں کی کیا حالت تھی۔“ [موجِ کوثر، ص: 76، ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور]

سال 1857ء میں غدر کی جنگ ہوئی، جو دراصل آزادیِ ہند کی اولین منظم جنگ تھی۔ اس وقت ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ کی حکومت تھی۔ درحقیقت ان کی رضامندی سے یہ جنگِ آزادی لڑی جا رہی تھی۔ اس وقت تک ہندوستان کی دفتری زبان فارسی تھی۔ آزادی کی اس جنگ میں اہلِ ہند کو چند غداروں کے سبب کامیابی نہ مل سکی، اور مسلمانوں کی بادشاہت کا نام و نشان مٹ گیا۔ اب سارا ملک انگریزوں کے قبضہ میں جا چکا تھا۔ انگریزوں نے مسلمانوں کا قتلِ عام کرنا شروع کیا۔ مسلمانوں اور سلطنتِ مغلیہ کے حامیوں کو طرح طرح کے حیلوں اور بہانوں سے پھانسی پر لٹکانے لگے۔ پھر انگریزوں نے انگلش زبان کو ہندوستان کی سرکاری زبان قرار دے دیا اور 14/13 سال کے اندر ہی مسلمانوں کی کیفیت یہ ہو گئی کہ وہ جسمانی طور پر بھی ٹوٹ چکے تھے، اور انگریزی سے ناواقف ہونے کے سبب سرکاری ملازمتوں سے بھی محروم قرار پائے۔ یعنی مسلمان معاشی طور پر بھی بکھر چکے تھے۔ مسلمانوں کی بادشاہت نیست و نابود ہونے کے سبب مدارسِ اسلامیہ بھی تباہ و برباد ہو گئے، پھر کچھ قوت ہوئی تو انگریزوں سے نفرت کی وجہ سے قومِ مسلم نہ انگریزوں کے قائم کردہ اسکول و کالج کی جانب زیادہ متوجہ ہو سکی اور نہ ہی مدارسِ اسلامیہ کے قدیم نصابِ تعلیم میں تبدیلی لائی جا سکی اور انگریزوں کی سازش یہی تھی کہ کسی طرح مسلمانوں کو تمام حکومتی شعبہ جات سے پیچھے دھکیل دیا جائے اور وہ اس مشن میں بہت حد تک کامیاب رہے۔

دستارِ فضیلت اور کالج کا سرٹیفکیٹ

انگریز جنرل سالون نے ہندوستانی مسلمانوں کا تعلیمی جائزہ لینے کے بعد لکھا تھا: ”جو علوم ہمارے بچے لاطینی اور یونانی زبانوں میں اپنے کالجوں میں حاصل کرتے ہیں، وہی یہ لوگ (ہندوستانی مسلمان بچے) عربی اور فارسی میں سیکھتے ہیں۔ سالہا سال کے درس کے بعد ایک طالب علم اپنے سر پر جو آکسفورڈ کے فارغ التحصیل طالب علم کی طرح علم سے بھرا ہوتا ہے، دستارِ فضیلت باندھتا ہے، اور اسی طرح روانی سے سقراط، ارسطو، بقراط، جالینوس اور بوعلی ابن سینا پر گفتگو کر سکتا ہے جس طرح آکسفورڈ کا کامیاب طالب علم۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان فلسفہ، ادبیات اور دوسرے علوم و فنون پر قابلیت سے گفتگو کر سکتا ہے اور علی العموم ان مضامین پر گفتگو کرنے اور موجودہ زمانہ میں جو ان میں تبدیلیاں ہوئی ہیں، انہیں سمجھنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔“ [غالب نامہ، ص: 14، از: شیخ محمد اکرام]

مدارسِ اسلامیہ کے طلبہ اگرچہ علوم و فنون میں کالج و یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس سے زیادہ قابلیت و صلاحیت رکھتے ہوں لیکن مدارسِ اسلامیہ کی سندوں کو کالج و یونیورسٹی کے سرٹیفکیٹ کی طرح حکومتی محکمہ جات میں قبولیت حاصل نہیں، اس لیے فارغینِ مدارسِ اسلامیہ کی آخری منزل مسجد یا مدرسہ ہے۔ یہ نہ کسی محکمہ میں جا سکتے ہیں، نہ ہی دنیاوی معیشت کی بہتری کا کوئی ذریعہ انہیں دستیاب ہے۔ مدارس و مساجد کی تنخواہیں ان کی ضروریات کی تکمیل کے لیے ناکافی ہوتی ہیں اور جب خادمانِ دین و ملت ذہنی طور پر کشمکش میں مبتلا ہوں گے تو وہ کتنے حسین انداز میں دین و مسلک کی خدمت سر انجام دے سکیں گے۔ یہ بات سوچنے سمجھنے اور احساس کرنے کی ہے۔ محض قرطاسِ ابیض پر رقم کرنے سے کچھ فائدہ نہیں:

وَمَا تَوْفِيْقِيْ إِلَّا بِاللهِ الْعَظِيْمِ.

[ماہنامہ پیغامِ شریعت دہلی، جولائی 2016ء، ص: 8]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!