| عنوان: | مضمون: میڈیکل سائنس کے تعلیمی پروگرام (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | عائشہ فاطمہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
مؤرخ شہیر شمس الدین ذہبی شافعی (673ھ-748ھ) نے لکھا: قَالَ حَرْمَلَةُ: كَانَ الشَّافِعِيُّ يَتَلَقَّفُ عَلَى مَا صَنَعَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنَ الطَّبِّ وَيَقُولُ: ضَيَّعُوا ثُلُثَ الْعِلْمِ وَوَكَلُوْهُ إِلَى الْيَهُوْدِ وَالنَّصَارَى [تاریخ الاسلام، ج: 14، ص: 180]
ترجمہ: عالم قریش، مجتہد مطلق حضرت امام محمد بن ادریس شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (150ھ-204ھ) فن طب سے متعلق مسلمانوں کے عمل پر افسوس ظاہر کرتے تھے اور فرماتے کہ مسلمانوں نے ایک تہائی علم (یعنی علم طب) کو ضائع کر دیا اور اسے یہود و نصاریٰ کے سپرد کر دیا۔ طبابت و معالجہ کی متعدد اقسام اور کئی ایک شعبہ جات ملک ہند میں رائج ہیں۔ بعض امراض میں بعض شعبہ کامیاب ہے تو بعض دیگر امراض میں دوسرا شعبہ کارگر ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض افراد کے لیے کوئی شعبہ مفید و شفا بخش ہوتا ہے، دوسرے کے لیے کوئی اور شعبہ۔ ہند میں فن طب کے مشہور شعبہ جات درج ذیل ہیں:
- ایلوپیتھک (Allopathic)
- ہومیو پیتھک (Homeopathic)
- آیورویدک (Ayurvedic)
- یونانی (Unani)
میڈیکل سائنس کے مختلف قسم کے تعلیمی پروگرام ہیں۔ ایلو پیتھک کے تعلیمی پروگراموں کی فیس کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ اگر گنجائش نہ ہو تو دیگر فنون طب کی جانب مراجعت کی جاسکتی ہے۔ دیگر اقسام طب کے ماہرین بھی مریضوں کے لیے مرجع بن جاتے ہیں، گرچہ عہد حاضر میں ابتدائی رجحان ایلو پیتھک کی طرف ہوتا ہے۔
ذیل میں تعلیمی پروگراموں کا ماڈل اور نقشہ تحریر کیا جا رہا ہے۔ کسی خاص تعلیمی ادارہ کا ذکر صرف اس لیے ہے کہ وہاں کے اعتبار سے تفصیلات درج کی گئی ہیں، ورنہ یہ تعلیمی پروگرام دیگر یونیورسٹیوں میں بھی دستیاب ہو سکتے ہیں۔ مختلف شہروں میں میڈیکل سائنس میں ایڈمیشن کی تیاری کے لیے کوچنگ سنٹر ہے۔ انٹرنیٹ سے اپنا قریبی کوچنگ سنٹر معلوم کر کے وہاں سے تفصیل دریافت کر لیں۔
ایم بی بی ایس (Bachelor of Medicine and Bachelor of Surgery MBBS)
شرائط داخلہ
- علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے سینئر سیکنڈری اسکول کا ایگزام پاس کیا ہو، یا کوئی ایسا ایگزام پاس کیا ہو، جو سینئر سیکنڈری اسکول کے سرٹیفکیٹ کے مساوی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تسلیم شدہ ہو۔
- داخلہ کے وقت امیدوار کی عمر کم از کم سترہ سال ہو۔
- داخلہ ایڈمیشن ٹیسٹ کے ذریعہ ہوگا۔
- (الف) ٹیسٹ ایگزام کے دو پیپر ہوں گے۔ (Tier-1 & Tier-2)
- (ب) سلیکشن کے لیے امیدوار کو (Tier-2) میں کم از کم پچاس فیصد نمبر (50% Marks) حاصل کرنا ہو گا۔
- (ج) ٹیسٹ ایگزام میں کیمسٹری، فزکس، بوٹینی اور زولوجی (Chemistry, Physics, Botany and Zoology) سے متعلق دو سو نمبر (200 Marks) کے دو سو سوالات (200 Questions) ہوں گے۔
مدت تعلیم: ساڑھے چار سال۔ تعلیمی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (علی گڑھ)۔
بی ڈی ایس (B.D.S Bachelor of Dental Surgery)
شرائط داخلہ
داخلہ کی تمام شرائط وہی ہیں جو ایم بی بی ایس کے لیے ہیں۔ مدت تعلیم: پانچ سال - چار سال تعلیم، ایک سال تجرباتی انٹرن شپ (Rotatory Internship)۔ تعلیمی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (علی گڑھ)۔
بی یو ایم ایس (Bachelor of Unani Medicine and Surgery BUMS)
شرائط داخلہ
- سینئر سیکنڈری (بارہویں کلاس) یا انٹر میڈیٹ فزکس (Physics)، کیمسٹری (Chemistry) اور بائیولوجی (Biology) کے ساتھ پاس کیا ہو، یا اس کے مساوی کوئی ایگزام پاس کیا ہو۔
- رزلٹ کا مجموعی نمبر پچاس فیصد (50% Marks in Aggregate) سے کم نہ ہو۔
- داخلہ کے وقت عمر کم از کم سترہ سال ہو۔
- داخلہ ایڈمیشن ٹیسٹ کے ذریعہ ہوگا۔
ٹیسٹ کے دو پیپر (Paper-I & Paper-II) ہوں گے۔
- (الف) پہلا پیپر ایک سو پچاس نمبر (150 Marks) کا ہوگا، جو ایک سو پچاس سوالات (150 Questions) پر مشتمل ہوگا۔
- (ب) دوسرا پیپر ستاسی سوالات (Questions) پر مشتمل ایک سو نمبر (100 Marks) کا ہوگا۔
پہلا پیپر بائیولوجی (بوٹینی اور زولوجی Biology, Botany and Zoology)، فزکس (Physics) اور کیمسٹری (Chemistry) سے متعلق سوالات پر مشتمل ہوگا۔
سیکنڈ پیپر میں اردو (دسویں کلاس کے معیار کی جدید اردو Adv. Urdu of 10th Standard Level) اور جنرل نالج (General Knowledge) سے متعلق سوالات ہوں گے۔
نیٹ ایگزام
مدت تعلیم: ساڑھے پانچ سال۔ تعلیمی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (علی گڑھ) ساڑھے چار سال تعلیم، ایک سال تجرباتی انٹرن شپ ٹریننگ۔
نیشنل ایلیجبلٹی ٹیسٹ (National Eligibility Test - NET)
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (University Grants Commission UGC) کی جانب سے سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (Central Board of Secondary Education CBSE) ہر سال نیشنل ایلیجبلٹی ٹیسٹ (National Eligibility Test NET) منعقد کرتا ہے۔ اس امتحان کے دو مقاصد ہیں:
- یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اسسٹنٹ پروفیسر کے لیے امیدوار کی قابلیت (Eligibility for Assistant Professor) کی جانچ کرنا۔
- جونیئر ریسرچ فیلوشپ (Junior Research Fellowship JRF) کے لیے امیدوار کی اہلیت کی جانچ کرنا۔
- (الف) امیدوار صرف معاون پروفیسر کی قابلیت کے امتحان یا معاون پروفیسر اور جونیئر ریسرچ فیلوشپ کی اہلیت کے امتحان کے لیے اپلائی کر سکتا ہے۔
- (ب) صرف جے آر ایف کے لیے اپلائی (Apply) کی صورت نہیں ہے۔ یہ تفصیل ایپلی کیشن فارم (Application Form) پر کرنے (Fillup) کے وقت ذہن نشین رہنی چاہئے۔
- (ج) اس امتحان میں صرف اہل ہند (Indian Nationals) کو شرکت کی اجازت ہے۔
مضامین و مقامات
سی بی ایس ای بہت سے مضامین (Subjects) کے لیے منتخب شہروں (Selected Cities) میں نیٹ ایگزام کا نظم کرتا ہے۔ ہر سال سی بی ایس ای کی جانب سے یوجی سی نیٹ ایگزام کے لیے نوٹیفکیشن (Notification for UGC-NET Exam) جاری ہوتا ہے۔ اس میں مضامین کی تفصیل مرقوم ہوتی ہے۔
نیٹ ایگزام میں شرکت کی شرائط
تعلیمی قابلیت
- امیدوار یوجی سی (UGC) کے یہاں تسلیم شدہ (Recognised) کسی یونیورسٹی یا تعلیم گاہ (Institution) سے ماسٹر ڈگری (Masters Degree) حاصل کیا ہو، یا ماسٹر ڈگری کے کوئی مساوی امتحان (Equivalent exam) پاس کیا ہو۔
- عام امیدوار (General Candidate) ماسٹر ڈگری کے امتحان میں پچپن فیصد نمبر (55% Marks) حاصل کیا ہو۔
- اوبی سی، ایس سی، ایس ٹی، پی ڈبلیوڈی (OBC, SC, ST, PWD) کے زمرہ (Category) سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو ماسٹر ڈگری یا اس کے مساوی امتحان میں پچاس فیصد نمبر (50% Marks) حاصل کرنا ضروری ہے۔
- ماسٹر ڈگری یا مساوی امتحان کے مضامین وہی ہوں، جو نیٹ ایگزام کے لیے منظور کیے گئے ہوں۔ یہ قریباً ایک سو مضامین ہیں۔ اس کی تفصیل نوٹیفکیشن میں موجود ہوتی ہے۔ اس طرح یوجی سی کی ویب سائٹ (www.ugc.ac.in) سے بھی ڈاؤن لوڈ کیے جا سکتے ہیں۔
- جس امیدوار نے ماسٹر ڈگری یا مساوی ڈگری کا فائنل ایگزام (Final Exam) ابھی نہیں دیا ہے، یا اس کا رزلٹ ابھی نہیں آ سکا ہے، یا جس کا امتحان مؤخر ہو چکا ہو، وہ بھی نیٹ ایگزام میں شریک ہو سکتا ہے بشرطیکہ فائنل امتحان سے ماقبل کا امتحان دے چکا ہو۔ آخر الذکر امیدوار نیٹ ایگزام کے ذریعہ جے آر ایف کا مستحق یا اسسٹنٹ پروفیسری کا اہل اسی وقت قرار پائے گا، جب وہ ماسٹر ڈگری یا مساوی ڈگری کا فائنل امتحان پچپن فیصد نمبر سے پاس کرلے (اوبی سی، ایس سی، ایس ٹی، پی ڈبلیوڈی امیدوار پچاس فیصد نمبر سے کامیابی حاصل کرلے)۔ ایسے امیدوار کے لیے لازم ہے کہ وہ ماسٹر ڈگری یا مساوی ڈگری کا فائنل امتحان نیٹ ایگزام کے رزلٹ آؤٹ ہونے کی تاریخ سے دو سال کے اندر مکمل کرلے، ورنہ وہ نااہل قرار دیا جائے گا۔ اسی طرح ماسٹر ڈگری و مساوی ڈگری کے امتحان میں پچپن فیصد نمبر بھی حاصل کرنا ضروری ہے۔ (اوبی سی، ایس سی، ایس ٹی، پی ڈبلیوڈی امیدوار پچاس فیصد نمبر حاصل کرنا لازم ہے)۔
امیدوار کی عمر
- جونیئر ریسرچ فیلوشپ (JRF) کے لیے امیدوار کی عمر 28 سال سے زیادہ نہ ہو۔ اوبی سی، ایس سی، ایس ٹی، پی ڈبلیوڈی (OBC, SC, ST, PWD) سے تعلق رکھنے والے امیدواروں اور عورتوں کے لیے مزید پانچ سال کی مہلت ہے۔ یعنی 33 سال تک ایگزام میں شرکت کی اجازت ہے۔
- اسسٹنٹ پروفیسر کے لیے زائد عمر کی کچھ حد بندی نہیں۔
ایگزام فیس
- (الف) برائے عام امیدواران: چھ سو روپے
- (ب) برائے اوبی سی: تین سو روپے
- (ج) برائے ایس سی، ایس ٹی، پی ڈبلیوڈی (Person with Disability): ایک سو پچاس روپے
امتحانی سوالات و مضامین
- امتحان کے تین پیپر ہوتے ہیں۔ تینوں پیپر میں معروضی قسم کے سوالات (Objective Type Questions) ہوتے ہیں۔ ہر پیپر کا ہر ایک سوال 2 نمبر کا ہوتا ہے۔ پہلا پیپر ایک سو نمبر (100 Marks) کا ہوتا ہے۔ اس میں ساٹھ سوالات ہوتے ہیں، جن میں سے پچاس سوالوں کا جواب دینا ہے۔ دوسرا پیپر بھی ایک سو نمبر (100 Marks) کا ہوتا ہے۔ اس میں پچاس سوالات ہوتے ہیں اور ان تمام کا جواب لازمی ہوتا ہے۔ تیسرا پیپر ایک سو پچاس نمبر (150 Marks) کا ہوتا ہے۔ اس میں پچھتر سوالات ہوتے ہیں۔ ہر ایک کا جواب لازمی ہوتا ہے۔
- (الف) پہلا پیپر عام امور سے متعلق ہوتا ہے۔ اس میں امیدوار کی تدریسی لیاقت یا تحقیقی قابلیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس سے امیدوار کے طریق استدلال، فہم و ادراک، مختلف افکار و خیالات اور معلومات عامہ کی جانکاری کا نقشہ ظاہر ہو جاتا ہے۔
(ب) دوسرا پیپر اور تیسرا پیپر امیدوار کے منتخب کردہ مضامین (Selected Subjects) سے متعلق ہوتا ہے۔ ان دونوں کے تمام سوالوں کے جواب لازمی ہوتے ہیں۔
امتحان کے نتائج اور کامیابیوں کے مراحل
کل چار مراحل (4 Steps) میں اسسٹنٹ پروفیسر کی قابلیت اور جونیئر فیلوشپ کی لیاقت کا فیصلہ ہوتا ہے۔
پہلا مرحلہ
- (الف) عام امیدواروں (General Candidates) کو فرسٹ اور سیکنڈ پیپر میں چالیس فیصد (40%) اور تھرڈ پیپر میں پچاس فیصد (50%) نمبر حاصل کرنا ضروری ہے۔
- (ب) اوبی سی، ایس ٹی، ایس سی اور پی ڈبلیوڈی کو فرسٹ و سیکنڈ پیپر میں پینتیس فیصد (35%) اور تھرڈ پیپر میں چالیس فیصد (40%) نمبر حاصل کرنا ضروری ہے۔
دوسرا مرحلہ
جو امیدواران مذکورہ فیصد کے اعتبار سے نمبر حاصل کرتے ہیں، ان کی ایک میرٹ لسٹ (Merit List) مضمون کے اعتبار سے (Subject Wise) اور زمرہ کے اعتبار سے (Category-Wise) تیار کی جاتی ہے۔
تیسرا مرحلہ
میرٹ لسٹ میں موجود ہر مضمون اور ہر زمرہ کے زیادہ نمبر والے پندرہ فیصد امیدواروں (Top 15% Candidates) کو اسسٹنٹ پروفیسر کے قابل ہونے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
چوتھا مرحلہ
جو امیدوار تیسرے مرحلہ میں اسسٹنٹ پروفیسر کے لیے اہل قرار دیا گیا ہو، اور جے آر ایف کے لیے بھی انہوں نے اپلائی کی تھی، ان امیدواروں کو ایک خاص فارمولہ (Formula) کے تحت مضمون اور زمرہ کے اعتبار سے جے آر ایف کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔
جے آر ایف و ایس آر ایف (JRF & SRF)
یوجی سی (UGC) کی نگرانی میں ریسرچ اور پی ایچ ڈی کرنے کے لیے وظیفہ کا انتظام گورنمنٹ کی مختلف اسکیموں (Schemes) کی جانب سے مختلف مضامین کے لیے ہوتا ہے۔ بعض اسکیم کے تحت دو سال کے لیے، بعض کے تحت تین سال کے لیے اور بعض اسکیم کے تحت پانچ سال کے لیے ریسرچ اور پی ایچ ڈی کے لیے وظائف دیے جاتے ہیں۔ وظائف کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔ حالیہ سالوں میں بعض اسکیم کا وظیفہ چودہ ہزار ہے تو بعض مضامین میں ریسرچ کا وظیفہ اٹھائیس ہزار تک ہے۔ اسکالرشپ ہولڈرس (Scholarship Holders) کو سالانہ (Per Annum) ہنگامی رقم (Contingency Amount) ملتی ہے۔ ہر اسکیم کی سالانہ ہنگامی رقم کی مقدار بھی جداگانہ ہوتی ہے۔ یہ رقم بعض اسکیم میں دس ہزار ہے تو بعض اسکیم میں ایک لاکھ ہے۔
پی ایچ ڈی کے لیے جو وظیفہ (Scholarship) ملتا ہے، وہ دو حصوں میں منقسم ہے۔ ابتدائی دو سالوں میں ایم فل (M.Phil) کے لیے وہ وظیفہ، جے آر ایف (Junior Research Fellowship JRF) کے نام سے دیا جاتا ہے۔ پھر آخری تین سالوں میں ڈاکٹریٹ (Doctorate) کے لیے اسسمنٹ کمیٹی رپورٹ (Assessment Committee Report) کی سفارش (Recommendation) پر وظیفہ میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، اور اسے ایس آر ایف (Senior Research Fellowship SRF) کہا جاتا ہے۔
ہدایت: مختلف شہروں میں نیٹ ایگزام کی تیاری کے لیے کوچنگ سنٹرز ہیں۔ انٹرنیٹ سے اپنا قریبی کوچنگ سنٹر معلوم کر کے وہاں سے تفصیل دریافت کر لیں۔
جاری۔۔۔۔ [ماہنامہ پیغام شریعت، ص: 66، دہلی]
