Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

سوانحِ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ

سوانحِ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ
عنوان: سوانحِ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ
تحریر: محمد احمد حسن سعدی امجدی
پیش کش: مفتیہ ام ہانی امجدی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی حکیم امجد علی علیہ الرحمہ برصغیر ہند و پاک کی ایک ایسی عبقری شخصیت ہیں، جن کے علم و فضل اور تقویٰ اور ورع کا ایک زمانہ قائل ہے، آپ اپنی پوری زندگی خلوص و للہیت کے ساتھ تصنیف و تالیف، درس و تدریس کی صورت میں دینِ اسلام کی حقیقی خدمت کرتے رہے، آپ کا شمار چودہویں صدی ہجری کے صفِ اول کے مشاہیر علمائے کرام میں ہوتا ہے، آپ نے شرک و بدعت کی تیز آندھی میں اہلِ سنت و جماعت کے چراغ کی بخوبی حفاظت کی اور نہ صرف حفاظت کی بلکہ اس کی روشنی کو گھر گھر پہنچانے میں بے انتہا تگ و دو اور غیر معمولی جدوجہد کی، آپ کی بیش بہا خدماتِ جلیلہ نے اپنے بعد والوں کے لیے ایسے نقوش چھوڑے ہیں کہ ان شاء اللہ جن کا اثر تاقیامت رہے گا اور آپ کے بعد والے اس سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔

آپ ایک زمانے تک مجددِ اعظم سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں رہے اور ان کی ذات سے وافر مقدار میں اکتسابِ فیض کرتے رہے، حتیٰ کہ وہ زمانہ بھی آیا کہ فقہ میں آپ کی بصارت و بصیرت اور اعلیٰ درجہ کی کارکردگی کے پیشِ نظر ایک موقع پر اعلیٰ حضرت نے فرمایا: ”کہ موجودین میں تفقہ جس کا نام ہے، وہ مولوی امجد علی میں زیادہ پایا جاتا ہے۔“

تاریخِ پیدائش: آپ 1300ھ مطابق 1878ء میں مشرقی یوپی کے نہایت ہی زرخیز خطہ گھوسی کے محلہ کریم الدین پور میں پیدا ہوئے، آپ کے والدِ ماجد مولانا حکیم جمال الدین علیہ الرحمہ اور دادا خدا بخش علیہ الرحمہ یہ دونوں حضرات عالم و فاضل اور فنِ طب کے ماہر تھے۔

تعلیم و تربیت: آپ نے تعلیمی زندگی کا آغاز اپنے گھر میں دادا مولانا خدا بخش سے کیا، پھر اپنے ہی قصبے گھوسی کے مدرسہ ناصر العلوم میں مولوی الہی بخش صاحب علیہ الرحمہ سے کچھ ابتدائی کتابیں پڑھیں، اس کے بعد حصولِ علم کی چاہت نے آپ کو گھر پر خالی بیٹھنے نہ دیا اور آپ نے درسِ نظامی کی اعلیٰ تعلیم کے لیے 1314ھ میں صرف 14 سال کی عمر میں جونپور جانے کا قصد کیا، اس وقت کیونکہ سفر دورِ حاضر کی طرح آسان نہ تھا، لہٰذا سفر میں بے پناہ صعوبتیں اور مصیبتیں برداشت کرنی پڑتی تھیں، لیکن قربان جائیں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے بلند عزم و حوصلے پر کہ آپ نے کم عمری ہی میں حصولِ علم کے لیے جونپور جانے کا عزمِ مصمم کیا اور آپ قصبہ گھوسی سے 30 کلو میٹر پیدل سفر کر کے اعظم گڑھ آئے، پھر یہاں سے اونٹ پر سوار ہو کر آپ جونپور پہنچے، وہاں آپ کے چچا زاد بھائی مولانا محمد صدیق گھوسوی علیہ الرحمہ بحیثیت مدرس تھے، آپ نے اپنے چچا زاد بھائی اور استاذ سے کچھ اسباق پڑھے اور پھر جامعِ معقولات و منقولات حضرت علامہ ہدایت اللہ خان علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں زانوئے ادب طے کیا اور یہیں سے آپ نے درسِ نظامی کی تعلیم مکمل کی، اس وقت استاذ المحدثین حضرت علامہ وصی احمد سورتی علیہ الرحمہ کا علمِ حدیث میں شہرہ بامِ عروج پر تھا، لہٰذا آپ دورہِ حدیث کے لیے پیلی بھیت تشریف لائے اور علامہ وصی احمد سورتی علیہ الرحمہ سے علمِ حدیث کے چھلکتے ہوئے جام نوش کیے، چند دنوں میں استاذِ محترم کو آپ کی ذہانت و فطانت کا بخوبی اندازہ ہو گیا اور آپ کی عبقری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک موقع پر آپ نے فرمایا: ”مجھ سے اگر کسی نے پڑھا ہے تو وہ مولوی امجد علی ہے۔“

تدریسی خدمات: 1326ھ میں حضور صدر الشریعہ، مولانا وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ کے مدرسۃ الحدیث سے فراغت کے بعد ان کی ایما پر مدرسہ اہلِ سنت پٹنہ میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہوئے اور یہاں ایک سال رہے۔ 1329ھ میں منظرِ اسلام بریلی شیخ الحدیث کی حیثیت سے تشریف لائے اور یہاں 1343ھ تک خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد مدرسہ معینیہ عثمانیہ اجمیر شریف میں صدر المدرسین مقرر ہوئے، جہاں آپ نے آٹھ سالہ تدریسی اور انتظامی خدمات انجام دیں، 1351ھ میں دوبارہ منظرِ اسلام تشریف لائے اور شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہوئے، یہاں آپ نے تقریباً تین سال تک اپنے بحرِ علم سے طالبانِ علومِ نبویہ کو سیراب فرمایا۔ 1356ھ سے 1362ھ تک دارالعلوم حافظیہ سعیدیہ دادوں ضلع علی گڑھ میں رہے۔ پھر آپ 1363ھ میں مدرسہ مظہر العلوم کچی باغ بنارس تشریف لائے، اس کے بعد جب حضور مفتیِ اعظم ہند اور محدثِ اعظم پاکستان حج کے لیے عازمِ سفر ہوئے تو ان کی جگہ کچھ عرصے کے لیے دارالعلوم مظہرِ اسلام بریلی شریف میں مسندِ تدریس پر جلوہ افروز ہوئے، محدثِ اعظم پاکستان کی واپسی پر مدینۃ العلما گھوسی لوٹ آئے، اس کے بعد آپ نے کسی مدرسے میں تدریسی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے مشاہیر تلامذہ: 1326ھ سے 1356ھ تک آپ نے ملکِ ہندوستان کے مختلف مدارسِ اسلامیہ میں سینکڑوں تشنگانِ علومِ نبویہ کو سیرابی عطا فرمائی، جن میں چند مشاہیر تلامذہ مندرجہ ذیل ہیں:

  1. شیرِ بیشہِ اہلِ سنت مولانا حشمت علی خان۔
  2. محدثِ اعظم پاکستان مولانا سردار احمد صاحب۔
  3. حافظِ ملت مولانا عبد العزیز مبارکپوری۔
  4. مجاہدِ ملت مولانا حبیب الرحمن صاحب الہ آبادی۔
  5. شمس العلما قاضی شمس الدین جونپوری۔
  6. علامہ سید غلام جیلانی میرٹھی۔
  7. خیر الاذکیا مولانا غلام یزدانی۔
  8. صاحبِ تصانیفِ کثیرہ مولانا عبد المصطفیٰ اعظمی علیہم الرحمہ۔

صدر الشریعہ کی اعلیٰ حضرت سے پہلی ملاقات اور بریلی میں حاضری: 1329ھ میں صدر الشریعہ کی اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت سے پہلی ملاقات پٹنہ میں ہوئی تھی، پہلی ملاقات ہی میں آپ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے حد درجہ متاثر ہوئے اور سلسلہِ عالیہ قادریہ میں اعلیٰ حضرت سے بیعت ہو گئے، پھر اس مدرسہ میں کچھ انتظامی مسائل کی وجہ سے استعفیٰ دے کر گھوسی تشریف لائے اور لکھنؤ میں دو سالہ حکمت کورس کرنے کے بعد گھوسی میں مطب شروع کیا، خاندانی پیشہ اور خداداد صلاحیت کی وجہ سے اس فیلڈ میں بھی آپ کو خوب مقبولیت حاصل ہوئی، حتیٰ کہ صبح کے وقت ہی آپ کے مطب پر مریضوں کا جمِ غفیر رہتا، 1329ھ میں استاذِ محترم سے ملاقات کی غرض سے پیلی بھیت تشریف لائے، جب استاذِ محترم کو آپ کے حوالے سے علم ہوا کہ آپ درس و تدریس چھوڑ چکے ہیں تو آپ کو بہت رنج ہوا، پھر حضور صدر الشریعہ نے بریلی جانے کی خواہش کا اظہار فرمایا تو علامہ وصی احمد علیہ الرحمہ نے حضور صدر الشریعہ کے ہاتھوں حضور اعلیٰ حضرت کے نام ایک خط روانہ کیا، جس میں لکھا تھا کہ جس طرح ممکن ہو آپ ان کو خدمتِ دین و علمِ دین کی طرف متوجہ کیجیے، امامِ اہلِ سنت نے یہ خط پڑھا اور آپ کے ساتھ نہایت ہی لطف و کرم سے پیش آئے اور آپ کے ذمے کچھ تحریری کام دے دیا، حضور صدر الشریعہ نے بریلی میں دو ماہ قیام کیا اور پھر قبلِ رمضان گھر جانے کی اجازت طلب کی، اعلیٰ حضرت نے اس شرط کے ساتھ اجازت دی کہ میں جب بلاؤں گا تو آپ کو آنا پڑے گا، آپ فرماتے ہیں کہ اس دوران مجھے بھی اپنے پیشے یعنی طب سے نفرت ہونے لگی اور میرے اندر خدمتِ دینِ متین کا جذبہ موجیں مارنے لگا، پھر جب اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے 6 مہینے کے بعد خط کے ذریعے آپ کو بلایا تو آپ سب کچھ چھوڑ کر 1329ھ میں بارگاہِ اعلیٰ حضرت میں حاضر ہو گئے۔

صدر الشریعہ بارگاہِ اعلیٰ حضرت میں: آپ نے اعلیٰ حضرت کی خدمت میں گیارہ سال گزارے۔ آپ کی جدوجہد اور آپ کی مصروفیات کے بارے میں جان کر عقل حیران رہ جاتی ہے، کہ ایک انسان اتنے کام بھی کر سکتا ہے؟ آپ ”انجمنِ اہلِ سنت“ کی نظامت اور اس کے پریس کے اہتمام کے علاوہ مدرسہ میں تدریس، دوسرے پریس کا کام یعنی کاپیوں کی تصحیح، کتابوں کی روانگی، خطوط کے جواب، آمد و خرچ کے حساب، یہ سارے کام تنہا انجام دیا کرتے تھے۔ ان کاموں کے علاوہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بعض مسودات کا مبیضہ کرنا، فتووں کی نقل اور ان کی خدمت میں رہ کر فتویٰ لکھنا یہ کام بھی مستقل طور پر انجام دیتے تھے۔ پھر شہر و بیرونِ شہر کے اکثر تبلیغِ دین کے جلسوں میں بھی شرکت فرماتے تھے۔ بعدِ نمازِ عصر مغرب تک اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی خدمت میں نشست فرماتے، بعدِ مغرب عشاء تک اور عشاء کے بعد سے بارہ بجے تک اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی خدمت میں فتویٰ نویسی کا کام انجام دیتے۔ اس کے بعد گھر واپس ہوتے اور کچھ تحریری کام کرنے کے بعد تقریباً دو بجے شب میں آرام فرماتے تھے۔ آپ کی اس محنتِ شاقہ و عزم و استقلال سے اس دور کے اکابر علما بھی حیران تھے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بھائی حضرت مولانا محمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے تھے: ”کہ مولانا امجد علی کام کی مشین ہیں اور وہ بھی ایسی مشین جو کبھی فیل نہ ہو۔“

ترجمہِ کنز الایمان: صحیح اور اغلاط سے پاک احادیثِ نبویہ اور اقوالِ ائمہ کے مطابق اردو زبان میں ترجمہِ قرآن کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت کی خدمت میں عرض کیا اور اس طرف توجہ مبذول کرائی تو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے حامی بھر لی۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے جاتے اور صدر الشریعہ املا کرتے جاتے۔ اس طرح آج امت کے پاس ایک مجددِ وقت کا ایک عظیم شاہکار ترجمہ موجود ہے۔

بہارِ شریعت: صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا پاک و ہند کے مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے ضخیم عربی کتب میں پھیلے ہوئے فقہی مسائل کو سلکِ تحریر میں پرو کر ایک مقام پر جمع کر دیا۔ انسان کی پیدائش سے لے کر وفات تک درپیش ہونے والے ہزارہا مسائل کا بیان بہارِ شریعت میں موجود ہے۔ ان میں بے شمار مسائل ایسے بھی ہیں جن کا سیکھنا ہر اسلامی بھائی اور اسلامی بہن پر فرضِ عین ہے۔ فقہِ حنفی کی مشہور کتاب فتاویٰ عالمگیری سینکڑوں علمائے دین علیہم الرحمہ نے عربی زبان میں مرتب فرمائی مگر قربان جائیے کہ صدر الشریعہ نے وہی کام اردو زبان میں تنِ تنہا کر دکھایا اور علمی ذخائر سے نہ صرف مفتیٰ بہ اقوال چن چن کر بہارِ شریعت میں شامل کیے بلکہ سینکڑوں آیات اور ہزاروں احادیث بھی موضوع کی مناسبت سے درج کیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خود تحدیثِ نعمت کے طور پر ارشاد فرماتے ہیں: ”اگر اورنگزیب عالمگیر اس کتاب (یعنی بہارِ شریعت) کو دیکھتے تو مجھے سونے سے تولتے۔“

خلافت و اجازت: 18 ذی الحجہ 1333ھ کو بموقعِ عرس سیدنا آلِ رسول صاحب قدس سرہ العزیز، بغیر کسی تحریر و طلب کے اعلیٰ حضرت نے صدر الشریعہ کو جملہ سلاسلِ قادریہ قدیمہ و جدیدہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ کی خلافت و اجازت تامہ و عامہ عطا فرمائی، اپنا خلیفہِ مطلق کیا اور اپنا عمامہ سرِ اقدس سے اتار کر حضرت صدر الشریعہ کو باندھا اور اپنی زبانِ پاک سے یہ الفاظ ادا فرمائے: ”جملہ وظائف و اذکار و اعمال اور اپنی مرویاتِ حدیث و فقہ و جملہ علوم کی بلا استثنا اجازت عطا کرتا ہوں“ اور پھر محبت بھرے انداز میں یہ شعر کہا:

میرا امجد مجد کا پکا
اس سے بہت کچیاتے یہ ہیں

صدر الشریعہ کا لقب: حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کو اللہ تعالیٰ نے جملہ علوم و فنون میں مہارتِ تامہ اور براعتِ کاملہ عطا فرمائی تھی، لیکن آپ کو تفسیر، حدیث اور فقہ سے خصوصی لگاؤ تھا، فقہی جزئیات ہمیشہ نوکِ زبان پر رہتے تھے، اسی بنا پر سرکار اعلیٰ حضرت نے آپ کو صدر الشریعہ کا لقب عطا فرمایا تھا۔

قاضی القضاۃ کا منصب: سرکار اعلیٰ حضرت نے حالات اور ضرورتِ دینی کے پیشِ نظر پورے برصغیر کے لیے دار القضا قائم فرمایا تھا اور اس کے لیے تمام مشاہیرِ ہند میں سے صدر الشریعہ کو احکامِ شرعیہ کے نفاذ اور فیصلے کے لیے قاضیِ شرع مقرر فرمایا۔

تصنیفات و تالیفات: حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کو تصنیف و تالیف سے بھی غیر معمولی شغف تھا، آپ اکثر اوقات سرکار اعلیٰ حضرت کے مسودے وغیرہ پر کام کرتے تھے، جو اوقات آپ کو میسر آئے، آپ نے ان میں تقریباً 25 کتابیں بھی تصنیف فرمائیں، جن میں بعض کتابیں قابلِ ذکر ہیں:

  1. آپ کی ایک شہرہِ آفاق کتاب بہارِ شریعت ہے، جو اس وقت ملک اور بیرونِ ملک میں مرجعِ خواص و عوام ہے، اس کا تذکرہ اوپر گزر چکا ہے۔
  2. فتاویٰ امجدیہ جو کہ 4 جلدوں پر مشتمل ہے۔
  3. حاشیہ طحاوی شریف۔
  4. التحقیق الکامل فی حکم قنوت النازل۔
  5. قامع الواہیات من جامع الجزئیات۔
  6. اتمامِ حجتِ تامہ۔

اولادِ امجاد: حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کثرتِ اولاد والی حدیثِ پاک پر عمل کرتے ہوئے اپنی پوری زندگی میں چار عورتوں سے نکاح فرمایا، جن کے بطون سے اللہ تعالیٰ نے 16 اولاد عطا فرمائی، الحمد للہ، حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے اپنی اولاد کی تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

وفات: 1368ھ میں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ دوسری مرتبہ حج کی نیت سے حرمین شریفین کے لیے روانہ ہوئے، اپنے وطن قصبہ گھوسی سے ممبئی تشریف لائے، لیکن یہاں پہنچ کر آپ کو نمونیا ہو گیا اور سفینے میں سوار ہونے سے پہلے ہی بتاریخ 2 ذی القعدہ 1368ھ بمطابق 6 ستمبر 1948ء رات 12 بج کر 26 منٹ پر آپ نے داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔

آپ کا مزارِ پر انوار آپ کے آبائی وطن قصبہ گھوسی ضلع مؤ میں واقع ہے۔

[ماخوذ از: سیرتِ صدر الشریعہ، مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور پاکستان]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!