Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

میزانِ مطالعہ (قسط: دوم)

میزانِ مطالعہ (قسط: اول)
عنوان: میزانِ مطالعہ (قسط: اول)
تحریر: مفتی محمد عابد حسین قادری مصباحی
پیش کش: نوری کرن
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

تاریخِ اسلامیہ گواہ ہے کہ مسلمانوں کو جتنا مالی، جانی یا ایمانی نقصان اندرونی سازشوں اور پروپیگنڈے نے پہنچایا ہے اتنا بیرونی طاقتوں نے نہیں پہنچایا۔ لیکن یہ مشیتِ الہی ہے کہ جب بھی ایسا کوئی فسادی گروہ اپنے قدم جمانے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ جل جلالہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ایسی ہستیوں کو ظاہر فرماتا ہے جو اپنا تن من دھن سب کچھ اسلام کے لیے قربان کر دیتے ہیں۔

اگر بلوائیوں کی شکل میں فتنہ اٹھے تو عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی ذات اپنی جان قربان کر کے اسلام کی حفاظت کرتی ہے، کہیں مولائے کائنات علی کرم اللہ وجہہ خارجی فتنے کی سرکوبی کرتے نظر آتے ہیں، کہیں امام حسین رضی اللہ عنہ اپنا سر کٹا کر اسلام کو حیاتِ جاویدانی عطا کرتے ہیں، کہیں امام احمد بن حنبل کی ذات اپنی پیٹھ پر ہزاروں دُرے کھا کر قرآنِ بے عیب کو عیب لگانے والوں کے عیبوں سے بچاتے نظر آتے ہیں اور یہ سلسلہ ایک آدھ صدی تک محدود نہیں رہتا بلکہ ہر صدی، ہر زمانے کے علمائے حقہ، علمائے اہلسنت و جماعت ان فتنوں کی سرکوبی کے لیے مصروفِ عمل رہے ہیں، یہاں تک کہ دسویں ہجری میں مجدد الف ثانی تنِ تنہا بادشاہ اکبر کے فتنہِ اکبر کے سامنے اعلائے کلمۃ الحق کے لیے قید کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہیں اور جب اس خطہِ سرزمین پر، جس پر مسلمانوں نے ہزار سال سے زیادہ حکومت کی اور امن و اسلام کا پیغام عام کیا، انگریز اپنے قدم جمانے لگے تو 1857ء میں دہلی کی گلیاں خون کی ندیوں سے بھر جاتیں۔ لاکھ دبانے سے اسلام دب تو نہ سکا، لاکھ قتل و غارت سے مسلمان مٹ تو نہ سکے۔۔۔ مال بھی لٹ گیا، کاروبار بھی اجڑ گیا، سب ختم ہو چکا لیکن شمعِ ایمان ابھی بھی ان کے سینوں میں باقی ہے، تو انگریزوں نے ایک مقصد، ایک ٹارگٹ، ایک مشن تیار کیا جس کو اقبال نے ان لفظوں سے تعبیر کیا ہے:

یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو

اس مشن کو پورا کرنے کے لیے کہیں تقویت الایمان کو ترتیب دیا جاتا ہے، تو کہیں حفظ الایمان کے ذریعے ایمان داروں کے ایمانوں کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ کہیں قادیانیت کو پیدا کر کے ختمِ نبوت کی ناموس پر حملہ کیا جاتا ہے اور پھر ان سب کے پلندوں اور غلاظتوں کو جمع کر کے ایک نیا ادارہ ”ندوۃ العلماء“ قائم کیا جاتا ہے۔

ایسے بھیانک ماحول میں حسبِ سابق ربِ کائنات اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے ایمانوں کی حفاظت کے لیے ایک تحفہ عطا فرماتا ہے، جس کو دنیا ”احمد رضا“ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ امامِ اہلسنت اپنے قلم کی روشنی کے ذریعے عشقِ مصطفیٰ کی شمع مسلمانوں کے دل میں جلاتے ہیں اور اپنی نوکِ قلم سے باطل قوتوں اور اسلام دشمن طاقتوں کے دلوں کو اس طرح چھلنی کرتے ہیں کہ ان کے دلوں کی دھڑکن جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔ صدیوں تک کے لیے بنائے گئے منصوبے جڑ سے اکھڑ جاتے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ:

یہ رضا کے نیزے کی مار ہے کہ عدو کے سینے میں غار ہے
کسے چارہ جوئی کا وار ہے کہ یہ وار وار سے پار ہے

امامِ اہلسنت نے اہلسنت کی ناؤ کو فتنوں کے دریا سے پار لگانے کا بیڑا اٹھایا اور سینکڑوں فتنوں سے عوامِ اہلسنت کے عقائد کی حفاظت فرمائی ہے۔ اسلاف کی حقیقی تعلیمات کو مسلمانانِ برصغیر کے سامنے واضح کیا۔ چونکہ قلمِ رضا کا تھا اسی وجہ سے ان تعلیمات کو دورِ رواں میں جاری فتنوں کے درمیان ایک پہچان حاصل ہوئی اور اس پہچان کا نام ”مسلکِ اعلیٰ حضرت“ ہے۔

قربِ قیامت کا زمانہ ہونے کی وجہ سے ایمان کے ڈاکوؤں کی تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے، ایسے وقت میں علمائے ربانیین کی ذمہ داری کو مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا:

إذا ظهرت الفتن أو قال البدع وسب أصحابي فليظهر العالم علمه ومن لم يظهر علمه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا

حدیثِ پاک سے علمائے ربانیین کی ذمہ داری واضح ہو رہی ہے۔ ظہورِ فتن کے وقت علما پر فتنوں کی سرکوبی لازم ہے اور جو ایسا نہ کرے تو فرمایا: ”فعليه لعنة الله“ اس پر اللہ کی لعنت، ”والملائكة“ اور فرشتوں کی لعنت، ”والناس أجمعين“ اور تمام لوگوں کی لعنت۔ یہ حال اس کا ہے جو رد نہ کرے اور جو انہی فتنوں سے صلح کر لے، ان کو سچا جانے۔۔۔ اس کے انجام و عاقبت کا اندازہ ہر ذی شعور لگا سکتا ہے۔ ایسی صفت سے متصف حضرات کو صلح کلی کہا جاتا ہے۔ ایسوں کی حالت کا اندازہ قرآنِ کریم کی اس آیت مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے:

مُذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذٰلِكَ لَا إِلٰى هٰؤُلَاءِ وَلَا إِلٰى هٰؤُلَاءِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا

[النساء: 143]

یہ حضرات تذبذب کا شکار ہیں۔ نہ ادھر کے نہ ادھر کے۔ ایسے بہروپیوں کا رد بھی علما کی ذمہ داری ہے۔

ہند میں ایک صلح کلی فتنہ سید سراواں ہے، جس کا مقصد وہی ہے جو طاہر القادری کا ہے اور طاہر القادری کا مقصد وہی ہے جو بادشاہ اکبر کا مقصد تھا اور بادشاہ اکبر کا مقصد الحاد و زندقیت کو فروغ دینا تھا۔ بادشاہ اکبر کا قلع قمع مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کرتے ہیں اور طاہر القادری کی سرکوبی امامِ اہلسنت کے غلام بالخصوص خانوادہِ امامِ اہلسنت کے اخترِ تاباں تاج الشریعہ حضرت مولانا اختر رضا خان اطال اللہ عمرہ فرماتے ہیں اور سید سراواں کے ابو میاں کا تعاقب کرنے والے ہراول دستے میں کتاب ہٰذا کے مرتب محبی حضرت علامہ مولانا طارق نجمی رضوی ہیں، جنہوں نے سراونی فتنے کے سدِ باب میں وہ کوششِ بلیغ فرمائی کہ دور سے اولیت کا سہرا آپ کے سر جگمگاتا نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلکِ اعلیٰ حضرت کے اس جانباز سپاہی کو آشوبِ روزگار سے محفوظ رکھے۔ مزید خدمات کی توفیق بخشے اور اس خدمتِ دینی کو قبولیت کے عرش پر متمکن فرمائے۔

آپ کی کتاب ”لباسِ خضر میں“ پڑھنے کو ملی، دل باغ باغ ہو گیا۔ کتاب ہٰذا اپنے موضوع پر جامع کتاب ہے۔ آپ نے اس کتاب میں صوفی ابو میاں کے بارے میں قابلِ صد احترام علمائے کرام کے تاثرات و خیالات کو ترتیب دیا ہے کہ اپنے اس پہلے انوکھے موضوع پر کتاب نوادرات کا مرقع نظر آتی ہے۔ مرتب کے والدِ محترم حضرت علامہ مولانا نجم الملت والدین ڈاکٹر نجم القادری صاحب دام فیوضہ نے اس کتاب میں صلح کلیت کے تعارف، اس کے نقصانات اور اس کے تدارک پر روشنی ڈالی ہے جو کہ عوامِ اہلسنت کے لیے بہت ہی مفید ثابت ہوگی۔

احادیثِ طیبہ میں جہاں علمائے حقہ کے فضائل بیان کیے گئے ہیں وہیں علمائے سوء پر نازل ہونے والے قہر کو بھی بیان کیا گیا ہے۔۔۔ کہیں فرمایا کہ عالم کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے، تو بعض مقامات پر علما کو پشتِ زمین پر موجود مخلوق میں سب سے بدترین بھی کہا گیا ہے۔ اسی طرح صوفیا میں سے تو بعض وہ ہیں جن کو حضور داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ، امام الاصفیاء کہہ کر پکارتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں حضور سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی الحسنی والحسینی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

أيها الكذاب أنت في ظاهرك زاهد وباطنك خراب كالبياض على بيت الماء [الفتح الربانی، ص: 32]

اس کتاب میں مرتب نے مفتی راحت خان قادری دامت برکاتہم العالیہ کی تحریر کو بھی شامل کیا ہے، جس میں تصوف کا تعارف، تصوف کی حقیقت بزبانِ صوفیا بیان کی گئی ہے اور ابو میاں متصوف کی چند قابلِ گرفت عبارتوں کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علمائے عظام بالخصوص مفتی مقصود عالم صاحب دام فیوضہ کے کلام کو بھی اپنی کتاب کی زینت بنایا ہے۔

یہ کتاب ایمان کے ڈاکوؤں کے چنگل میں جلد پھنس جانے والے بھولے بھالے سنیوں کے لیے مضبوط ڈھال کی حیثیت رکھتی ہے۔ علامہ طارق صاحب نے ناچیز کو اس کے دوسرے ایڈیشن کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی ہیں۔ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ مرتب کو جزائے خیر سے مالا مال فرمائے اور اس کتاب کو عوامِ اہلسنت کے لیے نافع بنائے۔ میری محبانہ گزارش ہے کہ کتاب خود پڑھیں، دوست و احباب کو پڑھنے کی دعوت دیں۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ صلح کلیت سے حفاظت کے لیے ہر گھر میں اس کتاب کا ہونا اتنا ضروری ہے جتنا کہ مرضِ مہلک کے لیے مؤثر دوا کا ہونا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ کتاب کی نکاسی میں مومنانہ ہاتھ بڑھائیں تاکہ دوسرا ایڈیشن پھر نئی آب و تاب کے ساتھ جلد آپ کے ہاتھ میں ہو۔

قارئینِ با تمکین سے گزارش ہے کہ نقد و نظر کی میزان پر تول کر اپنے تاثراتِ قلبی سے ممنون فرمائیں۔ چونکہ یہ کتاب اغیار کی نظروں میں کانٹا بن کر چبھے گی، وہ نقص نکالنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، اس لیے حسن و قبح کے پارکھ اس نقطہِ نظر سے بھی اس کا مطالعہ فرمائیں۔ آمین بجاہ طہٰ و یٰسین صلی اللہ علیہ وسلم۔

[دوماہی الرضا انٹرنیشنل، پٹنہ، جلد: 2، شمارہ نمبر: 7، ص: 55 تا 56]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!